عید الفطر کے دن تکبیرات: امام ابو حنیفہ کا موقف اور جمہور کا مذہب

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد فاروق کی کتاب عیدین کے مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عید الفطر کے دن تکبیرات کہنے کا حکم :

عید الفطر کے دن تکبیرات کہنے کے متعلق علماء کے مختلف اقوال ہیں :
(1) ابو حنیفہ کہتے ہیں: عید الاضحیٰ کے دن تکبیرات کہنا مشروع اور عید الفطر کے دن تکبیرات کہنا ممنوع ہے۔ ان کی دلیل ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی یہ روایت ہے۔ شعبہ بیان کرتے ہیں:
كنت أقود ابن عباس يوم العيد فيسمع الناس يكبرون فقال : ما شأن الناس فلن يكبرون؟ قال : يكبرون، قال : يكبر الإمام؟ قلت : لا، قال : أمجانين الناس؟
”میں عید کے دن ابن عباس رضی اللہ عنہما کو (عید گاہ میں) لے جا رہا تھا۔ تو انھوں نے لوگوں کو تکبیرات کہتے سنا اور پوچھا کیا وجہ ہے لوگ تکبیرات نہیں کہہ رہے ہیں؟ انھیں بتایا گیا کہ لوگ تکبیرات کہہ رہے ہیں۔ انھوں نے پوچھا، امام بھی تکبیرات کہہ رہے ہیں؟ میں نے عرض کیا : جی نہیں، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا : کیا یہ پاگل لوگ ہیں؟“
[مصنف ابن أبي شيبة : 5629 – إسناده صحيح]

فوائد :

(1) اس حدیث میں عید الفطر کے دن تکبیرات کہنے کی ممانعت نہیں، بلکہ تکبیرات کہنے کا اثبات ہے، کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے لوگوں کے تکبیرات کہنے کو معیوب نہیں سمجھا بلکہ امام کی موجودگی میں امام کی خاموشی پر تکبیرات کے اہتمام کو معیوب قرار دیا ہے۔
(2) عید گاہ میں پہنچنے کے بعد تکبیرات کا اہتمام مشروع ہے۔ لیکن امام کے عید گاہ میں آ جانے کے بعد اگر امام تکبیرات کہے تو لوگ امام کے ساتھ تکبیرات کہیں گے اور اگر امام خاموشی اختیار کر لے تو دیگر لوگوں کا خاموش ہونا بہتر اور تکبیرات کہنا معیوب ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا مدعا بھی یہی ہے۔ نیز آئندہ روایت بھی اس موقف کی تائید کرتی ہے۔
❀ امام زہری سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
كان الناس يكبرون فى العيد حين يخرجون من منازلهم حتى يأتوا المصلى وحتى يخرج الإمام فإذا خرج الإمام سكتوا فإذا كبر كبروا
”لوگ عید کے دن اپنے گھروں سے نکلتے وقت تکبیرات کا آغاز کرتے (اور تکبیرات کا سلسلہ جاری رکھتے)، حتیٰ کہ وہ عید گاہ میں پہنچ جاتے اور امام عید گاہ کی طرف نکل آتا۔ پھر جب امام (عید گاہ میں) آ پہنچتا تو لوگ خاموش ہو جاتے اور جب وہ تکبیر کہتا تو لوگ بھی تکبیر کہتے تھے۔“
[مصنف ابن أبي شيبة : 5628 – إرواء الغليل : 121/3، إسناده صحیح]
(2) داؤد ظاہری کہتے ہیں: عید الفطر کے دن تکبیرات کہنا واجب ہے۔
[المغني لابن قدامه مع الشرح الكبير 226/2 ]
ان کی دلیل یہ آیت ہے :
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
”اللہ تمھارے ساتھ آسانی کا ارادہ رکھتا ہے اور وہ تمہارے ساتھ تنگی کا ارادہ نہیں رکھتا اور تاکہ تم اس (نعمت) پر اللہ کی بڑائی بیان کرو، جو اس نے تمہیں ہدایت سے نواز ہے اور تا کہ تم شکر کرو۔“
(سورة البقرة : 185)
(3) ابن قدامہ کہتے ہیں عید الفطر کے دن تکبیرات کہنا واجب نہیں کیونکہ شریعت میں (عید الفطر کے دن تکبیرات کہنے کا) وجوب وارد نہیں ہے۔ سو اس کا حکم اصل (یعنی عدم وجوب) پر باقی رہتا ہے اور آیت میں تکبیرات کہنے کا حکم نہیں ہے (جس سے عید الفطر میں تکبیرات کا وجوب ثابت ہو) بلکہ مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ اپنا ارادہ بتا رہے ہیں (اور ارادہ سے تکبیرات کا استحباب ثابت ہوتا ہے)۔
[المغني مع الشرح الكبير : 226/3]

