عثمانِ غنیؓ کی خلافت پر اعتراضات کا مدلل رد قرآن و حدیث کی روشنی میں
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

بعض لوگ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر زبانِ طعن دراز کرتے ہوئے کہتے ہیں: ”وہ تو میدانِ احد سے بھاگ نکلے تھے اور بیعتِ رضوان سے بھی غائب رہے تھے، اس لیے وہ خلیفہ کیسے بن گئے؟“ اس بات کی حقیقت کیا ہے، صحیح حقائق سے آگاہی فرمائیں۔

جواب:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام ایسے پاکباز اور پوری امت اور اللہ کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان بہترین واسطہ تھے، جنھوں نے قربانیاں دے کر دینِ اسلام ہم تک پہنچایا۔ قرآنِ حکیم کی حفاظت، نشر و اشاعت اور اس کا بیان، جسے حدیث و سنت سے تعبیر کیا جاتا ہے، ان کے بغیر ہم تک پہنچنا ناممکن تھا، انھوں نے دین کے ان دونوں ماخذوں کو ہم تک پہنچایا۔ وحیِ الٰہی کا یہ سلسلہ ہمیں تک پہنچانے کا بہت بڑا باعث ہے اور نبوی ارشاد فليبلغ الشاهد الغائبکہ حاضر غائب کو میری باتیں پہنچا دیں کے اولین مصداق ہوئے۔ جو ذمہ داری رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے کندھوں پر ڈالی انھوں نے اس کا اکمال و اتمام بطریقہ احسن کیا اور اس کی نشر و توزیع اور دعوت و تبلیغ میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اس کے نفاذ اور غلبے کے لیے علم و جہاد کے ذریعے دنیا کے گوشے گوشے تک پھیل گئے اور جمیع اطراف و اکناف میں اسلام کا جھنڈا لہرا دیا۔ معبودانِ باطلہ اور طواغیتِ شاطرہ کے سروں کو کچل ڈالا اور سینکڑوں جھوٹے انبیاء کے پجاریوں کو تہہ تیغ کیا۔ ان کی عظیم قربانیوں اور شاندار شہادتوں کے عوض انھیں اللہ کی رضا و رحمت کے تمغوں سے نوازا گیا اور مالک الملک نے اپنی عفو و مغفرت ان کے مقدر میں کر دی۔ اس کے برعکس دشمنانِ دین اور کارندہ ابلیس کو ان کی مقبولیت گوارا نہ ہوئی، انھوں نے ان کے پاکیزہ کردار اور حسنِ سیرت کو داغدار کرنے کے لیے ہر طرح کے حربے استعمال کیے اور پاکیزہ ہستیوں کو ہدفِ تنقید بنایا کہ امت اور اس کے جلیل القدر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ درمیانی واسطہ کمزور پڑ جائے۔ یہ لوگ ڈائریکٹ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کو تو ہدف نہ بنا سکے، انھوں نے ان کے جاں نثاروں پر طعن و تشنیع کے نشتر چلانے شروع کر دیے۔ علامہ جلال الدین سیوطی نے علامہ الدینوری کے حوالے سے تحریر کیا ہے:
كان بدء الرافضة أن قوما من الزنادقة اجتمعوا فقالوا نسب نبيهم فقال كبيرهم إذا فعلنا قتلنا فقالوا نشتم أحباءه فإنه يقال إذا أردت أن تؤذي جارك فاضرب كلبه ثم اعتزل وتكفرهم فقالوا الصحابة كلهم فى النار إلا عليا ثم قال كان على هو الذى أعطي جبريل
(مفتاح المحنة رقم 375 ص 127، المحاسنة 390/3 فہرس)
رافضیت کی ابتدا اس طرح ہوئی کہ کچھ زندیق جمع ہوئے اور کہنے لگے کہ مسلمانوں کے نبی کو برا بھلا کہا جائے، تو ان کے بڑے نے کہا: ”اگر تم نے ایسا کیا تو ہم قتل کر دیے جائیں گے۔“ پھر کہنے لگے: ”ہم اس نبی کے احباء اصحاب کو برا بھلا کہتے ہیں، کیونکہ کہا جاتا ہے کہ جب تم اپنے پڑوسی کو تکلیف دینا چاہو تو اس کے کتے کو مارو، پھر تم اعتزال اختیار کرو اور ان کی تکفیر کرو۔“ پھر انھی لوگوں نے کہا: ”حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے علاوہ تمام صحابہ (العیاذ باللہ) جہنمی ہیں اور انھوں نے یہ بھی کہا: ”علی نبی ہیں۔ جبریل کو غلطی لگی (اور وحی لے کر محمد کی طرف چلا گیا)۔“
عبد اللہ بن مصعب کہتے ہیں مجھے امیر المؤمنین المہدی نے کہا: ”اے ابوبکر! جو لوگ صحابہ رسول کی تنقیص کرتے ہیں تم ان کے بارے میں کیا کہتے ہو؟“ میں نے کہا: زندیق ہیں۔ امیر المؤمنین نے کہا: ”میں نے تم سے پہلے کسی کو یہ بات کہتے ہوئے نہیں سنا۔“ کہتے ہیں میں نے کہا:
هم قوم أرادوا رسول الله بنقص فلم يجدوا أحدا من الأمة يتابعهم على ذلك فنقصوا هؤلاء عند أبناء هؤلاء وهؤلاء عند أبناء هؤلاء فكأنهم قالوا رسول الله صلى الله عليه وسلم يصحبه صحابة السوء وما أقبح بالرجل أن يصحبه صحابة السوء فقال ما أراه إلا كما قلت
(تاريخ بغداد 175/10 فی ترجمة عبد الله بن مصعب الزبیری الأسدی، تعجیل المنفعة لابن حجر رقم 585، 765/1 766)
وہ ایک ایسی قوم ہے جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص کا ارادہ کیا تو انھوں نے امت میں سے کسی کو اپنا ہم نوا نہ پایا، تو انھوں نے ان لوگوں کی تنقیص ان کی اولادوں کے سامنے کی اور انھوں نے ان کی اولادوں کے آگے ان کی تنقیص کی، گویا وہ یوں کہتے ہیں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) برے لوگوں کے ساتھی تھے اور جس کے ساتھی برے ہوں، وہ کس قدر برا آدمی ہے!“ خلیفہ نے کہا: ”جو تم کہتے ہو میں بھی یہی سمجھتا ہوں۔“
اس مختصر وضاحت سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ دشمنانِ اسلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ گرامی کے بارے لب کشائی کرنے کے لیے آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے درپے ہو گئے اور ان کی عظمت و رفعت کو پست کرنے کے لیے ان کی ذواتِ مقدسہ کو ہدفِ تنقید بنانے لگے اور یوں نسل در نسل باتیں منتقل ہونے لگیں اور جب علی بھی خلافت کے نعرے کے سائے تلے محبوبانِ عمل میں اقامہ کی ذراتِ مقدسہ پر زبانِ طعن دراز کرنے لگے۔ محمد بن حاطب کہتے ہیں:
سألت عليا عن عثمان فقال هو من الذين آمنوا ثم اتقوا ثم آمنوا ثم اتقوا ولم يخشوا الآية
(فضائل الصحابة از امام أحمد 474/1 رقم 770، المجالسة للدینوری 135/1 رقم 242، الشريعة للآجری رقم 1000، 1886، شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة رقم 2574، ابن أبي شیبہ 264/6 رقم 32060، حلیۃ الأولیاء 100)
میں نے علی رضی اللہ عنہ سے عثمان رضی اللہ عنہ ہونے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے (سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 93 پڑھتے ہوئے) کہا: ”وہ ان لوگوں میں سے ہیں جو ایمان لائے، پھر تقویٰ اختیار کیا، پھر ایمان لائے، پھر تقویٰ اختیار کیا۔“
ابن کثیر فرماتے ہیں: یہ قول علی رضی اللہ عنہ سے کئی وجوہ سے ثابت ہے۔
(البدایہ 193/7)
”حضرت علی رضی اللہ عنہ انھیں ﴿إِنَّ الَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِنَّا الْحُسْنَىٰ أُولَٰئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ﴾ کا مصداق رکھتے تھے۔
(المسند لابن أبي عاصم 1251، ابن أبي شیبہ 51/12 رقم 12101، فضائل الصحابة لأحمد 771، تفسیر طبری 90/9 رقم 24830)
اس طرح حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ کہا کرتے تھے۔ امید ہے کہ میں اور عثمان ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ نے فرمایا ہے:
﴿وَنَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ﴾ (الحجر: 47)
(شرح أصول اعتقاد أهل السنة والجماعة 2573، ابن أبي شیبہ 539/7 رقم 37795، المعجم الكبير للطبراني 111)
عثمان غنی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے افضل ترین صحابہ میں سے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد ہیں۔ ان کے ایامِ خلافت کے بارہ سالوں میں کسی شخص نے ان کے عمل پر انگشتِ اعتراض نہیں اٹھائی، جب فاسق و فاجر لوگوں کا ظہور ہوا تو انھوں نے خلیفۃ المسلمین کو ہدفِ تنقید بنایا اور پروپیگنڈا کر کے ماحول خراب کرنے کی بھرپور کوشش کی، امام حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
