سوال:
ایک یا دو رجعی طلاقیں دیں، عورت کی عدت بھی ختم ہو گی ، اب گھر آباد کرنے کی کیا صورت ہے؟
جواب :
نکاح جدید کے ساتھ بیوی بنا سکتا ہے۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ
(2-البقرة:232)
”جب تم بیویوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت ختم ہو جائے ، تو تم (اولیا ) انہیں اپنے سابقہ شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو، جب وہ باہم رضا مند ہو جائیں۔“
❀ سید نا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إن أخت معقل بن يسار طلقها زوجها فتركها حتى انقضت عدتها، فخطبها، فأبى معقل فنزلت : ﴿ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ ﴾ (البقرة : 232)
سید نا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بہن کو ان کے شوہر نے طلاق دے دی ، عدت ختم ہونے تک چھوڑے رکھا، پھر نکاح کا پیغام بھیجا، تو سید نا معقل رضی اللہ عنہ نے انکار کر دیا۔
اس پر یہ آیت نازل ہوگئی:
﴿ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ ﴾
(البقرة : 232)
انہیں اپنے سابقہ شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو۔“
(صحيح البخاري : 4529)
❀ سید نا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كانت لي أخت تخطب إلى فأتاني ابن عم لي فأنكحتها إياه، ثم طلقها طلاقا له رجعة، ثم تركها حتى انقضت عدتها، فلما خطبت إلى أتاني يخطبها، فقلت : لا ، والله لا أنكحها أبدا، قال : ففي نزلت هذه الآية وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن الآية، قال : فكفرت عن يميني فأنكحتها إياه .
” مجھے اپنی بہن کی منگنی کا پیغام ملا۔ میرے چچا زاد آئے ، تو میں نے ان سے اپنی بہن کا نکاح کر دیا ، اس نے طلاق رجعی دے دی ،حتی کہ عدت ختم ہو گئی۔ پھر اس نے نکاح جدید کا پیغام بھیجا، میں نے کہا : نہیں، اللہ کی قسم ! میں ہرگز نکاح نہیں کروں گا، میرے بارے میں ہی یہ آیت نازل ہوئی :
وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ
(البقرة : 232)
” جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت ختم ہو جائے ، تم انہیں اپنے شوہروں سے نکاح کرنے سے مت روکو، جب وہ باہم رضا مند ہوں۔“
اس کے بعد میں نے اپنی قسم کا کفارہ دیا اور ان سے شادی کر دی ۔
( سنن أبي داود : 2087، وسنده حسن)
❀ علامه ابن قدامہ رحمہ اللہ (620 ھ ) لکھتے ہیں:
أن يطلقها دون الثلاث ثم تعود إليه برجعة، أو نكاح جديد قبل زوج ثان فهذه ترجع إليه على ما بقي من طلاقها بغير خلاف نعلمه .
”تین سے کم طلاقیں دے بیٹھے اور دوسرے خاوند سے نکاح کر لینے سے پہلے رجوع یا نکاح جدید کر کے اسے واپس لے آئے ، تو اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ وہ عورت اپنے خاوند کی طرف بقیہ طلاق کی بنا پر واپس آسکتی ہے۔ “
(المغني : 441/8)