مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

قادیانیوں سے سلام کرنے کا شرعی حکم حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

اگر کوئی قادیانی کسی مسلم کو سلام کرنے میں پہل کرے تو اس کا جواب دیا جائے گا یا نہیں؟

جواب :

قادیانی و مرزائی بالاتفاق کافر ہیں اور کافر کے بارے میں اسلامی ہدایات یہ ہیں کہ انھیں سلام کہنے میں پہل نہ کی جائے، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
”یہود و نصاری کو سلام کرنے میں پہل نہ کرو، جب تم ان سے راستہ میں ملو تو انھیں تنگ راستے کی طرف مجبور کر دو۔“
(مسلم، کتاب السلام، باب النهي عن ابتداء أهل الكتاب الخ 2167)
اگر وہ سلام میں پہل کر دیں تو انھیں ”وعليكم“ کہہ دو جیسا کہ صحیح بخاری (6257) میں موجود ہے۔ البتہ اگر کافر، مشرک، یہودی، عیسائی اور مسلمان سب اکٹھے بیٹھے ہوں تو انھیں سلام کہہ دو، جیسا کہ صحیح بخاری (6254) میں حدیث ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم ایک مجلس کے پاس سے گزرے جس میں مسلمان و مشرکین، بت پرست، یہودی اور عبداللہ بن ابی ابن سلول جیسے لوگ ملے جلے تھے تو آپ نے انھیں سلام کیا۔
لہذا مشترکہ مجلس میں سلام کہہ سکتے ہیں، خالص یہودی، عیسائی، مرزائی، کفار و مرتدین و مشرکین کو سلام کہنے میں ابتدا نہ کریں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