مضمون کے اہم نکات
زیرِ نظر مضمون کا مقصد “صحیح بخاری میں بدعتی راویوں سے روایت” کے بارے میں پھیلائے جانے والے ایک اعتراض کی علمی وضاحت کرنا ہے۔ بعض افراد یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امام بخاریؒ نے دو “شیعہ/رافضی” راویوں (عبدالملك بن أعين، عباد بن يعقوب) سے روایت لی اور ایک “مرجئی” راوی (أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ) کو اپنی کتاب الضعفاء میں ذکر کرنے کے باوجود اس سے “احتجاج” کیا؛ لہٰذا (معاذ اللہ) صحیح بخاری کی شرائط میں تناقض ہے۔
ہم اس مضمون میں یہ واضح کریں گے کہ:
جن راویوں پر بدعت کا اطلاق ہوتا ہے، امام بخاریؒ نے عام طور پر ان سے اصل “احتجاج” نہیں کیا بلکہ متابعات/اقتران (مقرونًا بغیرہ) کے طور پر روایت لی ہے۔
متابعات و شواہد میں کم درجے کے راوی کا آ جانا اصولِ محدثین کے مطابق معروف امر ہے، اس سے کتاب کی شرطِ صحت لازمًا منہدم نہیں ہوتی۔
لہٰذا اس موضوع میں فیصلہ “جزباتی نعروں” سے نہیں بلکہ اصطلاحاتِ حدیث (احتجاج، متابعة، مقرونًا) اور ائمہ کے صریح بیانات سے ہوتا ہے۔
بنیادی اصطلاحات: “احتجاج” اور “متابعت/مقرونًا” کیا ہے؟
① احتجاج (Principal Proof)
احتجاج سے مراد یہ ہے کہ محدث کسی راوی کی روایت کو **اصل دلیل** کے طور پر لائے اور اسے بنیادی سند بنائے۔
② متابعت اور مقرونًا بغیرہ (Supporting Route)
متابعت یہ ہے کہ کسی حدیث کو ایک **معتبر (ثقہ/ثبت)** طریق سے لانے کے بعد، اسی مضمون کی تائید میں دوسرا طریق بھی ذکر کر دیا جائے؛ یا ایک راوی کی روایت کو **دوسرے ثقہ راوی کے ساتھ “جوڑ کر”** لایا جائے (مقرونًا بغیرہ) تاکہ واضح رہے کہ یہ طریق **اصل بنیاد نہیں** بلکہ تائیدی حیثیت رکھتا ہے۔
پہلا اعتراض: عبدالملك بن أعين الکوفی سے روایت
معترض کا دعویٰ ہے کہ عبدالملك بن أعين “رافضی” تھا اور بخاری/مسلم نے اس سے روایت لی، لہٰذا بدعتی کی روایت قبول ہونے کی دلیل بن گئی۔
① حافظ ابن حجرؒ: صحیحین میں صرف “ایک حدیث” اور وہ بھی “متابعت” میں
4164- عبد الملك ابن أعين الكوفي مولى بني شيبان صدوق شيعي له في الصحيحين حديث واحد متابعة من السادسة ع
اردو ترجمہ:
عبدالملك بن أعین کوفی (بنو شیبان کا مولیٰ) “صدوق” ہے، “شیعی” ہے، اور صحیحین میں اس کی صرف ایک ہی حدیث ہے جو متابعت میں ہے (اور وہ چھٹے طبقہ سے ہے)۔
الكتاب: تقريب التهذيب
المؤلف: ابن حجر العسقلاني
مختصر وضاحت:
یہ عبارت صاف بتاتی ہے کہ امام بخاریؒ و مسلمؒ نے عبدالملك بن أعين سے اصل احتجاج نہیں کیا، بلکہ اس کی روایت متابعت کے طور پر ہے۔
② ابن حجرؒ: “جامع بن أبي راشد” کے ساتھ مقرونًا
… وكان يتشيع له عند الشيخين حديث واحد قرن فيه بجامع بن أبي راشد
اردو ترجمہ:
وہ تشیع رکھتا تھا، اور شیخین (بخاری و مسلم) کے ہاں اس کی صرف ایک حدیث ہے جس میں اسے جامع بن ابی راشد کے ساتھ ملا کر (مقرونًا) ذکر کیا گیا ہے۔
الكتاب: تهذيب التهذيب
المؤلف: ابن حجر العسقلاني
مختصر وضاحت:
“قرن فيه بجامع بن أبي راشد” کا مطلب یہ ہے کہ روایت کو ایک ثقہ راوی کے ساتھ جوڑ کر لایا گیا۔ یہ خود اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ امام بخاریؒ نے اسے بطور اصل دلیل لیا۔
