سوال:
میں نے ایک حدیث میں پڑھا تھا کہ ایک صحابی نے ہوانہ مقام پر نذر مانی تھی کہ وہاں اونٹ ذبح کروں گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تو نہیں؟“ صحابہ نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا وہاں ان کے میلوں میں سے کوئی میلہ تو نہیں لگتا؟“ صحابہ نے کہا: نہیں۔ پھر آپ نے فرمایا: ”نذر پوری کرو، اس لیے کہ اللہ کی معصیت میں نذر کو پورا نہیں کیا جاتا اور نہ وہ نذر پوری کی جاتی ہے جو ابن آدم کے قبضہ میں نہیں۔“ اس کا حوالہ بتا دیں اور آپ سے گزارش ہے کہ مجھے کوئی نصیحت بھی فرمادیں۔ (جزاکم اللہ خیراً)
جواب:
آپ کی ذکر کردہ حدیث ابوداؤد (3313) میں ہے۔ اسی طرح مشکوٰۃ المصابیح (3337) اور صحیح الجامع الصغیر (2501) بھی دیکھ لیں۔ نصیحت کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث یاد رکھیں، ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں، یہ ہر چیز کی جڑ ہے اور جہاد فی سبیل اللہ کو لازم پکڑو، یہ اسلام کی رہبانیت ہے اور اللہ کے ذکر اور تلاوت قرآن کو لازم پکڑو، یہ تیری آسمان میں راحت ہے اور زمین میں تیرا ذکر ہے۔“
(مسند احمد 82/3، ح: 11796)، صحیح الجامع (2543)، علامہ البانی نے اسے حسن قرار دیا ہے، نیز دیکھیں السلسلة الصحيحة (94/2، ح: 555)
ہر کام میں اللہ سے ڈرنا، ذکر و اذکار، تلاوت قرآن اور جہاد فی سبیل اللہ انسان کی کامیابی کا بہت بڑا ذریعہ ہیں اور جہاد سے دکھوں اور پریشانیوں سے نجات ملتی ہے اور اخروی فکر دامن گیر ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ عمل کی توفیق بخشے۔ (آمین!)