عورتوں کے ساتھ کام کرنے والی نوکری کا شرعی حکم حدیث کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

میں ایک ایسے ہسپتال میں ملازمت کرتا ہوں جس میں ہمیشہ اجنبی عورتوں سے اختلاط رہتا ہے اور ان سے بات چیت کرنا پڑتی ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب:

خواتین سے اختلاط ناجائز، انتہائی مہلک اور حد درجہ خطرناک ہے، خاص طور پر جب عورت زیب و زینت سے ہو اور بے پردہ ہو۔ کیونکہ ایسی خواتین جو زینت اختیار کر کے میک اپ کے پردوں میں معطر ہو کر مردوں کی مجالس سے گزرتی ہیں، تو انھیں شرعاً بدکار قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو بھی عورت خوشبو لگا کر کسی قوم کے پاس سے گزرے، تاکہ وہ اس کی خوشبو پائیں، تو وہ زانیہ ہے۔
(مسند احمد 414/4 ، 400، ح: 19807، 19948)
اسی طرح خوشبو لگانے والی عورت کو رات کی نماز میں حاضر ہونے سے روکا گیا ہے۔
(مسند أحمد 304/2 ح: 8022، مسلم کتاب الصلوة باب خروج النساء إلى المساجد الخ 444)
آج ہسپتالوں، دفاتر، یونیورسٹیوں، الغرض ہر ادارے میں عورتوں کو داخل کر دیا گیا ہے اور وہ بے پردہ میک اپ کر کے مردوں میں گھومتی پھرتی ہیں۔ اسلام میں اس طرح مرد و عورت کا اختلاط حرام ہے۔ آپ کوئی ایسی ملازمت تلاش کر لیں جہاں ایسی قباحتیں نہ ہوں۔ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بیٹیوں کو شرعی آداب سکھائیں اور اسلام کی پابند بنائیں، انھیں ایسی نوکری کے لیے مت بھیجیں جو فتنے کا باعث ہو اور معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے