شریر گھوڑوں کی دموں والی حدیث سے ترک رفع یدین پر استدلال

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

تارکین رفع اليدين کے شبہات

پہلا شبہ: حدیث سیدنا جابر بن سمرہ رضی الله عنه

بعض لوگوں نے سیدنا جابر بن سمرہ رضی الله عنه کی حدیث رفع يدين کے خلاف پیش کی ہے:
خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: مالي أراكم رافعي أيديكم كأنها أذناب خيل شمس، اسكنوا فى الصلاة
رسول الله صلى الله عليه وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: کیا ہے کہ میں تمھیں ہاتھ اٹھائے ہوئے، اس طرح دیکھتا ہوں جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوتی ہیں؟ نماز میں سکون اختیار کیا کرو۔ (صحیح مسلم ج 1 ص 181 ح 430)
پہلا جواب: جس طرح قرآن مجید اپنی تشریح خود کرتا ہے اسی طرح حدیث، حدیث کی تشریح کرتی ہے۔ سیدنا جابر بن سمرہ رضی الله عنه فرماتے ہیں:
ہم رسول الله صلى الله عليه وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے تو (نماز کے آخر میں) السلام عليكم ورحمة الله کہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا تمھیں یہ کیا ہوگیا ہے؟ تم اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہوتی ہیں۔ تم میں سے جب کوئی (نماز کے آخر میں) سلام پھیرے تو اپنے بھائی کی طرف منہ کر کے صرف زبان سے السلام عليكم ورحمة الله کہے اور ہاتھ سے اشارہ نہ کرے۔
(صحیح مسلم ج 1 ص 181 ح 430 دار قيم دار السلام: 971)
سیدنا جابر بن سمرہ رضی الله عنه کی دوسری روایت میں ہے کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم کے ساتھ جب ہم نماز پڑھتے تو (نماز کے آخر میں) دائیں بائیں السلام عليكم ورحمة الله کہتے ہوئے ہاتھ سے اشارہ بھی کرتے تھے۔ رسول الله صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تم اپنے ہاتھوں سے اس طرح اشارہ کرتے ہو جیسے شریر گھوڑوں کی دمیں ہلتی ہیں۔ تمھیں یہی کافی ہے کہ تم قعدہ میں اپنی رانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے دائیں بائیں منہ موڑ کر السلام عليكم ورحمة الله کہا کرو۔
(صحیح مسلم، ح 430 دار قيم دار السلام: 970)
لفظ أذناب خيل شمس شریر گھوڑوں کی دمیں تینوں احادیث میں موجود ہے جو اتحاد واقعہ کی واضح دلیل ہے لہذا اس حدیث کے ساتھ استدلال بالکلیہ مردود ہے۔
دوسرا جواب:
تمام محدثین کا اس پر اجماع ہے کہ اس حدیث کا تعلق تشہد کے ساتھ ہے۔ رفع اليدين عند الركوع والرفع منه کے ساتھ نہیں ہے۔ خیر القرون میں کسی نے بھی اس حدیث کے ساتھ رفع اليدين (کے مسئلہ) کی ممانعت پر استدلال نہیں کیا ہے۔
مثلاً درج ذیل محدثین نے اس حدیث پر سلام کے ابواب باندھے ہیں:
① علامہ نووی
”باب الأمر بالسكون في الصلاة والنهي عن الإشارة باليد ورفعها عند السلام“ (صحیح مسلم مع شرح النووي ج 4 ص 152)
② أبو داود
” باب في السلام“ (دیکھئے سنن أبي داود: 998،999)
③ الشافعي
” باب السلام في الصلاة “(كتاب الأم ج 1 ص 122)
④ النسائي
”باب السلام بالأيدي في الصلاة وباب موضع اليدين عند السلام“ (المجتبى قبل: 1185، الكبرى قبل ح: 1107 باب السلام باليدين المجتبى ح: 1327 الكبرى قبل ح 1249)
⑤ طحاوي
”باب السلام في الصلاة كيف هو؟“ (شرح معاني الآثار ج 1 ص 268-269)
⑥ بيهقي
”باب كراهة الإيماء باليد عند التسليم من الصلاة“ (السنن الكبرى ج 2 ص 181)
کسی محدث نے اس پر منع رفع اليدين عند الركوع والرفع منه کا باب نہیں باندھا، محدثین کی اس اجماعی تبویب سے معلوم ہوا کہ اس حدیث کا تعلق صرف تشہد والے رفع اليدين کے ساتھ ہے۔ رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع اليدين کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا: (سیدنا جابر بن سمرہ رضی الله عنه کی پہلی حدیث) سے رکوع کے وقت رفع اليدين کے منع پر دلیل لانا درست نہیں ہے کیوں کہ پہلی حدیث دوسری طویل حدیث کا اختصار ہے۔ (تلخيص الحبير ج 1 ص 221)
إمام بخاري نے فرمایا: یہ بات مشہور ہے، اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے کہ اس حدیث کا تعلق تشہد کے ساتھ ہے۔ (التلخيص الحبير ج 1 ص 221، جزء رفع اليدين:37)
اس کے ہم معنی بات حافظ ابن حبان نے بھی کہی ہے۔ (صحیح ابن حبان 178/3 ح 1877)
نووی شارح صحیح مسلم نے کہا: اس حدیث سے رکوع کو جاتے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع اليدين کے نہ کرنے پر استدلال کرنے والا جہالت قبیحہ کا مرتکب ہے اور بات یہ ہے کہ عند الركوع رفع اليدين کرنا صحیح و ثابت ہے جس کا رد نہیں ہوسکتا۔ پس نہی خاص اپنے مورد خاص پر محمول ہوگی تاکہ دونوں میں توفیق و موافقت ہو اور (مزعومہ) تعارض رفع ہو جائے۔ (المجموع شرح المهذب ج 3 ص 403 حاشیة السندي على النسائي ص 176)
حافظ ابن الملقن (متوفی 804ھ) رحمہ الله نے فرمایا:
من أقبح الجهالات لسنة سيدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم لأنه لم يرد فى رفع الأيدي فى الركوع والرفع منه وإنما كانوا يرفعون أيديهم فى حالة السلام من الصلاة … وهذا لا اختلاف فيه بين أهل الحديث ومن له أدنى اختلاط بأهله
اس حدیث سے استدلال انتہائی بری جہالت ہے جسے سیدنا رسول الله صلى الله عليه وسلم کی سنت کے ساتھ روا رکھا گیا ہے کیونکہ یہ حدیث رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع يدين کے بارے میں وارد نہیں ہوئی۔ وہ تو نماز کی حالت سلام میں ہاتھوں سے اشارہ کرتے تھے … اس میں أهل حديث (محدثین) کے درمیان کوئی اختلاف نہیں اور جس شخص کو حدیث کے ساتھ ذرہ برابر تعلق ہے وہ بھی تسلیم کرتا ہے (کہ اسے رفع اليدين قبل الركوع و بعدہ کے خلاف پیش کرنا غلط ہے۔ )(البدر المنير ج 3 ص 485)
تیسرا جواب:
اگر یہ حدیث رفع اليدين کی ممانعت پر دلیل ہے تو تارکین رفع اليدين درج ذیل مقامات پر کیوں رفع اليدين کرتے ہیں؟
① تکبیر تحریمہ
② وتر
③ عیدین
اگر رکوع والا رفع اليدين اس حدیث کے ساتھ ممنوع ہے تو درج بالا تینوں رفع اليدين بطریق اولیٰ ممنوع ہونے چاہئیں۔
جو ان کا جواب ہے وہی ہمارا جواب ہے۔ اگر ان کی تخصیص دوسری احادیث کے ساتھ ہے تو رکوع والے رفع اليدين کی تخصیص بھی دوسری احادیث کے ساتھ ہے۔
چوتھا جواب:
تارکین کی پیش کردہ حدیث میں رکوع والے رفع اليدين کا ذکر اور صراحت نہیں۔ مجوزین کی پیش کردہ احادیث میں رکوع والے رفع اليدين کا ذکر اور صراحت ہے۔ لہذا مفسر کو مجمل پر مقدم کیا جائے گا۔
حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: وهذا المفسر مقدم على المبهم
اور یہ مفسر مبہم پر مقدم ہے۔ (فتح الباري 283/10 تحت ح 5827 نیز دیکھئے ج 1 ص 347)
پانچواں جواب:
اگر اس حدیث کے الفاظ کو رفع اليدين پر محمول کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ رفع اليدين کرنا ایک قبیح فعل ہے۔ چونکہ رکوع والا رفع اليدين نبی صلى الله عليه وسلم سے باسند صحیح متواتر کے ساتھ ثابت ہے اور نبی فعل قبیح کا مرتکب نہیں ہوا کرتا تو معلوم ہوا کہ اس حدیث کا رکوع والے رفع اليدين کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، ورنہ نعوذ بالله نبی صلى الله عليه وسلم کے فعل کو قبیح تسلیم کرنا پڑے گا، جس کے تصور سے ہی ہم پناہ چاہتے ہیں۔
تنبیہ: بعض لوگوں نے پہلے جواب کا جواب دینے کی کوشش کی ہے کہ” یہ حدیث تعدد واقعہ پر مشتمل ہے“ ان لوگوں کا یہ دعویٰ غلط ہے۔
حافظ عبدالمنان صاحب نور پوری نے عبدالرشید کشمیری (دیوبندی) کے نام اپنے غیر مطبوع خط میں لکھا:
جابر بن سمرہ والی روایت میں تو رکوع والے رفع اليدين سے منع کا سرے سے نام ونشان ہی نہیں۔ واقعات خواہ دو ہی بنا لیے جائیں کیونکہ ایک واقعہ میں سلام والے رفع اليدين کے مراد نہ ہونے سے رکوع والے رفع اليدين کا مراد ہونا لازم نہیں آتا لہذا اس روایت کو رکوع والے رفع اليدين کے منع ہونے کی دلیل بنانا محض تحکم اور نری سینہ زوری ہے۔ اس موضوع سے متعلق یہ تحقیقی مضمون بھی ملاحظہ کریں۔