مضمون کے اہم نکات
عیدین کی تیاری میں قابل التفات امور:۔
نماز عیدین کی تیاری میں آئندہ امور کو ملحوظ رکھنا مستحب اور افضل ہے۔
غسل عیدین:۔
عید کے دن غسل کرنا مستحب عمل ہے، اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:
زاذان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے علی رضی اللہ عنہ سے غسل کے بارے میں پوچھا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: چاہو تو روزانہ غسل کر لو۔ اس شخص نے عرض کیا: یہ مقصود نہیں بلکہ ضروری غسل کے بارے بتائیں ، اس پر انھوں نے کہا: جمعہ، عرفہ، عید الاضحیٰ اور عید الفطر کے دن کا غسل ضروری ہے۔
سنن بیهقی: 278/3 – أرواء الغلیل: 1177/1 – إسناده حسن ، زاذان حسن درجے کا راوی ہے
فائدہ: ۔
علامہ الالبانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ یہ روایت عیدین کے غسل کے مستحب ہونے کی بہترین دلیل ہے۔
أرواء الغلیل: 176/1
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن ابن عمر كان يغتسل للعيدين
بلاشبہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی عیدین کا غسل کرتے تھے۔
مصنف ابن ابی شیبہ، إسناده صحيح
غسل جمعہ پر قیاس: ۔
چونکہ جمعہ اہل اسلام کا اجتماع اور عید ہے اور اس مناسبت کی وجہ سے غسل جمعہ واجب ہے۔ سو عیدین میں بھی یہ اسباب موجود ہیں۔ لہذا عیدین کے غسل کا التزام کرنا بھی بہتر ہے۔
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن هذا يوم عيد، جعله الله للمسلمين، فمن جاء إلى الجمعة فليغتسل ، وإن كان طيب فليمس منه، وعليكم بالسواك
”بلاشبہ اس دن (جمعہ) کو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی عید قرار دیا ہے چنانچہ جو شخص جمعہ کے لیے آئے وہ غسل کرے اور اگر خوشبو دستیاب ہو تو اسے استعمال کرے نیز (جمعہ کے دن) مسواک کا التزام کرو۔“
سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء في الزينة يوم الجمعة: 1098 – مصنف ابن ابی شیبه 5016 – إسناده حسن، بیهقی: 243/3۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں زھری کے سماع کی تصریح موجود ہے۔
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
غسل يوم الجمعة واجب على كل محتلم، وسواك ويمس من الطيب ما قدر عليه
ہر بالغ شخص پر جمعہ کے دن غسل واجب، مسواک لازم ہے اور وہ بقدر استطاعت خوشبو استعمال کرے۔
صحيح مسلم، كتاب الجمعة، باب وجوب غسل الجمعة على كل بالغ من الرجال: 846 – صحيح ابن حبان: 1233 – صحيح ابن خزیمہ: 1743 – مسند أحمد: 69/3 – سنن نسائی: 384
فوائد: ۔
➊ جمعہ کے دن غسل کرنا واجب لیکن عیدین کا غسل کم از کم مستحب ضرور ہے۔
➋ جمعہ اور عیدین کی نماز کے لیے مسواک کرنا اور خوشبو استعمال کرنا مستحب عمل ہے۔
غسل عیدین کے متعلق مرفوع روایات ضعیف ہیں: ۔
➊ ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يغتسل يوم الفطر و يوم الأضحى
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن اور عید الاضحی کے دن غسل کرتے تھے۔“
سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء في الاغتسال في العيدين: 1315 – سنن بیهقی: 678/3 – إسناده ضعيف
اس حدیث کی سند میں جبارہ بن مفلس اور حجاج بن تمیم جزری ضعیف راوی ہیں۔
➋ فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يغتسل يوم الفطر، ويوم النحر ويوم عرفة، وكان الفاكه يأمر أهله بالغسل فى هذه الأيام
”یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن، عید الاضحی کے دن اور عرفہ کے دن غسل کرتے تھے اور فاکہ بن سعد رضی اللہ عنہ اپنے اہل خانہ کو ان دنوں کے غسل کا حکم دیتے تھے۔“
سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء في الاغتسال في العيدين: 1316 – مسند أحمد: 78/4- موضوع
اس حدیث کی سند میں یوسف بن خالد سمتی کذاب اور وضاع ہے اور عبدالرحمن بن عقبہ بن فاکہ مجہول راوی ہے۔
