سجدۂ سہو کا مسنون طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

سجدہ سہو کا بیان

سجدہ سہو امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان ہے کہ اس کے ذریعے نماز جیسے عظیم ترین رکن میں انسانی بھول سے پیدا ہونے والے نقص کا ازالہ ہو جاتا ہے۔
سجدہ سہو ہر قسم کی نماز میں بھول چوک پر واجب ہے، آدمی اکیلا نماز ادا کر رہا ہو یا با جماعت اور نماز فرض ہو یا نفل، بھول چوک پر سجدہ سہو کیے بغیر نماز نہیں ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فإذا نسي أحدكم فليسجد سجدتين
”جب تم میں سے کوئی شخص نماز میں بھول جائے تو اسے دو سجدے کرنے چاہییں۔“
(مسلم، كتاب المساجد، باب السهو في الصلاة والسجود له: 572)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
في كل سهو سجدتان بعد ما يسلم
”ہر قسم کی بھول میں سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے ہیں۔“
(ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء فيمن سجدهما بعد السلام: 1219 – حسن)
سلام سے قبل ایک سے زائد غلطیاں ہو جائیں تو ان کے لیے سجدہ سہو کے دو سجدے ہی کافی ہیں اور نماز میں جان بوجھ کر کی جانے والی غلطی کا ازالہ سجدہ سہو سے نہیں ہو گا، بلکہ نماز باطل ہو جائے گی۔

رکعات میں کمی بیشی پر سجدہ سہو:

اگر کوئی رکعت چھوٹ گئی تو اس رکعت کو مکمل کرنے کے بعد سجدہ سہو کیا جائے گا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر دیا، تو آپ سے ذوالیدین نے کہا: ’اے اللہ کے رسول! نماز مختصر ہو گئی ہے، یا آپ بھول گئے ہیں؟‘ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ’کیا ذوالیدین سچ کہہ رہا ہے؟‘ لوگوں نے کہا: ’ہاں!‘ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور باقی والی دو رکعتیں پڑھائیں، پھر سلام پھیرا، پھر الله اكبر کہہ کر سجدہ کیا، جو عام سجود کی مانند یا ان سے لمبا تھا، پھر اٹھے۔“
(بخاری، کتاب السهو، باب من لم يتشهد في سجدتي السهو: 1228 – مسلم: 573)
❀ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ خود بیان کرتے ہیں:
”ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصر کی تین رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا، پھر اپنے گھر چلے گئے۔ ایک آدمی جسے خرباق کہا جاتا تھا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، اس نے اس چیز کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ کی حالت میں اپنی چادر کھینچتے ہوئے لوگوں کے پاس آئے اور ان سے پوچھا: ’کیا یہ شخص سچ کہتا ہے؟‘ انھوں نے کہا: ’ہاں!‘ آپ نے ایک رکعت پڑھائی، پھر سلام پھیرا، پھر دو سجدے کیے اور پھر سلام پھیرا۔“
(مسلم، کتاب المساجد، باب السهو في الصلاة والسجود له: 574 – أبو داؤد: 1018)
اگر کوئی رکعت زیادہ پڑھ لی ہے تو اس پر بھی دو سجدے کیے جائیں گے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پانچ رکعت پڑھا دی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ”کیا نماز زیادہ ہو گئی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ کہنے والے نے کہا: ”آپ نے پانچ رکعتیں پڑھی ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے بعد دو سجدے کیے۔
(بخاری، كتاب السهو، باب إذا صلى خمسا: 1226 – مسلم: 91)
اگر کوئی نماز میں بھول کر اضافی رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا ہے تو جہاں یاد آئے وہیں سے پلٹ کر تشہد میں بیٹھ جائے اور سجدہ سہو کر لے۔

درمیانہ تشہد چھوٹ جانے پر سجدہ سہو:

اگر کوئی درمیانہ تشہد بھول جائے تو وہ سجدہ سہو کرے گا۔ سیدنا عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ظہر کی نماز پڑھائی اور آپ دو رکعتوں پر بیٹھنے کی بجائے کھڑے ہو گئے، چنانچہ لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے، جب نماز ختم ہونے والی تھی اور لوگ آپ کے سلام پھیرنے کا انتظار کر رہے تھے تو آپ نے اللہ اکبر کہہ کر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کیے، پھر سلام پھیرا۔“
(بخاری، کتاب الأذان، باب من لم ير التشهد الأول واجبًا الخ: 829 – مسلم: 570)
واضح رہے کہ اگر کوئی درمیانہ تشہد بھول گیا ہے اور وہ سیدھا کھڑا ہو گیا ہے تو وہ یاد آنے پر بیٹھے گا نہیں، بلکہ نماز پوری کرے گا اور آخر میں سلام سے پہلے دو سجدے کرے گا۔ لیکن اگر کھڑا ہونے لگا اور یاد آ گیا تو بیٹھ جائے گا اور اس غلطی پر دو سجدے نہیں۔ کیونکہ مذکورہ بالا عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی ایک روایت میں یہ بھی ہے:
”ہم نے سبحان الله کہا، پس جب آپ سیدھے کھڑے ہو گئے تو آپ نے قیام شروع کر دیا اور آپ واپس نہ لوٹے۔“
(صحيح ابن خزيمة: 115/2، ح: 1031)
درمیانہ تشہد جہاں کرنا چاہیے تھا وہاں نہ کیا، یا جہاں نہیں کرنا چاہیے وہاں کیا تو سجدہ سہو لازم ہوگا۔

رکعات کی تعداد میں شک پر سجدہ سہو:

❀ اگر رکعات کی تعداد میں شک پڑ جائے تو اس کی دو شکلیں ہوں گی: اسے یقین نہیں آ رہا کہ آیا اس نے تین پڑھی ہیں یا چار۔
شک پڑھنے پر اس نے غور و خوض کیا اور اسے یقین آ گیا کہ اس نے تین پڑھی ہیں یا چار۔

پہلی حالت:

ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اگر تم میں سے کسی کو رکعات کی تعداد کے بارے میں شک پڑ جائے اور اسے معلوم نہ ہو سکے کہ اس نے تین پڑھی ہیں یا چار تو وہ شک کو چھوڑ دے اور یقینی بات پر بنیاد رکھے (یعنی تین پر) اور پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کرے، اب اگر اس نے پانچ رکعت نماز پڑھی ہو گی تو یہ سجدے اس کی نماز (کی رکعات) کو جفت کر دیں گے اور اگر اس نے پوری چار رکعت نماز پڑھی ہو گی تو یہ سجدے شیطان کے لیے ذلت کا سبب ہوں گے۔“
(مسلم، كتاب المساجد، باب السهو في الصلاة والسجود له: 571)
اور سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب کسی کو دو اور ایک کے درمیان شک ہو جائے تو وہ ایک رکعت شمار کرے اور دو اور تین کے درمیان شک ہو تو دو رکعتیں شمار کرے، اگر تین اور چار کے درمیان شک پڑ جائے تو تین رکعتیں شمار کرے، پھر باقی نماز پوری کر لے، حتی کہ شک اضافے کے بارے میں رہ جائے، پھر سلام پھیرنے سے پہلے بیٹھے بیٹھے دو سجدے کر لے۔“
(ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء فيمن شك في صلاته فرجع إلى اليقين: 1209 – ترمذی: 398 – حسن)

دوسری حالت:

اسے شک پڑا مگر غور و خوض کے بعد پتا چل گیا کہ اس کی کون سی رکعت ہے تو وہ ظن غالب پر بنیاد رکھے اور آخر میں دو سجدے کر لے۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا شك أحدكم فى صلاته فليتحر الصواب فليتم عليه ثم يسلم ثم يسجد سجدتين
”جب تم میں سے کسی کو اپنی نماز میں شک پڑ جائے تو وہ ٹھیک بات کو تلاش کرے اور اسی کے مطابق اپنی نماز پوری کرے، پھر سلام پھیر کر دو سجدے کر لے۔“
(بخاری، کتاب الصلاة، باب التوجه نحو القبلة حيث كان: 401 – مسلم: 572)
واضح رہے کہ ”فليتحر الصواب“ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی حدیث کے الفاظ ”وليبن على ما استيقن“ کا معنی مختلف ہے، جیسا کہ مسلم کی حدیث میں جو مختلف چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں، ان سے واضح ہوتا ہے اور یہ فرق حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری (95/3) میں بیان کیا ہے، اسی طرح امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے صحیح ابن خزیمہ (114/2) میں اور امام ابن حبان رحمہ اللہ نے صحیح ابن حبان میں، جبکہ امام نووی رحمہ اللہ اور دیگر علماء نے ان دونوں احادیث کا ایک ہی معنی مراد لیا ہے۔

جن غلطیوں پر سجدہ سہو نہیں کیا جائے گا:

❀ مندرجہ ذیل غلطیوں پر سجدہ سہو نہیں کیا جائے گا:
➊ کوئی جہالت کی وجہ سے نماز میں بات کرے (جان بوجھ کر بولنے والے کی نماز ٹوٹ جائے گی)۔
سیدنا معاویہ بن الحکم السلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ لاعلمی کی وجہ سے نماز میں کوئی بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الآدميين
”بلا شبہ یہ نماز ہے، اس میں دنیا کی باتیں کرنا درست نہیں ہے۔“
(مسلم، کتاب المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة الخ: 537)
➋ کوئی دعا زیادہ مرتبہ پڑھی گئی یا دعا میں کوئی لفظ زیادہ پڑھا گیا۔
ایک آدمی نے نماز میں اپنی طرف سے رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدًا كَثِيرًا طَيِّبًا مُبَارَكًا فِيهِ پڑھ دیا، نماز کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کلمات کس نے کہے تھے؟“ اس شخص نے کہا: ”میں نے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”میں نے تم سے زیادہ فرشتے دیکھے جو اسے لکھنے میں مقابلہ کر رہے تھے۔“
(بخاری، کتاب الأذان، باب: 799)
➌ قراءت میں غلطی ہو گئی تو سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت بھولنے پر سجدہ سہو نہیں کیا کرتے تھے۔
(أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب الفتح على الإمام في الصلاة: 907 – صحیح)

فاتحہ کی قراءت رہ جانے پر:

❀ اگر کوئی شخص کسی رکعت میں سورہ فاتحہ کی قراءت بھول جائے تو وہ اس رکعت کو دوبارہ پڑھے اور پھر دو سجدے کرے، کیونکہ فاتحہ کے بغیر رکعت ہی نہیں ہوتی۔ اسی طرح رکوع یا سجدہ کرنا بھول جائے تو بھی پہلے وہ رکعت پڑھے، پھر دو سجدے کرے۔

امام و مقتدی کے احکام:

❀ اگر امام بھول جائے تو مقتدی امام کو غلطی پر متنبہ کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فإذا نسيت فذكروني
”جب میں بھول جاؤں تو مجھے یاد کر وا دیا کرو۔“
(مسلم، کتاب المساجد، باب السهو في الصلاة والسجود له: 572)
یاد کروانے کا طریقہ امامت کے باب میں ملاحظہ فرمائیں۔
❀ امام غلطی سے اضافی رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تو مقتدیوں کو تنبیہ کرنی چاہیے، امام پلٹ آئے تو صحیح، ورنہ مقتدی بھی امام کی اقتدا کریں، کیونکہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو بھول کر ظہر کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، جب سلام پھیرا تو لوگوں نے پوچھا: ”کیا نماز زیادہ ہو گئی ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بات ہے؟“ لوگوں نے کہا: ”آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا دی ہیں۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ سہو کیا۔
(بخاری، کتاب السهو، باب إذا صلى خمسا: 1226 – مسلم: 572/91)
❀ امام غلطی سے دوسرے رکن میں منتقل ہو گیا تو مقتدیوں کو بھی امام کی اقتدا کرنی چاہیے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھول کر درمیانہ تشہد بیٹھے بغیر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہو گئے (تو صحابہ بھی پیچھے کھڑے ہو گئے) اور آپ نے نماز مکمل کر کے سجدہ سہو کیا۔ اور لوگوں نے بھی سجدہ کیا۔
(بخاری، کتاب السهو، باب يكبر في سجدتي السهو: 1230 – مسلم: 570/86)
❀ کسی غلطی پر امام سجدہ سہو کرے تو مقتدیوں کو بھی سجدہ سہو کرنا چاہیے۔ (ایضاً)
❀ مقتدی جماعت کے دوران میں کوئی انفرادی غلطی کر لیتا ہے تو اس پر سجدہ سہو نہیں ہو گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الإمام ضامن
”امام مقتدیوں کا ضامن ہے۔“
(أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب ما يجب على المؤذن من تعاهد الوقت: 517 – ترمذی: 207 – صحیح)
❀ لیکن اگر مقتدی جماعت کے بعد والی رکعات میں غلطی کرے تو وہ سجدہ سہو کرے، یا امام کے ساتھ ہی ہے، لیکن کسی وجہ سے اس کی قراءت فاتحہ رہ جائے، یا رکوع وسجدہ رہ جائے تو وہ بعد میں وہ رکعت دوبارہ پڑھے اور دو سجدے کرے۔

