مضمون کے اہم نکات
عمرے کا بیان
احرام باندھنا
◈ آفاقی: (میقات کے باہر سے آنے والا) میقات سے احرام باندھے گا۔
◈ جو میقات اور حرم کے درمیان رہائش پذیر ہے وہ اپنے گھر سے احرام باندھے۔
◈ جو مکہ میں سکونت پذیر ہے اسے ،،حل،، سے آکر احرام باندھنا چاہیے۔
◈ احرام باندھنے کے بعد اَللَّهُمَّ لَبَّيْكَ عُمْرَةً کے الفاظ کہیں۔
◈ اگر کسی دوسرے کی طرف سے عمرہ ادا کرنا ہو تو ان الفاظ کے آخر میں عن کہہ کر اس کا نام لیں۔
◈ راستے میں موقع بموقع بلند آواز سے تلبیہ توحید پکارتے رہیں۔
◈ عورتیں دھیمی آواز ہی میں تلبیہ پکاریں گی۔
◈ مسجد حرام میں داخل ہونے کے بعد تلبیہ پکارناختم کر دیں۔
مسجد حرام میں داخل ہونا:
میقات سے احرام باندھ کر تلبیہ پکارتے ہوئے مسجد حرام میں داخل ہوں۔ مسجد حرام کے کئی دروازے ہیں۔ ہر دروازے پر اس کا نام لکھا ہے۔ کسی مخصوص دروازے سے داخل ہونے کی شریعت میں کوئی پابندی نہیں۔ عام مساجد کی طرح مسجد حرام میں داخل ہوتے وقت بھی پہلے دایاں پاؤں رکھیں اور یہ دعا پڑھیں:
بِسْمِ اللَّهِ، وَالسَّلَامُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي، وَافْتَحْ لِي أَبْوَابَ رَحْمَتِكَ
اللہ کے نام سے (مسجد میں داخل ہوتا ہوں) اور اللہ کے رسولﷺ پر اللہ کی رحمت اور سلامتی ہو۔ اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔
[سنن ابن ماجه، الصلاة، حديث: 771]،[جامع الترمذي، الصلاة حديث: 314]،[صحيح مسلم، صلاة المسافرين، حدیث: 713]
◈ مسجد حرام میں داخل ہونے سے پہلے اپنی قیام گاہ یا مسجد سے باہر بنائی گئی وضو کی جگہوں سے وضو کر لیں۔
ضروری وضاحت:
اکثر لوگ مسجد حرام میں نمازیوں کے آگے سے گزرنے کو گناہ نہیں سمجھتے۔ یا د رکھیے! نمازی کے آگے سے گزرنا سخت گناہ ہے، جہاں تک ہو سکے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ مسجد نبوی میں بھی اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔ البتہ جب جماعت ہو رہی ہو تو امام کے سترہ ہونے کی وجہ سے کسی ضرورت کے سبب صفوں کے آگے سے گزرنا جائز ہے۔
اسی طرح یہ بات بہت مشہور ہے کہ بیت اللہ پر پہلی نظر پڑتے ہی جو دعا کی جائے وہ اللہ تعالیٰ ضرور قبول فرماتا ہے، یہ بات بلا دلیل ہے۔
ممنوعہ اوقات میں طواف اور نماز کا حکم:
ممنوعہ اوقات نماز (نماز فجر سے سورج نکلنے تک، زوال کے وقت اور نماز عصر سے سورج ڈوبنے تک کے اوقات) میں بیت اللہ کا طواف کرنا، طواف کی دو رکعتیں یا دیگر نوافل ادا کرنا جائز ہے۔ یعنی عام مساجد سے ہٹ کر مسجد حرام میں نماز کے ممنوعہ اوقات نہیں ہیں۔ [سنن أبي داود، المناسك، حديث: 1894]
نوٹ:
مساجد میں داخل ہونے کے آداب میں یہ بھی شامل ہے کہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعات نماز تَحِيَّةُ الْمَسْجِد ادا کی جائے، خواہ فرضوں میں شامل ہو کر ہو یا سنتوں کی شکل میں یا الگ نفلوں کی صورت میں، الغرض نماز پڑھے بغیر نہیں بیٹھنا چاہیے۔ مگر حج اور عمرہ کرنے والے کو چاہیے کہ جب وہ مسجد حرام میں حج یا عمرے کی نیت سے داخل ہو رہا ہے تو پہلے طواف کرے، حاجی طواف قدوم کرے گا اور عمرہ کرنے والا اپنے عمرے کا طواف کرے گا، الا یہ کہ فرض نماز کا وقت ہے تو پہلے با جماعت نماز ادا کرلے اور اگر فرض نماز کا وقت نہیں تو طواف سے عمرے کا آغاز کر دے۔ اس طواف کو طواف قدوم کہتے ہیں۔
مسئلہ:
صرف حج افراد کا احرام باندھنے والے کے لیے حج سے پہلے طواف کرنا مسنون ہے، فرض یا واجب نہیں۔ اگر کوئی شخص تاخیر سے ذوالحجہ کی 8 یا 9 تاریخ کو مکہ پہنچتا ہے تو وہ سیدھا منی یا عرفات چلا جائے۔
طواف کرنے والا باوضو ہو کر طواف کرے تو یہ اس کے لیے مستحب ہے، کیونکہ نبیﷺ نے اس موقع پر سب سے پہلے وضو کیا تھا۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1614]
دوران طواف میں وضو ٹوٹ جائے تو دوبارہ وضو کرنا مستحب ہے واجب یا شرط نہیں۔ [تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے:فتاوی ابن تيمية رحمه الله:126،123/26]
اور بقیہ چکر پورے کر لے۔ تاہم بغیر وضو کیے بھی طواف جاری رکھے تو جائز ہے اور طواف کے چکر پورے کرنے کے بعد وضو کرلے اور دو رکعت نماز ادا کر لے۔
اضطباع: (دائیں کندھے کو ننگا کرنا):
مردوں کو چاہیے کہ وہ طواف شروع کرنے سے پہلے احرام کی چادر کو دائیں کندھے کے نیچے سے نکال کر بائیں کندھے پر اس طرح ڈالیں کہ دایاں کندھا ننگا ہو جائے۔ اس کیفیت کو اضطباع کہا جاتا ہے۔ [سنن أبي داود، المناسك، حدیث: 1884]
یہ اضطباع ساتوں چکروں تک برقرار رکھنا ہے، اس کے بعد نہیں۔
مسئلہ:
مُحرم مرد کے لیے اضطباع کی کیفیت اختیار کرنا صرف عمرے کے طواف میں اور حاجی کے لئے صرف طواف قدوم ہی میں مسنون ہے۔
طواف کا طریقہ:
طواف کی ابتدا حجر اسود کو بوسہ دینے یا ہاتھ لگا کر ہاتھ کو چومنے یا صرف اس کی جانب ہاتھ کے اشارہ کرنے سے کرنی چاہیے۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث: 1603]،[سنن أبي داود، المناسك، حديث: 1872]
اگر حجر اسود کو بوسہ دینا یا چھونا ممکن نہ ہو تو پھر طواف کا آغاز حجر اسود کے سامنے سے کریں۔ جس کی پہچان کے لئے اس کے بالکل سامنے دیوار پر سبز ٹیوب لائٹ روشن رہتی ہے۔ جو کہ حجر اسود کے بالکل برابر ہونے کی علامت ہے۔ اس سبز لائٹ سے طواف کا آغاز اور اسی پر اختتام کریں، نیز رش اور بھیڑ میں حجر اسود کو بوسہ دینے یا اسے چھونے کے لیے دھکم پیل سے بچنا چاہیے ایسی صورت میں دور سے صرف ہاتھ کا اشارہ کر دینا کافی ہے۔ یاد رہے ایسی صورت میں ہاتھ کو چومنا درست نہیں ہے۔
[کتاب الأم للشافعي عن ابن عباس موقوفاً:10/3]
البتہ اگر ہاتھ، چھڑی اور کپڑا وغیرہ حجر اسود کو لگ جائے تو اسے چومنا مسنون ہے۔
طواف شروع کرنے کی دعا:
حجر اسود کو بوسہ دیتے یا چھوتے یا دائیں ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے یوں کہنا چاہیے:
بِسْمِ اللهِ وَاللَّهُ أَكْبَر
اللہ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ [مسند أحمد مع الفتح الرباني:67/12]
طواف سے متعلق مسائل:
◈ طواف کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنی دائیں طرف چلے اور بیت اللہ کو بائیں طرف کرے۔ [جامع الترمذي، الحج، حديث: 856]
◈ ایک طواف سات چکروں کا ہوتا ہے اور ایک چکر حجر اسود سے شروع ہو کر حجر اسود ہی پر پورا ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم، الحج، حدیث: 1263,1262]
