سوال :
مذموم مقاصد سے پاک شعر و شاعری کرنا کیسا ہے؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ شاعری خواہ کسی قسم کی ہو اس کے کرنے والے کی دنیا اور آخرت برباد ہو جاتی ہے۔
جواب :
شعر و شاعری دو طرح کی ہے:
① ایسی شاعری جو غلو، مبالغہ آمیز کلمات، خلاف شریعت عشق معاشقہ اور جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے۔
② ایسی شاعری جو کتاب وسنت کی ترجمانی کرتی ہے اور ہر قسم کی غلاظت سے پاک، صاف ستھری اور مبالغہ آرائی سے محفوظ ہوتی ہے۔
اول الذکر ممنوع اور حرام جبکہ ثانی الذکر مشروع و جائز ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:
﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ . أَلَمْ تَرَ أَنَّهُمْ فِي كُلِّ وَادٍ يَهِيمُونَ . وَأَنَّهُمْ يَقُولُونَ مَا لَا يَفْعَلُونَ . إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا وَانتَصَرُوا مِن بَعْدِ مَا ظُلِمُوا ۗ وَسَيَعْلَمُ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَيَّ مُنقَلَبٍ يَنقَلِبُونَ﴾
(الشعراء: 224 تا 227)
”اور شاعر لوگ، ان کے پیچھے گمراہ لوگ چلتے ہیں، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ہر ایک وادی میں سرگردان پھرتے ہیں اور وہ وہ باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں، سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے اور اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کیا اور انتقام لیا، اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا اور جنھوں نے ظلم کیا وہ عنقریب جان لیں گے کہ وہ لوٹنے کی کون سی جگہ لوٹ کر جائیں گے۔“
اکثر شعراء مطرح روم میں کسی اصول و ضابطے کی پابندی کی بجائے ذاتی پسند و نا پسند کے مطابق اظہار رائے کرتے ہیں اور مبالغہ آرائی سے کام لیتے ہیں۔ وہ اپنے شاعرانہ تخیلات میں کبھی ادھر کبھی ادھر بھٹکتے رہتے ہیں، اس لیے ان کے پیچھے لگنے والے افراد کو بھی گمراہ قرار دیا گیا ہے۔ ایسے شعراء کی جتنی بھی حوصلہ شکنی کی جائے کم ہے۔ شعرائے عرب کے دیوان اگر ملاحظہ کیے جائیں تو یہ حقیقت خوب آشکار ہو جاتی ہے۔ ان شعراء کی شاعری میں تو شرم و حیا کو بالائے طاق رکھ دیا گیا ہے، جیسا کہ دیوان حماسہ میں باب فخذ النساء سے عیاں ہے۔ ہر زبان کی شاعری میں یہ مذموم قسم موجود ہے، ایسی شاعری دنیا و آخرت تباہ و برباد کر دیتی ہے۔ ایسے اشعار کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے:
لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا
(بخاري کتاب الأدب باب ما يكره أن يكون المغالب على الإنسان الشعر…الخ ح 6155، مسلم کتاب الشعر باب في إنشاء الأشعار الخ ح 2257)
”تم میں سے کسی کا اپنے پیٹ کو لہو اور پیپ سے بھر لینا شعر بھر لینے سے بہتر ہے۔“
یہی حدیث عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے صحیح البخاری (6154) وغیرہ میں اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے صحیح مسلم (2358) وغیرہ میں موجود ہے۔ امام بخاری رحمہ اللہ نے اس حدیث پر جو تبویب کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شعر و شاعری میں اس طرح وقت صرف کرنا کہ اللہ کے ذکر، علم حاصل کرنے اور قرآن کی تلاوت سے آدمی باز رہے، ممنوع ہے۔ پیٹ بھر جانے سے مراد ہے کہ شعروں کے سوا اسے کچھ یاد نہ ہو، نہ قرآن یاد کرے، نہ حدیث دیکھے، بس رات دن شعر گوئی میں مشغول ہو جائے، جیسا کہ موجودہ شعراء کا حال ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ اس حدیث کی شرح میں رقمطراز ہیں:
ظاهره العموم فى كل شعر لكنه مخصوص بما لم يكن مدحا حقا كمدح الله ورسوله وما اشتمل على الذكر والزهد وسائر المواعظ مما لا إفراط فيه يؤيده حديث عمرو بن الشريد عن أبيه عند مسلم كما أشرت إليه قريبا
(فتح الباري 549/10)
”یہ حدیث اپنے ظاہری معنی کے لحاظ سے ہر شعر کو شامل ہے، لیکن یہ ان شعروں کے ساتھ مخصوص ہے جو حق کی مدح پر مشتمل نہ ہوں، جیسے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح اور جو ذکر، زہد اور ایسے تمام مواعظ کو شامل ہوں، جن میں افراط نہ ہو، اس بات کی تائید عمرو بن الشرید کی اپنے باپ سے مروی مسلم میں موجود حدیث سے ہوتی ہے۔ جیسا کہ میں نے اس کی طرف قریب ہی اشارہ کیا ہے۔“
یعنی پیٹ میں ایسے اشعار نہ داخل کیے جائیں جو فحش پر مشتمل ہونے کی بجائے جھوٹ پر مبنی ہوں، البتہ وہ اشعار جن میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و منقبت، ذکر و اذکار، زہد و تقویٰ اور ایسی وعظ و نصیحت ہو جس میں افراط و تفریط نہ ہو، ان میں کوئی حرج نہیں۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
بينا نحن نسير مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالعرج إذ عرض شاعر ينشد فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم خذوا الشيطان أو أمسكوا الشيطان لأن يمتلئ جوف رجل قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا
(مسلم، كتاب الشعر، باب إنشاد الأشعار الخ ح 2259)
ایک دفعہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرج بستی کے پاس چل رہے تھے کہ ایک شاعر شعر کہتا ہوا سامنے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شیطان کو پکڑو یا فرمایا: ”اس شیطان کو روکو، کیونکہ آدمی کا پیٹ پیپ سے بھر لینا شعر بھر لینے سے بہتر ہے۔“
عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أعظم الناس جرما إنسان شاعر يهجو القبيلة من أسرها ورجل تنفى من أبيه
(الأدب المفرد للبخاری، باب ما يكره من الشعر ح 898)
”بے شک انسانوں میں سے سب سے بڑا مجرم وہ شاعر ہے جو (کسی ایک آدمی کی وجہ سے) پورے قبیلے کی مذمت کرے اور وہ آدمی جو اپنے باپ کا ہونے سے انکار کرے۔“
حافظ ابن حجر فرماتے ہیں اس کی سند حسن ہے۔ (فتح الباري 529/10) اسی روایت کچھ الفاظ کے اختلاف کے ساتھ ابن ماجہ کتاب الأدب ح (3761)، ابن حبان ح (5785) اور سلسلہ صحیحہ (475/3 ح 1487) میں بھی موجود ہے۔ زوائد ابن ماجہ میں علامہ بوصیری نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔ ان احادیث سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ ایسے اشعار جو شیطنت اور جھوٹ وغیرہ پر مشتمل ہوں وہ جائز نہیں۔ البتہ اچھے اشعار کہنا صحیح و درست ہے، اس کے بہت سے دلائل موجود ہیں۔
ایک تو سورۂ شعراء کی زیر بحث آیت میں ﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ کا استثنا ذکر کر کے ان شاعروں کو مستثنیٰ کر دیا جو ایمان دار اور اچھے اعمال سرانجام دینے والے ہیں اور ان کی شاعری صداقت و حق پر مبنی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے استثنا ایسے الفاظ سے فرمایا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ ایماندار، عمل صالح پر کاربند رہنے والا اور اللہ کا ذکر کثرت سے کرنے والا شاعر غلط شاعری نہیں کر سکتا کہ جس میں جھوٹ، عشق معاشقہ، غلو، مبالغہ آرائی اور افراط و تفریط وغیرہ ہو۔ یہ کام ان لوگوں کا ہے جو ایمانی صفات سے محروم ہوتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
﴿الشُّعَرَاءُ هُمُ الْغَاوُونَ﴾ فنسخ من ذلك واستثنى فقال ﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَذَكَرُوا اللَّهَ كَثِيرًا﴾ (ابو داود کتاب الأدب باب ما جاء في الشعر ح 5016، الأدب المفرد باب قول الله عز وجل والشعراء يتبعهم الغاون ح 895)
”﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ سے اللہ تعالیٰ نے ﴿إِلَّا الَّذِينَ﴾ کے ذریعے ایماندار اور نیک عمل کرنے والے اور کثرت سے ذکر کرنے والے افراد کو مستثنیٰ کر دیا ہے۔“
حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباري (538/10-539) میں فرمایا ہے کہ اس آیت کریمہ کے بارے میں مفسرین نے کہا ہے کہ شعراء سے مراد مشرکین کے شعراء ہیں، جن کے پیچھے بہکے ہوئے، شیطان کے سردار اور نافرمان جن لگ جاتے ہیں اور ان کے شعر بیان کرتے ہیں، اس لیے کہ بہکا ہوا شخص اپنے جیسے بہکے ہوئے ہی کے پیچھے لگتا ہے۔ علامہ قرطبی نے ان میں سے بعض کے نام بھی لیے ہیں، جن میں سے عبد اللہ بن الزبعری، ہبیرہ بن وہب، مصافع، عمرو بن ابی امیہ بن ابی الصلت ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت دو ایسے شاعروں کے بارے میں نازل ہوئی، جنھوں نے آپس میں ایک دوسرے کی ہجو کی اور ان میں ہر ایک کے ساتھ بہکے ہوئے بے دینوں کی جماعت تھی۔ اس کے بعد ابن حجر عسقلانی نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مذکورہ تفسیر ذکر کی ہے کہ ان گمراہ اور بے وقوف لوگوں میں سے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مستثنیٰ قرار دیا ہے اور ابن ابی شیبہ کے حوالے سے مرسل روایت ذکر کی ہے کہ جس وقت یہ آیت کریمہ ﴿وَالشُّعَرَاءُ يَتَّبِعُهُمُ الْغَاوُونَ﴾ نازل ہوئی تو عبد اللہ بن رواحہ، حسان بن ثابت اور کعب بن مالک رضی اللہ عنہم روتے ہوئے آئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ہے اور وہ جانتا ہے کہ ہم شعراء ہیں۔“ تو آپ نے فرمایا: اس کے بعد والی آیت کا حصہ پڑھو ﴿إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ﴾ یہ تم لوگ ہو اور ﴿وَانْتَصَرُوا مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا﴾ بھی تم ہی ہو۔
معلوم ہوا کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں اہل ایمان، نیک اور اچھے شعراء اس سے مستثنیٰ ہیں اور ان کے عمدہ کلام پر مشتمل مجموعے پڑھنا صحیح اور درست ہے۔ عمرو بن شرید عن أبيه والی حدیث، جس کی طرف حافظ ابن حجر عسقلانی نے اشارہ کیا ہے، وہ یوں ہے کہ شرید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ردفت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوما فقال هل معك من شعر أمية بن أبى الصلت شيء قلت نعم قال هيه فأنشدته بيتا فقال هيه ثم أنشدته بيتا فقال هيه حتى أنشدته مائة بيت
(مسلم، كتاب الشعر، باب في إنشاد الأشعار … الخ ح 2255)
ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سواری پر تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تجھے امیہ بن ابی الصلت کے اشعار میں سے کچھ شعر یاد ہیں؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سناؤ۔“ میں نے آپ کو اس کا ایک شعر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سناؤ۔“ پھر میں نے اس کا ایک اور شعر سنایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور سناؤ۔“ یہاں تک کہ میں نے اس کے سو شعر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائے۔
اس حدیث کا ایک شاہد ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے، جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أصدق كلمة قالها الشاعر كلمة لبيد ألا كل شيء ما خلا الله باطل وكاد أمية بن أبى الصلت أن يسلم
(بخاري کتاب الأدب باب ما يجوز من الشعر والرجز والحداء وما يكره منه ح 6147، مسلم کتاب الشعر باب في إنشاد الأشعار الخ ح 2، 2256/6)
سب سے سچا کلمہ جسے شاعر نے کہا، لبید کا کلمہ ہے کہ خبردار اللہ کے سوا ہر چیز فانی ہونے والی ہے اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی الصلت اسلام قبول کر لیتا۔
امیہ بن ابی الصلت کے اشعار میں اللہ کی وحدانیت اور آخرت کا اقرار تھا، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے شرح مسلم میں ذکر کیا ہے۔ لبید بن ابی ربیعہ العامری اپنی قوم کے وفد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا، وہ جاہلیت اور اسلام دونوں حالتوں میں قابل قدر آدمی تھا۔ وہ 41 میں 140 سال کی عمر پا کر فوت ہوا، شاعر تھا اور فصیح ترین لوگوں میں سے ایک! جب اسلام قبول کر لیا تو کوئی شعر نہیں کہا، کہا کرتا تھا مجھے قرآن کافی ہے۔ ملاحظہ ہو مختصر الشمائل المحمدیہ کی تعلیق (ص 130)، امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فقيه حوار إنشاد الشعر الذى لا فحش فيه وسماعه سواء شعر الجاهلية وغيرهم
”اس حدیث میں ایسا شعر کہنے اور سننے کا جواز ہے جس میں فحاشی نہ ہو، خواہ وہ جاہلیت کا ہو یا کوئی اور۔“
شریح نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی ہے کہ ان سے دریافت کیا گیا:
هل كان النبى صلى الله عليه وسلم يتمثل بشيء من الشعر قالت كان يتمثل بشعر ابن رواحة ويقول ويأتيك بالأخبار من لم تزود
(ترمذی کتاب الأدب باب ما جاء في إنشاد الشعر ح 2848، مسند أحمد 138/6، ح : 25585 )
کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کوئی شعر بھی بیان کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: ”آپ عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار بیان کرتے تھے اور یہ شعر پڑھا کرتے تھے ويأتيك بالأخبار من لم تزود اور تجھے وہ شخص خبریں دے گا جسے تو نے زاد راہ نہیں دیا۔“
یہ شعر طرقہ بن العبد کا ہے، پورا شعر یہ ہے:
ستبدو لك الأيام ما كنت جاهلا
ويأتيك بالأخبار من لم تزود
عنقریب زمانہ تیرے سامنے وہ چیزیں لے آئے گا جو تو نہیں جانتا اور تجھے وہ شخص خبر دے گا جس کو تو نے زاد راہ نہیں دیا۔
(اشرح المعلقات السبع تألیفانا اسماعیل سلفی ص 125)
عبد اللہ بن رواحہ انصاری رضی اللہ عنہ نقیبوں میں سے ایک تھے جو عقبہ، بدر، احد، خندق اور فتح مکہ سے پہلے ہونے والے غزوات میں شریک ہوئے اور غزوہ موتہ میں کمانڈنگ کرتے ہوئے مقام شہادت پر فائز ہوئے۔ ان کے اشعار یہ تھے:
وفينا رسول الله يتلو كتابه
إذا انشق معروف من الفجر ساطع
أرانا الهدى بعد العمى فقلوبنا
به موقنات أن ما قال واقع
يبيت يجافي جنبه عن فراشه
إذا استثقلت بالكافرين المضاجع
(بخاری کتاب التهجد باب فضل من تعار من الليل فصلى ح 1155، 6151)
”ہم میں اللہ کے رسول ہیں، جو اس کی کتاب تلاوت کرتے ہیں جب صبح کی پو پھٹتی ہے۔ ہم اندھے تھے، انھوں نے ہمیں راستہ بتلایا، ان کی بات پر ہمارے دل یقین کرنے والے ہیں کہ وہ جو کہتے ہیں، وہ واقع ہو کر رہنے والا ہے۔ (وہ نبی کہ جو) رات اپنے بستر سے پہلو کو الگ رکھتے ہوئے گزار دیتے ہیں، جب کہ کافروں کی خواب گاہ کو نیند بھاری کرتی ہے۔ “
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عمرۃ القضاء کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ آپ کے آگے چلتے ہوئے یہ شعر کہہ رہے تھے:
خلوا بني الكفار عن سبيله
اليوم نضربكم على تنزيله
ضربا يزيل الهام عن مقيله
ويذهل الخليل عن خليله
”اے کفار کے بیٹو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ چھوڑ دو، آج ہم حکم قرآن کے مطابق ایسی کاری ضرب لگائیں گے جو سر کے اوپر والے حصے کو اس کی جگہ سے ہٹا دے گی اور دوست کو دوست سے غافل کر دے گی۔“
سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: اے عبد اللہ بن رواحہ! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اور اللہ کے حرم میں تم شعر کہہ رہے ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عمر! اسے چھوڑو، یہ اشعار ان کافروں کو تیروں سے بھی زیادہ تیزی کے ساتھ پیوست ہو رہے ہیں۔“
(ترمذی کتاب الأدب باب ما جاء في إنشاد الشعر ح 2817)
سیدنا حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کافروں کی ہجو کا جواب شعروں میں دیا کرتے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں فرمایا: ”تم ان کفار کی ہجو کرو، جبرئیل علیہ السلام تمھارے ساتھ ہیں۔“
(بخاری کتاب الأدب باب هجاء المشركين ح 6153)
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مشرکین کی ہجو اور خدمت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا: ”میرے نسب کے بارے میں کیا کرو گے؟“ (یعنی میرا اور ان کا خاندان تو ایک ہی ہے، سو اس ہجو میں میں بھی شریک ہوں گا) حسان رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”میں آپ کو ان سے ایسے نکال لوں گا جیسے آنے سے بال نکالا جاتا ہے۔“ عروہ فرماتے ہیں: ”میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حسان کو برا کہنے لگا تو انھوں نے کہا: اسے برا نہ کہو کہ یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کیا کرتا تھا۔“
(بخاری کتاب الأدب باب هجاء المشركين ح 6150)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كإن النبى صلى الله عليه وسلم يضع لحسان منبرا فى المسجد يقوم عليه قائما يفاخر عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أو قالت ينافح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله يؤيد حسان بروح القدس ما يفاخر أو ما ينافح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
(ترمذی کتاب الأدب باب ما جاء في إنشاد الشعر ح 2846، ابوداود کتاب الأدب باب ما جاء في الشعر ح 5015، مستدرك الحاكم 487/3، سلسلة الأحاديث الصحيحة ح 1657)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے لیے منبر رکھتے تھے، جس پر وہ کھڑے ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اشعار کہہ کر دفاع کیا کرتے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتا ہے اللہ تعالیٰ روح القدس یعنی جبرئیل علیہ السلام کے ذریعے حسان بن ثابت کی مدد کرتا ہے۔“
عامر بن اکوع رضی اللہ عنہ شاعر تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے اور کچھ اشعار بھی کہے:
اللهم لولا أنت ما اهتدينا
ولا تصدقنا ولا صلينا
فاغفر لنا ما مضى وما أتينا
وثبت الأقدام إن لاقينا
إنا إذا صبحنا بنا علو
وبالصباح علو علينا
اے اللہ! اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے، نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھ سکتے۔ ہم نے جو کچھ پہلے گناہ کیے تو ان کو معاف کر دے اور جب دشمن سے سامنا ہو تو ہمیں ثابت قدم رکھ اور ہم پر سکون نازل فرما۔ جب ہمیں جنگ کے لیے بلایا جاتا ہے تو ہم موجود ہو جاتے ہیں، اور دشمن نے بھی پکار کر ہم سے نجات چاہی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کلام سن کر انھیں دعا دی ”يرحمه الله“ ”اللہ اس پر رحم کرے۔“
(بخاري کتاب الأدب باب ما يجوز من الشعر والرجز الخ ح 6148)
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن من الشعر حكمة
(بخاري کتاب الأدب باب ما يجوز من الشعر…. الخ ح 6145)
”بے شک بعض شعر حکمت سے بھرے ہوتے ہیں۔“
اسود بن سریع نے کہا میں شاعر تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو میں نے عرض کی: ”کیا میں آپ کو چند محامد نہ سناؤں جن کے ساتھ میں نے اپنے رب کی حمد کی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک تیرا رب محامد پسند کرتا ہے۔“
(الأدب المفرد ح 885، مستدرك الحاكم 614/3 ، ح: 6574)
اسود بن سریع نے شعروں میں اللہ کی حمد و ثناء کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند کیا۔
مندرجہ بالا صحیح و صریح دلائل سے معلوم ہوا کہ وہ اشعار جن میں اللہ کی حمد و ثناء، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح و منقبت، مواعظ و اذکار اور کفار و مشرکین کی ہجو وغیرہ ہو ان کا پڑھنا صحیح و درست ہے۔ جھوٹ و فحش اور مبالغہ آرائی سے پاک اشعار کے جواز پر امت کا اجماع ہے، جیسا کہ ابن عبد البر نے نقل کیا ہے۔ (فتح الباري 539/10)
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
جالست النبى صلى الله عليه وسلم أكثر من مائة مرة فكان أصحابه يتناشدون الشعر ويتذاكرون أشياء من أمر الجاهلية وهو ساكت فربما تبسم معهم
(ترمذی کتاب الأدب باب ما جاء في إنشاد الشعر ح 2850)
”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سو سے زائد بار مجلس کی، آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم آپس میں شعر کہتے اور دور جاہلیت کی کئی باتیں ذکر کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے اور کبھی کبھار آپ ان کے ساتھ مسکراتے۔“
اس روایت کو امام ترمذی نے حسن صحیح قرار دیا ہے، اس کے اور شواہد بھی ہیں۔ ( دیکھیں فتح الباري 540/10)
لہذا غلاظت سے پاک شعر و شاعری درست و صحیح ہے، اس میں کسی قسم کی قباحت نہیں، عصر حاضر میں نوجوانوں میں جذبہ جہاد ابھارنے کے لیے جماعۃ الدعوۃ کی طرف سے عامر حماد اور سلطان الجہادی کے معروف شعری مجموعے طبع ہو چکے ہیں اور آپ اگر مطالعہ کرنا چاہیں تو انھیں پڑھ لیں اور اس شاعری سے ہر صورت اجتناب کریں جو اخلاقیات بگاڑنے والی، حیا سوز، جھوٹ اور مبالغہ پر مبنی ہو۔