قرآن میں اہل کتاب سے کیا مراد ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

قرآن میں اہل کتاب سے کیا مراد ہے؟

جواب:

قرآن کریم میں اہل کتاب کی اصطلاح یہود و نصاریٰ کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں جہاں بھی کہا گیا ہے : ”جن لوگوں کو کتاب دی گئی۔ “ ان سے مراد بھی یہود و نصاری ہیں ۔
❀ علامہ ابن قیم رحمہ اللہ (751 ھ )فرماتے ہیں:
عرف القرآن من أوله إلى آخره فى الذين أوتوا الكتاب أنهم أهل الكتابين خاصة، وعليه إجماع المفسرين، والفقهاء، وأهل الحديث.
”قرآن کریم میں اول تا آخر جن لوگوں کو کتاب دیے جانے کا ذکر ہے، ان سے مراد خاص دو کتاب والے مذہب ( یہود ونصاری) ہیں ، اس پر مفسرین، فقہا اور محدثین کا اجماع ہے۔“
(أحكام أهل الذمة : 813/2)
❀ فرمان باری تعالی ہے:
أن تقولوا إنما أنزل الكتاب علىٰ طائفتين من قبلنا.
(الأنعام : 156)
”(ہم نے قرآن اس لیے نازل کیا ہے ) کہ کہیں تم یہ نہ کہو کہ کتاب تو ہم سے پہلے دو گروہوں پر نازل کی گئی تھی ۔“

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️