◈ ہر چکر کے آغاز پر حجر اسود کو بوسہ دینا یا ہاتھ وغیرہ سے چھو کر اس چیز کو چومنا یا اس کی طرف صرف اشارہ کرنا مسنون ہے۔ لیکن اس نیت سے کہ یہ سنت ہے، جیسے حضرت عمر رضی اللہ کا مشہور قول ہے: [إني أعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع ، ولولا أني رأيت النبي صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك]
یقینا میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے، نقصان پہنچا سکتا ہے نہ نفع، اگر میں نے رسول اللہﷺ کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث:1597]
◈ طواف کے ساتوں چکر حطیم کے باہر سے لگا ئیں۔ [السنن الکبری للبيهقي: 90/5]،[صحيح ابن خزيمة، المناسك، حديث: 2740]
رکن یمانی کا استلام:
طواف کے ہر چکر میں رکن یمانی سے گزرتے ہوئے اسے ہاتھ لگانا مسنون ہے۔ [سنن أبي داود، المناسك، حديث: 1876]
اگر بھیڑ کی وجہ سے رکن یمانی کو چھونا مشکل ہو تو بغیر ہاتھ لگائے گزر جائیں۔ لیکن وہاں رک کر رکن یمانی کی طرف اشارہ کرنا یا اس کی طرف اشارہ کر کے ہاتھ کو چومنا یہ تمام کام غیر مسنون ہیں۔ اس کے علاوہ بیت اللہ کے کسی کونے کو چھونا یا مطلق بیت اللہ کو سمجھ کر ہاتھ اپنے جسم پر ملنا یہ سب غیر شرعی حرکات ہیں۔

طواف میں رمل کرنا:
عمرہ کرنے والے کو عمرے کے طواف اور حاجی کو طواف قدوم کے پہلے تین چکروں میں رمل کرنا کندھے ہلاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدموں سے آہستہ آہستہ (دوڑنا) چاہیے۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث: 1604]
◈ عورتیں رمل نہیں کریں گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي: 84/5]
طواف میں ذکر و دعا:
رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے:
اَللَّهُمَّ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
[البقرة:201]،[سنن أبي داود، المناسك، حديث: 1892]
نیز حدیث میں ہے: بیت اللہ کا طواف، اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے ہے۔ [صحیح ابن خزيمة، المناسك، حديث: 2738]،[سن ابي داود، المناسك، حديث:1888]
اس حدیث کے پیش نظر دورانِ طواف اللہ کا ذکر، تسبیح، تحمید، تکبیر، تہلیل، درود شریف، تلاوت قرآن اور عام مسنون دعائیں کرنی چاہیں، نیز اپنی زبان میں بھی دعا کی جاسکتی ہے۔
تنبیہ:
عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ حج وعمرہ کی کتابیں ہاتھوں میں لیے ہر چکر کی الگ الگ دعائیں پڑھ رہے ہوتے ہیں، یہ تمام دعائیں بناوٹی ہیں، ان کا سنت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اسی طرح اجتماعی گروپ کی صورت میں دعائیں کرنا کروانا بھی درست نہیں، اس طرح دعا نہ کرنا ہی بہتر ہے۔ بلکہ اللہ کی تسبیح وتحمید کے علاوہ آپ وہ دعا کریں جو آپ کو اچھی لگے اور جس کی آپ کو ضرورت ہو۔
دوران طواف اگر کوئی شرعی عذر پیش آجائے:
اگر طواف کے دوران میں نماز کا وقت ہو جائے یا کوئی اور شرعی عذر پیش آجائے تو طواف کا سلسلہ چھوڑ دینا چاہیے۔ بعد ازاں پہلے چکر شمار کر کے وہیں سے طواف شروع کریں جہاں سے سلسلہ چھوڑا تھا۔ [فقه السنة، المناسك، شروط الطواف]
طواف کے چکروں کی گنتی میں تردد:
