مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

سارے مال کی وصیت اور نیکی کے کاموں میں اس کا استعمال

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

سارے مال کی وصیت

مناسب یہ ہے کہ آپ اپنے مال کے تیسرے حصے یا اس سے کم کی وصیت کریں، پھر اسے کسی مناسب پیداواری زمین کے ذریعے سے زیر استعمال لائیں اور اس کی آمدن نیکی اور اچھائی کے کاموں میں صرف کریں۔ مثال کے طور پر مساجد تعمیر کروائیں، غریب رشتے داروں اور دیگر ناداروں پر صدقہ وغیرہ کریں، جب اولاد میں سے کسی کا سلسلہ نسل چل نکلے اور ان میں سے کسی کو ضرورت ہو تو وہ بھی بقدر ضرورت اس میں داخل ہو سکتے ہیں۔ تیسرے حصے کے بعد باقی مال ورثا کا ہوگا، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو اس کی وصیت کی۔
[اللجنة الدائمة: 7742]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