➌ ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم إغتسل للعيدين
”بالتحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین کا غسل کیا۔“
مسند بزار: 292/5 – البحر الزخار: 242/9، إسناده ضعيف
اس حدیث میں محمد بن عبید اللہ بن ابو رافع اور مندل بن علی ضعیف راوی ہیں۔
روز عید بہترین لباس زیب تن کرنا: ۔
عید کے دن عمدہ ترین لباس پہننا مستحب عمل ہے اس کے دلائل درج ذیل ہیں۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أخذ عمر جبة من إستبرق تباع فى السوق، فأخذها فأتى رسول الله صلى الله عليه وسلم – فقال: يا رسول الله ! إبتع هذه، تحمل بها للعيد والوفود، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما هذه لباس من لا خلاق له
”عمر رضی اللہ عنہ نے موٹے ریشم کا جبہ لیا جو بازار میں فروخت ہو رہا تھا وہ یہ کپڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی: یا رسول اللہ آپ اسے خرید لیجیے اور اس سے عید اور وفود کے لیے زینت کا سامان کیجیے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کہا: یہ تو ان لوگوں کا لباس ہے جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔“
صحيح بخاری: 948 – صحيح مسلم، کتاب اللباس والزینة، باب تحریم لبس الحریر: 2068 – سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب اللبس للجمعة: 1077 – سنن نسائی: 1561
فقہ الحدیث: ۔
جمعہ اور عید کے دن اور وفود سے ملاقات کے وقت نفیس ترین لباس پہننا مستحب فعل ہے۔
شرح النووی: 37/14
جو شخص عمدہ ترین لباس پہننے کے لیے استطاعت رکھتا ہے اس کے لیے عیدین میں بہترین لباس زیب تن کرنا مستحسن عمل ہے۔ اسی طرح اجتماعات میں شرکت اور وفود سے ملاقات کے وقت زینت و زیبائش کا سامان کرنا جائز ومندوب ہے۔
شرح ابن بطال: 166/4
یہ حدیث دلیل ہے کہ عیدین میں اور وفود سے ملاقات کے وقت خوبصورتی کا سامان کرنا معروف و مشہور تھا اور امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے اہل علم سے سنا، وہ عیدین میں خوشبو اور زیب و زینت پسند کرتے تھے، نیز بالخصوص امام زینت اختیار کرنے کا زیادہ مستحق ہے، کیونکہ وہ تمام لوگوں کا منظور نظر ہوتا ہے۔
المغنی لابن قدامہ مع الشرح الكبير: 228/2
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن ابن عمر كان يلبس فى العيدين أحسن ثيابه
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عیدین میں اپنا بہترین لباس زیب تن کرتے تھے۔
سنن بیهقی: 281/3 – إسناده صحيح
خوبصورت لباس پہننے کی تاکید کے متعلق ضعیف روایات: ۔
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
كانت للنبي صلى الله عليه وسلم جبة، يلبسها فى العيدين ويوم الجمعة
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک جبہ تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے دن زیب تن کرتے تھے۔“
صحيح ابن خزیمة: 766 – سنن بیهقی: 247/3 – طبقات ابن سعد: 451/1 – الضعيفة: 2455 ـ إسناده ضعيف
حجاج بن ارطاہ ضعیف اور مدلس راوی ہے اور اس سند میں وہ عن سے روایت کر رہا ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يلبس يوم العيد بردة حمراء
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن سرخ چادر پہنتے تھے۔“
المعجم الأوسط للطبرانی: 7609 ، الصحيحة: 1279 – إسناده ضعيف اس حدیث کی سند میں سعد بن صلت مجہول راوی ہے۔
جعفر رحمہ اللہ اپنے والد، وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يلبس برد حبرة فى كل عيد
”بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہر عید میں دھاری دار یمنی چادر پہنتے تھے۔“
كتاب الام للشافعی: 152/1 – إسناده ضعيف جداً
اس حدیث کی سند میں ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ متروک ہے اور علی بن حسین رحمہ اللہ کا اپنے دادا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔
حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فى العيدين أن نلبس أجود ما نجد، وأن نتطيب بأجود مانجد، وان نضحي بأسمن مانحد
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم عیدین میں جو میسر لباس ہو اس میں سے عمدہ ترین لباس پہنیں جو خوشبو دستیاب ہو اس میں سے بہترین خوشبو استعمال کریں اور حتی الوسع فربہ ترین جانور کی قربانی کریں۔“
مستدرک حاکم: 230/4 – 231 – طبرانی کبیر: 2756 ـ إسناده ضعيف، اسحاق بن بزرج ضعیف راوی ہے۔
عید الفطر کے دن نماز عید سے قبل طاق کھجوریں لینا: ۔
عید الفطر کی نماز سے قبل طاق کھجوریں تناول کرنا مسنون و مستحب عمل ہے کیونکہ عید الفطر کی نماز سے قبل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طاق کھجوریں تناول کرنا دائمی معمول تھا۔
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل تمرات وياكلهن وترا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (اس وقت تک گھر سے) نہ نکلتے جب تک کچھ کھجوریں تناول نہ فرما لیتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم طاق کھجوریں لیتے تھے۔“
[صحیح بخاری، کتاب العیدین، باب الأکل یوم الفطر قبل الخروج: 953 ۔ صحیح ابن خزیمہ: 1429 – مسند أحمد: 126/3
انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الفطر حتى يأكل تمرات ثلاثا أو خمسا، أو سبعا أو أقل من ذلك أو أكثر من ذلك وترا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (نماز عید کے لیے) تین، پانچ ، سات، یا اس سے کم یا زیادہ طاق عدد میں کھجور کھائے بغیر کبھی نہ نکلے۔“
مسند أحمد: 232/3۔ صحیح ابن حبان: 3814- بیهقی: 283/3- حاكم: إسناده حسن
بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے:
كان النبى صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم، ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کھائے بغیر نماز کے لیے نہ نکلتے تھے اور عید الاضحیٰ کے دن اس وقت تک کچھ تناول نہ فرماتے جب تک نماز عید ادا نہ کر لیتے۔“
مسند أحمد: 360/5 – جامع ترمذی، أبواب العیدین، باب ما جاء فی الأکل یوم الفطر قبل الخروج: 542 – سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فی الأکل یوم الفطر قبل الخروج: 1756 – حاکم: 295/1 ۔ إسناده حسن، ثواب بن عتبہ مہری صدوق راوی ہے۔
فوائد: ۔
امام ترمذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اہل علم کے نزدیک عید الفطر کی نماز کے لیے روانگی سے قبل کچھ کھانا مستحب ہے لیکن کھجور تناول کرنا زیادہ پسندیدہ عمل ہے۔
ترمذی، تحت حديث: 542
نماز عید الفطر سے قبل کچھ کھانے کی حکمت: ۔
مہلب بن ابی صفرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: عید الفطر کی نماز سے قبل کھانے میں حکمت یہ ہے کہ کوئی گمان کرنے والا یہ گمان نہ کرلے کہ نماز عید کے بعد تک روزہ رکھنا لازم ہے۔ گویا اس عمل سے اس بدگمانی کا مداوا کیا گیا ہے اور بعض علماء کا قول ہے کہ (عیدالفطر کے دن) چونکہ روزوں کی فرضیت کے بعد روزہ ترک کرنے کی فرضیت واقع ہوئی ہے، لہذا عید الفطر کے دن اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں نماز عید سے قبل جلدی کھانا مستحب عمل ہے اور کم مقدار میں کھانے پر اکتفا کرنے سے حکم الہی کی تعمیل ہی مقصود ہے، کیونکہ اگر حکم خداوندی کی اطاعت ملحوظ نہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ مقدار میں کھاتے۔
فتح الباری: 576/2
نماز عید الفطر سے قبل کھجور کھانے کی حکمت: ۔