عمل أمير المؤمنين عثمان بن عفان اثنتي عشرة سنة لا ينكر من إمارته شيء حتى جاء فسقة
(التاريخ الصغير للإمام البخاري ص 34، ط أخرى دار المعرفة بيروت 84/1، ط دار الصيفي 147/1)
”فاسق و فاجر لوگوں کی آمد سے قبل امیر المؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت کے بارہ سالوں میں کسی شخص نے ان کے عمل پر کوئی اعتراض و انکار نہیں کیا۔“
ان کے خلاف اہلِ مصر سب سے آگے تھے، جیسا کہ صحیح البخاری میں ہے، عثمان بن موہب بیان کرتے ہیں: ایک مصری نے بیت اللہ کا حج کیا اور وہ ایک قوم کو بیٹھے دیکھ کر کہنے لگا: یہ کون سی قوم ہے؟ کیا یہ قریشی ہیں؟ کہنے لگا: ”ان میں شیخ کون ہے؟“ انھوں نے کہا: عبد اللہ بن عمر۔ اس نے کہا: ”اے ابن عمر! میں تم سے ایک چیز کے بارے سوال کرنے والا ہوں، مجھے اس کے متعلق بتاؤ، کیا تم جانتے ہو کہ عثمان (رضی اللہ عنہ) احد والے دن بھاگ گئے تھے؟“ انھوں نے کہا: ہاں! اس نے کہا: ”کیا تمھیں پتا ہے کہ وہ بدر سے بھی غائب تھے، حاضر نہ تھے؟“ انھوں نے کہا: ہاں! اس نے کہا: ”کیا تم جانتے ہو کہ وہ بیعتِ رضوان کے وقت بھی غائب تھے، حاضر نہیں تھے؟“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں! اس نے کہا: ”اللہ اکبر“ ابن عمر رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ادھر آؤ میں تمھیں ان سب واقعات کی حقیقت بتاؤں، پہلی بات کہ ان کا احد کے دن بھاگ نکلنا، تو میں گواہی دیتا ہوں کہ یقیناً اللہ نے ان کا قصور معاف کر دیا ہے اور انھیں بخش دیا ہے، رہا بدر میں ان کا شریک نہ ہونا، تو اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی تھیں اور وہ بیمار تھیں، انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا تھا: تمھیں بدر میں شریک ہونے والوں کے برابر اجر اور مال غنیمت ملے گا۔ رہا بیعت رضوان میں غائب ہونا تو اگر مکہ والوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں ان سے زیادہ کوئی عزت والا ہوتا تو اسے ان کی جگہ بھیجتے، آپ نے عثمان رضی اللہ عنہ کو اللہ کی طرف بھیجا تھا اور بیعت رضوان حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مکہ جانے کے بعد ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے، اور اس کو اپنے بائیں ہاتھ پر رکھ کر فرمایا: ”یہ عثمان کی بیعت ہے۔“ پھر ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اسے کہا: یہ میرا جواب اپنے ساتھ لے جاؤ۔
(بخاری، کتاب فضائل أصحاب النبي، باب مناقب عثمان بن عفان أبي عمرو القرشي رضي الله عنه 3699)
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جو یہ کہا: ”تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں معاف کر دیا ہے“ تو اس کے بارے حافظ ابن حجر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
يريد قوله تعالى: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا ۖ وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ﴾ (آل عمران: 155)
(فتح الباری 59/7)
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی مراد اللہ کا یہ فرمان ہے: ”یقیناً وہ لوگ جو مقابلے کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے، ان کی لغزش کا باعث یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے ان کے قدم ڈگمگا دیے تھے اور یقیناً اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف کر دیا ہے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بخشنے والا، بردبار ہے۔“
