روزے کی نیت کیسے کریں؟ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

روزے کی نیت کیسے کریں؟

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من لم يجمع الصيام قبل الفجر فلا صيام له
ابو داؤد، کتاب الصوم : باب النية في الصيام (2454)، ترمذی ، کتاب الصوم: باب ما جاء لا صيام لمن لم يعزم من الليل (740) نسائی کتاب الصيام (2334) ابن ماجہ کتاب الصيام (1700) دارمی (1705)
جس نے فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا روزہ نہیں ہے۔
چونکہ تمام اعمال کا دار ومدار نیت پر ہے اور نیت کے بغیر کوئی عمل قابل قبول نہیں، مثلاً روزہ کی نیت نہ کی گئی اور روزہ جیسی پابندیاں اپنے اوپر عائد کر لیں تو روزہ نہ ہوگا بلکہ فاقہ ہوگا۔ یہ بھی یاد رہے کہ نیت کے لیے زبان سے تلفظ کی ضرورت نہیں۔ یہ دل کا فعل ہے۔ بعض حضرات نے روزے کی نیت کے یہ الفاظ وضع کیے ہیں : وبصوم غد نويت من شهر رمضان (میں نے ماہ رمضان کے کل کے روزے کی نیت کی) یہ الفاظ کسی حدیث سے ثابت نہیں اور نیت بھی کل آنے والے دن کی کر رہا ہے۔
علامہ ابن منظور رحمہ اللہ رقمطراز ہیں :
أصل الغد وهو اليوم الذى يأتى بعد يومك
لسان العرب (10/ 26)
”غد“ کا اصل یہ ہے کہ وہ دن جو تیرے آج کے دن کے بعد ہوگا۔
لہذا یہ الفاظ معنوی طور پر بھی درست معلوم نہیں ہوتے۔

زبان سے پکار کر روزہ کی نیت کرنا :۔

ہر سال رمضان المبارک کے آنے سے قبل ہی افطاری و سحری کے اوقات کے تجارتی کیلنڈر شائع ہو کر تقسیم ہونا شروع ہو جاتے ہیں، جن پر اوقات نامہ اور روزہ رکھنے کی نیت وبصوم غد نويت من شهر رمضان کے الفاظ بھی عموماً دیکھے گئے ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ میں نے کل کے رمضان کے روزے کی نیت کی۔ جہاں تک نیت کا تعلق ہے تو تمام اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے اور نیت کے بغیر کوئی عمل بھی قابل قبول نہیں ہے۔ مثلاً : اگر نماز کی نیت کی طرح روزہ کی نیت نہ کی گئی اور روزہ جیسی پابندیاں اپنے اوپر عائد کر لیں اور اس کے لوازمات کو بھی ادا کرنے میں سارا دن کوئی کوتاہی نہ کی تو پھر بھی روزہ نہ ہوگا بلکہ فاقہ ہوگا جس کا اس کو کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
جس نے فجر سے پہلے روزے کی نیت نہ کی اس کا کوئی روزہ نہیں ہے۔ (ابوداؤد، کتاب الصوم: باب النية فى الصيام 2454)
تمام عبادات میں نیت ضروری ہے چاہے نماز ہو زکوۃ ہو یا روزہ۔
جیسا کہ صحیح حدیث میں ہے :
إنما الأعمال بالنيات
بخاری، کتاب بدء الوحی ، مسلم کتاب الامارۃ باب قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم إنما الأعمال بالنية (1907)
تمام اعمال کا دارو مدار نیت پر ہے۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ہاں اعمال کی دو اقسام ہیں :
وہ اعمال جو اصل مقصد کے لیے تو نہیں لیکن اصل مقصد تک پہنچنے کا ذریعہ ہوں جیسے وضوء اور غسل ان کی نیت اگر نہ بھی کی جائے تو درست ہوگا۔
آخر الذکر مسئلہ کا حکم امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی اپنی رائے اور قیاس تک محدود ہے۔ شرعی دلائل میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی اور نہ کوئی دلیل اس مسئلہ کی مؤید ہے۔ کیونکہ إنما الأعمال بالنيات کے الفاظ مطلق اعمال پر دلالت کر رہے ہیں، اس سے کوئی عبادت بھی چاہے وہ بالواسطہ ہو یا بذات خود عبادت مستقلہ ہو خارج نہیں ہے۔
روزے میں نیت احناف کے ہاں بھی ضروری ہے مگر مروجہ نیت من گھڑت اور خود ایجاد کردہ ہے۔ چنانچہ احادیث مبارکہ سے جو بات ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ نیت زبان سے نہیں ہوتی بلکہ اس کا محل دل ہے۔ دل سے نیت ضروری ہے۔ اس بات کی شہادت فقہ کی معتبر کتب میں بھی موجود ہے کہ نیت کا محل دل ہے زبان نہیں۔ لیکن اگر یہ الفاظ زبان سے ادا کر بھی لیے جائیں تو نیت نیت نہیں رہتی بلکہ کلام بن جاتی ہے، جس کا جواز کہیں موجود نہیں ہے۔ جملہ عبادات مثلاً : طہارت نماز روزہ حج اور زکوۃ وغیرہ میں بالاتفاق نیت کی جگہ دل ہے زبان نہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
والشرع خصصه بالإرادة المتوجهة نحو الفعل لابتغاء مرضاة الله و امتثال حكمه
فتح الباری
شریعت نے نیت کے لفظ کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کسی کام کے ارادے کے لیے خاص کیا ہے۔
معلوم ہوا کہ اعمال میں اعتبار قلبی نیت کا ہوگا اگر اس کے خلاف زبان سے کچھ کہے تو اعتبار محض لفظوں کا نہیں ہوگا۔ اگر محض زبان سے نیت کرے مگر دل میں نہ ہو تو بالاتفاق یہ ناجائز ہے کیونکہ نیت تو قصد و عزم کا نام ہے۔ لہذا روزہ دار اور نمازی کو روزہ رکھنے اور نماز شروع کرنے سے پہلے الفاظ کے ساتھ نیت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، بلکہ لفظی نیتیں بدعت اور من گھڑت ہیں، جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :
ہر گھڑی ہوئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی دوزخ میں لے جانے والی ہے۔ (نسائی کتاب صلاة العيدين باب كيف الخطبة : 10579)
معزز قارئین ! نماز اور روزہ دونوں ہی اہم ترین عبادتیں ہیں، لیکن اگر ان کو بھی بدعات سے نہ بچایا گیا اور اہل بدعت کے حربے کو ناکام نہ بنایا گیا تو پھر ہماری کوئی عبادت بھی اللہ تعالی کے ہاں قابل قبول نہ ہوگی۔
لہذا روزے سے پہلے بول کر نیت کرنے کی کوئی وقعت نہیں، صرف دل ہی میں پختہ ارادے کے ساتھ روزے کی نیت کر لینا قابل قبول ہوگا۔

روزے کا اجر ضائع کر دینے والے اعمال :۔

یہ وہ اعمال ہیں جن کے کرنے سے روزے کا اجر ضائع ہو جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من لم يدع قول الزور والعمل به فليس لله حاجة فى أن يدع طعامه وشرابه
بخاری کتاب الصوم : باب من لم يدع قول الزور والعمل به في الصوم (1903)
”جس آدمی نے روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا ترک نہ کیا تو اللہ وحدہ لاشریک لہ کو اس کا کھانا پینا چھوڑنے کی کوئی حاجت نہیں۔“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وإذا كان يوم صوم أحدكم فلا يرفث ولا يصخب فإن سابه أحد أو قاتله فليقل إني امرؤ صائم
بخاری کتاب الصوم: باب هل يقول إني صائم إذا شتم (1904) ، مسلم کتاب الصیام باب فضل الصیام (1151)
”جب تم میں سے کوئی روزہ دار ہو تو وہ شہوت انگیز گفتگو نہ کرے اور نہ شور و غوغا سے کام لے اگر اسے کوئی گالی گلوچ کرے یا اس سے لڑائی کرے تو کہہ دے : میں روزہ دار ہوں۔“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
كم من صائم ليس له من صيامه إلا الظمأ وكم من قائم ليس له من قيامه إلا السهر
دارمی (2733) ، احمد (3732) ، حاکم (1/ 131) ، بیہقی (4/ 270) ، شرح السنۃ (6/ 447) ابن ماجہ کتاب الصیام باب ما جاء في الغیبة (1690)
”کتنے روزے دار ایسے ہیں جنہیں اپنے روزہ سے پیاس کے سوا کچھ نہیں ملتا اور کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں اپنے قیام سے بیداری کے سوا کچھ نہیں ملتا۔“
مذکورہ بالا صحیح احادیث سے معلوم ہوا کہ روزہ دار کو حالت روزہ میں گالی گلوچ بدکلامی فحش گوئی تہمت طرازی، عیب جوئی دروغ گوئی جھوٹ کی اشاعت، جھوٹ پر عمل، کذب بیانی، غیبت اور دیگر شیطانی امور سے اجتناب از حد ضروری ہے وگرنہ روزے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ جو آدمی بھوکا پیاسا رہ کر امور بالا کا مرتکب ہوگا اس کا روزہ نہیں بلکہ فاقہ ہوگا۔
اسی طرح شب زندہ دار ہو کر اخلاق رذیلہ کا پیکر بنے اور برے اعمال کا مرتکب ہو تو اسے رات کی بیداری کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا۔ ہمارے ملکی اخبارات و جرائد کے ایڈیٹر حضرات کو بھی سوچنا چاہیے جو جھوٹ کی اشاعت اور جرائم کو ہوا دینے سے رمضان المبارک میں بھی باز نہیں آتے اور تقریباً تمام اخبارات فاحشہ اور بدکار عورتوں کی تصاویر نمایاں طور پر شائع کرتے ہیں۔ اگر حالت روزہ میں ایسے امور سے اجتناب نہ کیا گیا تو روزے کا کوئی فائدہ نہیں۔