رفع یدین پر حدیث ابی موسیٰ اشعریؓ بحوالہ سنن دار قطني

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔

حدیث ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ

عن أبى موسى الأشعري قال: هل أريكم صلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم فكبر و رفع يديه ثم كبر ورفع يديه ثم قال: سمع الله لمن حمده ثم رفع يديه، ثم قال: هكذا فاصنعوا ولا يرفع بين السجدتين
سیدنا أبو موسى الأشعري رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ میں آپ کو رسول الله صلى الله عليه وسلم والی نماز پڑھ کر دکھاؤں؟ پس آپ نے اللہ أكبر کہہ کر رفع اليدين کیا پھر (رکوع کے وقت) اللہ أكبر کہہ کر رفع اليدين کیا۔ پھر سمع الله لمن حمده کہہ کر رفع اليدين کیا اور فرمایا کہ اس طرح کیا کرو اور سجدوں میں رفع اليدين نہ کیا جائے۔ (سنن دار قطني ج 1 ص 292 ح 111 وسنده صحیح)

◈سند کی تحقیق

یہ حدیث بلحاظ سند صحیح ہے۔ اس کے سارے راوی ثقہ ہیں اور اس میں کوئی علت قادحہ نہیں ہے۔
① دعلج بن أحمد شیخ الدار قطني ثقہ ثبت تھے۔ (تاريخ بغداد 388/8)
② عبدالله بن شيرويه ثقہ بالاتفاق تھے۔ (تذكرة الحفاظ 706/3 ت 725)
③ اسحٰق بن راہويه مشہور ثقہ إمام اور مصنف ہیں۔ ان کی احادیث صحیحین میں موجود ہیں اور ان کی المسند بھی مشہور ہے۔ (روایت ہے کہ إمام نسائي نے کہا: ثقة مأمون إمام( تذكرة الحفاظ للذہبي 434/2)
اختلاط کے دعوی کی تردید کے لیے ملاحظہ فرمائیں۔ (سير اعلام النبلاء ج 1 ص 378-377)
④ النضر بن شميل ثقہ ثبت ہیں۔ (تقريب التهذيب: 7135)
⑤حماد بن سلمة ثقہ تھے۔ (الجرح والتعديل 142/3 عن ابن معين وسنده صحیح)
حماد سے نضر بن شمیل کی روایت صحیح مسلم میں موجود ہے۔ (تہذیب الكمال للمزي مطبوع ج 7 ص258)
لہذا نضر کا سماع حماد سے اختلاط سے پہلے کا ہے۔
⑥ أزرق بن قيس: ثقہ (تقريب التهذيب: 302)
⑦ حطان بن عبد الله: ثقہ (تقريب التهذيب: 1399)
حطان رحمہ الله سیدنا أبو موسى رضی الله عنه سے یہ روایت کر رہے ہیں۔ یہ مرفوع حدیث بلحاظ سند صحیح ہے اور موقوفا بھی صحیح سند سے مروی ہے۔
(مسائل أحمد بن حنبل برواية صالح بن أحمد بن مقبل ص174 موقوف و أسناده صحیح الاوسط لأبي بكر محمد بن إبراهيم بن المنذر النيسابوري مخطوط ج 1 ص 148 و مطبوع 138/3 و أسناده صحیح)
لہذا مرفوع اور موقوف دونوں طرح صحیح ہے۔ والله أعلم
➒ ،➓ عن عطاء بن أبى رباح قال صليت خلف عبدالله بن الزبير فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع فسألته فقال عبدالله بن الزبير: صليت خلف أبى بكر الصديق رضى الله عنه فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع وقال أبو بكر: صليت خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان يرفع يديه إذا افتتح الصلاة وإذا ركع وإذا رفع رأسه من الركوع.
عطاء بن أبي رباح رحمہ الله نے کہا: میں نے عبدالله بن زبير رضی الله عنه کے پیچھے نماز پڑھی ہے وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع اليدين کرتے تھے، میں نے ان سے پوچھا تو عبدالله بن زبير رضی الله عنه نے کہا: میں نے أبو بكر الصديق رضی الله عنه کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ وہ نماز شروع کرتے وقت، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع اليدين کرتے تھے۔
اور سیدنا أبو بكر رضی الله عنه نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلى الله عليه وسلم کے پیچھے نماز پڑھی ہے۔ آپ نماز شروع کرتے وقت، رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد رفع اليدين کرتے تھے۔
إمام بيهقي، حافظ ذہبي اور ابن حجر نے کہا کہ اس (حدیث) کے راوی ثقہ ہیں۔
( السنن الكبرى للبيهقي 73/2 وقال: رواته ثقات، المهذب في اختصار السنن الكبير للذہبي 49/2 ح 1943 وقال: رواته ثقات، التلخيص الحبير لابن حجر العسقلاني 1/219 ح 328 وقال: ورجاله ثقات)

◈سند کی تحقیق

أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفار الزاہد کے بارے میں حافظ ذہبي نے کہا: الشيخ الإمام المحدث القدوة. (سير اعلام النبلاء 437/15)
انھیں بيهقي وغیرہ نے ثقہ قرار دیا ہے۔ حاكم اور ذہبي نے ان کی بیان کردہ حدیث کو صحيح على شرط الشيخين کہہ کر ان کی توثیق کر دی ہے۔ (دیکھئے المستدرك ج 1 ص 30 ح 82)
ان کے حالات درج ذیل کتابوں میں مذکور ہیں۔ أخبار أصبهان (271/2) الأنساب (546/3) الإنتظام (368/6) العبر (250/2) أخبار أصبهان انھوں نے إمام عبد الله بن الإمام أحمد بن حنبل سے المسند الكبير کا سماع کیا تھا۔ (النبلاء 437/15)
محمد بن عبد الله الصفار نے أبو إسماعيل السلمي سے حدیث سنی ہے۔ (دیکھئے المستدرك ج 1 ص 117 ح 403)
وہ مدلس نہیں تھے۔ (حاشیہ جلاء العينين تخریج روایات جزء رفع اليدين ص 8 الشيخنا فيض الرحمن الشورى)
لہذا ان کا عنعنہ اتصال پر محمول ہے۔
محمد بن إسماعيل أبو إسماعيل السلمي ثقہ تھے۔ (سير اعلام النبلاء 242/13)
ان کو نسائي، دارقطني، الحاكم، أبو بكر، الخلال اور ابن حبان وغیرہم نے ثقہ کہا۔ (تہذیب التهذیب 53،54/9)
ابن أبي حاتم کا قول ”تكلموا فيه“ کئی لحاظ سے مردود ہے:
● یہ اکثریت کی توثیق کے خلاف ہے۔
● یہ جرح غیر مفسر ہے۔
● اس کا جارح نا معلوم ہے۔
حافظ أحمد بن علي العسقلاني نے کہا: ثقة حافظ لم يتضح كلام ابن أبى حاتم فيه یہ ثقہ حافظ ہیں اور ان میں ابن أبي حاتم کا کلام غیر واضح (مبہم) ہے۔ (تقريب: 5738)
أبو النعمان محمد بن الفضل عارم کتب ستہ کے مرکزی راوی ہیں۔ انھیں أبو حاتم وغیرہ نے ثقہ قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبي نے کہا: ”الحافظ الثبت الإمام“ (سير اعلام النبلاء 265/10)
وہ آخری عمر میں تغیر کا شکار ہو گئے تھے۔ (تقريب التهذيب: 6236 ولفظه: ثقة ثبت تغير في آخر عمره)
انھیں اختلاط ہوا۔ (هدي الساري ص 441)
حتی کہ ان کی عقل زائل ہوگئی۔ (الجرح والتعديل 59/8)
یہ کہہ کر حافظ ذہبي نے اس بحث کا قطعی فیصلہ کر دیا کہ تغير قبل موته فما حدث وہ موت سے پہلے تغیر (ضعف حافظه و اختلاط) کا شکار ہوئے اور اس حالت تغیر میں انھوں نے کوئی حدیث بھی بیان نہیں کی۔ (الكاشف 79/3 ت 1597)
دوسرے یہ کہ ان کے پیچھے اس حدیث کے راوی أبو إسماعيل السلمي نے نماز پڑھی ہے۔ جس کی عقل زائل ہو گئی ہو اس کے پیچھے وہی نماز پڑھتا ہے جس کی خود عقل زائل ہوتی ہے! لہذا یہ روایت اختلاط سے پہلے کی ہے اور بالکل صحیح ہے۔ والله أعلم