مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عورت کے گاڑی چلانے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال:

کیا عورت کے لیے ضروری کاموں کی خاطر اندرون شہر گاڑی ڈرائیو کرنا جائز ہے ، کیونکہ مسلمہ عورتوں کو سڑک پر تنگیوں اور تکلیفوں کا سامنا ہوتا ہے؟

جواب:

جب عورت خوبصورت ہو بدصورت نہ ہو ، اور گاڑی ڈرائیو کر کے جو مسافت وہ طے کرتی ہے اس پر سفر کا اطلاق ہوتا ہو اور اس کے متعلق فتنہ سے بے خوفی نہ ہو تو سمجھو کہ گاڑی نے اس کے لیے فساد و گناہ آسان کر دیا ہے ۔ اور اگر عورت ایک اور قابل اعتماد ہو ، اور ایسی عورتیں کم ہی ہوتی ہیں ، تو اس کے گاڑی ڈرائیو کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
مسند امام احمد میں عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چتکبرا کوا اور بعض روایتوں میں ہے کہ سرخ چوری اور پاؤں والا کوا دیکھا اور فرمایا:
الصالحات من النساء كهذا [صحيح ۔ مسند أحمد 197/4]
”نیک عورتیں اس طرح کی ہوتی ہیں ۔ “
پس گاڑیاں ڈرائیو کرنے والی کم ہی ایسی عورتیں ہوں گی جو کبھی فتنہ میں مبتلا نہ ہوئی ہوں گی ورنہ بعض اوقات تو گاڑی ان کے لیے فساد و گناہ میں مبتلا ہونے کے لیے اور اپنے دوستوں سے ملاقات کرنے کے لیے معاون ثابت ہوتی ہوگی ۔

(مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