سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب تفسیر اور ترک رفع یدین
ارشاد باری تعالی ہے: ﴿ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ﴾
اور وہ لوگ جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ (23-المؤمنون:2)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس آیت کریمہ کی تشریح میں سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ولا يرفعون أيديهم فى الصلوة «اور نماز میں اپنے ہاتھ نہیں اٹھاتے»۔
(دیکھیے التفسیر المنسوب إلى ابن عباس ص 212)
بعض لوگ درج بالا عبارت کا درج ذیل ترجمہ کرتے ہیں:
”جو نمازوں کے اندر رفع یدین نہیں کرتے۔“
(مجموعہ رسائل اوکاڑوی ج 1 ص 182 تحقیق مسئلہ رفع یدین ص 6)
عرض ہے کہ یہ ساری کی ساری تفسیر مکذوب و موضوع ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت ہی نہیں ہے۔
اس تفسیر کے شروع میں درج ذیل سند لکھی ہوئی ہے:
أخبرنا عبدالله الثقة ابن المأمور الهروي قال : أخبرنا أبى قال: أخبرنا أبو عبدالله قال أخبرنا أبو عبيد الله محمود بن محمد الرازي قال : أخبرنا عمار بن عبدالمجيد الهروي قال: أخبرنا على بن إسحاق السمرقندي عن محمد بن مروان عن الكلبي عن أبى صالح عن ابن عباس قال
[ تنوير المقباس تفسیر ابن عباس للفيروز آبادی الشافعی ص2]
اس تفسیر کی سند کے دو بنیادی راوی ➊ محمد بن مروان السدي ➋ اور محمد بن السائب الكلبي دونوں کذاب ہیں۔
محمد بن مروان السدي کا تعارف
محمد بن مروان السدي کے بارے میں محدثین کے چند اقوال درج ذیل ہیں:
① امام بخاری نے کہا: سكتوا عنه یہ متروک ہے۔ [التاریخ الکبیر 1/232]
لا يكتب حديثه البتة، اس کی حدیث بالکل لکھی نہیں جاتی۔ (الضعفاء الصغیر: 350)
② یحیی بن معین نے کہا: ليس بثقة وہ ثقہ نہیں ہے۔ [الجرح والتعديل ج 8 ص 86 وسندہ صحیح]
③ ابو حاتم رازی نے کہا: هو ذاهب الحديث، متروك الحديث، لا يكتب حديثه البتة، وہ حدیث میں گیا گزرا ہے، متروک ہے، اس کی حدیث بالکل لکھی نہیں جاتی۔ [الجرح والتعديل 86/8]
④ نسائی نے کہا: يروي عن الكلبي، متروك الحديث وہ کلبی سے روایت کرتا ہے، حدیث میں متروک ہے۔ [الضعفاء والمتروكون: 538]
⑤ یعقوب بن سفیان الفارس نے کہا: وهو ضعيف غير ثقة (المعرفة والتاريخ 186/3)
⑥ ابن حبان نے کہا: كان ممن يروي الموضوعات عن الأثبات، لا يحل كتابة حديثه إلا على جهة الإعتبار ولا الإحتجاج به بحال من الأحوال یہ ثقہ راویوں سے موضوع روایتیں بیان کرتا تھا، پر کچھ کے بغیر اس کی روایت لکھنا حلال نہیں ہے۔ کسی حال میں بھی اس سے حجت پکڑنا جائز نہیں ہے۔ (المجروحین 286/2)
⑦ ابن نمیر نے کہا: کذاب ہے۔
[الضعفاء الكبير للعقیلی 136/4 وسندہ حسن، یاد رہے کہ الضعفاء الکبیر میں غلطی سے ابن نمیر کے بجائے ابن نصیر چھپ گیا ہے]
⑧ حافظ ہیثمی نے کہا: وهو متروك [مجمع الزوائد 99/8] أجمعوا على ضعفه اس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے۔ [مجمع الزوائد 1/214]
⑨ حافظ ذہبی نے کہا: كوفي متروك متهم [ديوان الضعفاء: 3969]
⑩ حافظ ابن حجر نے کہا: متهم بالكذب [تقريب التهذيب: 6284]
