مضمون کے اہم نکات
رمضان المبارک میں کی جانے والی بعض غلطیاں :۔
معزز قارئین ! رمضان المبارک اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے اور یہ سال میں ایک دفعہ مسلمانوں کو نصیب ہوتا ہے۔ کچھ خوش قسمت ایسے ہیں جو اس کی بابرکت گھڑیوں سے خوب استفادہ کرتے ہیں اور آنسوؤں کی برسات سے گناہوں بھرا دامن پاک کر لیتے ہیں۔ رحمت الہی کے بیش بہا خزانوں سے جھولیاں خوب بھرتے ہیں۔ اپنے پروردگار کو راضی کر کے دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو غفلت کی لمبی چادر تانے اس مہینہ کو گزار دیتے ہیں اور اس کی برکتوں سے یکسر محروم رہتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو خود ساختہ مسائل پر عمل پیرا ہو کر ثواب دارین کی امید رکھتے ہیں۔ ہم اپنی ان گزارشات میں فقط ان غلطیوں کی نشاندہی اور ان کے متعلق دین اسلام کا موقف واضح کرنے کی کوشش کریں گے جن کا ارتکاب لوگ رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں کرتے ہیں۔
➊ سحری جلدی کھانا :۔
ہمارے ہاں بعض روزہ دار سحری کا وقت ختم ہونے سے کافی دیر پہلے سحری کھا لیتے ہیں یہ فعل سنت کے خلاف ہے۔ سنت یہ ہے کہ سحری کو تاخیر سے کھائے تاکہ وہ پورے اجر کا مستحق ہو سکے۔
”سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سحری کھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لئے کھڑے ہو گئے، پوچھا گیا کہ اذان اور سحری کے درمیان کتنا وقفہ تھا، انہوں نے کہا : پچاس آیات کے بقدر۔“ اس حدیث سے پتہ چلا کہ سحری جلدی نہیں کھانی چاہیے۔
➋ حَیَّ عَلَی الصَّلٰوة پر کھانا بند کر دینا :۔
ہمارے ملک کے کئی علاقوں میں یہ ذہن پایا جاتا ہے کہ صبح کی اذان میں جب مؤذن حَيَّ عَلَي الصَّلٰوة کہے تو اگر کوئی روزہ دار سحری کھا رہا ہے تو فوراً بند کر دے۔ یہ فعل بھی سنت کے خلاف ہے۔ کھانے پینے سے رکنے کے لئے حَيَّ عَلَي الصَّلٰوة کے کلمات کسی آیت یا حدیث میں مذکور نہیں ہیں۔
اللہ تعالی نے فرمایا : ”کھاؤ پیو یہاں تک کہ فجر کے وقت تمہارے لئے سفید دھاری سیاہ دھاری سے الگ ہو جائے۔“ (البقرہ : 187)
البتہ اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اذان ختم ہونے تک یا اس کے بعد سحری کھائی جائے بلکہ اصل بات سیاہ دھاری اور سفید دھاری کا الگ ہونا ہے اگر اذان پورے وقت پر ہوتی ہے تو اذان سے پہلے ہی کھانا پینا بند کر دینا چاہئے۔ اذان سے سحری کے ختم ہونے کا اعلان کیا جاتا ہے نہ کہ کلمہ حَيَّ عَلَي الصَّلٰوة پر سحری کا وقت ختم ہوتا ہے۔
➌ اذان فجر کے دوران کھانا پینا :۔
بعض لوگ جان بوجھ کر سحری لیٹ کرتے رہتے ہیں اور پھر اذان فجر کے دوران جلدی جلدی کھانے پینے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ آدمی جس نے اس فعل کو عادت بنا رکھا ہے بعض دفعہ اس کا روزہ فاسد ہو سکتا ہے خصوصاً اگر اذان تھوڑی سی بھی لیٹ ہو، یا عین وقت ختم ہونے پر شروع ہو۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک بلال رضی اللہ عنہ رات کو اذان دیتے ہیں تم کھاؤ اور پیو یہاں تک ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ اذان دے۔ (متفق علیہ)
یعنی پہلی اذان کے بعد کھانے اور دوسری اذان پر رک جانے کا حکم ہے۔ یہ تو اس آدمی کے حق میں فیصلہ ہے جو اس کو عادت بنا لے لیکن اس کے ساتھ یہ عرض بھی کرنا چاہوں گا اگر کبھی ایسے ہو کہ انسان کچھ کھا پی رہا ہو اور اذان شروع ہو جائے تو پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو مدنظر رکھے :
اگر تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اس کو نیچے نہ رکھے حتی کہ وہ اپنی حاجت پوری کر لے۔ (ابو داؤد : 2350)
اس لئے مذکورہ دونوں احادیث میں تطبیق یہی ہے کہ انسان اس فعل کو عادت نہ بنائے کبھی کبھار ایسے ہو جائے تو کوئی حرج نہیں۔
➍ فجری اذان جلدی کہنا :۔
بعض علاقوں میں سحری کا وقت ختم ہونے سے 10-15 منٹ احتیاط کو سامنے رکھتے ہوئے اذان فجر کہہ دی جاتی ہے، ایسے لوگ تعریف کے مستحق نہیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
المؤذن مؤتمن
”مؤذن امانت دار ہے۔“
(ابو داؤد : 517)
بعض علاقوں میں پندرہ بیس منٹ پہلے ہی اذان کہہ دی جاتی ہے یہ ذاتی رائے اور عقل کو شریعت پر مقدم کرنے کی قبیح حرکت ہے۔ اگر کسی علاقہ میں اذان پہلے کہنے کا رواج جڑیں پکڑ چکا ہے تو ایسی اذان کے بعد طلوع فجر تک کھانا پینا جائز ہے۔
➎ بھول کر کھانے پینے والے پر سختی :۔
ہمارے ہاں بعض لوگ بھول کر کھانے پینے والوں پر بہت سختی کرتے ہیں اور جو آدمی بھول کر کھا پی لیتا ہے اس کے روزہ میں شک کرتے ہیں۔ بھول کر کھا پی لینے سے روزہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا یعنی روزہ ٹوٹتا نہیں ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جب تم میں سے کوئی ایک بھول کر کھا پی لے تو وہ اپنا روزہ پورا کرے۔ پس بے شک اللہ تعالی نے اسے کھلایا پلایا ہے۔“
➏ بھول کر کھانے والے کو نہ بتلانا :۔
ہمارے ہاں یہ بات دیکھنے میں آئی ہے کہ اگر روزہ دار بھول کر کوئی چیز کھا رہا ہو تو اسے دیکھنے والے تنبیہ کرنے کی بجائے خاموش رہتے ہیں۔ وہ اس بات کے قائل ہیں اس کو اللہ تعالی کھلا رہا ہے لہذا ہم اسے بتا کر اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ رزق منقطع نہیں کرنا چاہتے۔ یہ منطق بھی صحیح نہیں۔ حدیث میں جو یہ لفظ وارد ہوئے ہیں وہ اپنا روزہ پورا کرے اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا پلایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کا روزہ صحیح ہے، یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اسے بتایا نہ جائے کیونکہ روزہ کی حالت میں کھانا پینا منع ہے جب اس کی خلاف ورزی ہو رہی ہو تو تنبیہ کرنا ضروری ہے۔
➐ اذان مغرب کی تاخیر :۔
بعض مساجد میں احتیاط کے نام پر مغرب کی اذان تاخیر سے ہوتی ہے تاکہ سورج غروب ہونے کی تسلی ہو جائے۔ یہ منطق بھی قرآن و حدیث کی کسوٹی پر ہرگز پوری نہیں اترتی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ ”پھر رات تک اپنا روزہ پورا کرو۔“ (سورۃ البقرہ : 187)
سورج غروب ہوتے ہی رات شروع ہو جاتی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سحری تاخیر سے کھانے اور افطاری جلد کرنے کا حکم دیا ہے لہذا جوں ہی سورج غروب ہو روزہ افطار کر لینا چاہئے اور اس عقلی منطق کے ذریعے اسلام پر حملہ کرنے کی بجائے کسی دوسرے کام میں لگانا چاہئے۔
یہ بھی یاد رہے کہ افطاری میں تاخیر یہود و نصاری کی مشابہت ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”لوگ اس وقت تک بھلائی پر رہیں گے جب تک افطاری میں جلدی کرتے رہیں گے۔“ (متفق علیہ)
اور فرمایا : ”تین چیزیں اخلاق نبوت میں سے ہیں افطاری جلد کرنا اور سحری میں تاخیر کرنا اور نماز میں دائیاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر رکھنا۔“ (طبرانی)
➑ مسواک نہ کرنا :۔
بعض لوگ روزہ کی حالت میں مسواک نہیں کرتے اور بعض لوگ زوال کے بعد اور بعض عصر کے بعد مسواک کو اچھا نہیں سمجھتے۔ یاد رہے کہ روزہ کی حالت میں کسی بھی وقت مسواک ممنوع نہیں ہے اس سلسلہ میں پیش کی جانے والی حدیث سخت ضعیف اور نا قابل عمل ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو مسواک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا : مسواک منہ کے لئے صفائی اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ (صحیح الجامع الصغیر)
➒ حالت جنابت اور روزہ :۔
بعض لوگ حالت جنابت کو روزہ ختم ہونے کا سبب سمجھتے ہیں اور بعض لوگ سحری کے وقت جنبی حالت میں کھانے کو غلط تصور کرتے ہیں یہ دونوں باتیں ہی غلط ہیں، اگر روزہ کی حالت میں نیند وغیرہ میں انسان جنبی ہو جائے تو اس کا روزہ بالکل صحیح ہے اور اسی طرح اگر وقت کم ہو تو وہ غسل کرنے سے قبل سحری کھا سکتا ہے اور بعد میں غسل کرے، کہیں ایسا نہ ہو کہ غسل کرتے کرتے سحری کا وقت ختم ہو جائے۔ از خود احتلام روزے کو باطل نہیں کرتا کیونکہ یہ روزہ دار کے اختیار میں نہیں اور اس کو کسی بھی حدیث میں نواقض روزہ میں ذکر نہیں کیا گیا۔
➓ رمضان المبارک کی راتیں اور بیوی سے تعلق :۔
بعض لوگ رمضان المبارک کی راتوں میں اپنی بیویوں سے ازواجی تعلقات قائم نہیں کرتے اور نہ ہی اسے جائز سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ممانعت صرف دن کے وقت ہے جب کہ انسان روزہ سے ہو۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا : ”روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے تمہاری بیویوں سے تعلق کو جائز قرار دیا گیا ہے وہ تمہارا لباس ہیں اور تم ان کا لباس ہو۔“ (سورۃ البقرہ : 187)
⓫ کھانے کا ذائقہ چکھنا :۔
بعض عورتیں روزہ کی حالت میں کھانے کا نمک وغیرہ چیک کرنے کے لئے کسی بچے کو کہتی ہیں اور خود نہیں چکھتیں جس سے بعض دفعہ عجیب سی صورتحال جنم لیتی ہے۔ علماء سلف اور موجودہ دور کے محققین نے اس بات کی اجازت دی ہے کہ عورت کھانے میں نمک مرچ وغیرہ چیک کر سکتی ہے، اس کو فقط زبان پر لگائے اس کا اثر آگے نہ جانے دے، ہاں اگر کھانے کا اثر حلق تک جانے کا اندیشہ ہو تو پھر رہنے دے۔
⓬ حیض و نفاس والی عورتیں :۔
بعض عورتیں نفاس کے چالیس ایام پورے ہونے سے قبل ہی پاک ہو جاتی ہیں یعنی ان کا خون رک جاتا ہے اور وہ غسل کر لیتی ہیں مگر وہ اس لئے روزہ نہیں رکھتیں کہ ابھی چالیس دن پورے نہیں ہوئے۔ یہ حقیقت میں زبردست غلطی ہے۔ عورت اگر چالیس دن سے پہلے پاک ہو جائے تو اسے فوراً نماز اور روزہ کا اہتمام کرنا چاہئے۔ اسی طرح وہ عورت جو حیض و نفاس کے عارضہ سے فجر سے پہلے پاک ہو جائے اسے چاہئے کہ سحری کھا لے اور بعد میں غسل کر لے کیونکہ سحری کھانے کے لئے غسل ضروری نہیں۔ اگر وقت کم ہو تو وہ کھانا کھانے کے بعد غسل کرے گی اور فجر کی نماز اور روزہ پورا کرے گی۔
⓭ عورتوں کا خوشبو لگا کر نماز تراویح میں شریک ہونا :۔
بعض عورتیں خوشبو لگا کر نماز تراویح کے لئے مسجد میں حاضر ہوتی ہیں یہ فعل حرام اور مقاصد شریعت کے سراسر منافی ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو عورت خوشبو لگا کر مسجد میں نماز کے لئے آئے اس کی نماز اس وقت تک قبول نہیں ہوتی جب تک وہ غسل نہ کرے۔ (ابن ماجہ)
اور بعض احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی عورت کو زانیہ قرار دیا ہے۔
⓮ نماز تراویح کے رکوع میں شامل ہونا :۔
ہمارے ہاں بعض لوگوں کی عادت ہے کہ وہ نماز تراویح کے رکوع میں شامل ہوتے ہیں تاکہ لمبے قیام سے بچا جا سکے اور دلیل یہ دی جاتی ہے کہ حدیث میں آیا ہے کہ جس نے رکوع پا لیا اس نے رکعت پا لی۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ حدیث تحقیق کے ترازو میں پوری نہیں اترتی اور دوسری بات کہ رکوع میں شامل ہونے والے تراویح کے مقصد کو نہیں جانتے اور وہ اس بابرکت کام کی روح سے بے خبر ہیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے ایمان اور احتساب کے ساتھ رمضان المبارک کا قیام کیا اس کے سارے گناہ معاف کر دئیے جاتے ہیں۔“(متفق علیہ)
⓯ جماعت میں ملنے کے لئے جلدی جلدی رکعت ادا کرنا :۔
بعض لوگ اگر نماز تراویح سے لیٹ ہو جائیں اور امام ایک رکعت ادا کر لے تو وہ جماعت میں ملنے کے لئے جلدی جلدی رکعت ادا کرتے ہیں اور پھر امام کے ساتھ شامل ہوتے ہیں یہ زبردست غلطی ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو تم پالو وہ پڑھ لو اور جو فوت ہو جائے اس کو پورا کرو۔ اس لئے اگر نماز تراویح میں امام ایک رکعت پڑھ چکا ہو تو اس کے ساتھ شامل ہو جانا چاہئے اور بقیہ نماز سلام کے بعد پوری کر لینی چاہئے۔
⓰ نماز تراویح کو جلدی جلدی ادا کرنا :۔
ہمارے ہاں یہ عجیب بیماری عام ہے کہ نماز تراویح اتنی تیز پڑھی جاتی ہے کہ انسان کوئی تسبیح و تحمید بھی اچھی طرح نہیں پڑھ سکتا اور اس سے بڑھ کر افسوس کی بات یہ ہے کہ قرآن مجید کو اس تیز رفتاری سے پڑھا جاتا ہے کہ الحفیظ والامان۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا : ”اور قرآن مجید کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔“ قرآن مجید کو اس انداز سے پڑھنا ثواب کی بجائے باعث گناہ ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی ایک نشانی یہ بھی بتائی ہے کہ وہ نماز اتنی تیز ادا کرتا ہے جیسے کوا ٹھونگیں مار رہا ہو۔
مسلمان بھائیو! نماز تراویح کے مقصد کو سمجھنے کی کوشش کرو اور رسمی طور پر قیام رمضان کی بجائے ایمان اور احتساب کے ساتھ قرآن سنو۔ ہمارے دلوں پر قرآن مجید اثر نہیں کرتا، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے ہم اس کی تلاوت کا حق ادا نہیں کرتے اور تلاوت کی بجائے اس کی توہین کرتے ہیں۔
اور اگر شبینہ کی تلاوت سنی جائے تو حفاظ کرام اتنی سپیڈ سے قرآن مجید پڑھتے ہیں کہ کسی لفظ کی کوئی سمجھ نہیں آتی۔ سوچنے کی بات ہے کہ کس نے پابند کیا ہے کہ تین راتوں میں مکمل قرآن سنا جائے۔ قرآن کا تقدس پامال کرنے کی بجائے بہتر تھا کہ تھوڑا سن لیا جاتا مگر اس کے آداب کا مکمل خیال رکھا جاتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” بے شک وہ مؤمن کامیاب ہو گئے ، جو اپنی نمازوں میں اللہ سے ڈرتے ہیں۔“ (سورۃ المؤمنون: 1-2)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”سب سے بدترین چور وہ ہے جو نماز کی چوری کرتا ہے، صحابہ رضی اللہ عنہ عرض کرنے لگے : نماز میں چوری کیسے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ رکوع اور سجود پورا نہیں کرتا۔“
⓱ قنوت نازلہ میں اوپر دیکھنا :۔
بعض لوگ قنوت نازلہ میں دعا کے لئے جب ہاتھ اٹھاتے ہیں تو اوپر دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔ یہ فعل بھی غلط ہے اور اس کی وعید نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے وارد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی سزا یہ بیان کی کہ قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نظروں کو اچک لے۔
⓲ سرمہ نہ لگانا :۔
بعض لوگ روزہ کی حالت میں سرمہ لگانے کو برا خیال کرتے ہیں اس دعوئی کی کوئی دلیل ہمارے علم میں نہیں، روزہ کی حالت میں سرمہ لگانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا۔ ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے امید کرتے ہیں کہ وہ ان غلطیوں کی اصلاح کریں گے اور ہمارے لئے رمضان المبارک کی بابرکت گھڑیوں میں خلوص دل سے دعا گو رہیں گے۔