نماز عید الفطر سے قبل کھجوریں تناول کرنے کے استحباب میں یہ حکمت پنہاں ہے کہ شیرینی روزوں کی وجہ سے بصارت میں جو ضعف واقع ہو چکا ہوتا ہے اسے تقویت دیتی ہے۔ نیز اس لیے بھی کہ شیرینی ایمان اور خواب کی تعبیر کے موافق ہے اور اس سے دل نرم ہوتا ہے اور یہ آسانی سے دستیاب ہوتی ہے اور بعض تابعین رحمہ اللہ نے تو مطلق میٹھی چیز کا استعمال مستحب قرار دیا ہے۔ جیسے شہد ہے۔ نیز جسے کھجور وغیرہ میسر نہ ہو۔ وہ بطور ناشتہ کوئی بھی چیز استعمال کر سکتا ہے، خواہ پانی ہی ہو اور مہلب رحمہ اللہ کہتے ہیں: طاق عدد میں کھجوریں کھانے میں اللہ تعالی کی واحدنیت کی طرف اشارہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمیع امور میں طاق عدد کا استعمال بطور تبرک کیا کرتے تھے۔
فتح الباری: 577، 576/2 – تحفة الأحوذی: 68/3
ابن قدامہ رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ اکثر اہل علم مثلاً علی رضی اللہ عنہ ، ابن عباس رضی اللہ عنہما، مالک رحمہ اللہ اور شافعی رحمہ اللہ وغیرہ کا قول ہے کہ عید الفطر میں نماز عید سے قبل کھانا اور عید الاضحیٰ میں نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد کھانا مسنون عمل ہے اور اس مسنون عمل کے بارے میں علماء میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔
المغنی لابن قدامہ مع الشرح الكبير: 229/2
اس مسئلہ کے متعلق مروی ضعیف روایات کا بیان: ۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يأكل سبع تمرات
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن جب تک سات کھجوریں کھا نہ لیتے نماز عید کے لیے نہیں نکلتے تھے۔“
طبرانی کبیر: 2039 – إسناده ضعيف جداً – اس کی سند میں ناصح بن عبد اللہ ، ابو عبد اللہ حائک متروک راوی ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما کا بیان ہے:
كان النبى صلى الله عليه وسلم لا يغدو يوم الفطر حتى يغدي أصحابه من صدقة الفطر
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن اپنے اصحاب کو صدقہ فطر کھلائے بغیر (نماز عید کے لیے) نہیں نکلتے تھے۔“
سنن ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فی الأکل یوم الفطر قبل أن یخرج: 1755 – إسناده ضعیف
اس کی سند میں تین راوی، جبارہ بن مفلس ، مندل بن علی اور عمر بن صہبان ضعیف ہیں۔
عید الاضحی کے دن نماز عید کے بعد قربانی کا گوشت کھانا افضل ہے: ۔
عید الاضحی کے دن نماز عید سے فراغت کے بعد قربانی کا گوشت کھانا مسنون ومستحب عمل ہے۔
بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم، ولا يطعم يوم الأضحى حتى يصلي
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن (نماز عید کے لیے) اس وقت تک نہ نکلتے جب تک کچھ کھا نہ لیتے اور عید الاضحی کے دن جب تک نماز ادا نہ کر لیتے کچھ نہ کھاتے تھے۔“
مسند أحمد: 360/5 – جامع ترمذی، أبواب العیدین، باب ما جاء فی الأکل یوم الفطر قبل الخروج: 542 ابن ماجہ، کتاب الصیام، باب فی الأکل یوم الفطر قبل أن یخرج: 1756 – مستدرک حاکم: 295/1 ـ إسناده حسن ثواب بن عتبہ مہری صدوق حسن الحدیث ہے۔
بریدہ بن حصیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم، وكان لا يأكل يوم النحر شيئا حتى يرجع فيأكل من أضحيته
”یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن کچھ کھائے بغیر نماز عید کے لیے نہیں نکلتے تھے اور عید الاضحی کے دن کچھ نہ کھاتے حتی کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد، گھر لوٹتے ، پھر اپنی قربانی کے گوشت سے کھاتے تھے۔“
دار قطنی : 1697 إسناده حسن
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أن ابن عمر كان يوم الأضحى يخرج إلى المصلى، ولا يطعم شيئا
”ابن عمر رضی اللہ عنہما عید الاضحی کے دن کچھ بھی کھائے بغیر عید گاہ کا رخ کرتے تھے۔“
[بیہقی : 283/3 – إسناده صحیح]
فوائد :۔
امام ترمذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اہل علم نے عید الاضحی کے دن نماز عید سے لوٹنے کے بعد کھانے کو مستحب قرار دیا ہے۔
ترمذی تحت حدیث : 542
ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: عید الاضحی کے دن کھانے میں تاخیر کی حکمت یہ ہے کہ اس دن قربانی کرنا اور قربانی کے گوشت سے کھانا مشروع عمل ہے لہذا اس دن قربانی کے گوشت سے افطار (ناشتہ کرنا) مشروع قرار دیا گیا ہے۔
المغنی لابن قدامہ مع الشرح الكبير : 229/2 – نیل الأوطار : 307/3 – تحفة الأحوذی : 3/ 68
ایک ضعیف حدیث کی وضاحت :۔
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا كان يوم الفطر يخرج حتى يأكل شيئا، و إذا كان الأضحى لم يأكل شيئا حتى يرجع، وكان إذا رجع أكل من كبد أضحيته
”جب عید الفطر کا دن ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تک کچھ تناول نہ کر لیتے گھر سے نہیں نکلتے تھے اور عید الاضحی کے دن کچھ نہ کھاتے تا وقتیکہ نماز پڑھ کر گھر نہ لوٹتے اور جب گھر پلٹتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قربانی کے جگر سے (یعنی کباب) کھاتے تھے۔“
بیہقی : 283/3 ـ إسناده ضعیف، عقبہ بن عبد اللہ أصم، ضعیف اور مدلس راوی ہے اور اس روایت میں اسی کی تدلیس بھی ہے۔
چونکہ یہ روایت ضعیف ہے اس لیے اس سے استدلال کرتے ہوئے نماز عید سے فراغت کے بعد قربانی کے جگر سے کھانے کی تخصیص کرنا درست نہیں، بلکہ قربانی کے گوشت کے کسی بھی حصے کا انتخاب کرنا مسنون ہے۔
عید الاضحیٰ کی نماز سے قبل کھانا مباح ہے :۔
اگر چہ عید الاضحیٰ کے روز نماز عید سے فارغ ہونے کے بعد کھانا مستحب عمل ہے، لیکن نماز عید سے قبل کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا جواز ثابت ہے۔ جیسا کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
خطبنا النبى صلى الله عليه وسلم يوم الأضحى بعد الصلاة فقال: من صلى صلاتنا، ونسك نسكنا فقد أصاب النسك، و من نسك قبل الصلاة فإنه قبل الصلاة ولانسك له، فقال أبوبردة بن نيار خال البراء: يارسول الله ! فإنى نسكت شاتي قبل الصلاة وعرفت أن اليوم يوم أكل و شرب، وأحببت أن تكون شاتي أول شاة تذبح فى بيتي، فذ بحت شاتي و تغديت قبل أن آتي الصلاة، قال: شاتك شاه لحم
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن نماز عید کے بعد خطبہ ارشاد کیا اور فرمایا : جس نے ہمارے طریقے کے مطابق نماز پڑھی اور ہماری سنت کے مطابق قربانی کی تو بلاشبہ اس نے قربانی کا مقصد (یعنی اجر و ثواب) حاصل کر لیا اور جس نے نماز عید سے قبل قربانی کی تو وہ نماز سے پہلے (کا ذبیحہ) ہے اور اس کی قربانی (قبول) نہیں ہے۔ (یہ سن کر) براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں نے اپنی بکری نماز عید سے قبل قربان کی ہے، اس لیے کہ میں بخوبی واقف تھا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے سو میں نے پسند کیا کہ میرے گھر میں سب سے پہلے میری بکری ذبح ہو۔ چنانچہ (نماز عید سے قبل) میں نے اپنی بکری ذبح کی اور نماز میں حاضر ہونے سے قبل میں نے کھانا کھالیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری بکری گوشت کی بکری ہے (یعنی اس کی قربانی نہیں ہوئی بلکہ یہ عام گوشت کی بکری کی طرح ہے)۔ “
صحیح بخاری، کتاب العیدین، باب الأکل یوم النحر : 955 – سنن بیہقی : 274/3 – مسند ابو یعلی : 1662 – صحیح ابن خزیمہ : 1427
فوائد :۔
عید الاضحیٰ کا دن کھانے پینے کا دن ہے اور اس میں نماز عید سے پہلے یا بعد میں کھانے پینے کی کوئی ممانعت نہیں ہے۔ البتہ اس دن نماز عید کے بعد کھانا افضل ہے، لیکن نماز عید سے قبل کھانے کا جواز بہر حال موجود ہے اور ایسا شخص گناہ گار نہیں ہو گا۔
عید الاضحی کی نماز سے قبل کھانا مباح ہے کیونکہ اگر یہ عمل ممنوع اور ناجائز ہوتا تو جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو بردہ رضی اللہ عنہ کی نماز عید سے قبل قربانی کرنے پر سرزنش کی اور قربانی کے اعادہ کا حکم دیا اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے قبل کھانے پر ضرور ڈانٹتے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاموشی اس عمل کے جواز کی دلیل ہے۔
ابن بطال رحمہ اللہ کہتے ہیں : عید الاضحی کے دن نماز عید سے قبل کھانا تناول کرنا نہ مستحب عمل ہے اور نہ ممنوع (بلکہ مباح عمل ہے) تم دیکھتے نہیں کہ مذکورہ حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز عید سے قبل کھانے پر) نہ تو صحابی کی تعریف و ستائش کی اور نہ ہی اس کام پر ان کی سرزنش فرمائی (سو یہ خاموشی اس عمل کے جواز کا ثبوت ہے)۔
(شرح ابن بطال: 174/4)
ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس حدیث کا عنوان یوں باندھا ہے : اگر چہ عید قربان کے دن عید گاہ کی طرف روانہ ہونے سے قبل کھانا مباح ہے اور نماز عید سے قبل کھانا تناول کرنے والا گناہ گار نہیں لیکن قربانی ذبح کرنے سے قبل نہ کھانا افضل ہے۔
عید گاہ کی طرف پیدل اور سوار ہو کر دونوں طرح جانا مشروع ہے :۔
نماز عید کی ادائیگی کے لیے عید گاہ کی طرف پیدل اور سوار ہو کر روانہ ہونا جائز و مباح ہے، کیونکہ ان میں سے کسی ایک طریقہ کی تخصیص ثابت نہیں بلکہ امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری، کتاب العیدین میں یہ باب (باب المشي والركوب إلى العيد) (نماز عید کے لیے عید گاہ کی طرف سوار ہونے اور پیدل چلنے کا بیان) باندھ کر دونوں صورتوں کی اباحت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ نیز عید گاہ کی طرف پیدل چلنے کے استحباب پر جتنی روایات دال ہیں، وہ نا قابل حجت ہیں جس کی توضیح آئندہ سطور میں پیش خدمت ہے۔
علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إن من السنة أن تخرج إلى العيد ماشيا
”بلاشبہ نماز عید کے لیے عید گاہ کی طرف پیدل جانا مسنون ہے۔“
ترمذی : 530 ، ابن ماجہ 1296 ، مصنف عبدالرزاق: 5667- سنن بیہقی: 281/3 – إسناده ضعيف جداً
اس حدیث کی سند میں ابو اسحاق سبیعی مدلس راوی ہیں اور عن سے روایت کرتے ہیں اور حارث بن عبد اللہ اعور کذاب راوی ہے۔
سعد قرظ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يخرج إلى العيد ماشيا و يرجع ماشيا
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف پیدل آتے اور (عید گاہ سے) پیدل ہی واپس لوٹتے تھے۔“
سنن ابن ماجہ، کتاب إقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی الخروج إلی العید ماشیا : 1294
یہ حدیث مسلسل بالضعفاء ہے۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج إلى العيد ماشيا ويرجع ما شيا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ کی طرف پیدل جاتے اور پیدل ہی واپس آتے تھے۔“
سنن ابن ماجہ کتاب إقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی الخروج إلی العید ماشیا : 1295 – إسناده ضعيف جداً
عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عمر بن حفص العمری متروک راوی ہے۔
ابو رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يأتى العيد ماشيا
”بالتحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید گاہ میں پیدل آتے تھے۔“
سنن ابن ماجہ، کتاب إقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی الخروج إلی العید ماشیا : 1297 – إسناده ضعيف
اس حدیث کی سند میں مندل بن علی اور محمد بن عبداللہ بن ابی رافع ضعیف راوی ہیں۔
سعید بن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں :
سنة الفطر ثلاث : المشي إلى المصلى، والأكل قبل الخروج إلى المصلى، والاغتسال
عید الفطر کی تین سنتیں ہیں :
(1) عید گاہ کی طرف پیدل جانا۔
(2) عید گاہ کی طرف جانے سے قبل کھانا۔
(3) غسل کرنا۔
أحکام العیدین للفریابی، إسناده ضعیف
اس حدیث کے ضعیف ہونے کی دو علتیں ہیں۔
➊ امام زہری رحمہ اللہ مدلس راوی ہیں اور اس حدیث میں ان کی تدلیس ہے۔
➋ سعید بن مسیب رحمہ اللہ تابعی ہیں اور تابعی کا کسی فعل کو سنت قرار دینے سے روایت مرفوع ثابت نہیں ہوتی۔ لہذا زہری رحمہ اللہ کی تدلیس اور مرفوع روایت ثابت نہ ہونے کی وجہ سے یہ روایت بہر حال ضعیف ہے۔
امام زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يركب فى جنازة قط، ولا فى خروج أضحى، ولا فطر
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کبھی کسی جنازہ میں سوار ہوئے اور نہ عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں سوار ہو کر عید گاہ کا رخ کیا۔“
أحکام العیدین للفریابی
(1) زہری رحمہ اللہ کی تدلیس ہے۔
(2) زہری رحمہ اللہ تبع تابعی ہیں اور تابعی اور صحابی کا واسطہ موجود نہیں ہے، لہذا یہ سند معضل ہونے کی وجہ سے مردود و نا قابل حجت ہے۔
عیدگاہ میں اسلحہ لے جانا نا پسندیدہ عمل ہے :۔
چونکہ عید اہل اسلام کا مذہبی تہوار ہے اور اس مذہبی فریضہ کی ادائیگی کے لیے لوگ جوش و خروش سے عید گاہ میں حاضر ہو کر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ نیز لوگوں کی اتنی زیادہ بھیڑ میں اسلحہ بردار کی معمولی بے احتیاطی سے حاضرین کو نقصان پہنچ سکتا ہے، چنانچہ اس نقصان سے بچاؤ کی خاطر شریعت نے عید گاہ میں اسلحہ لے جانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ جس کے دلائل حسب ذیل ہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کتاب العیدین میں یہ باب (باب مايكره من حمل السلاح فى العيد والحرم) (عیدگاہ اور حرم میں اسلحہ اٹھانے کی کراہت کا بیان) باندھ کر عید گاہ میں اسلحہ لے جانے کی کراہت کی طرف اشارہ کیا ہے۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كنت مع ابن عمر حين أصابه سنان الرمح فى أخمص قدمه. فلزقت قدمه بالركاب، فنزلت فنزعتها، وذلك بمني، فبلغ الحجاج فجعل يعوده فقال: لو نعلم من أصابك، فقال ابن عمر: أنت أصبتني، قال: وكيف؟ قال: حملت السلاح فى يوم لم يكن يحمل فيه، وأدخلت السلاح الحرم، ولم يكن السلاح يدخل الحرم
”میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا جب ان کے پاؤں کے تلوے میں انھیں نیزے کی انی لگی اور ان کا پاؤں رکاب میں چپک گیا، میں نے سواری سے نیچے اتر کر ان کا پاؤں رکاب سے کھینچا، یہ منٰی کا واقعہ ہے: پھر حجاج بن یوسف کو یہ اطلاع پہنچی تو وہ ان کی عیادت کرنے لگے اور کہا: اگر ہمیں علم ہو جائے کہ تمہیں کسی نے زخمی کیا ہے؟ (تو ہم اسے سخت سزا دیں)، (یہ سن کر) ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو نے مجھے زخمی کیا ہے۔ حجاج نے کہا، وہ کیسے؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تو نے اس دن (عید کے روز) اسلحہ اٹھایا ہے جس دن اسلحہ اٹھایا نہیں جاتا تھا اور تو نے حرم میں اسلحہ داخل کیا حالانکہ حرم میں اسلحہ داخل نہیں کیا جاتا تھا۔“
صحيح بخاری کتاب العيدين، باب ما يكره من حمل السلاح في العيد و الحرم : 966 – بیہقی : 155/8
سعید بن عمرو رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
دخل الحجاج على ابن عمر وأنا عنده، فقال: كيف هو؟ فقال: صالح قال: من أصابك؟ قال: أصابني من أمر بحمل السلاح فى يوم لا يحل فيه حمله (يعني الحجاج)
”حجاج بن یوسف ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا حالانکہ میں بھی وہاں موجود تھا اور پوچھا کہ وہ کیسے ہیں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ٹھیک ہوں، اس (حجاج) نے سوال کیا کہ انھیں کس نے زخمی کیا ہے؟ اس پر انھوں نے کہا: مجھے اس شخص (یعنی حجاج) نے زخمی کیا ہے جس نے اس (عید کے) دن اسلحہ اٹھانے کا حکم دیا۔ جس دن اسلحہ اٹھانا حلال نہیں ہے۔“
بخاری کتاب العيدين، باب مايكره من حمل السلاح في العيد و الحرم : 967
فوائد :۔
”ابن رجب رحمہ اللہ کہتے ہیں : ابن عمر رضی اللہ عنہما کا کلام اس بات کا مقتضی ہے کہ حل وحرم میں عید قربان کے دن اسلحہ اٹھانا ناجائز ہے اور اسی طرح حرم میں بھی اسلحہ اٹھانا درست نہیں۔“
فتح الباري لابن رجب: 45/7
ابن بطال رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول : (حملت السلاح فى يوم لم يكن يحمل فيه) دلیل ہے کہ عید گاہ میں اسلحہ اٹھانا عید کے شایان شان نہیں اور ایسی اجتماع گاہوں (عیدین کے اجتماع میں) اسلحہ لے جانا مکروہ ہے، جہاں اسلحے کی ضرورت نہ ہو۔ کیونکہ ایسے مواقع پر لوگوں کے ازدحام کی وجہ سے لوگوں کے زخمی اور ہلاک ہونے کا خدشہ ہوتا ہے۔
شرح ابن بطال: 184/4
شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : حدیث کے یہ الفاظ (اس دن اسلحہ نہیں اٹھایا جاتا تھا) دلیل ہیں کہ عید کے دن (عیدگاہ میں) اسلحہ لے جانا مکروہ فعل ہے اور صحابی کا كان يفعل كذا (عہد رسالت میں ایسے کیا جاتا تھا) کہنا مرفوع حدیث کا حکم رکھتا ہے۔
نيل الأوطار : 302/3
کیا عید گاہ میں اسلحہ لے جانا حرام ہے :۔
عیدین میں عید گاہ کی طرف مسلح ہو کر نکلنا مکروہ فعل ہے اور کراہت کے باوجود عید گاہ میں کسی شرعی ضرورت کے تحت اسلحہ لے جانا جائز ہے۔ جواز کے دلائل درج ذیل ہیں :
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا خرج يوم العيد أمر بالحربة فتوضع بين يديه فيصلى إليها، والناس وراءه، وكان يفعل ذلك فى السفر
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عید کے دن (نماز عید کے لیے) روانہ ہوتے (خادم کو) نیزہ (لے جانے) کا حکم دیتے ، پھر وہ نیزہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے گاڑا جاتا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتے نیز سفر میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا۔“
صحيح بخاری، أبواب سترة المصلى، باب سترة الامام سترة من خلفه: 494 – صحيح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب سترۃ المصلی والندب إلی الصلاۃ إلی سترۃ : 501 – سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ باب ما یستر المصلی : 687
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يخرج بالعنزة معه يوم الفطر والأضحى ليركزها فيصلي إليها
”بالتحقیق نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن اپنے ساتھ نیزہ لے کر نکلتے تھے تاکہ اسے گاڑ کر اس کی طرف نماز پڑھیں۔“
مسند أحمد : 145/2 – مصنف عبد الرزاق : 2281 – إسناده صحیح
نیز آئندہ احادیث جو عید گاہ میں اسلحہ لے جانے کی ممانعت پر دال ہیں، وہ ضعیف و نا قابل احتجاج ہیں۔
ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ :
نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يخرج بالسلاح يوم عيد
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید کے دن مسلح ہو کر نکلنے سے منع فرمایا ہے۔“
مصنف عبد الرزاق: 5668 ـ إسناده ضعیف جداً
اس حدیث میں عبدالرزاق بن حمام رحمہ اللہ کی تدلیس ہے اور جویبر سخت ضعیف راوی ہے اور ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ غیر صحابی ہیں جس کی روایت صحابی کے عدم ذکر کی وجہ سے مرسل ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
أن النبى صلى الله عليه وسلم نهى أن يلبس السلاح فى بلاد الإسلام فى العيدين إلا أن يكونوا بحضرة العدو
یقیناً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین میں اسلامی ممالک میں اسلحہ زیب تن کرنے سے منع کیا ہے۔ الا کہ وہ دشمن کے مقابل ہوں (تو عیدین میں مسلح ہونے کی رخصت ہے)۔
سنن ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء فی لبس السلاح فی یوم العید : 1314 – طبرانی اوسط : 7622- إسناده ضعیف جداً
اس حدیث کی سند میں نائل بن نجیح ضعیف، اسماعیل بن زیاد حنفی متروک اور ابن جریج کا عنعنہ ہے۔