راجح موقف:

اس مسئلہ پر راجح موقف یہ ہے کہ عید الفطر کے دن تکبیرات کہنا مسنون و مستحب عمل ہے اس کے بارے مفصل دلائل گزشتہ بحث ”عید گاہ جاتے ہوئے تکبیرات کا اہتمام کرنا“ میں بیان ہوئے ہیں۔ نیز حافظ ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ ابو حنیفہ اور داؤد ظاہری کے سوا تمام علماء، عید الفطر کے دن تکبیرات کہنے کے استحباب کے قائل ہیں۔
[تفسير ابن كثير]

عید الفطر میں تکبیرات کا آغاز و اختتام :

عید الفطر کا چاند نظر آنے پر تکبیرات عید کا آغاز اور اختتام کب کیا جائے اس بارے علماء کی مختلف آراء ہیں :
(1) جمہور علماء کا مذہب ہے کہ عید الفطر کے دن تکبیرات کا وقت نماز عید کے لیے گھر سے نکلنے سے لے کر خطبہ عید کے آغاز تک ہے۔ اس بارے ضعیف احادیث مروی ہیں۔
حاکم کہتے ہیں: محدثین ہمیشہ اسی طریقہ پر کاربند رہے ہیں اور مالک، احمد، اسحاق اور ابو ثور کا بھی یہی موقف ہے۔
(2) بعض اہل علم کہتے ہیں: عید الفطر میں تکبیرات کا وقت عید کی رات چاند نظر آنے سے لے کر عید گاہ میں پہنچ جانے کے بعد امام کے عید گاہ میں آنے تک ہے (جب امام عید گاہ میں پہنچ جائیں تو تکبیرات کا سلسلہ منقطع کر دیا جائے اور اگر امام تکبیرات کہے تو حاضرین بھی تکبیرات کہہ سکتے ہیں)۔
[فقه السنة : 307/1]

راجح موقف :

اس مسئلہ میں راجح موقف ثانی الذکر علماء کا ہے کہ عید الفطر میں تکبیرات کا آغاز ہلال عید نظر آنے پر اور اختتام عید گاہ میں امام کے پہنچنے پر کیا جائے۔ اس کے دلائل حسب ذیل ہیں :
(1) فرمان باری تعالیٰ ہے :
وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
”اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو (اس نعمت پر) جو اس نے تمھیں ہدایت سے نوازا ہے اور تا کہ تم شکر کرو۔“
(سورة البقرة : 185)
اس آیت میں رمضان کی گنتی پوری ہونے پر اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے اور تکبیرات کہنے کا حکم دیا گیا ہے اور یہ حقیقت ہے کہ رمضان کی گنتی ہلال شوال کے طلوع ہونے پر مکمل ہوتی ہے، لہذا عید الفطر میں تکبیرات کا آغاز چاند نظر آنے پر شروع کر دیا جائے۔
زید بن اسلم رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر یوں بیان کرتے ہیں :
إذا رأى الهلال فالتكبير من حين يرى الهلال حتى ينصرف الإمام فى الطريق والمسجد إلا أنه إذا حضر الإمام كف فلا يكبر إلا بتكبيره
”جب ہلال عید نظر آئے تو وہ چاند دیکھنے سے لے کر امام کے عید گاہ پہنچنے تک راستے میں اور مسجد میں تکبیرات کہے۔ البتہ جب امام عید گاہ میں پہنچ جائے تو تکبیرات ترک کر دے پھر امام کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہے (انفرادی طور پر تکبیرات کا اہتمام نہ کیا جائے)۔“
[تفسير طبري : 579/3، إسناده صحیح]
(2) عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
حق على المسلمين إذا نظروا إلى هلال شوال أن يكبروا حتى يفرغوا من عندهم لأن الله تعالى ذكره يقول ولتكملوا العدة ولتكبروا الله علىٰ ما هداكم
”تمام اہل اسلام پر لازم ہے کہ جب وہ شوال کا چاند دیکھ لیں تو تکبیرات کا سلسلہ شروع کریں تا وقتیکہ وہ عید سے فارغ ہو جائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اور تاکہ وہ رمضان کی گنتی پوری کریں اور (اس نعمت پر) جو اللہ تعالیٰ نے انھیں ہدایت سے سرفراز کیا ہے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کریں۔“
[تفسير طبري : 479/3، إسناده صحیح]
(3) ابن قدامہ حنبلی کہتے ہیں :
وجملته أنه يستحب للناس إظهار التكبير فى ليلتي العيدين فى مساجدهم ومنازلهم وطرقهم مسافرين كانوا أو مقيمين لظاهر الآية المذكورة
”اس بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ آیت کی رو سے تمام مسلمانوں کے لیے خواہ وہ مسافر ہوں یا مقیم عیدین کی راتوں میں مساجد میں، گھروں میں اور راستوں میں بلند آواز سے تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے۔“
[المغني مع الشرح الكبير : 226/2]

تکبیرات کے اختتام کا وقت :

جب امام عید گاہ پر پہنچ جائے تو تکبیرات کا سلسلہ ختم کر دیا جائے۔
❀ نافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أن ابن عمر كان يغدو يوم العيد ويكبر ويرفع صوته حتى يبلغ الإمام
”بلاشبہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عید کے دن صبح سویرے نکلتے اور با آواز بلند تکبیرات کہتے رہتے تھے (یہ سلسلہ جاری رکھتے)، حتیٰ کہ امام عید گاہ میں پہنچ جاتا۔“
[مصنف ابن أبي شيبة : 70/2 – بيهقي : 679/3 – إسناده حسن]
البتہ امام کے عید گاہ میں پہنچنے پر اگر امام تکبیرات کہے تو اس کے ساتھ تکبیرات کہی جا سکتی ہیں۔
❀ زہری سے روایت ہے :
كان الناس يكبرون فى العيد حين يخرجون من منازلهم حتى يأتوا المصلى وحتى يخرج الإمام فإذا خرج الإمام سكتوا فإذا كبر كبروا
”لوگ عید میں گھروں سے نکلتے وقت تکبیرات کا سلسلہ شروع کرتے حتیٰ کہ وہ عید گاہ میں پہنچ جاتے (اور تکبیرات جاری رکھتے) حتیٰ کہ امام عید گاہ میں پہنچ جاتا پھر جب امام نکل آتا تو لوگ خاموش ہو جاتے اور جب امام تکبیر کہتا تو لوگ بھی تکبیر کہتے تھے۔“
[مصنف ابن أبي شيبة : 5628 – إرواء الغليل : 121/3 – إسناده صحیح]
نیز جس حدیث میں وضاحت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیرات کا سلسلہ نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد منقطع کرتے تھے وہ مرسل ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے.
(تفصیل کے لیے دیکھئے ص: 90)۔

عید الاضحیٰ اور تکبیرات کا بیان :

عید الاضحیٰ کے دنوں میں بھی تکبیرات کہنا مسنون و مستحب فعل ہے اس کے دلائل حسب ذیل ہیں۔
❀ ارشاد باری تعالی ہے :
وَيَذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ
”اور وہ چند معلوم دنوں میں ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا ذکر کریں جو اس نے انھیں دیئے ہیں۔“
(سورة الحج : 28)
اور فرمایا :
وَاذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْدُودَاتٍ
”اور گنے ہوئے چند دنوں (ایام التشريق) میں اللہ کا ذکر کرو۔“
(سورة البقرة : 203)

فقه التفسير :

مذکورہ آیات کی رو سے ایام معلومات اور ایام معدودات (ایام التشريق) (11، 12، 13 ذوالحجہ) کا دن بھی انھیں ایام میں شامل ہے۔ لہذا عید الاضحیٰ کے دن بالخصوص تکبیرات وغیرہ کا اہتمام کیا جائے۔ نیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عید الاضحیٰ کے دن عید گاہ جاتے ہوئے با آواز بلند تکبیرات و تہلیلات کہنا ثابت ہے .
(دیکھئے ص: 69، 70 بعنوان ”عید گاہ جاتے ہوئے تکبیرات کا اہتمام کرنا“)۔

عید الاضحیٰ میں تکبیرات کا آغاز و اختتام :

