مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

عمر بن صبیح کی روایات اور محدثین کی آراء

فونٹ سائز:
تالیف: حافظ محمد انور زاہد حفظ اللہ

عمر بن صبیح : اس کی کنیت ابونعیم ہے۔
یہ خراسان کا باشندہ تھا۔
ذہبی کہتے ہیں یہ ثقہ اور امین نہیں ہے۔
ابن حبان کہتے ہیں یہ احادیث وضع کرتا تھا۔
دارقطنی وغیرہ کہتے ہیں متروک ہے۔
امام ازدی فرماتے ہیں کذاب ہے۔
احمد بن علی السلیمانی کا قول ہے کہ اس نے ایک خطبہ وضع کیا تھا۔ جس کے بارے میں اس کا دعوی یہ تھا کہ یہ حضور کی زندگی کا آخری خطبہ ہے۔ اس نے ایک منتر بھی وضع کر کے حضور کی جانب منسوب کیا ہے کہ اسے پڑھ کر سونے سے انسان احتلام سے محفوظ رہتا ہے۔ [ميزان الاعتدال 248/5 تهذيب الكمال 1013/2، خلاصه تهذيب الكمال 272/5، تهذيب التهذيب 463/7، تقريب 75/2، الكاشف 314/2، الجرح والتعديل 629/6 ]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