غیر میدانی شہداء کو غسل اور نماز جنازہ دینے کا حکم
تحریر: عمران ایوب لاہوری

جن پر شہید کا لفظ بولا گیا ہے انہیں غسل دینا

مثلا طاعون کی بیماری سے فوت ہونے والا ، غرق ہو کر مرنے والا ، جل کر فوت ہونے والا وغیرہ۔ ان سب کو بالا جماع غسل دیا جائے گا جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ تمام شہید ہیں لیکن انہیں غسل بھی دیا گیا ، کفن بھی پہنایا گیا ، اور ان کی نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔
(نوویؒ) ان تمام لوگوں کو بلا اختلاف غسل بھی دیا جائے گا اور ان کی نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی ۔
[نيل الأوطار: 678/2 ، المجموع: 264/5 ، الروضة الندية: 410/1 ، البحر الزخار: 96/1]
(ابن حزمؒ ) اسی کے قائل ہیں ۔
[المحلى بالآثار: 337/3]

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

1