عید الاضحیٰ میں تکبیرات کا آغاز و اختتام کب کیا جائے، اس بارے علماء کے مختلف اقوال و مذاہب ہیں :
(1) احمد بن حنبل، ابو یوسف اور امام محمد کا موقف ہے کہ تکبیرات کا محل عرفہ (9 ذوالحجہ) کی فجر سے لے کر ایام التشريق (13 ذوالحجہ) کے آخر تک ہر نماز کے بعد ہے۔
(2) عثمان بن عفان، عبد اللہ بن عباس، زید بن علی رضی اللہ عنہم اور مالک کا قول اور شافعی کا ایک قول ہے کہ تکبیرات کا وقت 10 ذوالحجہ کی ظہر سے لے کر 13 ذوالحجہ کی فجر تک ہے۔
(3) اور شافعی کا ایک قول ہے کہ تکبیرات کا وقت 10 ذوالحجہ کی نماز مغرب سے لے کر 13 ذوالحجہ کی فجر تک ہے۔
(4) ابو حنیفہ کہتے ہیں: تکبیرات کا وقت عرفہ، 9 ذوالحجہ کی فجر سے لے کر 10 ذوالحجہ کی عصر تک ہے۔ [نیل الأوطار : 333/3]
(5) داؤد ظاہری، زہری، سعید بن جبیر رضی اللہ عنہم کا قول ہے کہ تکبیرات کا وقت 10 ذوالحجہ کی ظہر تا 13 ذوالحجہ کے عصر تک ہے۔

راجح قول :

حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں: عید الاضحیٰ کے دنوں میں تکبیرات کی تعین کے بارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی صحیح حدیث ثابت نہیں اور صحابہ کرام میں علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے صحیح منقول اقوال کی رو سے راجح ترین موقف یہ ہے کہ تکبیرات کا وقت عرفہ (9 ذوالحجہ) کی صبح سے لے کر منیٰ کے آخر دن (13 ذوالحجہ) کی عصر تک ہے۔
[فتح الباري : 595/2]
اس موقف کے قرین صواب ہونے کے دلائل حسب ذیل ہیں :
(1) عمیر بن سعید بیان کرتے ہیں کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
كان يكبر من صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق
”عرفہ کے دن نماز فجر سے لے کر تشریق کے آخری دن (13 ذوالحجہ) کی عصر تک تکبیرات کہتے تھے۔“
[مصنف ابن أبي شيبة – إسناده صحیح]
(2) حکم بن فروخ بیان کرتے ہیں :
أن ابن عباس كان يكبر من غداة عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق
”بلاشبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما عرفہ (9 ذوالحجہ) کی صبح سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن (13 ذوالحجہ) کی نماز عصر تک تکبیرات کہا کرتے تھے۔“
[مستدرك حاكم : 299/1 – بيهقي : 314/3 – إسناده صحیح]
(3) امام اوزاعی کا فتویٰ :
ولید بن مزید بیان کرتے ہیں، امام اوزاعی سے عرفہ کے دن تکبیرات کہنے کے بارے سوال ہوا تو انھوں نے کہا :
يكبر من غداة عرفة إلى آخر أيام التشريق كما كبر على وعبد الله
”یوم عرفہ کی صبح سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن (کی نماز عصر) تک تکبیرات کہی جائیں، جیسے (ان دنوں میں) علی اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے تکبیرات کہی ہیں۔“
[مستدرك حاكم : 300/1 – إسناده حسن]

ضعیف روایات کی نشاندہی :

یوم عرفہ کی صبح سے لے کر 13 ذوالحجہ کی عصر تک تکبیرات کے بارے جتنی مرفوع روایات منقول ہیں وہ ضعیف اور نا قابل اعتبار ہیں۔
(1) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى الصبح من غداة عرفة يقبل على أصحابه فيقول على مكانكم ويقول الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر ولله الحمد فيكبر من غداة عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یوم عرفہ کی صبح نماز فجر ادا کرتے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرماتے، اپنی جگہوں پر ٹھہرے رہو اور (یہ کلمات) الله اكبر، الله اكبر، لا اله الا الله والله اكبر ولله الحمد کہتے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ کی صبح سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک تکبیرات کہتے رہتے تھے۔“
[دار قطني : 1719 – إرواء الغليل : 124/3 – ضعیف جداً]
اس حدیث کی سند میں عمرو بن شمر متروک راوی اور جابر جعلی ضعیف راوی ہے۔
(2) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر فى صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق حين يسلم من المكتوبات
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ کے دن نماز فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک فرض نمازوں سے سلام کے بعد تکبیرات کہا کرتے تھے۔“
[دار قطني : 1718 : 49/2 – ضعیف جداً]
عمرو بن شمر متروک ہے اور جابر جعلی ضعیف و کذاب راوی ہے۔ اس بارے کئی اور ضعیف روایات بھی موجود ہیں لیکن طوالت کے خوف کے پیش نظر انھیں بیان کرنے سے اجتناب کیا گیا ہے۔

کیا یکم ذوالحجہ سمیت ذوالحجہ کے ابتدائی آٹھ دنوں میں تکبیرات کہنا مشروع ہے؟

عید الاضحیٰ کا چاند نظر آنے پر تکبیرات شروع کرنے کے بارے کوئی واضح صحیح دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ اس بارے منقول مرفوع و موقوف روایات ضعیف اور نا قابل حجت ہیں لہذا صحیح موقف کی رو سے عید الاضحیٰ میں تکبیرات کا آغاز 9 ذوالحجہ کی فجر کے وقت شروع کرنا چاہئے اور اختتام 13 ذوالحجہ کی عصر کے بعد کرنا چاہئے جیسا کہ گزشتہ بحث میں تفصیل بیان ہوئی ہے۔

ضعیف روایات کا بیان :

(1) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ما من أيام أعظم عند الله ولا أحب إليه من العمل فيهن من هذه الأيام العشر فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير والتحميد
”دس ذوالحجہ کے ابتدائی دنوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے ہاں عظیم دن نہیں اور ان دنوں کے اعمال سے بڑھ کر عام دنوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب نہیں۔ سو تم ان دنوں میں تہلیل و تکبیر اور تحمید کا کثرت سے اہتمام کرو۔“
[مسند أحمد : 75/22 – 131/2 – إسناده ضعیف]
یزید بن ابی زیاد کوفی ضعیف مدلس راوی ہے اور اس حدیث میں اس کا عنعنہ بھی ہے۔
(2) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
ما من أيام أفضل عند الله ولا العمل فيهن أحب إلى الله عز وجل من هذه الأيام العشر فأكثروا فيهن من التهليل والتكبير وذكر الله فإنها أيام التهليل والتكبير وذكر الله
”اللہ تعالیٰ کے نزدیک ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن باقی دنوں سے افضل ہیں اور ان کے اعمال (باقی دنوں کے اعمال سے) زیادہ محبوب ہیں۔ چنانچہ ان دنوں میں تہلیل و تکبیر اور ذکر کا بکثرت اہتمام کرو، کیونکہ یہ تہلیل و تکبیر اور ذکر اللہ کے دن ہیں۔“
[شعب الإيمان للبيهقي : 356/3 – ضعیف ترغيب و ترهيب : 7305 – إسناده ضعیف جداً]
عبد اللہ بن محمد بن وهب دينوري متهم بالكذب اور یحییٰ بن عیسیٰ رملی ضعیف راوی ہے۔
(3) كان ابن عمر وأبو هريرة يخرجان إلى السوق فى أيام يكبران ويكبر الناس بتكبيرهما
”ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں بازار میں نکل کر تکبیرات کہتے اور لوگ بھی ان کی تکبیر کے ساتھ تکبیرات کہتے تھے۔“
[صحيح بخاري كتاب العيدين، باب فضل العمل في ايام العشر – اسنادہ ضعیف]
یہ اثر معلق اور بے سند ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے، حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں یہ اثر مجھے مفصل سند کے ساتھ نہیں ملا اور امام بیہقی اور امام بغوی نے بھی اس اثر کو معلق روایت کیا ہے۔
[فتح الباري : 590/3]
(4) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ويذكروا اسم الله فى أيام معلومات کی تفسیر بیان کی ہے کہ ایام معلومات سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں۔
[صحيح بخاري، کتاب العيدين باب فضل العمل في ايام التشريق]
ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اس تفسیری قول سے یہ استدلال لینا کہ ذوالحجہ کے ابتدائی دس دنوں میں تکبیرات مشروع ہیں، درست نہیں کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ قول بھی مروی ہے کہ ایام معلومات یوم نحر اور اس کے بعد کے تین دن ہیں اور امام طحاوی نے اس مؤخر الذکر قول کو راجح قرار دیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان :
وَيَذْكُرُوا اللَّهَ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ
”اور وہ چند معلوم دنوں میں ان پالتو جانوروں پر اللہ کا ذکر کریں“
(سورة الحج : 28)
سے معلوم ہوتا ہے کہ ایام معلومات سے مراد قربانی کے دن ہیں (ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن نہیں)۔
[فتح الباري : 590/2]
نیز عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ذاتی فعل بھی ان کے اول الذکر قول کے مخالف ہے :
❀ عکرمہ بیان کرتے ہیں :
أن ابن عباس كان يكبر من غداة عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق
”بلاشبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما عرفہ کی فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک تکبیرات کہا کرتے تھے۔“
[مستدرك حاكم : 299/1 – بيهقي : 314/3 – إسناده صحیح]