دیوبندی حلقہ کے نزدیک موجودہ دور کے” امام اہل سنت“ سرفراز خان صفدر صاحب لکھتے ہیں: ”اور محمد بن مروان السدي الصغیر کا حال بھی سن لیجئے“
امام بخاری فرماتے ہیں کہ اس کی روایت ہرگز نہیں لکھی جا سکتی۔ [ضعفاء صغیر امام بخاری ص 29]
اور امام نسائی فرماتے ہیں کہ وہ متروک الحدیث ہے۔ (ضعفاء امام نسائی ص52)
علامہ ذہبی لکھتے ہیں کہ حضرات محدثین کرام نے اس کو ترک کر دیا ہے اور بعض نے اس پر جھوٹ بولنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ امام ابن معین کہتے ہیں کہ وہ ثقہ نہیں ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو چھوڑ دیا تھا۔ ابن عدی کا بیان ہے کہ جھوٹ اس کی روایت پر بالکل بین ہے۔ [میزان الاعتدال ج 3 ص 132]
امام بیہقی فرماتے ہیں کہ وہ متروک ہے۔ [کتاب الاسماء والصفات ص 394]
حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ وہ بالکل متروک ہے۔( تفسیر ابن کثیر ج 3 ص 515)
علامہ سبکی لکھتے ہیں کہ وہ ضعیف ہے۔ (شفاء السقام ص 37]
علامہ محمد طاہر لکھتے ہیں کہ وہ کذاب ہے (تذکرہ الموضوعات ص 90)
جریر بن عبدالحمید فرماتے ہیں کہ وہ کذاب ہے، ابن نمیر کہتے ہیں کہ وہ محض ہیچ ہے۔ یعقوب بن سفیان کہتے ہیں کہ وہ ضعیف ہے۔ صالح بن محمد فرماتے ہیں کہ وہ ضعیف تھا و كان يضع (خود جعلی حدیثیں بنایا کرتا تھا) ابو حاتم کہتے ہیں کہ وہ متروک الحدیث ہے اس کی حدیث ہرگز نہیں لکھی جا سکتی۔( ازالۃ الریب ص 316)
➊ یہی موصوف ایک اور مقام پر لکھتے ہیں:
صوفی صاحب نے اپنے بڑوں کی پیروی کرتے ہوئے روایت تو خوب پیش کی ہے مگر ان کو سود مند نہیں کیونکہ ”سدی“ فنِ روایت میں ”ہیچ“ ہے۔ امام ابن معین فرماتے ہیں کہ ان کی روایت میں ضعف ہوتا ہے۔ امام جوز جانی فرماتے ہیں هو كذاب شتام وہ بہت بڑا جھوٹا اور تبرائی تھا۔ امام طبری فرماتے ہیں کہ اس کی روایت سے احتجاج درست نہیں۔ اس روایت کی مزید بحث ازالتہ الریب میں دیکھیے۔ ان بے جان اور ضعیف روایتوں سے کوئی مسئلہ ثابت نہیں ہو سکتا“
(تفریح الخواطر فی رد تنویر الخواطر ص 77 تا 78]
➋ سرفراز صاحب اپنی ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں:
سدی کا نام محمد بن مروان ہے … امام احمد فرماتے ہیں کہ میں نے اس کو بالکل ترک کر دیا ہے (حیرت ہے کہ امام احمد بن حنبل جیسی نقاد حدیث شخصیت تو اس کی روایت کو ترک کرتی ہے مگر مولوی نعیم الدین صاحب اور ان کی جماعت اس کی روایت سے۔۔۔ ) (تنقید متین ص 168]
➌ موصوف اپنی ایک اور کتاب میں لکھتے ہیں:
”سدی کذاب اور وضاع ہے“ (اتمام البرہان ص 455) صغیر کا نام محمد بن مروان ہے امام جریر بن عبدالحمید فرماتے ہیں کہ وہ کذاب ہے اور صالح بن محمد فرماتے ہیں کہ وہ جعلی حدیثیں بنایا کرتا تھا بقیہ محدثین بھی اس پر سخت جرح کرتے ہیں۔ انصاف سے فرمائیں کہ ایسے کذاب راوی کی روایت سے دینی کونسا مسئلہ ثابت ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے؟ (اتمام البرہان ص 458]
سرفراز خان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں:
” آپ لوگ سدی کی دُم تھامے رکھیں اور یہی آپ کو مبارک ہو۔“ (اتمام البرہان ص 457]
سرفراز خان صاحب مزید فرماتے ہیں:
آپ نے خازن کے حوالے سے ”سدی کذاب“ کے گھر میں پناہ لی ہے جو آپ کی ”علمی رسوائی “کے لئے بالکل کافی ہے اور یہ ”داغ“ ہمیشہ آپ کی پیشانی پر چمکتا رہے گا۔ (اتمام البرہان ص 458)
تنبیہ : موجودہ دور میں رفع یدین کے خلاف ”تفسیر ابن عباس “نامی کتاب سے استدلال کرنے والوں نے بقول سرفراز خان صفدر صاحب سدی کی دُم تھام رکھی ہے اور ان لوگوں کی پیشانی پر رسوائی کا یہ داغ چمک رہا ہے۔
محمد بن السائب الكلبي کا تعارف
محمد بن السائب، ابوالنضر الكلبي کے بارے میں محدثین کرام کے چند اقوال درج ذیل ہیں:
① سلیمان التیمی نے کہا: كان بالكوفة كذابان أحدهما الكلبي كوفہ میں دو کذاب تھے، ان میں سے ایک کلبی ہے۔ [الجرح والتعديل 270/7 وسندہ صحیح]
② قرہ بن خالد نے کہا: كانوا يرون أن الكلبي يرزف يعني يكذب لوگ یہ سمجھتے تھے کہ کلبی جھوٹ بولتا ہے۔ [الجرح والتعديل 270/7 وسندہ صحیح]
③ سفیان ثوری نے کہا: ہمیں کلبی نے بتایا کہ تجھے جو بھی میری سند سے عن ابی صالح عن ابن عباس بیان کیا جائے تو وہ جھوٹ ہے اسے روایت نہ کرنا۔ [الجرح والتعديل 271/7 وسندہ صحیح]
④ یزید بن زریع نے کہا: کلبی سبائی تھا۔ [الکامل لابن عدي 2128/5 وسندہ صحیح]
⑤ محمد بن مہران نے کہا، کلبی کی تفسیر باطل ہے۔ [الجرح والتعديل 271/7 وسندہ صحیح]
⑥ جوز جانی نے کہا: كذاب ساقط [احوال الرجال: 37]
⑦ یحیی بن معین نے کہا: ليس بشيء کلبی کچھ چیز نہیں ہے۔ [تاریخ ابن معین، روایة الدوری: 1344]
⑧ ابو حاتم الرازی نے کہا: الناس مجتمعون على ترك حديثه، لا يشتغل به، هو ذاهب الحديث اس کی حدیث کے متروک ہونے پر لوگوں کا اجماع ہے۔ اس کے ساتھ وقت ضائع نہ کیا جائے وہ حدیث میں گیا گزرا ہے۔ [الجرح والتعديل 271/7]
⑨ حافظ ابن حجر نے کہا: المفسر متهم بالكذب ورمي بالرفض [تقريب التهذيب: 5901]
⑩ حافظ ذہبی نے کہا: ”تركوه“ (محدثین نے) اسے ترک کر دیا ہے۔ [المغني في الضعفاء: 5545]
کلبی کے متعلق سرفراز خان صاحب نے لکھا ہے:
کلبی کا حال بھی سن لیجئے … کلبی کا نام محمد بن السائب بن بشر ابو النضر الكلبي ہے۔ امام معتمر بن سلیمان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ کوفہ میں دو بڑے بڑے کذاب تھے، ایک ان میں سے کلبی تھا اور لیث بن ابی سلیم کا بیان ہے کہ کوفہ میں دو بڑے بڑے جھوٹے تھے۔ ایک کلبی اور دوسرا سدی۔ امام ابن معین کہتے ہیں کہ ليس بشي، امام بخاری فرماتے ہیں کہ امام یحییٰ اور ابن مہدی نے اس کی روایت بالکل ترک کر دی تھی۔ امام ابن مہدی فرماتے ہیں کہ ابو جزء نے فرمایا: میں اس بات پر گواہی دیتا ہوں کہ کلبی کافر ہے۔ میں نے جب یہ بات یزید بن زریع سے بیان کی تو وہ بھی فرمانے لگے کہ میں نے بھی ان سے یہی سنا کہ أشهد أنه كافر میں نے اس کے کفر کی وجہ پوچھی تو انہوں نے فرمایا کہ
يقول كان جبرائيل يوحي إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقام النبى لحاجته وجلس على فأوحي إلى علي
کلبی کہتا ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام آنحضرت صلى الله عليه وسلم کی طرف وحی لایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کسی حاجت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور ان کی جگہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بیٹھ گئے تو جبرئیل علیہ السلام نے ان پر وحی نازل کر دی۔
(یعنی حضرت جبرئیل علیہ السلام آنحضرت صلى الله عليه وسلم کے نام مورد وحی اور مہبط وحی کو نہ پہچان سکے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رسول سمجھ کر ان کو وحی سنا گئے … اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس بھولے بھالے جبرائیل علیہ السلام نے آگے پیچھے کیا کیا ٹھوکریں کھائی ہوں گی اور کن کن پر وحی نازل کی ہوگی اور نہ معلوم حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بھی وہ اس خفیہ وحی میں کیا کچھ کہہ گئے ہوں گے ممکن ہے یہ خلافت بلا فصل ہی کی وحی ہو جس کو حضرت جبرئیل علیہ السلام حضرت علی رضی اللہ عنہ کے کان میں پھونک گئے ہوں گے۔ بات ضرور کچھ ہو گی۔ آخر کلبی کا بیان بلا وجہ تو نہیں ہو سکتا، اور کلبی کے اس نظریہ کے تحت ممکن ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام پہلی ہی وحی میں بھول کر حضرت محمد صلى الله عليه وسلم کا نام کو سنا گئے ہوں اور مقصود کوئی اور ہو اور عین ممکن ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی ہوں، آخر کلبی ہی کے کسی بھائی کا یہ نظریہ بھی تو ہے کہ:
جبرائیل کہ آمد چوں از خالق بے چوں
بہ پیش محمد شد و مقصود علی بود
معاذ اللہ تعالیٰ، استغفر اللہ تعالیٰ، کلبی نے تو حضرت جبرئیل علیہ السلام جناب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم اور وحی کو ایک ڈراما اور کھیل بنا کر رکھ دیا ہے العیاذ باللہ تعالیٰ ثم العیاذ باللہ تعالیٰ۔ صفدر بلکہ کلبی نے خود یہ کہا ہے کہ جب میں بطریق ابو صالح عن ابن عباس رضی اللہ عنہما کوئی روایت اور حدیث تم سے بیان کروں تو فهو كذب (وہ جھوٹ ہے) امام ابو حاتم فرماتے ہیں کہ حضرات محدثین کرام سب اس پر متفق ہیں کہ وہ متروک الحدیث ہے۔ اس کی کسی روایت کو پیش کرنا صحیح نہیں ہے۔ امام نسائی کہتے ہیں کہ وہ ثقہ نہیں ہے اور اس کی روایت لکھی بھی نہیں جا سکتی۔ علی بن الجنید، حاکم ابو احمد اور دارقطنی فرماتے ہیں کہ وہ متروک الحدیث ہے۔ جوز جانی کہتے ہیں کہ وہ کذاب اور ساقط ہے۔ ابن حبان کہتے ہیں کہ اس کی روایت جھوٹ پر جھوٹ بالکل ظاہر ہے اور اس سے احتجاج صحیح نہیں ہے۔ ساجی کہتے ہیں کہ وہ متروک الحدیث ہے اور بہت ہی ضعیف اور کمزور تھا کیونکہ وہ غالی شیعہ ہے، حافظ ابوعبداللہ الحاکم کہتے ہیں کہ ابو صالح سے اس نے جھوٹی روایتیں بیان کی ہیں۔ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں:
وقد اتفق ثقات أهل النقل على ذمه وترك الرواية عنه فى الأحكام والفروع
تمام اہل ثقات اس کی مذمت پر متفق ہیں اور اس پر بھی ان کا اتفاق ہے کہ احکام اور فروع میں اس کی کوئی روایت قابل قبول نہیں ہے۔
اور امام احمد بن حنبل نے فرمایا کہ کلبی کی تفسیر اول سے لے کر آخر تک سب جھوٹ ہے اس کو پڑھنا بھی جائز نہیں ہے۔ [تذکرۃ الموضوعات ص82]
اور علامہ محمد طاہر الحنفی لکھتے ہیں کہ کمزور ترین روایت فن تفسیر میں کلبی عن ابی صالح عن ابن عباس ہے اور فإذا انضم إليه محمد بن مروان السدي الصغير فهي سلسلة الكذب [تذكرة الموضوعات ص 83 دانقان ج 2 ص 189] اور اس روایت میں خیر سے یہ دونوں شیر جمع ہیں۔ ( ازالۃ الریب ص 316] نیز دیکھیے (تنقید متین ص 169،167)
اس سند کا تیسرا راوی ابو صالح باذام ضعیف ہے۔
ابوصالح باذام کا تعارف
① ابو حاتم الرازی نے کہا: يكتب حديثه ولا يحتج به [الجرح والتعديل 432/2]
② نسائی نے کہا: ضعيف كوفي [الضعفاء والمتروكين:72]
③ بخاری نے اسے کتاب الضعفاء میں ذکر کیا۔ [رقم بتختہ الاقوياء ص21]
④ حافظ ذہبی نے کہا: ” ضعيف الحديث “ (دیوان الضعفاء: 544]
⑤ حافظ ابن حجر نے کہا: ضعيف يرسل [تقريب التهذيب: 634]
بعض علماء نے باذام مذکور کی توثیق بھی کر رکھی ہے مگر جمہور محدثین کی جرح کے مقابلے میں یہ توثیق مردود ہے۔
تنویر المقباس کی اس سند کے متعلق حافظ جلال الدین السیوطی لکھتے ہیں:
وأوهى طرقه طريق الكلبي عن أبى صالح عن ابن عباس فإن انضم إلى ذلك رواية محمد بن مروان السدي الصغير فهي سلسلة الكذب
تمام طرق میں سب سے کمزور ترین طریق” الكلبي عن أبى صالح عن ابن عباس رضي الله عنه“ ہے اور اگر اس روایت کی سند میں محمد بن مروان السدي الصغیر بھی مل جائے تو پھر یہ سند ”سلسلۃ الکذب“ کہلاتی ہے۔ [الاتقان فی علوم القرآن ج 2 ص 416]
واضح رہے کہ یہ سند سلسلۃ الکذب ابو صالح تک ہے ”الصحابة كلهم عدول رضي الله عنهم “صحابہ رضی اللہ عنہم تمام کے تمام عادل ہیں یہ قاعدہ کلیہ ہے، البتہ ان سے روایت کرنے والے بعد کے راویوں کا عادل و ثقہ و صدوق ہونا ضروری ہے یہ بھی ایک قاعدہ کلیہ ہے۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ یہ تفسیر (تنویر المقباس) سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ثابت نہیں ہے بلکہ یہ محمد بن مروان السدي اور کلبی کی من گھڑت تفسیر ہے جسے انھوں نے کذب بیانی کرتے ہوئے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب کر دیا ہے۔
تنبیہ: خود سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین ثابت ہے۔
ابو حمزہ (عمران بن ابی عطاء الاسدی، تابعی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رأيت ابن عباس يرفع يديه إذا افتتح الصلوة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع میں نے (سیدنا) ابن عباس رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ وہ شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع سے سر اٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ [مصنف ابن ابی شیبہ ج 1 ص 235 ح2431 وسندہ حسن]
یہ روایت مسائل الامام احمد (روایة عبداللہ بن احمد ص 24،4/1 ح 331) مصنف عبدالرزاق (69/2 ح 2523) اور جزء رفع الیدین للبخاری (ح21) میں بھی موجود ہے۔
طاؤس (تابعی) فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو نماز میں رفع یدین کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [جزء رفع الیدین: 28 وسندہ صحیح)
سیدنا ابن عباس کا نماز میں رفع یدین کرنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ نماز میں رفع یدین خشوع و خضوع کے خلاف نہیں ہے۔
تنبیہ: اس موضوع تفسیر کے اوکاڑوی ترجمے اور طرز استدلال میں بھی نظر ہے۔