③ حافظ ذہبیؒ: “مقرونًا بغيره” کی صراحت
5190 – عبد الملك بن أعين … وأخرجا له مقرونا بغيره في حديث
اردو ترجمہ:
عبدالملك بن أعین… (اس سے) دونوں (یعنی بخاری و مسلم) نے ایک حدیث میں دوسرے کے ساتھ ملا کر روایت نکالی۔
الكتاب: ميزان الاعتدال في نقد الرجال
المؤلف: شمس الدين الذهبي
مختصر وضاحت:
یہ بھی واضح نص ہے کہ یہاں مقصود “احتجاج” نہیں بلکہ اقتران/متابعت ہے۔
دوسرا اعتراض: عباد بن يعقوب الأسدي سے روایت
معترض کا کہنا ہے کہ عباد بن يعقوب “غالی شیعہ” تھا، پھر بھی امام بخاریؒ نے اس سے صحیح بخاری میں حدیث لی۔
① صحیح بخاری: عباد بن يعقوب والی سند دوسری سند کے ساتھ آئی
7534- حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الوَلِيدِ بْنِ العَيْزَارِ، ح وَحَدَّثَنِي عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ الأَسَدِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبَّادُ بْنُ العَوَّامِ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الوَلِيدِ بْنِ العَيْزَارِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ …
اردو ترجمہ (خلاصہ):
امام بخاریؒ نے اسی حدیث کو دو طریق سے ذکر کیا:
(1) سلیمان ← شعبہ ← الولید بن العیزار …
(2) عباد بن يعقوب ← عباد بن العوام ← الشيباني ← الولید بن العیزار …
پھر ابن مسعودؓ سے سوال و جواب: “کون سا عمل افضل ہے؟” فرمایا: “وقت پر نماز، والدین کے ساتھ حسنِ سلوک، پھر اللہ کی راہ میں جہاد۔”
الكتاب: صحيح البخاري
رقم: 7534
(جیسا کہ فراہم کردہ متن میں مذکور ہے)
مختصر وضاحت:
یہاں بخاریؒ نے حدیث دو مستقل اسانید سے ذکر کی—ایک میں شعبہ (ثقہ امام) ہیں، دوسری میں عباد بن يعقوب کا طریق ہے۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ عباد بن يعقوب کا طریق اصل بنیاد نہیں بلکہ دوسرے مضبوط طریق کے ساتھ تائیدی حیثیت رکھتا ہے۔
② حافظ مزیؒ: بخاری نے “ایک حدیث” وہ بھی مقرونًا
… رَوَى عَنه: البخاري حديثا واحدا مقرونا بغيره
اردو ترجمہ:
اس سے امام بخاریؒ نے صرف ایک ہی حدیث روایت کی اور وہ بھی کسی دوسرے کے ساتھ ملا کر (مقرونًا)۔
الكتاب: تهذيب الكمال في أسماء الرجال
المؤلف: الحافظ المِزّي
مختصر وضاحت:
یہ تصریح اس اعتراض کے خلاف ہے کہ بخاریؒ نے عباد بن يعقوب سے مطلقًا احتجاج کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بخاریؒ کے ہاں مقرونًا ہے۔
③ حافظ ذہبیؒ: بدعت کے باوجود “صادق في الحديث” اور بخاری نے “مقرونًا” لیا
4149 – عباد بن يعقوب الأسدي … من غلاة الشيعة ورؤوس البدع، لكنه صادق في الحديث. وعنه البخاري حديثاً في الصحيح مقرونا بآخر
اردو ترجمہ:
عباد بن يعقوب الاسدی… غالی شیعہ اور اہلِ بدعت کے سرداروں میں سے تھا، لیکن حدیث میں سچا (صادق) تھا۔ اور امام بخاریؒ نے اس سے صحیح میں ایک حدیث دوسرے کے ساتھ ملا کر روایت کی ہے۔
الكتاب: ميزان الاعتدال في نقد الرجال
المؤلف: شمس الدين الذهبي
مختصر وضاحت:
یہاں دو باتیں اکٹھی ہیں: (1) اس پر بدعت کا حکم، (2) پھر بھی “صادق في الحديث” کہنا—اور (3) بخاریؒ کا اسے مقرونًا لانا۔ یعنی محدثین کا منہج “بدعت” اور “صدق/ضبط” کو الگ الگ پہلوؤں سے دیکھتا ہے، اور پھر روایت لینے کی صورت متابعت/اقتران رکھتا ہے۔
تیسرا اعتراض: أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ (ارجاء) اور بخاری کا الضعفاء میں ذکر
معترض کا کہنا ہے کہ بخاریؒ نے ایوب بن عائذ کو الضعفاء میں ذکر کیا، پھر صحیح بخاری میں اس سے “احتجاج” کیا، اور ذہبیؒ نے بھی “تعجب” کیا۔
① صحیح بخاری میں دو طرق: ایک میں شعبہ، دوسرے میں ایوب بن عائذ
1724- … عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى …
اردو ترجمہ (خلاصہ):
یہ حدیث حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے شُعبہ ← قیس بن مسلم ← طارق بن شہاب کے طریق سے آئی ہے… (حج/اہلال کے متعلق تفصیل)۔
الكتاب: صحيح البخاري
رقم: 1724
(جیسا کہ فراہم کردہ متن میں مذکور ہے)
4346- … عَنْ أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ، … عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ، … عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، … عَنْ أَبِي مُوسَى …
اردو ترجمہ (خلاصہ):
اسی واقعہ کو ایک دوسرے طریق سے بھی لایا گیا: عباس بن الولید ← عبد الواحد ← ایوب بن عائذ ← قیس بن مسلم ← طارق بن شہاب ← ابو موسیٰؓ…
الكتاب: صحيح البخاري
رقم: 4346
(جیسا کہ فراہم کردہ متن میں مذکور ہے)
مختصر وضاحت:
یہاں اصل نکتہ یہ ہے کہ شعبہ (امام، ثقہ، حجت) والا طریق پہلے سے موجود ہے، اور ایوب بن عائذ والا طریق اسی کے ساتھ بطور متابعت آ رہا ہے۔ اس اسلوب سے یہ دعویٰ درست نہیں رہتا کہ بخاریؒ نے اسے تنہا بنیاد بنا کر “احتجاج” کیا۔
② الضعفاء میں ذکر اور روایت لینا: مطلق تناقض نہیں
محدثین کے ہاں کسی راوی کو “ضعفاء” میں لانا ہمیشہ یہ معنی نہیں رکھتا کہ اس سے ہر حال میں روایت لینا ممنوع ہے؛ بالخصوص جب:
اس کی روایت متابعات/شواہد میں ہو،
یا اصل حدیث کسی مضبوط سند سے ثابت ہو،
اور کمزور طریق محض تائید کے لیے آئے۔
یہی وجہ ہے کہ آپ کے فراہم کردہ جواب میں ایوب بن عائذ کی روایت کو شعبہ کی متابعت میں قرار دیا گیا ہے۔
اہم خلاصہ: اس بحث سے کیا ثابت ہوا؟
مندرجہ بالا تینوں مقامات (عبدالملك بن أعين، عباد بن يعقوب، أَيُّوبَ بْنِ عَائِذٍ) سے درج ذیل باتیں واضح ہوتی ہیں:
① امام بخاریؒ نے جن راویوں پر بدعت/ارجاء وغیرہ کا کلام ہے، ان سے عموماً ایک محدود مقدار میں روایت لی، اور اکثر جگہ متابعت یا مقرونًا کی صورت اختیار کی۔
② “مقرونًا بغيره” اور “متابعة” کی صراحتیں خود ائمہ (ابن حجر، ذہبی، مزی) کے ہاں موجود ہیں، اس لیے یہ کہنا کہ بخاریؒ نے ان سے بلا قید “احتجاج” کیا، درست نہیں۔
③ متابعات و شواہد میں تائیدی طرق لانا اصولِ محدثین کے مطابق معروف ہے؛ اسے صحیح بخاری کی “شرطِ صحت” کے خلاف “لازمًا” دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔
نتیجہ
صحیح بخاری میں بعض راویوں پر بدعت یا ارجاء کا ذکر ہونا، اور پھر ان سے روایت آ جانا—یہ موضوع جذباتی نعروں سے نہیں بلکہ اصطلاحاتِ حدیث اور ائمہ کی صریح تصریحات سے سمجھا جاتا ہے۔ آپ کے فراہم کردہ مواد کی روشنی میں راجح بات یہ سامنے آتی ہے کہ امام بخاریؒ نے مذکورہ راویوں سے اصل احتجاج نہیں کیا بلکہ انہیں متابعت/اقتران کے درجے میں لایا، اور یہی محدثین کے منہج کے مطابق ہے۔
اہم حوالوں کے سکین