تکبیرات کے اوقات :

تکبیرات کہنے کے مخصوص اوقات نہیں ہیں بلکہ ان دنوں تمام اوقات میں تکبیرات کا اہتمام مستحب عمل ہے اس کے دلائل درج ذیل ہیں :
كان عمر رضى الله عنه يكبر فى قبته بمنى فيسمعه أهل المسجد فيكبرون ويكبر أهل الأسواق حتى ترتج منى تكبيرا
”عمر رضی اللہ عنہ منیٰ میں اپنے خیمے میں تکبیرات کہتے اور ان کی تکبیرات سن کر اہل مسجد اور بازار میں موجود لوگ تکبیرات کہتے حتیٰ کہ منیٰ تکبیر کی آواز سے گونج اٹھتا۔“
وكان ابن عمر يكبر بمنى تلك الأيام وخلف الصلوات وعلى فراشه وفي فسطاطه ومجلسه وممشاه وتلك الأيام جميعا
”ابن عمر رضی اللہ عنہما منیٰ میں منیٰ کے دنوں میں، نمازوں کے بعد، اپنے بستر پر، اپنے خیمے میں، اپنی مجلس میں اور چلتے پھرتے ان تمام دنوں میں تکبیرات کہا کرتے تھے۔“
وكان النساء يكبرن خلف أبان بن عثمان وعمر بن عبد العزيز ليالي التشريق مع الرجال فى المسجد
”اور عورتیں تشریق کی راتوں میں ابان بن عثمان اور عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہم کے پیچھے مردوں کے ساتھ مسجد میں تکبیرات کہتی تھیں۔“
[صحيح بخاري، کتاب العيدين باب التكبير ايام منى وإذا غدا إلى عرفة]

فوائد :

(1) حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں: امام بخاری نے اس موقف کو اختیار کیا ہے کہ تکبیرات کے دنوں میں تمام اوقات میں کبھی افراد (مرد و زن اور مقیم و مسافر) کے لیے تکبیرات کہنا مشروع ہے اور مذکورہ بالا آثار اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔ [فتح الباري : 595/2]
(2) امام شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: راجح مسئلہ یہ ہے کہ محض نمازوں کے بعد مخصوص اوقات میں تکبیرات کہنا مستحب نہیں بلکہ تکبیرات کے تمام دنوں میں ہر وقت تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے اور اوپر بیان کردہ آثار اس کی دلیل ہیں۔ [نیل الأوطار : 334/3]
(3) ایام تشریق میں تکبیرات کے مخصوص اوقات نہیں ہیں بلکہ ان دنوں میں ہر وقت تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے۔[فقه السنة : 307/1]
نیز جس روایت میں فرض نمازوں کے بعد تکبیرات کہنے کی تخصیص ہے وہ روایت ضعیف ہے۔
❀ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يكبر فى صلاة الفجر يوم عرفة إلى صلاة العصر من آخر أيام التشريق حين يسلم من المكتوبات
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یوم عرفہ کے دن نماز فجر سے لے کر ایام تشریق کے آخری دن کی نماز عصر تک (اس وقت) فرض نمازوں سے سلام پھیرتے وقت تکبیرات کہا کرتے تھے۔“
[دار قطني : 49/2 : 1717 – نصب الراية : 406/3 – إسناده ضعیف جداً]
عمرو بن شمر متروک اور جابر بن یزید بن حارث جعفی ضعیف اور کذاب راوی ہے۔

عورتیں بھی تکبیرات کہیں گی :

جس عیدین میں مردوں کو تکبیرات کہنے کا حکم ہے، عورتیں بھی اس حکم میں شامل ہیں اور عورتوں کے لیے بھی تکبیرات کہنا مستحب فعل ہے۔ اس کے مزید دلائل حسب ذیل ہیں۔
(1) صحیح بخاری میں ترجمۃ الباب میں مذکور ہے :
وكان النساء يكبرن خلف أبان بن عثمان وعمر بن عبد العزيز ليالي التشريق مع الرجال فى المسجد
”اور عورتیں تشریق کی راتوں میں ابان بن عثمان اور عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہم کے پیچھے مسجد میں مردوں کے ساتھ تکبیرات کہتی تھیں۔“
[صحيح بخاري، کتاب العيدين باب التكبير ايام منى وإذا غدا إلى عرفة]

مذاہب و آراء :

عورتوں کے تکبیرات کہنے کی مشروعیت کے بارے علماء کی مختلف آراء ہیں۔
(1) مالک اور شافعی کا مذہب ہے کہ ایام تشریق میں نمازوں کے بعد عورتوں پر تکبیرات کہنا لازم ہے۔
(2) ابو حنیفہ کہتے ہیں: ایام تشریق میں عورتیں تکبیرات نہیں کہیں گی۔
(3) ابو یوسف اور محمد کا موقف ہے کہ عورتوں کے لیے تکبیرات ایسے ہی مشروع ہیں جیسے مردوں پر تکبیرات مشروع ہیں۔ [شرح ابن بطال : 192/4]
(4) سفیان ثوری کی رائے ہے کہ عورتیں نماز باجماعت ادا کرنے کی صورت میں تکبیرات کہیں گی۔ امام احمد نے بھی اسی قول کو احسن کہا ہے۔
(5) البتہ امام احمد سے ایک دوسرا قول منقول ہے کہ عورتیں تکبیرات نہ کہیں، کیونکہ تکبیر ایسا ذکر ہے جس میں آواز بلند کرنا مشروع ہے اور اذان کی طرح تکبیرات میں آواز بلند کرنا عورت کے لیے جائز نہیں۔ [المغني مع الشرح الكبير : 248/2]

راجح موقف :

اس مسئلہ میں راجح موقف یہ ہے کہ بلاتعیین و تخصیص عورتیں بھی تکبیرات کے دنوں میں ہر وقت تکبیرات کہہ سکتی ہیں۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ تکبیرات کے اوقات (اور تکبیرات کون کہے) اس بارے کافی اختلاف ہے۔ چنانچہ
(1) بعض علماء نے تکبیرات کا وقت نماز کے بعد مخصوص کیا۔
(2) کچھ علماء نے نوافل کے بجائے فرض نمازوں کے بعد کا وقت تکبیرات کے لیے خاص کیا ہے۔
(3) بعض علماء نے تکبیرات کو عورتوں کے بجائے مردوں کے ساتھ خاص کیا ہے۔
(4) کچھ نے منفرد کے بجائے نماز باجماعت کی تخصیص کی ہے۔
(5) بعض نے قضا نماز کو چھوڑ کر ادا نماز کی شرط عائد کی ہے۔
(6) کچھ نے مسافر کے سوا مقیم کی قید لگائی ہے۔
لیکن امام بخاری رحمہ اللہ نے اس مسئلہ کو اختیار کیا ہے کہ تکبیرات کہنا (تمام اوقات اور) تمام افراد (مرد، عورت، مقیم و مسافر سبھی کے لیے) مشروع و جائز ہے اور ترجمۃ الباب میں منقول آثار اس موقف کی تائید کرتے ہیں۔
[فتح الباري : 595/2]

حائضہ عورتیں بھی تکبیرات کہیں گی :

عیدین میں حائضہ عورتوں کو بھی تلقین ہے کہ وہ تکبیرات کا اہتمام کریں۔
❀ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
كنا نؤمر أن نخرج يوم العيد حتى نخرج البكر من خدرها حتى نخرج الحيض فيكن خلف الناس فيكبرن بتكبيرهم ويدعون بدعائهم يرجون بركة ذلك اليوم وطهرته
”ہمیں عید کے دن (عید گاہ میں) پہنچنے کا حکم دیا جاتا تھا حتیٰ کہ (ہمیں حکم ہوتا کہ) ہم دوشیزہ کو اس کی خلوت گاہ سے اور حائضہ عورتوں کو بھی نکالیں اور وہ (حائضہ عورتیں) لوگوں کے پیچھے رہیں اور ان کی تکبیرات کے ساتھ تکبیرات کہیں، ان کی دعاؤں کے ساتھ دعا کریں اور وہ اس دن کی برکت اور گناہوں سے پاکی کی امید رکھیں۔“
[صحيح بخاري، کتاب العيدين، باب التكبير ايام منى وإذا غدا إلى عرفة : 971]
(1) ابن قدامہ حنبلی بیان کرتے ہیں :
وينبغي لهن أن يخفضن أصواتهن حتى لا يسمعهن الرجال
”عورتوں کے لیے مناسب ہے کہ وہ پست آواز میں تکبیرات کہیں حتیٰ کہ مرد ان کی آواز نہ سن سکیں۔“
[المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير : 248/2]
(2) ابن رجب حنبلی رقم طراز ہیں : جب عورتیں باجماعت نماز ادا کریں تو وہ بھی مردوں کے ساتھ تکبیرات کہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں:
ولكن المرأة تخفض صوتها بالتكبير
”لیکن تکبیرات کہتے وقت عورت اپنی آواز پست رکھے۔“
[فتح الباري لابن رجب : 58/7]

تکبیرات کے الفاظ :

یاد رکھیے! تکبیرات کے متعلق الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ ثابت نہیں بلکہ اس بارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب آئندہ روایت انتہائی ضعیف ہے۔
❀ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا صلى الصبح من غداة عرفة يقبل على أصحابه فيقول على مكانكم ويقول الله أكبر الله أكبر الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر ولله الحمد
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کی صبح جب نماز فجر ادا کرتے تو اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہو کر کہتے : اپنی جگہوں پر برقرار رہیے اور (یہ کلمات) الله اكبر، الله اكبر، الله اكبر لا اله الا الله والله اكبر ولله الحمد کہتے تھے۔“
[دار قطني : 50/2 – إرواء الغليل : 407/3 – إسناده ضعیف جداً]
عمرو بن شمر متروک اور جابر بن یزید بن حارث جعفی ضعیف اور کذاب ہے۔
البتہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بسند صحیح تکبیرات کے الفاظ منقول ہیں۔
(1) ابو عثمان نہدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :
كان سلمان يعلمنا التكبير يقول كبروا الله الله أكبر الله أكبر مرارا اللهم أنت أعلى وأجل من أن تكون لك صاحبة أو يكون لك ولد أو يكون لك شريك فى الملك أو يكون لك ولي من الذل وكبره تكبيرا الله أكبر تكبيرا اللهم اغفر لنا اللهم ارحمنا
”سلمان فارسی رضی اللہ عنہ ہمیں تکبیرات کے الفاظ کی تعلیم دیتے تھے۔ وہ کہتے : تم اللہ کی کبریائی بیان کرو (یعنی) بار بار اللہ اکبر کہو (پھر یہ کلمات کہو) : اے اللہ تو اس سے بالا و برتر ہے کہ تیری بیوی ہو، یا تیری اولاد ہو، یا بادشاہت میں تیرا کوئی شریک ہو، یا کمزوری میں تیرا کوئی مددگار ہو، اور اس کی خوب بڑائی بیان کرو، اللہ واقعی سب سے بڑا ہے، اے اللہ! ہمیں معاف فرما، اے اللہ ہم پر رحم فرما۔“
[مصنف عبد الرزاق : 290/10 – بيهقي : 316/3 – إسناده صحیح]
حافظ ابن حجر نے اس اثر کو باعتبار سند صحیح ترین قرار دیا ہے۔
[فتح الباري : 090/1]
(2) عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ان الفاظ میں تکبیرات کہا کرتے تھے :
اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ كَبِيرًا اللَّهُ أَكْبَرُ وَأَجَلُّ اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ
[مصنف ابن أبي شيبة : 5645 – إسناده صحیح]

ضعیف آثار :

(1) عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ایام تشریق میں ان الفاظ میں اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر واللہ الحمد تکبیرات کہتے تھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة : 5632 – إسناده ضعیف]
ابو اسحاق سبيعي کی تدلیس ہے۔
(2) شریک بن عبد اللہ قاضی بیان کرتے ہیں میں نے ابو اسحاق سبيعي سے پوچھا کہ علی اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما منی میں تکبیرات کیسے کہتے تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ یہ دونوں حضرات (ان الفاظ میں) اللہ اکبر، اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر واللہ الحمد تکبیرات کہا کرتے تھے۔
[مصنف ابن أبي شيبة : 5652 – إسناده ضعیف]
شریک بن عبد اللہ قاضی سيئ الحفظ ہے۔

خلاصۃ التحقيق :

چونکہ کتاب و سنت میں تکبیرات کے مخصوص الفاظ وارد نہیں ہیں، اس لیے صحیح آثار سے ثابت تکبیرات کے الفاظ کا اہتمام کرنا افضل ہے لیکن ضعیف روایت اور آثار میں مذکور الفاظ کا اہتمام کرنا بھی جائز ہے کیونکہ اس سے اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے کا مقصود پورا ہو جاتا ہے۔