سوال :
کیا ایک عورت اپنے شوہر کی جائداد اس کی مرضی اور اس سے پوچھے بغیر فروخت کر سکتی ہے؟ اور کیا والدین جب اپنی زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان کچھ مال تقسیم کریں تو وہ پوری اولاد میں بانٹیں گے، یا بعض کو حصہ دے دیں اور بعض کو مؤخر کر دیں؟
جواب :
اللہ تعالیٰ نے مرد کو عورت پر قوام، حاکم اور نگراں بنایا، نہ کہ اس کے برعکس۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ﴾
(النساء: 34)
”مرد عورتوں پر حاکم ہیں، اس وجہ سے جو اللہ تعالیٰ نے ان کے بعض کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے اور اس وجہ سے جو مردوں نے اپنے اموال خرچ کیے۔“
مرد کو اللہ تعالیٰ نے عورت پر جو فضیلت عطا کی ہے وہ دو قسموں پر مشتمل ہے۔ ایک وہی کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کو قوت نفس اور ڈیل ڈول وغیرہ میں عورت کے مقابلہ میں مضبوط بنایا ہے اور دوسری یہ کہ کمانے اور خرچ کرنے کا بوجھ اللہ تعالیٰ نے مرد کے کندھوں پر ڈالا ہے اور عورتوں کو مردوں کے ہاں قیدی رکھا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا:
ألا واستوصوا بالنساء خيرا فإنما هن عوان عندكم
(سنن الترمذي، كتاب تفسير القرآن، باب ومن سورة التوبة 3087، ارواء الغليل 96/7)
”خبردار! عورتوں کو بھلائی کی وصیت کرتے رہو، یہ تو تمھارے ہاں قیدی ہیں۔“
امام ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فإن الله قد أوجب حق الزوج عليها وطاعته وحرم عليها معصيته لما له عليها من الفضل والإفضال
(تفسير ابن كثير 262/2)
”یقیناً اللہ تعالیٰ نے خاوند کا حق اور اس کی اطاعت کرنا عورت پر واجب کیا ہے اور اس پر مرد کی نافرمانی حرام قرار دی ہے۔ اس لیے کہ مرد کو عورت پر فضیلت حاصل ہے اور مرد عورت پر خرچ کر کے بھلائی کرتا ہے۔“
پھر امام ابن کثیر رحمہ اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ذکر کیا ہے:
لو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها من عظم حقه عليها
(ابن كثير 262/2)
”اگر میں کسی کو حکم دینے والا ہوتا کہ وہ کسی کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے، اس لیے کہ مرد کا عورت پر بہت بڑا حق ہے۔“
عورت کو اس بات کی شرعی طور پر اجازت نہیں ہے کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر اس کا مال خرچ کرے۔ ابو امامہ الباہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم فى خطبته عام حجة الوداع يقول لا تنفق امرأة شيئا من بيت زوجها إلا بإذن زوجها قيل يا رسول الله ولا الطعام قال ذاك أفضل أموالنا
(سنن الترمذي، كتاب الزكاة، باب ما جاء في نفقة المرأة من بيت زوجها 670، سنن ابن ماجہ 2295، شرح السنة 204/6 ح: 1696)
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حجۃ الوداع کے سال آپ کے خطبہ میں سنا، آپ فرما رہے تھے: کوئی عورت اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اس کے گھر سے کچھ بھی خرچ نہ کرے۔ ابو امامہ نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! کیا غلہ بھی نہیں؟ فرمایا: یہ تو ہمارے افضل مالوں سے ہے۔“
امام بغوی رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں:
العمل على هذا عند عامة أهل العلم أن المرأة ليس لها أن تتصدق بشيء من مال الزوج دون إذنه وكذلك الخادم ويأثمان إن فعلا ذلك
(شرح السنة 205/6)
”اس حدیث پر عام اہل علم کے ہاں عمل ہے، بلاشبہ عورت کو شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے کسی بھی چیز کا صدقہ کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح خادم کا حکم ہے اور اگر بیوی اور خادم دونوں ایسا کریں گے تو گناہ گار ہوں گے۔“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تصدق بشيء من بيته إلا بإذنه قال فإن فعلت كان له الأجر وعليها الوزر قالت يا رسول الله ما حق الزوج على زوجته قال لا تخرج من بيتها إلا بإذنه فإن فعلت لعنتها ملائكة الله وملائكة الرحمة وملائكة الغضب حتى تتوب أو ترجع قلت يا رسول الله وإن كان لها ظالما قال وإن كان لها ظالما
(التمهيد 231/1، في الأخرى 160/10، ابن أبي شيبة، كتاب النكاح، باب ما حق الزوج على امرأته 552/3 ح: 17118)
عورت اپنے شوہر کے گھر سے کسی بھی چیز کا صدقہ اس کی اجازت کے بغیر نہ کرے، اگر عورت نے شوہر کی اجازت کے بغیر صدقہ کیا تو شوہر کو تو اجر ملے گا لیکن عورت پر بوجھ اور گناہ ہو گا۔ ایک عورت کہنے لگی: اے اللہ کے رسول! شوہر کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے؟ فرمایا: اس کی اجازت کے بغیر اپنے گھر سے نہ نکلے، اگر ایسا کرے گی تو اس پر اللہ کی رحمت اور اس کے غضب والے فرشتے لعنت کرتے ہیں جتنی کہ وہ توبہ کر لے، یا واپس آ جائے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر شوہر عورت پر ظلم کرنے والا ہو تو؟“ فرمایا: ”اگر چہ وہ اس پر ظلم کرنے والا ہو۔“
