سوال:
کیا شب براءت کے حوالے سے کوئی صحیح حدیث موجود ہے؟ بعض لوگ اس رات آتش بازی وغیرہ کرتے ہیں، ان کا یہ عمل شرعاً کیسا ہے؟
جواب:
اسلام ایک مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے میں ہماری مکمل رہنمائی کرتا ہے، عبادات اور معاملات میں ہر طرح کی رہنمائی کتاب و سنت میں موجود ہے۔ کسی فرد کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنی مرضی، خواہش اور چاہت کے مطابق عبادت کے طریقے وضع کر لے، یا کسی معاشرے کی رسومات اور بدعات کو رواج دے۔ اہل اسلام نے یہود و نصاریٰ، ہندوؤں اور دیگر اقوام سے جو اختلاط اور اندھی تقلید اختیار کر رکھی ہے، یہ سب اختلاط کا نتیجہ ہے۔ اسی طرح بعض طریقے صوفیاء کے وضع کردہ ہیں جن کی عوام الناس اندھی دھند پیروی کرتے چلے جاتے ہیں اور انھیں اولیاء اللہ سمجھ کر بغیر تحقیق کے دین کا حصہ سمجھ لیتے ہیں، اگرچہ ان مسائل اور طرق کی سرے سے کوئی دلیل بھی موجود نہ ہو۔
صوفیوں اور زاہدوں نے کئی ایک مصنوعی اور وضعی نمازیں ایجاد کر کے امت مسلمہ میں بدعات کو رواج دیا ہے۔ ان کی ایجاد کردہ اشیاء میں سے شعبان کی پندرہویں رات میں وضعی نمازیں اور طریقہ عبادت بھی ہے، جن کا ہم آگے چل کر ذکر کریں گے۔ اس رات کو مساجد اور دینی مراکز میں خصوصاً چراغاں کیا جاتا ہے اور پاکستانی مسلمان بالخصوص آتش بازی اور پٹاخے وغیرہ چلاتے ہیں، حالانکہ عبادت کے ذریعے پٹاخوں اور آتش بازی کا کوئی دخل نہیں ہے اور نہ اسلامی دائرہ کار میں اس کا کوئی ثبوت ہے۔ شریعت اسلامیہ نے کسی بھی موقع پر آتش بازی کو عبادات کے ضمن میں قبول نہیں کیا۔
جب نماز کے لیے اذان کی ابتدا ہوئی تھی تو کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مشورہ دیا کہ نماز کی اطلاع کے لیے آگ روشن کر دی جائے، تاکہ لوگ اسے دیکھ کر نماز کے لیے اکٹھے ہو جائیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو پسند نہیں فرمایا۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان فرماتے ہیں:
كان المسلمون حين قدموا المدينة يجتمعون فيتحينون الصلوات وليس ينادى بها أحد فتكلموا يوما فى ذلك فقال بعضهم اتخذوا ناقوسا مثل ناقوس النصارى وقال بعضهم قرنا مثل قرن اليهود فقال عمر أولا تبعثون رجلا ينادي بالصلاة قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يا بلال قم فناد بالصلاة
مسلمان جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو وہ اکٹھے ہوتے اور نماز کے لیے وقت مقرر کرتے اور نماز کے لیے کوئی اذان نہیں کہتا تھا، ایک دن انھوں نے اس کے بارے میں گفتگو کی، بعض نے کہا نصاریٰ کے ناقوس کی طرح ناقوس بجاؤ اور بعض نے کہا یہود کی طرح قرن (سینگ) کی طرح قرن مقرر کر لو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ایک آدمی کو کیوں نہیں بھیجتے جو نماز کے لیے ندا دے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے بلال! اٹھ نماز کے لیے ندا دے۔“
(مسلم، کتاب الصلوة، باب بدء الآذان 377)
اور انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے:
ذكروا أن يعلموا وقت الصلاة بشيء يعرفونه فذكروا أن ينوروا نارا أو يضربوا ناقوسا فأمر بلال أن يشفع الأذان ويوتر الإقامة
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ذکر کیا کہ وہ کسی چیز کے ذریعے نماز کا وقت معلوم کرائیں تاکہ وقت پہچان جائیں تو بعض لوگوں نے کہا اس کے لیے آگ روشن کی جائے یا ناقوس بجایا جائے، لیکن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا گیا کہ وہ اذان کے کلمات جفت اور اقامت کے طاق کہیں۔
(مسلم، کتاب الصلوة، باب الأمر يشفع الأذان ويوتر الإقامة 378/3)
اور ایک روایت میں تصریح ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے آگ کا ذکر ہوا تو آپ نے فرمایا:
ذاك للمجوس ”یہ مجوسیوں کے لیے ہے۔“ (فتح الباری 80/2)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آتش پرستی مجوسیوں کا طریقہ ہے اور آج بھی خوشی کے موقع پر آگ کا مظاہرہ کرنا مجوسیوں کا مذہب ہے اور اس کی یاد میں آج تک ایران میں نوروز منایا جاتا ہے اور چراغاں کیا جاتا ہے اور ہندوستان میں ہندوؤں کے ہاں دیوالی اس آتش پرستی کی یادگار کے لیے منائی جاتی ہے۔ اغیار کے اختلاط اور میل جول کی بنا پر مسلمانوں نے بھی اپنی عبادات کے ذریعے آتش بازی اور پٹاخوں کو داخل کر دیا ہے۔
مجوسیوں میں سب سے معروف و مشہور طبقہ برامکہ ہے۔ لفظ برامکہ برمک کی جمع ہے جو برامکہ کا جد اعلیٰ تھا۔ یہ ایک آتش کدے کا مجاور تھا۔ علامہ محمد طاہر پنی ہندی رقمطراز ہیں:
قال على وأول حدوث الوقود من البرامكة وكانوا عبدة النار فلما أسلموا أدخلوا فى الإسلام ما يموهون أنه من سنن الدين مقصودهم عبادة النيران ولم يأت فى الشرع استحباب زيادة الوقود على الحاجة فى موضع
(تذكرة الموضوعات النفاس في البراءة ووصلونها الخ ص 46 مطبوعہ ملتان)
علی بن ابراہیم نے کہا: ”آگ روشن کرنے کی بدعت سب سے پہلے برامکہ نے جاری کی۔ وہ آگ کے پجاری تھے، جب اسلام میں داخل ہوئے تو انھوں نے اسلام میں ایسی چیز کو داخل کر دیا جس کی وہ فخر کرتے تھے کہ وہ ان کے دین کی سنت ہے، حالانکہ ان کا مقصد آگ کی عبادت تھا اور شریعت میں کسی بھی موقع پر ضرورت سے زیادہ چراغاں کرنے کی اجازت وارد نہیں ہے۔“
نیز دیکھیں تحفة الاحوذی (505/2) ط بیروت، مرقاة شرح مشکوٰة از ملا علی قاری (388/3)
معلوم ہوا کہ چراغاں اور آتش بازی کی بدعت برامکہ مجوسیوں کی ایجاد ہے، اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
پھر اس شب براءت کی ایجاد چوتھی صدی ہجری کے بعد کی ہے۔ امام ابو محمد عز الدین بن عبد السلام المقدسی فرماتے ہیں:
لم يكن بيت المقدس قط صلاة الرغائب فى رجب ولا صلاة بصف شعبان فحدث فى سنة ثمان وأربعين وأربعمائة أن قدم علينا رجل من نابلس يعرف بابن الحي وكان حسن التلاوة فقام فصلى فى المسجد الأقصى ليلة النصف من شعبان فأحرم خلفه رجل ثم انضاف ثالث ورابع فما ختم إلا وهم جماعة كثيرة ثم جاء فى العام المقبل فيصلي معه خلق كثير وانتشرت فى المسجد الأقصى وبيوت الناس ومنازلهم ثم استقرت كأنها سنة إلى يومنا هذا
”بیت المقدس میں رجب کے مہینے میں صلوٰۃ الرغائب اور نصف شعبان کی صلوٰۃ قطعاً نہ تھیں۔ یہ بدعت 448ھ میں ایجاد ہوئی۔ نابلس سے ایک آدمی جو ابن الحی کے نام سے معروف تھا، ہمارے ہاں آیا، وہ اچھی تلاوت والا شخص تھا۔ وہ نصف شعبان کی رات مسجد اقصیٰ میں نماز کے لیے کھڑا ہو گیا۔ اس کے پیچھے ایک آدمی، پھر تیسرا، چوتھا ملتے گئے حتیٰ کہ نماز کے اختتام پر بہت سے لوگ جمع ہو گئے تھے۔ پھر وہ آئندہ سال آیا، اس کے ساتھ ایک جم غفیر نے نماز ادا کی اور یہ نماز مسجد اقصیٰ میں لوگوں کے گھروں اور منزلوں میں عام ہو گئی۔ پھر اس نے اس طرح قرار پکڑا گویا کہ یہ سنت ہے اور آج تلک یہ بدعت چلی آرہی ہے۔“
(حلبي كبير 434، الباعث على إنكار البدع والحوادث ص 32)
اسی طرح پھر اس رات کو لوگ صلوٰۃ الالفیہ یا صلوٰۃ البراءۃ بھی ادا کرنے لگے یعنی 100 رکعات نماز ادا کرتے ہیں اور ہر رکعت میں 10 مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھتے ہیں۔ اس طرح ایک ہزار مرتبہ سورۃ الاخلاص پڑھی جاتی ہے اور لوگ اسے صلوٰۃ الالفیہ کہتے ہیں۔ علامہ محمد طاہر پنی ہندی رقمطراز ہیں:
نصف شعبان کی رات کو جو نماز الفیہ ادا کی جاتی ہے یہ بدعات میں سے ہے، اس نماز میں 100 رکعات کے اندر ہر رکعت میں 10 بار سورۃ الاخلاص پڑھی جاتی ہے اور لوگوں نے عیدوں سے زیادہ اس کا اہتمام کیا ہے، اس کے متعلق جو اخبار و آثار مروی ہیں، وہ یا تو ضعیف ہیں یا موضوع۔ امام غزالی وغیرہ نے احیاء العلوم وغیرہ میں جو اس کا ذکر کیا ہے، اس سے دھوکا نہ کھایا جائے اور نہ تغییر تقلیدی سے دھوکا کھائیں کہ اس نے اسے شب قدر قرار دے دیا ہے، اس کی وجہ سے عوام الناس ایک عظیم فتنہ میں مبتلا ہو گئے ہیں، حتیٰ کہ اس کے باعث وہ کثرت سے چراغاں کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے فسق و فجور اور عفت و عصمت دری کا وقوع ہوتا ہے جو کہ نا قابل بیان ہے۔ یہ نماز سب سے پہلے بیت المقدس میں 448ھ میں جاری کی گئی۔
(تذكرة الموضوعات ص 44)
زید بن اسلم نے کہا:
ما أدركنا أحدا من مشايخنا وفقهائنا يلتفتون إلى ليلة البراءة وفضلها على غيرها
ہم نے اپنے مشائخ اور فقہاء میں سے کسی ایک کو بھی شب براءت کی طرف التفات کرتے ہوئے نہیں پایا اور نہ شب براءت کی فضیلت اس کے علاوہ دیگر راتوں پر دیتے ہوئے کسی کو پایا ہے۔
(تذكرة الموضوعات ص 45)
ابن دحیہ نے کہا:
أحاديث صلاة البراءة موضوعة وواحد مقطوع ومن عمل بها صح أنه كذب فهو من عدم الشيطان
شب براءت کی نماز کے متعلق روایات موضوع و من گھڑت ہیں اور ایک روایت مقطوع ہے، جس شخص نے کسی ایسی روایت پر عمل کیا جس کا من گھڑت ہونا ثابت ہو جائے تو ایسی روایت پر عمل کرنے والا شیطان کا چیلا ہے۔
(تذكرة الموضوعات ص 45-46)
لہٰذا شب براءت کے متعلق کوئی صحیح روایت موجود نہیں ہے۔ بعض لوگوں نے شب براءت کا جواز قرآن سے نکالنے کی کوشش کی ہے۔ وہ سورۃ الدخان کی اس آیت سے استدلال کرتے ہیں:
﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ ۚ إِنَّا كُنَّا مُنْذِرِينَ فِيهَا يُفْرَقُ كُلُّ أَمْرٍ حَكِيمٍ﴾
(الدخان: 3-4)
”بے شک ہم نے قرآن کو برکت والی رات میں نازل کیا ہے، بے شک ہم لوگوں کو ڈرانے والے ہیں، اس رات میں ہر حکیمانہ فیصلہ صادر کیا جاتا ہے۔“
اس کی تفسیر یہ بیان کی جاتی ہے کہ ”لیلۃ مبارکہ“ شب براءت ہے، جس میں سال بھر کے امور کے فیصلے کیے جاتے ہیں، لیکن یہ تفسیر کسی طرح بھی درست نہیں ہے، لیلۃ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے، جس کی تفسیر خود قرآن حکیم نے کر دی ہے کہ جس رات نزول قرآن ہوا، وہ لیلۃ القدر ہے، یہ ایک رات کے دو نام ہیں اور اس ماہ مبارک کا تعین بھی قرآن نے کر دیا ہے کہ وہ رمضان المبارک ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ﴾
(البقرة: 185)
”رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا۔“
امام ابو بکر ابن العربی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”تیسرا مسئلہ اس رات کی تعیین کا ہے۔ جمہور علماء اس بات کے قائل ہیں کہ لیلۃ مبارکہ سے مراد لیلۃ القدر ہے اور جو بعض نے نصف شعبان کی رات قرار دیا ہے، یہ باطل ہے، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مکمل اور قطعی کتاب میں فرمایا ہے: رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے۔ اس نے واضح طور پر بیان کر دیا ہے کہ اس کے نزول کا وقت رمضان میں ہے۔ پھر رات کے وقت کی یہاں تعبیر لیلۃ مبارکہ سے کی ہے۔ جس نے یہ کہا کہ رمضان کے علاوہ کسی رات میں نازل ہوا ہے، اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے اور نصف شعبان کی رات کے حوالے سے اور اس کی فضیلت اور اس میں مردوں کے نام لکھے جانے کے بارے میں کوئی قابل اعتماد روایت موجود نہیں ہے، اس کی طرف التفات مت کرو۔“
(أحكام القرآن 4/1690، مزید دیکھیں تفسیر قرطبی 85، 84/16، تفسیر زاد المسير 336/7، 337، جامع البيان للطبري 221/11، فتح القدير للشوكاني 570/4، 182/1، 184، تفسیر المراغي 119، 118/9، تفسیر ابن کثیر 538/8 بتحقيق عبد الرزاق المهدي)
شب براءت کے متعلق جس قدر روایات مروی ہیں سب ناقابل حجت، ضعیف اور منکر ہیں۔ میں صرف چند اہم کے فیصلے نقل کر دیتا ہوں، امام عقیلی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وفي النزول فى ليلة النصف من شعبان أحاديث فيها لين ولرواية النزول فى كل ليلة أحاديث ثابتة صحاح فليلة النصف من شعبان داخلة فيها إن شاء الله تعالى
(الضعفاء الكبير 29/3 في ترجمة عبد الملك بن عبد الملك عن مصعب بن أبي ذئب)
”نصف شعبان کی رات میں نزول باری تعالیٰ کے متعلق مروی روایات کمزور ہیں اور (ویسے تو) ہر رات میں نزول باری تعالیٰ کے بارے میں صحیح اور ثابت احادیث موجود ہیں، تو نصف شعبان کی رات بھی ان شاء اللہ ان میں داخل ہے۔ “
یعنی خاص 15 شعبان کی رات اللہ تعالیٰ کے آسمان دنیا پر نزول فرمانے سے متعلق کوئی صحیح حدیث موجود نہیں، البتہ ہر رات آسمان دنیا پر اللہ تعالیٰ نزول فرماتا ہے اور نصف شعبان کی رات بھی اس میں شامل ہے، الگ سے اس کی فضیلت موجود نہیں ہے۔
حافظ ابو الخطاب ابن دحیہ نے کہا:
قال أهل التعديل والتجريح ليس فى حديث ليلة النصف من شعبان حديث يصح
”اہل جرح و تعدیل نے کہا ہے کہ نصف شعبان کی رات کے بارے میں کوئی صحیح حدیث نہیں ہے۔“
(الباعث على إنكار البدع والحوادث ص 24)
حافظ ابو شامہ الشافعی فرماتے ہیں:
كل ذلك بأسانيد ضعاف
”اس کے متعلق تمام روایات ضعیف ہیں۔“
(الباعث على إنكار البدع والحوادث ص 35)
شب براءت اور رجب میں صلوٰۃ الرغائب کے نام پر جو نمازیں ادا کی جاتی ہیں، ان کے بارے میں امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وهاتان الصلاتان بدعتان مذمومتان منكرتان فيحذران ولا تغتر بذكرهما فى كتاب قوت القلوب والإحياء وليس لأحد أن يستدل على شرعيتهما
”یہ دو نمازیں مذموم، منکر اور شدید بدعت ہیں، قوت القلوب (از ابو طالب مکی) اور احیاء علوم الدین (از غزالی) میں ان کے تذکرے سے دھوکا نہ کھایا جائے اور کسی کے لیے ان کی مشروعیت پر استدلال کرنا جائز نہیں ہے۔“
(حلبي كبير ص 12)
خلاصۃ القول، شب براءت کی تخصیص اور اس کی مخصوص نماز کے حوالے سے کوئی صحیح روایت موجود نہیں۔ یہ 448ھ کی ایجاد ہے، جسے بیت المقدس میں بعض صوفیاء نے رواج دیا ہے۔ اہل حجاز اور دیگر بلاد اسلامیہ میں اس کا کوئی وجود نہ تھا اور نہ کتاب و سنت کے دلائل میں اس کا تذکرہ ہے۔ اسی طرح اس رات کے حوالے سے آتش بازی، پٹاخے، فائرنگ وغیرہ بے اصل ہیں۔
شعبان کے متعلق عمومی فضائل یہ ہیں کہ اس ماہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے بعد باقی مہینوں سے زیادہ عبادت کرتے اور زیادہ روزے رکھتے، تاکہ رمضان کی تیاری کی جا سکے۔ البتہ پندرہ شعبان کے بعد روزوں کا زیادہ اہتمام نہ کرتے اور نہ رمضان سے ایک دن پہلے استقبال رمضان کا خصوصی روزہ رکھتے، الا یہ کہ وہ آپ کے پورے سال کے معمول کے روزوں میں آ جائے۔
(ہذا ما عندي والله أعلم بالصواب)