سجدہ سہو کرنے کا طریقہ:

سجدہ سہو نماز کے دوسرے سجدوں کی طرح کیا جاتا ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
الله أكبر کہا اور عام سجدوں کی طرح سجدہ کیا، یا اس سے کچھ لمبا، پھر سر اٹھاتے ہوئے الله أكبر کہا، پھر الله أكبر کہتے ہوئے سر رکھا اور عام سجدوں کی طرح، یا ان سے کچھ لمبا سجدہ کیا، پھر الله أكبر کہتے ہوئے سر اٹھایا۔
(بخاری، کتاب السهو، باب يكبر في سجدتي السهو: 1229۔ مسلم: 573)

سجدہ سہو کرنے کے دو مقامات ہیں:

➊ آخری تشہد میں دعائیں مکمل کرنے کے بعد دو سجدے کریں، پھر سلام پھیر لیں۔
(بخاری، کتاب السهو، باب ما جاء في السهو: 1224۔ مسلم: 1269)
➋ دونوں طرف سلام پھیرنے کے بعد دو سجدے کریں اور پھر سلام پھیریں۔
(بخاری، کتاب السهو، باب إذا صلى خمسا: 1226۔ مسلم: 1574)
سجدہ سہو کے مذکورہ بالا دونوں طریقے جائز ہیں۔ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس غلطی پر جو طریقہ اختیار کیا ہے، وہاں وہ طریقہ افضل ہے، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعتیں رہ جانے پر انھیں ادا کیا اور سجدے سلام کے بعد کیے تو اس صورت میں سلام کے بعد بہتر ہیں اور ایک دفعہ آپ کا درمیانہ تشہد رہ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے سلام پھیرنے سے پہلے کیے تو اس صورت میں پہلے افضل ہیں۔
❀ آخری تشہد میں دعائیں مکمل پڑھنے کے بعد ایک طرف سلام پھیر کر سجدہ سہو کرنا اور پھر دوبارہ مکمل تشہد پڑھنا پھر سلام پھیرنا، یہ کسی صحیح حدیث میں موجود نہیں۔
❀ باتیں کرنے یا وقت گزرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا، یعنی نماز دہرانی نہیں پڑے گی۔ ذوالیدین کے واقعہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باتیں کرنے اور وقت گزرنے کے باوجود نماز نہیں دہرائی، صرف باقی نماز ادا کی اور سجدہ سہو کیا۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اگر کچھ وقت گزر گیا، یا باتیں کر لیں تو نماز دہرانی پڑے گی،
جبکہ اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے، بلکہ یہ ذوالیدین والی صحیح حدیث کے خلاف ہے۔
❀ ایک نماز میں ایک سے زائد غلطیاں ہو جائیں تو ان سب کے لیے ایک ہی سجدہ سہو کافی ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے