سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات

فونٹ سائز:
تحریر: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

اصل روایت (مسند احمد)

عربی متن:
21967 – حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: «رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْصَرِفُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، وَرَأَيْتُهُ، قَالَ، يَضَعُ هَذِهِ عَلَى صَدْرِهِ» وَصَفَّ يَحْيَى: الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَوْقَ الْمِفْصَلِ.
ترجمہ:
قبیصہ بن ہلب اپنے والد ہلبؓ سے روایت کرتے ہیں: میں نے نبی ﷺ کو (سلام پھیر کر) کبھی دائیں اور کبھی بائیں طرف لوٹتے دیکھا، اور میں نے آپ ﷺ کو یہ دیکھا کہ یہ (ہاتھ) اپنے سینے پر رکھتے تھے—یحییٰ بن سعید القطان نے (عملی اشارے سے) سمجھایا کہ دایاں ہاتھ بائیں پر کلائی سے اوپر رکھا ہوا تھا۔
حوالہ: مسند الإمام أحمد بن حنبل (حدیث: 21967)

وضاحت:
متن میں سلام کے انصراف کا ذکر اور ہاتھوں کی کیفیت—“اليُمنى على اليُسرى فوق المفصل”—نماز کے اندر قیام کی ہیئت پر صریح دلالت کرتا ہے۔ “یحییٰ بن سعید القطان” کی عملی توضیح زیادۃ الثِّقہ ہے، جو اصولاً مقبول و مُقَدَّم ہوتی ہے۔

✦ اعتراض نمبر 01

یہ روایت نماز سے متعلق نہیں کیونکہ متن میں نماز کے الفاظ ہی نہیں ہیں۔ اہلحدیث عالم داؤد ارشد نے ترجمہ میں اپنی مرضی سے “نماز” کے الفاظ شامل کر دیے۔ مزید یہ کہ انہوں نے روایت سے (وَرَأَيْتُهُ قَالَ يَضَعُ هَذِهِ عَلَى صَدْرِهِ , وَصَفَّ يَحْيَى: الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَوْقَ الْمِفْصَلِ) یہ الفاظ نکال دیے اور لفظ “هَذِهِ” کو “يدهُ” سے بدل دیا، اس طرح پوری روایت بدل گئی۔

✦ الجواب

یہ کہنا کہ اس روایت میں نماز کا ذکر نہیں، اس کو بالکل بے معنی اور باطل بنا دیتا ہے۔ اگر نماز کے الفاظ نہ مانے جائیں تو ترجمہ یوں بنے گا:

“میں نے نبی ﷺ کو دائیں اور بائیں طرف پھیرتے دیکھا اور دیکھا کہ آپ ﷺ یہ اپنے سینے پر رکھتے تھے۔”

یعنی اس میں نہ “نماز” کا ذکر ہوگا، نہ یہ واضح ہوگا کہ آپ ﷺ نے کس چیز کو سینے پر رکھا۔ اس طرح یہ پورا متن ادھورا اور بے ربط رہ جاتا ہے۔

✦ ائمہ کی تصریحات

مگر حقیقت یہ ہے کہ ائمہ محدثین نے اس روایت کو نماز ہی کے باب میں لیا ہے اور فقہی استدلال میں استعمال کیا ہے:

  • علامہ عبدالرحمن ابن الجوزی نے اسے کتاب الصلوٰۃ میں امام مالک کے رد میں بطور حجت ذکر کیا۔

  • حافظ ذہبی اور ابن عبدالہادی مقدسی نے بھی اسے بابِ نماز میں نقل کیا ہے۔

عربی اقتباس (ابن الجوزی):
كِتَابُ الصَّلَاةِ، مَسْأَلَةٌ يُسَنُّ وَضْعُ الْيَمِينِ عَلَى الشِّمَالِ … لَنَا أَرْبَعَةُ أَحَادِيثَ، الْحَدِيثُ الثَّانِي:
… «رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَضَعُ هَذِهِ عَلَى هَذِهِ عَلَى صَدْرِهِ، وَوَصَفَ يَحْيَى: الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى فَوْقَ الْمِفْصَلِ».

