زنا کرنے سے کیا بیوی پر طلاق واقع ہو جاتی ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

عام طور پر سنتے ہیں کہ جو شادی شدہ نوجوان ملک سے باہر جاتے ہیں ان میں سے بعض زنا بھی کرتے ہیں، کیا اس زنا کی وجہ سے اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی؟

جواب:

کسی شخص کی زناکاری کی وجہ سے اس کی بیوی کو طلاق نہیں ہوگی لیکن ایسے لوگوں پر واجب ہوتا ہے کہ وہ اس سفر اور میل جول سے پرہیز کریں جو زنا کا باعث ہو، نیز اللہ سے ڈریں اور اللہ کو اپنے سے قریب سمجھیں اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے اپنی شرمگاہ کو بچائیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنَا إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلًا﴾
(الإسراء: 32)
”اور زنا کے قریب مت جاؤ یقیناً وہ فحش کام ہے اور برا راستہ۔“
اور دوسری جگہ فرمایا:
﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَٰهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ يَلْقَ أَثَامًا . يُضَاعَفْ لَهُ الْعَذَابُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَخْلُدْ فِيهِ مُهَانًا . إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا﴾
(الفرقان: 68-70)
”اور جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور اللہ نے جس نفس کو حرام کر دیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے، مگر حق کے ساتھ اور زنا نہیں کرتے اور جو زنا کرے گا، گنہگار ہوگا، قیامت کے دن اس کا عذاب دو گنا کر دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ جہنم میں ذلت کے ساتھ رہے گا، مگر جن لوگوں نے توبہ کی اور ایمان لائے اور نیک عمل کیا۔“
قرآن مجید کی ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ زنا کے قریب جانا، یا اسباب زنا کے قریب جانا حرام ہے اور دوسری آیت سے معلوم ہوا کہ شرک کرنے والے، ناحق کسی کو قتل کرنے والے، یا زنا کرنے والے کا عذاب دو گنا کر دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے۔ یہ بہت بڑی وعید ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ زنا ایسا کبیرہ گناہ ہے جو جہنم میں لے جائے گا اور زانی ہمیشہ جہنم ہی میں رہے گا لیکن زانی اور ناحق قاتل کا جہنم میں ہمیشہ رہنا مشرک کے جہنم میں ہمیشہ رہنے کی طرح نہیں ہے۔ اس لیے کہ مشرک کا عذاب کبھی ختم نہیں ہوگا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا، لیکن زانی اور قاتل اگر زنا اور قتل کو حلال سمجھ کر نہیں کرتے ہیں تو اہل سنت والجماعت کے نزدیک جہنم میں اس کی مدت کی انتہا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند کے ساتھ ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں رہتا اور چور چوری کرتے وقت مومن نہیں رہتا اور شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا۔“
(مسلم، كتاب الإيمان، باب بيان نقصان الإيمان الخ 57)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زنا کار چور اور شرابی جب ان برائیوں میں ملوث ہوتے ہیں تو اس وقت ان کا ایمان خارج ہو جاتا ہے، یہاں ایمان سے مراد ایمان کامل ہے جو ضروری ہے، یعنی ان برائیوں کو انجام دیتے وقت وہ کامل مومن نہیں رہتے اور اللہ کا خوف پوری طرح ان کے دلوں میں نہیں ہوتا اور ان برائیوں کے انجام اچھے نہیں ہوتے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اس برائی میں ملوث ہو گئے۔
لہذا اس فعل حرام کے ارتکاب کی وجہ سے وہ مجرم ضرور ہے، لیکن اس جرم کی پاداش میں اس کی بیوی کو طلاق واقع نہیں ہوگی۔