طواف کے دوران میں اگر یاد نہ رہے کہ کتنے چکر لگائے ہیں تو کم پر یقین کرتے ہوئے بقیہ چکر پورے کیے جائیں، مثلاً: شک ہو جائے کہ چار چکر پورے ہوئے ہیں یا پانچ تو چار کا یقین کرتے ہوئے بقیہ تین چکر پورے کریں۔
اگر طواف کے دوران میں وضو ٹوٹ جائے؟:
باوضو ہو کر طواف کرنا ہی سنت ہے۔ [صحیح البخاري، الحج، حديث: 1615,1614]
لیکن اگر طواف کے دوران میں وضو ٹوٹ جائے تو دوبارہ وضو کرنا بہتر ہے، واجب یا شرط نہیں ہے۔
[فتاوی ابن تيمية رحمه الله: 126،123/26]
البتہ طواف کی دو رکعتوں کی ادائیگی سے قبل وضو کرنا پڑے گا، جیسا کہ پہلے بھی وضاحت گزری ہے۔
مسئلہ:
طواف کے دوران میں بقدر ضرورت گفتگو کی جاسکتی ہے۔ [فقه السنة، المناسك، شروط الطواف]
سواری پر طواف کرنا:
بوقت ضرورت سواری پر بھی طواف کرنا جائز ہے۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1612]
وضاحت:
کرائے پر سائیکل ریڑھی [Wheel Chair] کا انتظام مسجد حرام میں موجود ہے۔ بیمار، معذور اور نہایت کمزور افراد ان سے فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔
عورتوں کا طواف:
عورتوں کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ مردوں میں گھسنے کی بجائے ایک طرف ہو کر طواف کریں۔
[صحیح البخاري، الحج، حدیث: 1619,1618]
اگرچہ آج کل یہ مشکل ہے تاہم ممکن حد تک کوشش کرنی چاہیے کہ مردوں سے میل جول نہ ہو۔
حائضہ کے طواف کا حکم:
اگر کسی عورت کے ایام ماہواری شروع ہو جائیں تو اسے چاہیے کہ مسجد حرام میں داخل نہ ہو، کیونکہ حائضہ پاک ہونے تک بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکتی۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1650]
اگر طواف کے دوران میں کسی عورت کو یہ مشکل پیش آ جائے تو وہ اسی وقت طواف چھوڑ کر مسجد حرام سے باہر نکل جائے۔ آج کل ماہواری کی عارضی بندش کے لیے ادویات دستیاب ہیں انھیں استعمال کر لینے میں کوئی حرج نہیں۔
طواف کے بعد دو رکعتیں ادا کرنا:
طواف کرنے والا جب سات چکر مکمل کر لے تو مقام ابراہیم کے قریب طواف کی دو رکعتیں ادا کرے۔ افضل ہے کہ پہلی رکعت میں سورہ [قُلۡ یٰۤاَیُّہَا الۡکٰفِرُوۡنَ] اور دوسری میں [قُلْ هُوَ اللهُ اَحَدٌ] پڑھے۔ نبیﷺ نے حجۃ الوداع میں ایسا ہی کیا تھا۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]
مقام ابراہیم پر اگر جگہ نہ مل سکے تو اس سے پیچھے ہٹ کر یا مسجد حرام میں کسی بھی جگہ طواف کی دو رکعتیں ادا کی جاسکتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عمل سے ثابت ہے کہ آپ نے طواف کی دورکعتیں مسجد حرام سے بھی باہر وادی ،،ذی طوی،، میں ادا فرمائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي: 90/5]
تنبیہ:
نفلی طواف جتنے بھی چاہیں کیے جاسکتے ہیں، مگر سعی نفلی نہیں ہو سکتی، اسی طرح طواف کر کے کسی کو بخشنا یہ بھی رسول اللہﷺ سے ثابت نہیں ہے۔
آب زمزم پینا:
طواف کی دورکعتیں مکمل کرنے کے بعد خوب سیر ہو کر زمزم پینا اور سر پر ڈالنا مسنون ہے۔ [مسند أحمد مع الفتح الرباني: 72/12]
آب زمزم کی فضیلت:
نبی اکرمﷺ نے فرمایا: [ماء زمزم لما شرب له] جس (نیک) مقصد کے لیے بھی زمزم کا پانی پیا جائے وہ پورا ہو جاتا ہے۔ [مسند أحمد: 357/3]،[إرواء الغليل، حديث: 1123]
زمزم کی فضیلت سے متعلق متعدد احادیث ملتی ہیں۔ بعض محدثین نے اس پر مستقل کتابیں بھی لکھی ہیں۔ [مثلا: إزالة الدهش والوله عن المتحير في صحة حديث ماء زمزم لما شرب له تالیف: محمد بن ادریس القادری، تخریج: علامہ ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ]
خلاصہ یہ ہے کہ زمزم کا پانی ہر بیماری کے لیے باعث شفا اور ہر نیک مقصد کی تکمیل کا ذریعہ ہے۔
مسئلہ:
بیت اللہ کا طواف مکمل کر کے دو رکعت نماز پڑھنے اور زمزم پینے کے بعد (اگر ممکن ہو تو سعی کے لیے) حجر اسود کا دوبارہ استلام کرے۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]، یعنی اسے بوسہ دے یا ہاتھ لگا کر ہاتھ کو چومے، اگر یہ ممکن نہ ہو تو اشارہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
صفا و مروہ کی سعی
صفا اور مروہ، یہ دونوں پہاڑیاں ہیں۔ ان کے درمیان سات چکر لگانے کو سعی کہا جاتا ہے۔ یہ سعی حج اور عمرے کا رکن ہے۔ اس کے بغیر عمرہ اور حج ادا نہیں ہوتے۔ نبیﷺ کا فرمان ہے: [كتب عليكم السعي فاسعوا] تم پر سعی فرض کر دی گئی ہے، لہذا سعی کرو۔[صحيح ابن خزيمة: 233/4، حدیث: 2765]
مسئلہ:
صفا و مروہ کی سعی کے لیے باب صفا سے صفا پہاڑی کی طرف جانا مسنون ہے۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]
صفا کے قریب یہ کلمات پڑھنے چاہییں:
[إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ] بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ میں اس چیز کے ساتھ ابتدا کرتا ہوں جس کے ساتھ اللہ نے ابتدا کی ہے۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]
یعنی اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں پہلے صفا کا ذکر کیا ہے لہذا میں بھی اپنی سعی کی ابتدا صفا سے کرتا ہوں۔
صفا پر پہنچنے کے بعد:
صفا پر چڑھ کر کوشش کریں کہ بیت اللہ نظر آجائے۔ بیت اللہ کی طرف متوجہ ہو کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہیں اور یہ کلمات تین بار دھرائیں:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ
اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ بادشاہت اور تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں، وہ اکیلا ہے، اس نے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد فرمائی اور اس اکیلے نے کئی لشکروں کو شکست دی۔ [صحیح مسلم، الحج، حدیث: 1218]
نوٹ:
اس موقع پر ہاتھ اٹھا کر مزید دعائیں کریں۔
صفا سے مروہ کی طرف:
صفا پر ذکر اور دعا کرنے کے بعد دائیں راستے سے مردہ کی طرف روانہ ہوں اور سبز نشانات [ٹیوبوں] کے درمیان ہلکی ہلکی سی دوڑ لگائیں۔ جو لوگ عمر رسیدہ، بیمار یا بھاری جسم والے ہوں ان کے لیے اس جگہ نہ دوڑنے میں کوئی حرج نہیں۔ [صحیح ابن خزيمة: 236/4، حدیث: 2770]
دوڑنے کا حکم خاص مردوں کے لیے ہے:
صفا اور مروہ کے در میان دو سبز ٹیوب لائٹوں (نشانات جنھیں میلين أخضرين بھی کہا جاتا ہے) کے درمیان دوڑ نا صرف مردوں کے ساتھ مخصوص ہے۔ عورتوں کے لیے نہیں۔ اس سلسلے میں سیدنا ابن عمر رضي اللہ عنہما اور سیدہ عائشہ رضي اللہ عنہما سے احادیث مروی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي: 84/5]
سعی کے دوران میں ذکر:
صفا اور مروہ کے درمیان سعی کے دوران میں صرف ایک دعا عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہم سے موقوفاً ثابت ہے۔ جس کی صحت علامہ البانی نے حَجَّةُ النَّبِي میں تسلیم کی ہے۔ دعا کے الفاظ یوں ہیں:
رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَأَنْتَ الْأَعَزُّ الْأَكْرَمُ
اے میرے رب! مجھے معاف فرما اور مجھ پر رحم فرما اور تو ہی عزت والا اور بزرگی والا ہے۔ [مصنف ابن أبي شيبة، حديث: 15567] اور دیکھیے: [حجة النبيﷺ، تالیف: علامہ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ]
اس دعا کے علاوہ درج ذیل حدیث کے حوالے سے سعی کے دوران میں دیگر دعاؤں اور اذکار کا بھی ثبوت ملتا ہے۔ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: صفا اور مروہ کے درمیان سعی اللہ کا ذکر قائم کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ [صحیح ابن خزيمة: 222/4، حديث: 2738] اس حدیث کے پیش نظر دوران سعی تکبیر تسبیح، تحمید، تہلیل، تلاوت قرآن اور درود شریف یا عام مسنون دعائیں کرنی چاہیں، نیز اپنی زبان میں بھی دعا کی جاسکتی ہے۔
مروہ پہنچنے پر:
صفا سے مردہ تک ایک چکر پورا ہوتا ہے۔ یہاں پر بھی و ہی اعمال سر انجام دیں جو صفا پر کیے تھے۔
مروہ سے صفا کی طرف:
مروہ پر دعا کرنے کے بعد دائیں طرف سے صفا کی طرف واپس چلیں۔ مردوں کو چاہیے کہ وہ اس طرف سے بھی دو سبز نشانات کے درمیان ہلکی ہلکی سی دوڑ لگائیں اور صفا پر چڑھتے ہوئے وہی دعائیں پڑھیں جو سعی کے آغار میں صفا پر پڑھی تھیں۔ صفا تک پہنچ کر دوسرا چکر مکمل ہو گا۔ اسی طرح مزید پانچ چکر لگائیں۔ اس طرح ساتواں اور آخری چکر مروہ پر ختم ہوگا۔
تنبيهات:
① صفا سے مروہ تک ایک چکر اور مروہ سے صفا تک دوسرا چکر شمار ہوگا۔
② مسجد حرام کی توسیع کے بعد صفا اور مروہ کو مسجد حرام میں شامل کر لیا گیا ہے، لہذا اب حیض اور نفاس والی عورتوں کا ان کی سعی کرنا جائز نہیں۔ دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ سعی طواف کے بعد کی جاتی ہے جب ایسی خاتون طواف نہیں کرے گی تو سعی بھی نہیں کرے گی۔
③ سعی کے لیے وضو شرط نہیں ہے، البتہ باوضو سعی کرنا زیادہ بہتر ہے۔ اگر دوران سعی وضو ٹوٹ جائے تو دوبارہ وضو کرنا ضروری نہیں۔
④ اگر کسی عذر کی وجہ سے چلتے ہوئے سعی کرنے میں دشواری ہو تو سواری پر بھی سعی کی جاسکتی ہے۔ [شرح السنة للبغوي: 142/7، حديث: 1922]
⑤ سعی کے لیے سائیکل ریڑھی (Wheel Chair) کرائے پر دستیاب ہو جاتی ہے، لہذا اس پر سعی کی جاسکتی ہے۔
⑥ ملین اخضرین [دوسبز ٹیوب لائٹوں کے درمیان جہاں سے دوڑ کر گزرنا ہے] کے علاوہ باقی سعی عام معمول کی چال سے کرنی ہے، دوڑ نا نہیں ہے۔
سعی کا منقطع ہو جانا:
اگر کسی عذر کے باعث سعی کا سلسلہ روکنا پڑے تو عذر ختم ہونے کے بعد بقیہ سعی اسی جگہ سے شروع کریں جہاں سے منقطع ہوئی تھیں۔
سعی میں تاخیر:
طواف کے بعد اگر سعی میں کسی عذر کی وجہ سے دیر ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔ [فقه السنة: 1/ 743، عطاء اور حسن بصری کا یہی فتویٰ ہے]
مسئلہ:
اگر سعی کے چکروں میں شک ہو جائے: سعی کے دوران میں اگر چکروں کی تعداد میں شک ہو جائے تو طواف کی طرح کم تعداد پر یقین کرتے ہوئے بقیہ چکر پورے کریں ، مثلاً: ایک شخص کو شک ہے کہ تیسرا چکر ہے یا چوتھا تو اسے چاہیے کہ وہ اسے تیسرا ہی سمجھے اور مزید چار چکر لگائے۔
حجامت:
حج تمتع کرنے والے کو چاہیے کہ عمرے کی سعی سے فراغت کے بعد سر کے بال منڈوائے یا کٹوائے۔ [صحيح البخاري، الحج، حديث: 1729]
لیکن کتروانا افضل ہے۔ [صحیح البخاري، الحج، حدیث:1727]
مسئلہ:
محرم اگر اپنی حجامت خود کرلے، یا دو شخص ایک دوسرے کی حجامت بنا دیں تو دونوں طرح جائز ہے۔
مسئلہ:
حج افراد یا حج قران کرنے والے حضرات اگر منی جانے سے قبل سعی کر لیں تو سعی کے بعد بال نہ منڈوائیں۔ کیونکہ ان کے لیے ایک ہی سعی ضروری ہے، وہ بال 10 ذو الحجہ کو منڈوائیں یا کتر وائیں اور اگر پہلے سعی نہیں کی تو اس روز سعی کریں۔
پورے سر کے بال منڈوائے جائیں:
عمرہ یا حج کرنے والے کو چاہیے کہ پورے سر کے بال منڈوائے یا کٹوائے۔ نبیﷺ کی سنت مبارکہ یہی ہے۔
عورتوں کے لیے بال کٹوانا:
عورتیں سعی مکمل کرنے کے بعد کچھ بال کاٹ لیں۔ ان کے لیے سر منڈوانا جائز نہیں۔ [سنن أبي داود، المناسك، حديث، 1985]
احرام کھولنا:
عمرہ اور حج تمتع کرنے والے حضرات حجامت کے بعد احرام کھول دیں، ان کا عمرہ مکمل ہو گیا۔ [صحيح البخاري، العمرة، حديث: 1795]
تنبیہ:
بعض معتمرین اور حجاج سعی کے اختتام پر وہاں مروہ پر کھڑے کھڑے اپنے سر پر دائیں بائیں سے چند ٹک لگوا کر اپنے زعم میں حلال ہو جاتے ہیں۔ یہ کام سراسر خلاف سنت ہے۔ جب تک مکمل سر سے بال نہ اتارے جائیں۔ انسان حلال نہیں ہوتا۔
① یہ بات بھی مشہور ہے کہ جو شخص پہلا حج یا عمرہ کرے وہ تو سر پر استرا پھروائے اور بعد ازیں اسے اختیار ہے چاہے وہ بال چھوٹے کروائے یا مشین پھروائے اس کے لئے سب برابر ہے۔ حالانکہ حج یا عمرہ پہلا ہو یا دسواں ہر دفعہ استرا پھروانا افضل اور بال چھوٹے کروانا جائز ہے۔
② سعی کے ختم ہونے کے بعد دو رکعت نوافل ادا کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
③ عمرے کے بعد طواف وداع نہیں ہے۔
④ طواف کے دوران میں بیت اللہ پر نظر نہیں پڑنی چاہیے، یہ بات بھی سراسر بناوٹی ہے، اس لیے دورانِ طواف بیت اللہ پر نظر پڑنے میں کوئی حرج نہیں۔
وضاحت:
حج افراد یا حج قران کرنے والے بدستور احرام میں رہیں گے اور جولوگ احرام کھول چکے ہیں انھیں چاہیے کہ وہ فارغ اوقات میں نفل نماز، طواف اور تلاوت قرآن بکثرت کریں تا کہ اس بابرکت مقام پر نیکیوں کے حصول میں زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جائے۔
یاد رکھیں کہ ایک سفر میں ایک عمرہ کرنا ہی افضل ہے۔ حج سے قبل مدینہ جانے والے حجاج کرام جو حجاج کرام عمرہ کرنے کے بعد اور حج کرنے سے پہلے مدینہ منورہ زیارت کے لیے جاتے ہیں انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ ایک اور عمرہ کرنا چاہتے ہیں تو مدینہ سے واپسی پر مقام ذو الحلیفہ (بئر علی) سے احرام باندھ کر آئیں اور مکہ پہنچ کر عمرہ ادا کریں۔ اگر حج تمتع کر رہے ہیں تو عمرے کے بعد بال کٹوا کر احرام کھول دیں اور اگر حج قران کا ارادہ ہے تو بال کٹوائیں نہ احرام کھولیں۔
تنعیم ( مسجد عائشہ رضی اللہ عنہما) سے عمرہ کرنا:
تنعیم سے عمرہ کرنا مشروع ہے۔ [نضرة النعيم في حكم العمرة من التنعيم، تأليف: ابو عبد الله محمد بن محمد مصطفی]

