شریعت میں نسخ کا تصور: قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت

فونٹ سائز:
یہ تحریرمولانا ابو صحیب داؤد ارشد حفظہ اللہ کی کتاب تحفہ حنفیہ سے ماخوذ ہے۔ یہ کتاب دیوبندی عالم دین ابو بلال جھنگوی کیجانب سے لکھی گئی کتاب تحفہ اہلحدیث کا مدلل جواب ہے۔
مضمون کے اہم نکات

شریعت میں نسخ کس طرح ہوتا ہے

فرماتے ہیں جس طرح جو نوٹ منسوخ ہو جائے‘ اس پر ہر گز نہیں لکھا جاتا کہ یہ سوروپے کا نوٹ منسوخ ہو گیا ہے‘ اس کے منسوخ ہونے کی علامت یہ ہے کہ بازار میں نہیں چلتا‘ حدیث منسوخ ہونے کی علامت بھی خلفاء راشدین کے دور سے معلوم ہوگی، اگر خیر القرون میں اس پر عمل ہوا ہے تو وہ حدیث صحیح اور قابل عمل ہو گی اور اگر خیر القرون میں اس پر عمل نہ ہوا تو وہ روایت منسوخ سمجھی جائے گی۔
( تحفہ اہل حدیث ص 41)

الجواب:-

اولاً:-

آپ کا کرنسی سے احکام شریعت کی مثال دینے سے ثابت ہو گیا ہے کہ آپ کو اسلامی علوم میں دسترس نہیں ہے‘ کیونکہ جب حکومت کی طرف سے کرنسی تبدیل ہوتی ہے تو وہ ایک مدت تک مارکیٹ میں چلتی رہتی ہے، حتی کہ بتدریج وہ کرنسی اسٹیٹ بینک میں واپس چلی جاتی ہے، جہاں اسے جلا کر ضائع کر دیا جاتا ہے‘ جبکہ نسخ لغت میں کسی چیز کے ابطال کو کہتے ہیں‘ اور اصطلاح میں شریعت کے کسی حکم کا انتہا بتاتا ہے۔
(مرقاة ص 362 ج 1 و كتاب التعريفات ص 106 للجرجانی )
ارشاد ربانی ہے کہ
فَيَنسَخُ اللَّهُ مَا يُلْقِي الشَّيْطَانُ ثُمَّ يُحْكِمُ اللَّهُ آيَاتِهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (الحج : 52)
یعنی اللہ شیطان کے القا کو مٹادیتا ہے اور اپنی آیات کو مضبوط کرتا ہے۔
اس تعریف کو ملحوظ رکھتے ہوئے یہ بات واضح ہوئی کہ شریعت کا جب کوئی حکم منسوخ ہوتا ہے تو وہ فی الفور منسوخ ہو جاتا ہے اور اس کی جگہ دوسرا حکم لے لیتا ہے‘ اس کی واضح مثال کتب حدیث میں تحویل قبلہ کا واقعہ ہے۔ کہ آنحضرت صلى الله عليه وسلم نماز کی حالت میں تھے جب بیت المقدس کی بجائے کعبہ کی طرف منہ کرنے کا حکم ہوا تو آپ علیہ السلام نے نماز کی حالت میں ہی منہ بیت اللہ کی طرف کر لیا، جس کی حکمت بھی اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں بیان کر دی کہ خاص نماز کی حالت میں اس حکم کا نزول اتباع رسول کی پر کھ تھی کہ کون کرتا ہے اور کون نہیں کرتا؟

ثانیا:

کرنسی حکومت کی طرف سے جاری ہوتی ہے اسے منسوخ کرنے کا حق بھی حکومت کے پاس ہوتا ہے‘ اسے مارکیٹ منسوخ نہیں کرتی‘ جیسے آپ سمجھ بیٹھے ہیں، اسی طرح دین میں احکام بھی اللہ کی طرف سے نافذ ہوتے ہیں (خواہ وہ قرآن سے یا نبی صلى الله عليه وسلم کی مبارک زبان سے ) اور انہیں منسوخ کرنے کا حق بھی اللہ اور اس کے رسول صلى الله عليہ وسلم کے پاس ہے کوئی مارکیٹ اسے منسوخ نہیں کر سکتی۔

ثالثاً:

اگر آپ کا دور خلافت راشدہ سے یہ مقصود ہے کہ کوئی بھی منسوخ حکم پر عمل نہ کرتا ہو‘ تو یہ پہلے سے بھی بڑھ کر آپ کی لاعلمی ہے‘ کیونکہ متعدد صحابہ کرام بعض منسوخ حکم پر مدت تک عمل کرتے رہے۔ مثلاً حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو رکوع میں تطبیق کے نسخ کا علم نہ تھا‘ ابن عباسؓ ایک مدت تک متعہ کے قائل رہے۔ (بخاری و مسلم)
اگر آپ کی اس سے یہ مراد ہے کہ کسی حکم شرعی کے بارے میں خلفاء راشدین کے دور میں اس وجہ سے عمل نہ ہوا کہ وہ منسوخ ہو چکا تھا‘ اس میں تفصیل ہے۔
(۱) وہ مسئلہ دور خلفاء میں پیش آیا ہو‘ اور انہوں نے منسوخ ہونے کی وجہ سے ناسخ پر عمل کیا ہو۔ اور وہ بلا نکیر نافذ ہو گیا ہو۔
(۲) اگر کسی مسئلہ کی دور خلفاء میں ضرورت ہی پیش نہیں آئی اور قرآن وحدیث سے وہ حکم منسوخ ثابت نہیں ہوتا‘ تو وہ منسوخ نہیں‘ بلکہ وہ دستور شریعت اور آئین اسلام ہے۔ اور اسے بعد کے فقہاء کے اقوال منسوخ نہیں کر سکتے۔ مگر آپ ایسی ایک مثال بھی ہمارے خلاف نہیں دے سکتے‘ یہی وجہ ہے کہ آپ نے ابتداء نام تو دور خلفاء راشدین کا لیا مگر آخر میں اس میں‘ خیر القرون کو بھی شامل کر لیا‘ اور ہو سکتا ہے کہ اس سے آپ کا مقصود امام ابو حنیفہ ہوں کہ وہ جس کو چاہیں منسوخ کر دیں‘ مگر تاڑنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں، میرے بھائی! ان عیاریوں سے مسائل کا حل آپ تلاش کر رہے ہیں، مسائل کا حل قرآن وحدیث‘ میں ہے‘ اس کی اتباع کیجیے اللہ توفیق عطا فرمائے۔

رابعاً:

کیا آپ دور خلافت راشدہ بلکہ پورے خیر القرون کے زمانہ میں ایک بھی مثال دے سکتے ہیں کہ محض کسی کے فتویٰ و قول کی بنا پر شریعت کے حکم کو امت مرحومہ نے بلا نکیر منسوخ تسلیم کر لیا ہو‘ حالانکہ قرآن وحدیث میں اس کے نسخ کی کوئی بھی دلیل نہ تھی ہماری ‘ طرف سے دنیا بھر کے مبتد عین دیابنہ کو کھلا چیلنج ہے کہ وہ اس کی ایک ہی مثال پیش کر دیں‘ مگر یا در کھو پوری دنیا سے کوئی اہل الرائے اس کی ایک مثال بھی نہیں دے سکتا۔ ان شاء اللہ