حوالہ: التحقيق في أحاديث الخلاف لابن الجوزي

ترجمہ:
“نماز کے باب میں: داہنے کو بائیں پر رکھنے کی سنت ہے … دلائل میں دوسری حدیث یہ ہے:
میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ یہ (ہاتھ) اس (دوسرے) پر سینے پر رکھتے تھے، اور یحییٰ نے وضاحت کی کہ دایاں ہاتھ بائیں پر کلائی کے اوپر رکھا ہوا تھا۔”

✦ اعتراض نمبر 02

اہلحدیث عالم داؤد ارشد نے اس روایت کو پیش کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا کہ امام ترمذی اور علامہ نیموی حنفی نے اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ یہ سراسر جھوٹ ہے، کیونکہ:

  1. امام ترمذی نے اس روایت کو ان الفاظ کے ساتھ بیان ہی نہیں کیا جن الفاظ کے ساتھ داؤد ارشد نے نقل کیا ہے۔

  2. امام ترمذی نے ہلبؓ کی جو حدیث حسن کہی ہے، اس کی سند مختلف ہے۔ لہٰذا داؤد ارشد نے امام ترمذی کی طرف جھوٹ منسوب کیا۔*

✦ الجواب

یہ دعویٰ جھوٹ پر مبنی ہے، کیونکہ امام ترمذی نے بالکل اسی سند (سِمَاک بن حرب ← قبیصہ بن ہلب ← ہلبؓ) کو نقل کیا ہے اور اس پر حسن کا حکم لگایا ہے۔

مسند احمد کی سند

21967 – حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سِمَاكٌ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ … (مسند أحمد)

سنن ترمذی میں تین مقامات پر یہی سند

  1. حدیث 252
    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ …
    حَدِيثُ هُلْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ۔

  2. حدیث 301
    حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ …
    حَدِيثُ هُلْبٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ۔

  3. حدیث 1565
    قَالَ شُعْبَةُ: أَخْبَرَنِي سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، قَال: سَمِعْتُ قَبِيصَةَ بْنَ هُلْبٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ …
    هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ۔

حوالہ: سنن الترمذي

اس کا مطلب یہ ہوا کہ نہ صرف مسند احمد بلکہ سنن ترمذی میں بھی یہی سند موجود ہے اور اس کو حسن قرار دیا گیا ہے۔

✦ اعتراض نمبر 03

یہ کہا گیا کہ اگرچہ سند تو وہی ہے لیکن متن مختلف ہے، اور سینے پر ہاتھ رکھنے کے الفاظ ترمذی میں نہیں ہیں۔

✦ الجواب

یہ اعتراض بھی غلط ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی (حنفی) نے اپنی کتاب شرح سفر السعادت میں سنن ترمذی ہی سے یہ روایت نقل کی ہے اور واضح کیا کہ نبی ﷺ نے اپنے ہاتھ اپنے سینے پر رکھے:

اقتباس (عبدالحق دہلوی):
«وہمچنین روایت کرد ترمذی از قبیصہ بن ھلب از پدرش کہ گفت دیدم رسول خدا صلی اللہ وسلم کہ می‌نهاد دست خود را بر سینه خود.»
(شرح سفر السعادت، ص 48)

ترجمہ:
“اسی طرح امام ترمذی نے قبیصہ بن ہلب کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ اپنے سینے پر رکھتے تھے۔”

لہٰذا یہ اعتراض باطل ہے، کیونکہ خود ایک بڑے حنفی محدث نے ترمذی سے یہی الفاظ نقل کیے۔

✦ اعتراض نمبر 04

یہ کہا گیا کہ اہلحدیث عالم داؤد ارشد نے علامہ نیموی کا مکمل حوالہ نہیں دیا۔ نیموی نے اگرچہ سند کو حسن کہا، لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ “علی صدرہ” کے الفاظ غیر محفوظ ہیں۔

✦ الجواب

علامہ نیموی کی اصل عبارت:
«واسناده حسن، لکن قوله: “على صدره” غیر محفوظ.»
(آثار السنن، ص 107–108)

❖ لیکن نیموی کی یہ رائے علمی اعتبار سے درست نہیں، کیونکہ:

  • مسند احمد میں یحییٰ بن سعید القطان نے اپنے عمل سے تصریح کی کہ دایاں ہاتھ بائیں پر سینے کے اوپر رکھا جاتا ہے۔

  • اصول حدیث میں زیادۃ الثقة (ثقہ راوی کا اضافہ) مقبول ہوتا ہے۔

  • یحییٰ بن سعید القطان نہایت بڑے ثقہ اور ثبت امام ہیں، ان کی زیادتی ہر دوسرے طریق پر مقدم ہے۔

✦ اعتراض نمبر 05

یہ کہا گیا کہ قبیصہ بن ہلب مجہول الحال ہے، اور اس کے سہارے غیر مقلدین نمازوں کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔

✦ الجواب: قبیصہ بن ہلب کی توثیق

  1. امام العجلی: «تابعی، ثقة.» (تاريخ الثقات)

  2. امام بغوی: «ہذا حديث حسن، وقبیصة بن ہلب الطائي…» (شرح السنة)

  3. ابن عبدالبر: «… ورأيتُه یضع یده اليمنى على اليسرى في الصلاة. وهو حديث صحيح.» (الاستيعاب)

  4. ابن حجر: «قبیصة بن الهلب الطائي الكوفي: مقبول.» (تقريب التهذيب)

  5. ابن حبان: داخل فی الثقات۔ (الثقات، رقم 5031)

  6. ابو داود: قبیصہ کی سند سے مروی حدیث پر سکوت کیا، اور ابو داود کا سکوت “صالح” ہونے کی علامت ہے۔ (رسالہ ابو داود الی اہل مکۃ)

  7. ابو علی الطوسی: «حديث هلب حديث حسن.» (مختصر الأحكام)

  8. ابو العباس بوصیری: «رجاله ثقات.» (إتحاف الخيرة المهرة)

  9. امام ترمذی: تین مقامات پر (252، 301، 1565) قبیصہ کی سند کو حسن کہا۔

قبیصہ بن ہلب کو کم از کم نو محدثین نے ثقہ یا حسن الحدیث قرار دیا ہے۔

📌 خلاصہ

  • اصل روایت (مسند احمد): قبیصہ بن ہلب اپنے والد ہلبؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں پر سینے کے اوپر رکھتے تھے۔ یحییٰ بن سعید القطان نے اس کیفیت کو اپنے عمل سے سمجھایا۔

  • اعتراض 1: کہا گیا کہ روایت میں “نماز” کے الفاظ نہیں۔
    ◈ جواب: اگر نماز نہ مانیں تو روایت بے معنی ہو جاتی ہے۔ متقدمین (ابن الجوزی، ذہبی، ابن عبدالہادی) نے اسے نماز کے باب میں ذکر کیا ہے۔

  • اعتراض 2: کہا گیا کہ امام ترمذی نے اس روایت کو حسن نہیں کہا۔
    ◈ جواب: سنن ترمذی میں یہی سند (سماک → قبیصہ → ہلبؓ) تین مقامات پر موجود ہے اور ترمذی نے ہر جگہ کہا: “حدیث حسن”۔

  • اعتراض 3: کہا گیا کہ متن مختلف ہے، سینے پر رکھنے کے الفاظ ترمذی میں نہیں۔
    ◈ جواب: شیخ عبدالحق محدث دہلوی (حنفی) نے ترمذی ہی سے یہ روایت نقل کی اور واضح کیا کہ نبی ﷺ نے ہاتھ سینے پر رکھے۔

  • اعتراض 4: کہا گیا کہ علامہ نیموی نے “علی صدرہ” کے الفاظ غیر محفوظ قرار دیے۔
    ◈ جواب: یحییٰ بن سعید القطان (ثقہ ثبت) کی زیادتی ہے، اور اصول میں زیادۃ الثقة مقبول ہے، اس لیے الفاظ محفوظ ہیں۔

  • اعتراض 5: کہا گیا کہ قبیصہ بن ہلب مجہول ہے۔
    ◈ جواب: یہ جھوٹ ہے۔ قبیصہ بن ہلب کو کم از کم نو محدثین (عجلی، ابن حبان، ابن عبدالبر، ابن حجر، بغوی، بوصیری، ترمذی وغیرہ) نے ثقہ یا حسن الحدیث قرار دیا ہے۔

✅ نتیجہ:

قبیصہ بن ہلب کی روایت صحیح و حسن سند سے ثابت ہے، اور اس میں صاف موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں دایاں ہاتھ بائیں پر سینے کے اوپر رکھتے تھے۔ لہٰذا یہ سنت ہے، اور حنفیوں کے تمام اعتراضات مردود ہیں۔

اہم حوالوں کے سکین

سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 02 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 01 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 17 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 16 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 15 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 14 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 13 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 12 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 11 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 10 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 09 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 08 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 07 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 06 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 05 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 04 سینے پر ہاتھ سے متعلق قبیصہ بن ہلب کی روایت پر حنفی اعتراضات – 03