مضمون کے اہم نکات
قرآن کریم کی روشنی میں
﴿وَذَكِّرْهُم بِأَيَّامِ اللَّهِ﴾ (إبراهيم: 5)
ترجمہ: "اور اُنہیں اللہ کے دنوں کی یاد دہانی کراؤ۔”
علمائے تفسیر کے مطابق "أیّام الله” میں عید الاضحیٰ اور ایامِ تشریق شامل ہیں۔ ان ایام کا خاص شعار تکبیرات تشریق اور عید کی تکبیریں ہیں۔ ان دنوں میں اللہ کی بڑائی بیان کرنا ایک نمایاں علامت اور شعارِ اسلامی ہے۔
﴿وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ﴾ (البقرة: 185)
اگرچہ یہ آیت رمضان المبارک کے اختتام کے حوالے سے نازل ہوئی، مگر اس میں اللہ کی بڑائی بیان کرنے کا جو عمومی حکم ہے، وہ عیدین کے لیے بھی شامل ہے، لہٰذا عیدین میں تکبیر کہنا ایک مشروع عمل ہے۔
نبی کریم ﷺ کی احادیث
(أ) عمومی طور پر تکبیر کے وقت رفع الیدین کی سنت
عن وائل بن حجر:
"رأيتُ النبيَّ ﷺ إذا كبَّر رفع يديه.”
(مسند أحمد: 18384، سنن أبي داود: 723)
ترجمہ: "میں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ جب آپ تکبیر کہتے تو ہاتھ اٹھاتے تھے۔”
یہ حدیث رفع الیدین کی سنت ہونے کو واضح کرتی ہے، جو نماز کے مختلف مواقع پر اپنائی جاتی ہے۔
(ب) عیدین کی زائد تکبیرات میں رفع الیدین
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما قال:
"كان النبي ﷺ يرفع يديه مع كل تكبيرة في العيدين.”
"نبی کریم ﷺ عیدین کی ہر تکبیر کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھایا کرتے تھے۔”
(الدارقطني: 1714، المعجم الأوسط: 5795)
عن عبد الله بن عباس رضي الله عنهما قال:
"كان يرفع يديه في كل تكبيرة من تكبيرات العيد.”
"وہ عید کی ہر تکبیر کے ساتھ اپنے ہاتھ اٹھاتے تھے۔”
(مصنف عبد الرزاق: 5685)
ان احادیث سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ ہر زائد تکبیر کے ساتھ ہاتھ اٹھایا کرتے تھے، چاہے وہ عید الفطر ہو یا عید الاضحیٰ۔ یہ عمل نبی ﷺ کی سنت سے پوری طرح ثابت ہے۔
آثارِ صحابہ رضی اللہ عنہم
(أ) حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ
"كان عبد الله بن عمر يرفع يديه مع كل تكبيرة في العيدين.”
(مصنف ابن أبي شيبة: 2/82)
(ب) حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ
"كان يرفع يديه في كل تكبيرة من تكبيرات العيد.”
(مصنف عبد الرزاق: 5685)
(ج) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ
"أن أبا هريرة كان يرفع يديه مع كل تكبيرة.”
(سنن الدارقطني: 2/49)
ان آثار سے واضح ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عیدین کی زائد تکبیرات میں رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ اس کا مطلب ہے کہ نبی ﷺ کی سنت ان کے درمیان زندہ اور رائج تھی۔
تابعین اور تبع تابعین کا عمل
(أ) امام سعید بن مسیب رحمہ اللہ
"كانوا يرفعون أيديهم مع كل تكبيرة في العيد.”
(مصنف عبد الرزاق: 5687)
(ب) امام حسن بصری رحمہ اللہ
"كان يرفع يديه في كل تكبيرة من العيد.”
(سنن البيهقي: 3/290)
تابعین اور تبع تابعین نے بھی اس سنت کو اپنایا اور اس پر مسلسل عمل کرتے رہے، جو اس عمل کی سنتِ متواترہ ہونے کی دلیل ہے۔
فقہاء و محدثین کے اقوال (قرونِ وسطیٰ تک)
(أ) امام شافعی رحمہ اللہ (204ھ)
"يرفع المصلي يديه مع كل تكبيرة في العيد.”
(كتاب الأم: 1/125)
(ب) امام نووی رحمہ اللہ (676ھ)
"السنة أن يرفع يديه مع كل تكبيرة في العيد.”
(المجموع: 5/25)
(ج) امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ)
"يرفع المصلي يديه في تكبيرات العيد كما كان الصحابة يفعلون.”
(مجموع الفتاویٰ: 22/43)
(د) امام ابن قیم رحمہ اللہ (751ھ)
"رفع اليدين في تكبيرات العيد من السنة الثابتة.”
(زاد المعاد: 1/443)
ان اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ جلیل القدر فقہاء اور محدثین نے بھی اس عمل کو سنتِ مؤکدہ اور نبی ﷺ سے ثابت شدہ طریقہ قرار دیا۔
نتیجہ:
عید الاضحیٰ کی زائد تکبیرات کے دوران رفع الیدین کرنا:
✅ نبی کریم ﷺ کی سنت سے ثابت شدہ عمل ہے۔
✅ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس پر عمل پیرا تھے۔
✅ تابعین اور تبع تابعین کی سنت کے مطابق یہی طرزِ عمل رہا۔
✅ فقہاء اور محدثین نے اسے سنتِ مؤکدہ قرار دیا۔
📌 نتیجتاً، عید الاضحیٰ کی زائد تکبیرات میں رفع الیدین کرنا ایک روشن اور قابلِ عمل سنت ہے۔ اس پر عمل کرنا سنت کی پیروی اور بدعت سے اجتناب کی علامت ہے۔