سوال :
کیا زانی جب زنا کرتا ہے، تو وہ ایمان سے خالی ہو کر کافر ہو جاتا ہے؟
جواب :
زنا گناہ کبیرہ ہے اور اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ مؤمن اگر کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرے، تو وہ کافر نہیں ہو جاتا، بلکہ مؤمن ہی رہتا ہے، البتہ اس کے ایمان میں کمی آجاتی ہے، وہ اگر بغیر توبہ کے مرجائے تو اللہ کی مشیت پر ہے، چاہے اسے معاف کر دے، چاہے عذاب دے کر جنت میں داخل کر دے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يزني الزاني حين يزني وهو مؤمن، ولا يشرب الخمر حين يشرب وهو مؤمن، ولا يسرق حين يسرق وهو مؤمن، ولا ينتهب نهبة، يرفع الناس إليه فيها أبصارهم حين ينتهبها وهو مؤمن.
” زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں ہوتا، نیز شرابی شراب پیتے وقت، چور چوری کرتے وقت اور ڈاکو ڈاکہ ڈالتے وقت مومن نہیں ہوتا، جب لوگ اس کی طرف نظر اٹھا کر دیکھ رہے ہوتے ہیں۔“
(صحيح البخاري: 2475، صحیح مسلم: 57)
جو اہل بدعت کبائر کے مرتکب کو ہمیشہ ہمیشہ جہنمی قرار دیتے ہیں، وہ اس حدیث سے استدلال کرتے ہیں، جبکہ ان کبائر کے ارتکاب سے ایمان کم ہوتا ہے، مگر وہ کافر نہیں ہوتا، اس پر اہل سنت کا اجماع ہے۔
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774ھ) اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
لا يلزم من ذلك كفره بإجماع المسلمين.
”ان گناہوں سے اس کا کفر ہونا لازم نہیں آتا، اس پر مسلمانوں کا اجماع ہے۔“
(تفسیر ابن كثير: 418/6)
دیگر احادیث اس کی وضاحت کرتی ہیں، ملاحظہ ہو؛
❀ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أتيت النبى صلى الله عليه وسلم وعليه ثوب أبيض، وهو نائم، ثم أتيته وقد استيقظ، فقال: ما من عبد قال: لا إله إلا الله، ثم مات على ذلك إلا دخل الجنة، قلت: وإن زنى وإن سرق؟ قال: وإن زنى وإن سرق قلت: وإن زنى وإن سرق؟ قال: وإن زنى وإن سرق قلت: وإن زنى وإن سرق؟ قال: وإن زنى وإن سرق على رغم أنف أبى ذر.
” میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ پر سفید کپڑا تھا، آپ سوئے ہوئے تھے، میں دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو چکے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص بھی لا الہ الا اللہ پڑھتا ہے، پھر اسی پر مر جاتا ہے، تو وہ ضرور جنت میں داخل ہوگا، میں نے عرض کیا: اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے تین مرتبہ یہ الفاظ دہرائے، ابوذر کی مرضی کے برخلاف۔“
(صحيح البخاري: 5827، صحیح مسلم: 94)
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أما قوله صلى الله عليه وسلم: وإن زنى وإن سرق فهو حجة لمذهب أهل السنة: أن أصحاب الكبائر لا يقطع لهم بالنار، وأنهم إن دخلوها أخرجوا منها، وختم لهم بالخلود فى الجنة.
”فرمان نبوی: ” اگرچہ وہ زنا کرے اور چوری کرے۔‘‘ اہل سنت والجماعت کے مذہب کی دلیل ہے کہ کبائر کے مرتکبین ہمیشہ جہنم میں نہیں رہیں گے، بلکہ وہ جہنم میں ڈالے جائیں گے، پھر نکال لیے جائیں گے، آخر کار جنت ہمیشہ ہمیشہ ان کے مقدر میں ہو جائے گی۔“
(شرح مسلم: 97/2)
❀ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فى مجلس، فقال: تبايعوني على أن لا تشركوا بالله شيئا، ولا تزنوا، ولا تسرقوا ولا تقتلوا النفس التى حرم الله إلا بالحق، فمن وفى منكم فأجره على الله، ومن أصاب شيئا من ذلك فعوقب به فهو كفارة له، ومن أصاب شيئا من ذلك فستره الله عليه، فأمره إلى الله، إن شاء عفا عنه، وإن شاء عذبه.
”ہم ایک مجلس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم مجھ سے بیعت کرو کہ اللہ کے ساتھ شرک، زنا، چوری اور ناحق قتل نہ کرو گے، جس نے یہ عہد پورا کیا، اس کا اجر اللہ پر ہے اور جو اس میں سے کسی جرم تک پہنچ گیا، پھر اسے اس کی (دنیا میں حد کی صورت میں) سزا دے دی گئی، تو وہ اس کا کفارہ بن جائیگی، اور جس نے اس میں کسی گناہ کا ارتکاب کیا، پھر اللہ نے اس کا جرم چھپا لیا، تو معاملہ اللہ کے سپرد ہے، چاہے گا، تو معاف کر دے گا اور چاہے گا، تو اسے سزا دے گا۔“
(صحيح البخاري: 7213 ، صحیح مسلم: 1709)
❀ امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ (294ھ) اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
في هذا الحديث دلالتان على أن السارق والزاني ومن ذكر فى هذا الحديث غير خارجين من الإيمان بأسره ؛
إحداهما: قوله: فمن أصاب من ذلك شيئا فعوقب فى الدنيا، فهو كفارة له والحدود لا تكون كفارات إلا للمؤمنين، ألا ترى قوله: ومن ستر الله عليه فأمره إلى الله، إن شاء غفر له، وإن شاء عذبه فإذا غفر له أدخله الجنة، ولا يدخل الجنة من البالغين المكلفين إلا مؤمن، وقوله صلى الله عليه وسلم: إن شاء غفر له وإن شاء عذبه هو نظير قول الله تبارك وتعالى: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ وأخبر أنه يغفر ما دون الشرك لمن يشاء يعني لمن أتى ما دون الشرك، فلقي الله غير تائب منه ولا جائز أن يغفر له ويدخله الجنة إلا وهو مؤمن.
”اس حدیث میں دو طرح سے اس بات پر دلالت موجود ہے کہ چور اور زانی وغیرہ ایمان سے بالکل خارج نہیں ہوتے، ایک تو اس طرح کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو ان گناہوں میں سے کسی گناہ کا مرتکب ہو گیا اور دنیا میں اسے سزا دے دی گئی، تو وہ اس کے لیے کفارہ بن جائیگی۔‘‘ حدود تو صرف مومنوں کے لیے کفارہ بنتی ہیں، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس کی اللہ ستر پوشی کر لے، اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے، وہ چاہے تو ان کو معاف کر دے اور چاہے تو عذاب دے۔“ جب اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا، تو جنت میں داخل کر دے گا اور اللہ تعالیٰ جنت میں بالغ اور مکلف لوگوں میں سے صرف مومنوں کو داخل کرتا ہے۔
نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان: اگر چاہے تو معاف کر دے اور چاہے تو عذاب کرے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرح ہے: ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ﴾ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ شرک کو معاف نہیں کرے گا اور اس کے علاوہ جسے چاہے جو چاہے معاف کر دے گا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس کے علاوہ جو گناہ اللہ جسے چاہے گا، معاف فرما دے گا، یعنی شرک کے علاوہ گناہ کیا اور اللہ کو بغیر توبہ کے ملا۔ ممکن نہیں کہ وہ مومن نہ ہو اور اللہ اسے معاف فرما کر جنت میں داخل کر دے۔“
(تعظيم قدر الصّلاة: 616/2)
بے شمار آیات و احادیث اس بارے میں موجود ہیں، نیز اجماع صحابہ و تابعین سے بھی یہی پتا چلتا ہے کہ کبیرہ گناہ کا مرتکب اپنے ایمان کی وجہ سے مومن اور اپنے کبیرہ گناہ کی وجہ سے فاسق ہے، اور آخرت میں اس کا معاملہ اللہ تعالیٰ کی مشیت پر ہے۔
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ (728ھ) فرماتے ہیں:
هؤلاء يقولون: إن أهل الكبائر يخلدون فى النار وإن أحدا منهم لا يخرج منها، وهذا من مقالات أهل البدع التى دل الكتاب والسنة وإجماع الصحابة والتابعين لهم بإحسان على خلافها.
”یہ (خوارج ومعتزلہ) کہتے ہیں کہ کبیرہ گناہوں کے مرتکبین ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، ان میں سے کوئی آگ سے نکل نہ پائے گا، یہ اہل بدعت کی وہ باتیں ہیں، جن کے خلاف کتاب وسنت اور اجماع صحابہ و تابعین کے دلائل موجود ہیں۔“
(مجموع الفتاوى: 670/7)