معلوم ہوا اللہ غفور و رحیم نے تو احد والے دن ڈگمگا جانے والوں کو معاف کر دیا ہے، ان کی تعظیم پر بخشش کا قلم پھیر دیا ہے، لیکن ان کے بارے سوء ظن رکھنے والے بدبخت لوگ معاف کرنے کو تیار نہیں اور اپنی زبان طعن مسلسل دراز کیے ہوئے ہیں اور ان کی ذوات جلیلہ القدر میں عیب لگا لگا کر اپنا دامن پلید کر رہے ہیں اور عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو مورد طعن بنانے والے لوگ خود انھی مصائب اور کمزوریوں کا شکار ہیں جو دوسروں کے ذمے لگاتے ہیں۔ اس سے عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شان میں تو کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ چاند پر تھوکنے والے کے منہ پر ہی اس کا تھوک گرتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی زبان مبارک سے عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید قرار دیا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
صعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أحدا ومعه أبو بكر وعمر وعثمان فرجف فقال اسكن أحد – أطه ضربه برجله – فليس عليك إلا نبي وصديق وشهيدان
(صحیح البخاری، کتاب فضائل أصحاب النبي، باب مناقب عثمان بن عفان أبي عمرو القرشي 3699)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احد پر چڑھے اور آپ کے ساتھ ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم تھے، پہاڑ بہنے لگا تو آپ نے فرمایا: ”احد! سکون اختیار کر۔“ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاؤں سے مارتے ہوئے کہا: ”تیرے اوپر تو صرف اللہ کا نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں۔“
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غار حرا پر تھے اور آپ کے ساتھ ابو بکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم تھے، پہاڑ حرکت کرنے لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اهدا فما عليك إلا نبي أو صديق أو شهيد
”سکون کر، تیرے اوپر تو صرف نبی یا صدیق یا شہید ہے۔“
(مسلم، کتاب فضائل الصحابة، باب من فضائل طلحة الخ 2417)
یہ حدیث کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید قرار دیا ہے۔ اگر ان معاندین و معترضین کے اعتراضات و الزامات صحیح و درست ہوتے تو زبان وحی سے انھیں شہادت کا اعزاز نصیب نہ ہوتا۔
مرہ البھری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
بينما نحن مع نبي الله صلى الله عليه وسلم فى طريق من طرق المدينة فقال كيف أنتم فى فتنة تنور فى أقطار الأرض كأنها صباحي بقر؟ قالوا تصنع ماذا يا نبي الله؟ قال عليكم بهذا وأصحابه أو اتبعوا هذا وأصحابه قال فأسرعت حتى عطفت على الرجل فقلت هذا يا نبي الله؟ قال هذا فإذا هو عثمان بن عفان
(مسند احمد 203/5 ح: 20353 واللفظ له، صحیح ابن حبان 6914، ابن أبي شیبہ 410/12، السنة لابن أبي عاصم 1296، طبرانی کبیر 702/20)
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ کے راستوں میں سے ایک راستے پر جا رہے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم فتنہ کے دور میں کیا کرو گے جو زمین کے اطراف میں گائے کے سینگوں کی طرح پھیل جائے گا؟“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اے اللہ کے نبی! ہم اس وقت کیا کریں؟“ آپ نے فرمایا: ”تم اس شخص اور اس کے ساتھیوں کو لازم پکڑ لینا۔“ یا فرمایا: ”اس کی اور اس کے ساتھیوں کی پیروی کرنا۔“ حضرت مرہ کہتے ہیں: ”میں نے جلدی کی حتیٰ کہ اس کا چہرہ موڑتے ہوئے کہا: ”اے اللہ کے نبی! کیا وہ یہ شخص ہے؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں! یہی ہے۔“ تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔
مرہ بن کعب رضی اللہ عنہ کی دوسری روایت میں یوں الفاظ ہیں:
رأيت فتنة من تحت قدمي أو من بين رجلي هذا يومئذ ومن اتبعه على الهدى
میرے ان قدموں یا پاؤں والی جگہ سے ضرور فتنہ نکلے گا، اس دن یہ شخص اور جو اس کی پیروی کرنے والے ہوں گے، ہدایت پر ہوں گے۔
(مسند أحمد 236/4 ح: 18067)
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جنتی صحابی، خلیفہ راشد، شہید فی سبیل اللہ، مظلوم معذور اور فتنہ کے ایام میں حق پر قائم تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایام فتنہ میں ان کی اور ان کے ہمنواؤں کی اقتدا کا حکم فرمایا۔ لہٰذا جو لوگ خلیفہ راشد، داماد رسول، عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ پر کیچڑ اچھالتے، انھیں برا بھلا کہتے اور زبان طعن دراز کرتے اور مطعن و تشنیع کے نشتر برساتے ہیں وہ اپنے ایمان کا بیڑا غرق کرتے ہیں اور وہ منافق و زندیق ہیں۔
امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إذا رأيت الرجل ينتقص أحدا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فاعلم أنه زنديق وذلك أن الرسول صلى الله عليه وسلم عندنا حق والقرآن حق وإنما أدى إلينا هذا القرآن والسنة أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وإنما يريدون أن يجرحوا شهودنا ليبطلوا الكتاب والسنة والجرح بهم أولى وهم زنادقة
(الكفاية في علم الرواية ص 49، الأصابة في تمييز الصحابة 162/1 تحیقیق عادل احمد والشیخ محمد معوض، 10/1 ط قدیم)
”جب تم ایسے شخص کو دیکھو جو اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں سے کسی کی تنقیص کرتا ہے تو یقین کر لو کہ وہ زندیق ہے۔ اور یہ اس لیے کہ ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں اور قرآن حق ہے اور ہم تک یہ قرآن اور سنت اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے پہنچائی ہیں۔ اور یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے گواہوں کو مجروح کر دیں تاکہ کتاب و سنت کو باطل ٹھہرا دیں۔ ان پر جرح کرنا اولیٰ ہے اور یہ لوگ زندیق ہیں۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اتفق أهل السنة على أن الجميع عدول ولم يخالف فى ذلك إلا شذوذ من المبتدعة
”اہل السنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عادل ہیں اور اس میں چند مقدمین کے سوا کسی نے اختلاف نہیں کیا۔“
(الأصابة 162/1)
خطیب بغدادی رحمہ اللہ نے تو ”الكفاية في علم الرواية“ (ص 46) میں باب قائم کیا ہے:
باب ما جاء فى تعديل الله ورسوله للصحابة وأنه لا يحتاج إلى سؤال عنهم وإنما يحتاج فيمن دونهم
”اس بات کا بیان کہ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعدیل کی ہے اور ان کے بارے میں سوال کرنے کی حاجت ہی نہیں، ان کے علاوہ لوگوں کے بارے میں پوچھ گچھ کرنا واجب ہے۔“
پھر فرماتے ہیں: ”عدالت صحابہ تو ثابتہ معلومہ ہے۔“
اس لیے کہ اللہ نے ان کی تعدیل کی ہے اور ان کی طہارت کی خبر دی ہے اور نص قرآنی میں اسے ان کے لیے اختیار کیا ہے۔ پھر انھوں نے آیات قرآنیہ اور احادیث نبویہ سے اس کا ثبوت فراہم کیا ہے۔ تفصیل کا طالب ”الكفاية“ اور ”الأصابة“ وغیرہ کتب کا مطالعہ کرے۔ لہٰذا ہمارے نزدیک تو ایک عام صحابی کی بھی تنقیص کرنے والا منافق و زندیق ہے۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے اور منہج سلف صالح پر قائم رکھے۔ (آمین!)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے حوالے سے سلف کا موقف معلوم کرنے کے لیے محدث العصر فضیلۃ الشیخ ارشاد الحق اثری رحمہ اللہ کی کتاب ”مشاجرات صحابہ اور سلف کا موقف“ ضرور پڑھیے، ہم نے بھی اس کتاب سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے