سواری پر نماز کا کیا حکم ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

سواری پر نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب:

سواری پر نفل نماز پڑھنا جائز ہے۔ اس پر کئی احادیث اور آثار ثابت ہیں۔
❀ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو على الراحلة، يسبح، يومئ برأسه قبل أى وجه توجه، ولم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم يصنع ذلك فى الصلاة المكتوبة
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سواری پر نفل پڑھتے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے اشارے سے نماز پڑھتے، اس کی پرواہ کیے بغیر کہ سواری کا منہ کس طرف ہے، البتہ فرض نماز سواری پر ادا نہیں کرتے تھے۔
(صحيح البخاري: 1097)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يسبح على ظهر راحلته، حيث كان وجهه، يومئ برأسه، وكان ابن عمر يفعله
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سواری کی پشت پر نفل پڑھ لیا کرتے تھے، رخ جدھر بھی ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر کے اشارے سے نماز پڑھتے۔ (راوی حدیث کہتے ہیں) سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی طرح کرتے تھے۔
(صحيح البخاري: 1105، صحیح مسلم: 100/39)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
في هذه الأحاديث جواز التطوع على الراحلة فى السفر حيث توجهت، وهذا جائز بإجماع المسلمين
یہ احادیث سواری پر نفل کے جواز پر دلیل ہیں، چاہے سواری کا رخ جس طرف بھی ہو۔ اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔
(شرح مسلم: 5/210)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
اتفق العلماء على جواز التطوع
سواری پر نفل نماز کے جواز پر اہل علم کا اتفاق ہے۔
(الفتاوى الكبرى: 1/355)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️