طلاق کی وعید اور طلاق کے الفاظ کا شرعی حکم قرآن کی روشنی میں

یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

میرے خاوند نے مجھے کئی مرتبہ کہا ہے کہ میں تجھے طلاق دے دوں گا، یا طلاق دے دینی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ تو اب اس کے گھر میں رہ رہی ہے تو یہ ٹھیک نہیں، کیونکہ تجھے طلاق ہو چکی ہے، میں اس مسئلے میں بڑی پریشان ہوں، قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں۔

جواب:

اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کا جو تعلق قائم کیا ہے، یہ سکون و طمانیت کے لیے ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
﴿وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ﴾
(الروم: 21)
”اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہاری ہی جنس سے تمہاری بیویاں پیدا کیں تا کہ تم ان کی طرف (جا کر) آرام پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان دوستی اور مہربانی رکھ دی۔“
لیکن شیطان اس انسانی رشتہ ازدواج کو ختم کرنے کے لیے بڑی تگ و دو کرتا ہے اور خاوند بیوی کے درمیان ناچاقی پیدا کرتا ہے، جس سے گھر برباد ہوتے ہیں اور معاملہ طلاق تک پہنچ جاتا ہے، جو انتہائی ناپسندیدہ ہے۔ ہمیں اپنے گھروں کو اس نوبت تک پہنچ جانے سے بچانا چاہیے۔ عورت کو طلاق تب ہوتی ہے جب خاوند صریح طلاق کا کلمہ کہہ دے، یا طلاق کے علاوہ لفظ استعمال کرے اور نیت طلاق کی ہو۔ یوں کہ دینے سے طلاق نہیں ہوتی کہ ”میں تجھے طلاق دے دوں گا یا طلاق دے دینی ہے“ یہ تو طلاق دینے کے متعلق خبردار کیا جا رہا ہے، نہ کہ طلاق دی ہے۔ لہذا پریشان نہ ہوں، زوجین توبہ و استغفار سے کام لیں اور ایسے امور سے بچیں جو گھر میں لڑائی جھگڑے کا موجب ہوں۔ لوگوں کے کہنے کے پیچھے مت لگیں، اللہ تعالیٰ ہمارے گھروں کو امن و آشتی اور رحمت و مودت کا گہوارہ بنائے اور شر و فساد سے محفوظ فرمائے۔ (آمین)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے