عورت کا خوشبو لگا کر باہر نکلنا قرآن و حدیث کی روشنی میں

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

عورت کا خوشبو لگا کر باہر نکلنا کیسا ہے؟

جواب :

اگر عورت کو عورتوں کے اجتماع میں شرکت کے لیے جانا ہو اور راستے میں مردوں کے قریب سے گزرنا پڑے تو اس کے لیے خوشبو استعمال کرنا جائز نہیں ہے اور ایسے بازاروں میں جہاں مرد ہوں معطر ہو کر جانا بھی جائز نہیں ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
”کوئی بھی عورت خوشبو استعمال کر کے ہمارے ساتھ نماز عشاء میں شریک نہ ہو۔“
(مسلم، کتاب الصلاة، باب خروج النساء إلى المساجد الخ ح 444)
اس معنی کی اور بھی حدیثیں ہیں۔ ممانعت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عورت کا معطر ہو کر ان راستوں پر چلنا جہاں مرد ہوتے ہیں اور مردوں کے اجتماع میں جانا، جیسے مساجد وغیرہ ہیں، فتنہ کے اسباب میں سے ایک سبب ہے، اس کے برخلاف پردہ کا اہتمام کرنا اور زیب و زینت کی نمائش سے بچنا عورت پر واجب ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَىٰ﴾
(الأحزاب:33)
”اور اپنے گھروں میں ٹھہری رہو اور جس طرح پہلے جاہلیت کے دنوں میں اظہار تجمل کرتی تھیں اس طرح زینت نہ دکھاؤ۔“
مثلاً چہرہ اور سر وغیرہ کی بے پردگی بھی نمائش زیب و زینت میں داخل ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے