مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

غیر شرعی دعوت میں شرکت کا حکم حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

شادی بیاہ وغیرہ کی ایسی دعوت جس میں ناچ گانا، بے حجابی، تصویر سازی اور ہندوانہ رسم و رواج ہوں اس میں شرکت کا کیا حکم ہے؟ کتاب وسنت کی رو سے ہماری صحیح راہنمائی کریں؟

جواب :

مسلمان بھائی کی دعوت قبول کرنا اگرچہ شرعی حق ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو چھے حقوق بیان کیے ہیں ان میں سے ایک ہے، لیکن اگر اس دعوت میں غیر شرعی امور ہوں، جیسے گانا بجانا، تصویریں اتارنا، عورتوں کا زیب و زینت سے مزین ہو کر بے حجاب و پردے کے بغیر گھومنا پھرنا، یا ایسی ہی دیگر خرافات تو اس میں شرکت جائز نہیں، خواہ دعوت دینے والا کتنا ہی قریبی عزیز و رشتہ دار کیوں نہ ہو۔ اس مسئلہ کی توضیح کے لیے درج ذیل صحیح حدیث پر غور فرمائیں، سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کھانا تیار کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شرکت کی دعوت دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو آپ نے جب گھر کی طرف دیکھا تو ایک پردے پر تصاویر تھیں، آپ واپس پلٹ گئے۔ علی رضی اللہ عنہ نے کہا:
”اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، کس چیز نے آپ کو واپس پلٹایا دیا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”گھر میں ایک پردہ ہے جس میں تصاویر ہیں اور یقیناً فرشتے ایسے گھر میں داخل نہیں ہوتے جس میں تصاویر ہوں۔“
(نسائی، کتاب الزينة، باب التصاوير ح 5353، ابن ماجه، كتاب الأطعمة، باب إذا رأى الضيف منكراً رجع ح 3359)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایسی دعوت میں شریک نہیں ہوئے جس میں تصویر تھی۔ لہذا وہ مجالس جو منکرات و فواحش پر مبنی ہوں ان میں نہیں جانا چاہیے، سوائے برائی سے روکنے کے لیے، اور یہ بھی غور کیجیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت آپ کے چچا زاد اور داماد نے کی اور وہ گھر آپ کی چھوٹی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا تھا۔ اتنی قرابت کے باوجود آپ اس کھانے کی دعوت پر نہیں بیٹھے، بلکہ واپس پلٹ آئے۔ لہذا دعوت دینے والا خواہ کتنا ہی عزیز اور قریبی رشتہ دار ہو، جب اس کی دعوت میں شریعت کے خلاف امور ہوں تو اس میں شرکت منع ہے۔ اب اگر ایک طرف صلہ رحمی ہے تو دوسری جانب منکرات و بدعات اور رسومات و فواحش کا حصول ہے اور یہ بھی شرعی قاعدہ ہے کہ جب مباح اور حرام کا اجتماع ہو تو حرام کو ترجیح دی جاتی ہے اور مباح کام کو چھوڑ دیا جاتا ہے، تا کہ حصول منکر کی بنا پر انسان حق تعالیٰ کا مجرم اور نافرمان نہ ٹھہرے۔ امام ابن ماجہ نے اس حدیث پر باب باندھا ہے کہ مہمان جب منکر چیز دیکھے تو واپس پلٹ جائے، یہ بھی اس مسئلہ میں بڑا واضح ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