یہ اور اس معنی کی دیگر احادیث واضح کرتی ہیں کہ عورت مرد کی اجازت کے بغیر صدقہ و خیرات بھی نہیں کر سکتی تو گھریلو اشیاء وغیرہ کیسے خرچ کر سکتی ہے۔ گھر کا غلہ اور اناج شوہر کی اجازت کے بغیر کسی کو نہیں دے سکتی تو شوہر کی پراپرٹی اس کی اجازت حاصل کیے بغیر کیسے بیچ سکتی ہے۔ اگر ایسا کرے گی تو گناہ گار ہوگی اور فرشتوں کی لعنت کی حق دار بن جائے گی۔
رہی اس سوال کی دوسری شق تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب والدین اپنی اولاد میں کوئی چیز تقسیم کریں گے تو ان پر اولاد کے درمیان عدل فرض ہے، اگر بعض اولاد کو دے دیں اور بعض کو نہ دیں تو جن کو دیا ہے ان سے بھی واپس لے لیں۔ نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے منبر پر بیان کیا کہ مجھے میرے باپ نے ایک غلام عطیہ دیا تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ کہنے لگیں: ”میں اس پر راضی نہیں حتی کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس پر گواہ بنا لو۔“ تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: ”میں نے اپنے بیٹے کو، جو عمرہ بنت رواحہ سے ہے، ایک غلام عطیہ دیا ہے اور عمرہ نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ کو گواہ بنا لوں۔“ تو آپ نے پوچھا: ”کیا تو نے اپنی ساری اولاد کو اس جیسا عطیہ دیا ہے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں۔“ تو آپ نے فرمایا:
فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم
”اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان عدل کرو۔“
اور فرمایا: وہ غلام واپس لے لو۔ تو انھوں نے غلام واپس لے لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا:
لا أشهد على جور
”میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا۔“
(بخاري، كتاب الهبة، باب الإشهاد في الهبة 2586، 2587، 2650)
صحیح بخاری میں مذکورہ بالا باب کے تحت امام بخاری رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
وإذا أعطى بعض ولده شيئا لم يجز حتى يعدل بينهم ويعطي الآخر مثله ولا يشهد عليه
اور جب کوئی شخص اپنی بعض اولاد کو کوئی چیز دے تو اتنی دیر تک جائز نہیں جب تک ان کے درمیان عدل نہیں کرتا اور دوسرے کو بھی اس جیسی چیز نہیں دیتا اور اس پر گواہی بھی نہیں دی جائے گی۔
یہ صحیح حدیث واضح کرتی ہے کہ اولاد کے حق میں عدل فرض ہے۔ جب عطیات دینے لگے تو سب کو برابر عدل و انصاف سے دے، ورنہ جس کو دیا ہے اس سے واپس لے لے۔ والد کو حق حاصل ہے وہ اپنی اولاد سے عطیہ واپس لے سکتا ہے۔ محاوی کے ہاں اس حدیث میں یہ الفاظ بھی ہیں:
سووا بين أولادكم فى العطية كما تحبون أن يسووا بينكم فى المال
(فتح الباري 211/5، تحفة الأخيار بترتيب شرح مشكل الآثار 174/6 ح: 4093)
”اپنی اولاد کے درمیان عطیہ دینے میں برابری کرو، جیسا کہ تم پسند کرتے ہو کہ وہ تمھارے درمیان مال میں برابری کریں۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وقد تمسك به من أوجب التسوية فى عطية الأولاد وبه صرح البخاري وهو قول طاوس والثوري وأحمد وإسحاق
(فتح الباري 214/5)
اور جس شخص نے اولاد کے درمیان عطیہ کی برابری کو واجب قرار دیا اس نے اس حدیث سے تمسک کیا ہے۔ اس بات کی صراحت امام بخاری نے کی ہے اور طاؤس، سفیان ثوری، احمد اور اسحاق رحمہم اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
عطیہ دینے میں مذکر و مؤنث برابر ہیں، یہی راجح قول ہے اور اس پر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث دلالت کرتی ہے، جس میں ہے:
سووا بين أولادكم فى العطية فلو كنت مفضلا أحدا لفضلت النساء
(فتح الباري 214/5)
عطیہ دینے میں اپنی اولاد کے درمیان مساوات سے کام لو، اگر میں کسی کو زیادہ دینے والا ہوتا تو عورتوں کو زیادہ دیتا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس حدیث پر یہ باب باندھا ہے:
باب السنة فى التسوية بين الأولاد فى العطية
(السنن الكبرى للبيهقي 176/6)
”عطیہ دینے میں اولاد کے درمیان برابری سنت ہے۔“
لہذا پوری اولاد کے درمیان کوئی چیز تقسیم کرتے وقت انصاف سے کام لے، ان کے درمیان چیز برابر تقسیم کرے، ورنہ ظلم ہوگا اور عدل و انصاف کے تقاضوں سے متضاد اور متصادم فیصلہ ہو گا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ عورت شوہر کی پراپرٹی اور جائداد خود فروخت نہیں کر سکتی، اس کو شوہر سے اجازت لینا ہو گی، خواہ وہ صراحتاً ہو یا دلالتاً، بہر صورت اجازت ضروری ہے۔ پھر اولاد میں کوئی چیز تقسیم کرتے ہوئے عدل و انصاف سے کام لینا ہوگا، یا پھر ایسے کام سے باز رہیں۔ مرنے کے بعد وراثت کے احکام جاری ہوں گے، ان کے مطابق جائداد بانٹ لی جائے گی۔ (واللہ اعلم بالصواب)