مضمون کے اہم نکات
یہ مضمون کثیر بن زید الاسلمی المدنی (أبو محمد) کے بارے میں جمہور محدثین کے اقوالِ جرح و تعدیل کو منظم انداز میں پیش کرتا ہے، تاکہ یہ بات واضح ہو جائے کہ اہلِ نقد کے نزدیک اس راوی میں ضعف/لین پایا جاتا ہے اور بالخصوص تفرد (منفرد روایت) کی صورت میں اس سے احتجاج مناسب نہیں سمجھا گیا۔ مقصد یہ ہے کہ قارئین کے سامنے اصل عبارات، ان کے اردو تراجم، حوالہ جات اور مختصر علمی تحلیل یکجا آ جائیں، اور نتیجۃً معلوم ہو کہ کثیر بن زید کی روایت کا درست محل عموماً متابعات و شواہد ہے، نہ کہ تنہا بنیاد بنا کر اصولی و اعتقادی دعوے قائم کرنا۔
تعارفِ راوی اور محلِ بحث
نام و نسبت: کثیر بن زید الأسلمی، المدنی
کنیت: أبو محمد
شہرت/تعریف (جیسا منقول ہے): كثير بن زيد الأسلمي، أبو محمد، المدني، السهمي
اجمالی حکم (منقول خلاصہ): ضعیف — لا يُحتجّ به (یعنی اس سے بطورِ حجت استدلال نہیں کیا جاتا)
📌 اس مضمون میں ہم “ضعیف”، “فیہ لین”، “لیس بالقوی”، “یُکتَب حدیثُہ” اور “لا یُحتجّ بہ” جیسی اصطلاحات کو محدثین کی اصطلاح کے مطابق سمجھتے ہوئے، ہر قول کے ساتھ اس کا اردو ترجمہ اور مفہوم واضح کریں گے۔
جمہور محدثین کے اقوال و دلائل
① ابو حاتم الرازیؒ کا حکم: “یُکتب حدیثُہ، مگر قوی نہیں”
نا عبد الرحمن قال سئل ابى عن كثير بن زيد فقال صالح (ليس بالقوى – 1) يكتب حديثه،
اردو ترجمہ:
عبدالرحمن کہتے ہیں: میرے والد (ابو حاتم) سے کثیر بن زید کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: “یہ صالح ہے (لیکن قوی نہیں)، اس کی حدیث لکھی جائے گی۔”
(الجرح والتعديل)
مختصر توضیح:
ابو حاتمؒ کے کلام میں “ليس بالقوي” واضح طور پر قوتِ ضبط کی نفی ہے، اور “يكتب حديثه” عموماً اس درجے کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کی روایت اعتبار/متابعت میں دیکھی جا سکتی ہے، مگر اس سے تنہا حجت قائم کرنا محلِ نظر رہتا ہے۔
② ابو زرعہ الرازیؒ: “صدوق، مگر فیہ لین”
عبد الرحمن قال سئل أبو زرعة عن كثير بن زيد فقال هو صدوق فيه لين.
اردو ترجمہ:
عبدالرحمن کہتے ہیں: ابو زرعہ سے کثیر بن زید کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: “یہ صدوق ہے، لیکن اس میں لین (کمزوری) ہے۔”
(الجرح والتعديل)
مختصر توضیح:
“صدوق” سے مراد یہ ہے کہ وہ فی نفسہٖ جھوٹا/متہم نہیں، لیکن “فيه لين” بتاتا ہے کہ ضبط/اتقان میں کمی ہے۔ اسی لیے اہلِ حدیث کے ہاں ایسے راوی کی منفرد روایت کو اصولی طور پر عقائد و اصول کی بنیاد نہیں بنایا جاتا، اور اسے عموماً شواہد کے ضمن میں دیکھا جاتا ہے۔
③ ابن حبانؒ کی سخت جرح: “کثیر الخطأ… تفرد میں احتجاج پسند نہیں”
894 – كثير بن زيد يروي عَن عبد اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ وَهُوَ الَّذِي يُقَال لَهُ كثير بن النَّضر روى عَنهُ عبيد الله بن عبد الْمجِيد كَانَ كثير الْخَطَأ على قلَّة رِوَايَته لَا يُعجبنِي الِاحْتِجَاج بِهِ إِذَا انْفَرد
اردو ترجمہ:
(ابن حبانؒ لکھتے ہیں کہ) کثیر بن زید… فلاں سے روایت کرتا ہے… اور اس سے فلاں شاگرد نے روایت کی۔ یہ کم روایتیں رکھنے کے باوجود بہت زیادہ غلطی کرنے والا تھا؛ مجھے اس سے تفرد کی حالت میں احتجاج پسند نہیں۔
(المجروحين من المحدثين)
مختصر توضیح:
یہ عبارت براہِ راست تفرد کے مسئلے کو واضح کرتی ہے: ابن حبانؒ کے نزدیک اس راوی کی کمزوری کی نوعیت ایسی ہے کہ جب وہ اکیلا کسی خبر کو بیان کرے تو اس سے حجت لینا مناسب نہیں۔
④ علی بن المدینیؒ: “صالح، مگر قوی نہیں”
97 – وَسَأَلت عليا عَن كثير بن زيد فَقَالَ هُوَ صَالح وَلَيْسَ بِالْقَوِيّ
اردو ترجمہ:
میں نے علی بن المدینی سے کثیر بن زید کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: “یہ صالح ہے، مگر قوی نہیں۔”
(سؤالات محمد بن عثمان بن أبي شيبة لعلي بن المديني)
مختصر توضیح:
یہی وہ متوازن نقد ہے جو بتاتا ہے کہ راوی بالکل ساقط نہیں، مگر قوتِ ضبط کا معیار بھی پورا نہیں کرتا؛ لہٰذا اس کی روایت کی قبولیت میں درجہ بندی ضروری ہے۔
⑤ امام نسائیؒ: صریح حکم “ضعیف”
505 – كثير بن زيد ضَعِيف
اردو ترجمہ:
کثیر بن زید ضعیف ہے۔
(الضعفاء والمتروكون)
مختصر توضیح:
امام نسائیؒ کا “ضعيف” کہنا جرح کا واضح لفظ ہے، جو عمومی طور پر اس نتیجے تک لے جاتا ہے کہ راوی کی روایت تنہا حجت نہیں بن سکتی، خصوصاً جب متابعت/شاہد موجود نہ ہو۔
⑥ حافظ ابن قطّانؒ: ضعف کی نسبت
منقول بات: حافظ ابن قطّانؒ نے کثیر بن زید کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(حوالہ: منقول متن میں اصل کتاب/صفحه کی تعیین مذکور نہیں)
مختصر توضیح:
یہاں اصل ماخذ کی تفصیل منقول مواد میں درج نہیں، تاہم یہ نسبت اسی مجموعی رجحان کے مطابق ہے جو متعدد ائمہ کے اقوال سے ظاہر ہو رہا ہے کہ راوی میں لین/ضعف پایا جاتا ہے۔
⑦ حافظ ذہبیؒ: “صُوَیلِح، مگر فیہ لین”
عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ تَمِيمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،——» .
كُثَيْرُ بْنُ زَيْدٍ صُوَيْلِحُ فِيهِ لِينٌ
اردو ترجمہ:
(ایک سند کے ضمن میں) کثیر بن زید… (پھر ذہبیؒ فرماتے ہیں:) کثیر بن زید “صُوَیلِح” ہے، مگر اس میں لین (کمزوری) ہے۔
(معجم شيوخ الذهبي)
مختصر توضیح:
“صُويلح” کا مفہوم یہ ہے کہ وہ کلیتاً مردود نہیں، لیکن “فيه لين” اس کی روایت کو درجۂ کمال سے نیچے لے آتا ہے؛ لہٰذا اس کی حدیث سے تعامل میں احتیاط باقی رہتی ہے۔
⑧ علامہ نور الدین ہیثمیؒ: “کئی نے توثیق کی، مگر ضعف موجود ہے”
وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ الْأَسْلَمِيُّ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ، وَفِيهِ ضَعْفٌ،
اردو ترجمہ:
اس سند میں کثیر بن زید الاسلمی ہے؛ کئی اہلِ علم نے اسے ثقہ کہا ہے، مگر اس میں ضعف بھی ہے۔
(مجمع الزوائد ومنبع الفوائد)
مختصر توضیح:
یہ عبارت ایک اہم توازن قائم کرتی ہے: کچھ حضرات کی توثیق کے باوجود ہیثمیؒ ضعف کی موجودگی کی تصریح کر رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس راوی کے بارے میں مطلق اعتماد کا موقف مضبوط نہیں، بلکہ اہلِ علم کے ہاں اس کے ساتھ احتیاطی تعامل غالب ہے۔
⑨ یعقوب بن شیبہؒ: “ساقط نہیں، مگر ضعف کی طرف مائل”
قرأت على الفتح نصر الله بن محمد (الفقيه، صدوق) عن أبي الحسين المبارك بن عبد الجبار بن احمد(ثقة ثبت) أنبأنا أبو بكر عبد الباقي بن عبد الكريم (صدوق حسن الحديث)أنبأنا أبو الحسين بن حمة (ثقة)أنبأنا محمد بن أحمد بن يعقوب بن شيبة (ثقة) حدثنا جدي يعقوب قال وكثير بن زيد ليس بالساقط وإلى الضعف ما ه
اردو ترجمہ:
(طویل سند کے بعد) یعقوب بن شیبہ نے کہا: کثیر بن زید ساقط نہیں، البتہ وہ ضعف کی طرف مائل ہے۔
(تاریخ دمشق)
مختصر توضیح:
یہ بیان اس راوی کی “درجہ بندی” واضح کرتا ہے: نہ اسے بالکل ترک کیا گیا، نہ اسے مضبوط حجت بنایا گیا؛ بلکہ اس میں کمزوری کا پہلو تسلیم کیا گیا—یہی موقف عملاً اسے متابعات/شواہد کے درجے میں رکھتا ہے۔
⑩ ابو جعفر النحاسؒ: ایک روایت پر “منکر” اور “منقطع” کا حکم
كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ —–قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: وَهَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ مُنْقَطِعٌ
اردو ترجمہ:
کثیر بن زید، مطلب بن عبداللہ سے روایت کرتا ہے… ابو جعفر (نحاس) نے کہا: “یہ حدیث منکر اور منقطع ہے۔”
(الناسخ والمنسوخ للنحاس)
مختصر توضیح:
یہاں محض راوی کی عمومی توثیق/تضعیف نہیں، بلکہ ایک خاص روایت پر حکم ہے کہ یہ منکر (غیر معروف/قابلِ نکارت) اور منقطع (متصل نہیں) ہے—یعنی اس سند میں اتصال و ضبط دونوں پہلوؤں سے اشکال ظاہر ہوا۔
⑪ ابن القیمؒ: “یہ کثیر ضعیف ہے”
كَثِير هَذَا فَإِنَّهُ ضَعِيف
اردو ترجمہ:
یہ کثیر (بن زید) ضعیف ہے۔
(عون المعبود شرح سنن أبي داود، ومعه حاشية ابن القيم: )
مختصر توضیح:
یہ مختصر مگر واضح جرح ہے، جو اس بات کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ اس راوی کی بنیاد پر تنہا استدلال مضبوط نہیں سمجھا گیا۔
⑫ علامہ منذریؒ: “ولا يُحتجّ به” کی صراحت
• في إسناده: كثير بن زيد الأسلمي مولاهم المدني، أبو محمد: ولا يحتج به
اردو ترجمہ:
اس سند میں کثیر بن زید الاسلمی (ان کا مولیٰ) مدنی، ابو محمد ہے: اور اس سے احتجاج نہیں کیا جاتا۔
(عون المعبود على سنن أبي داود)
مختصر توضیح:
“ولا يحتج به” جرح کا نہایت صریح جملہ ہے—یعنی کثیر بن زید کی روایت کو حجت/اصل بنیاد نہیں بنایا جاتا، بالخصوص جب معاملہ تفرد کا ہو۔
⑬ عبدالحق الاشبیلیؒ: “صالح، صدوق… لکھا جائے گا، مگر قوی نہیں”
كثير بن زيد هُوَ أَبُو مُحَمَّد مولى الأسلميين، روى عَنهُ جمَاعَة جلة مِنْهُم: وَكِيع، وَحَمَّاد بن زيد وَغَيرهمَا، وَهُوَ صَالح صَدُوق يكْتب حَدِيثه وَلَيْسَ بِالْقَوِيّ.
اردو ترجمہ:
کثیر بن زید ابو محمد، اسلمیوں کا مولیٰ ہے؛ اس سے بڑے لوگوں نے روایت کی، مثلاً وکیع، حماد بن زید وغیرہ۔ وہ صالح، صدوق ہے؛ اس کی حدیث لکھی جائے گی، مگر وہ قوی نہیں۔
(الأحكام الشرعية الكبرى)
مختصر توضیح:
یہ عبارت بیک وقت دو باتیں بیان کرتی ہے:
راوی بالکل متروک نہیں (کیونکہ صدوق/صالح کہا گیا)،
مگر “ليس بالقوي” اسے حجتِ مستقلہ کے درجے سے نیچے رکھ دیتا ہے۔
یہی “تعدیل مع جرح” والا اسلوب بھی عملاً متابعات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
⑭ ابن الجوزیؒ: “ضعفاء و متروکین” میں ذکر اور متعدد اقوال کی نقل
2786 – كثير بن زيد أَبُو مُحَمَّد الْمدنِي مولى الأسلميين وَيُقَال لَهُ ابْن صَافِيَة وَهِي أمه قَالَ يحيى لَيْسَ بِذَاكَ الْقوي وَقَالَ مرّة ثِقَة وَقَالَ مرّة لَيْسَ بِشَيْء وَقَالَ النَّسَائِيّ ضَعِيف وَقَالَ أَبُو زرْعَة لين
اردو ترجمہ:
کثیر بن زید ابو محمد مدنی، اسلمیوں کا مولیٰ ہے… اسے ابن صافیہ بھی کہا جاتا ہے (صافیہ اس کی ماں ہے)۔ یحییٰ نے کہا: “یہ زیادہ قوی نہیں”، اور ایک مرتبہ “ثقہ” کہا، اور ایک مرتبہ “کچھ نہیں” کہا۔ نسائی نے کہا: “ضعیف”۔ ابو زرعہ نے کہا: “لین”۔
(الضعفاء والمتروكون)
مختصر توضیح:
ابن الجوزیؒ نے یہاں مختلف ائمہ کے اقوال یکجا نقل کیے، اور مجموعی فضا یہی بنتی ہے کہ راوی میں قوت کا معیار متحقق نہیں؛ اسی لیے وہ ضعف کے ابواب میں ذکر کیا گیا۔
⑮ ابن حزمؒ: نہایت سخت نقد اور “لا يحل الاحتجاج”
كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ الْمُطَّلِبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ——قَالَ عَلِيٌّ: وَهَذَا كُلُّهُ بَاطِلٌ:——- وَكَثِيرُ بْنُ زَيْدٍ مِثْلُهُ، فَسَقَطَ كُلُّ مَا فِي هَذَا الْخَبَرِ جُمْلَةً.
اردو ترجمہ:
کثیر بن زید، مطلب بن عبداللہ سے… علی (یعنی ابن حزم کے سیاق میں) نے کہا: یہ سب کچھ باطل ہے… اور کثیر بن زید بھی اسی طرح ہے؛ پس اس خبر میں جو کچھ ہے سب کا سب ساقط ہو گیا۔
فَهَذَا لَا يَصِحُّ لِأَنَّهُ عَنْ كَثِيرِ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ مُطَّرَحٌ بِاتِّفَاقٍ، وَلَا يَحِلُّ الِاحْتِجَاجُ بِمَا رَوَى.
اردو ترجمہ:
یہ صحیح نہیں، کیونکہ یہ کثیر بن زید سے ہے، اور وہ بالاتفاق “مطرح/رد کیا ہوا” ہے؛ اور اس کی روایت سے احتجاج کرنا حلال نہیں۔
(المحلى بالآثار)
مختصر توضیح:
ابن حزمؒ کا اسلوبِ جرح معروف طور پر سخت ہے، اور یہاں انہوں نے “بالاتفاق” اور “لا يحل الاحتجاج” جیسے الفاظ استعمال کیے۔ تاہم دیگر ائمہ کے ہاں (جیسا کہ ہیثمیؒ نے اشارہ کیا) کچھ توثیق بھی منقول ہے؛ اس لیے علمی طور پر یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ابن حزمؒ کے اس اطلاق کو بھی اہلِ نقد کے مجموعی اقوال کے ساتھ رکھ کر پڑھا جائے۔ پھر بھی ان کی عبارت کم از کم اس بات کی تائید کرتی ہے کہ کثیر بن زید سے استقلالاً حجت لینا سخت محلِ نظر ہے۔
⑯ امام یحییٰ بن معینؒ: “ليس بذاك القوي”
–نا عبد الرحمن أنا أبو بكر بن أبي خيثمة فيما كتب إلي قال سئل يحيى بن معين عن كثير بن زيد فقال ليس بذاك القوى،
اردو ترجمہ:
عبدالرحمن کہتے ہیں: ابو بکر بن ابی خیثمہ نے مجھے لکھا… یحییٰ بن معین سے کثیر بن زید کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: “یہ زیادہ قوی نہیں۔”
(الجرح والتعديل)
مختصر توضیح:
امام ابن معینؒ کا “ليس بذاك القوي” بھی اسی رجحان کی تائید کرتا ہے کہ راوی مضبوط درجے پر نہیں۔ یہ جرح اگرچہ “متروک” کے درجے کی نہیں، مگر اسے حجتِ مستقلہ بنانے سے روکتی ہے۔
اقوال کا مجموعی خلاصہ
مندرجہ بالا اقوال سے چند نکات واضح ہوتے ہیں:
✅ (1) متعدد ائمہ نے کثیر بن زید کو صراحتاً ضعیف کہا (مثلاً: نسائیؒ، منذریؒ کے لفظ “ولا يحتج به”، ابن القیمؒ وغیرہ)۔
✅ (2) جن حضرات نے “صدوق/صالح” کہا، انہوں نے بھی ساتھ میں “فیہ لین / لیس بالقوی” کی قید لگائی؛ یعنی قبولیت مشروط ہے۔
✅ (3) ابن حبانؒ نے بالخصوص تفرد کی حالت میں اس سے احتجاج کو ناپسند کیا، جو عملی طور پر اسے شواہد/متابعات کے دائرے میں رکھتا ہے۔
✅ (4) بعض متون میں مخصوص روایتوں پر “منکر/منقطع” جیسے احکام بھی آئے، جو کم از کم یہ بتاتے ہیں کہ اس راوی کے واسطے سے آنے والی بعض روایات میں نقد کی گنجائش مضبوط ہے۔
تنبیہ: بعض اقوالِ تعدیل اور ان کا محل
منقول مواد کے آخر میں یہ نکتہ بھی ذکر ہوا ہے کہ:
بعض اہلِ علم (مثلاً حافظ ابن حجرؒ) کے ہاں کثیر بن زید کے بارے میں ایسا کلام ملتا ہے جس میں صدق کے ساتھ غلطیوں کا ذکر ہو،
اور ابن عدیؒ و امام احمد بن حنبلؒ سے بھی اس کے بارے میں عدمِ حرج کی نوعیت کی بات منقول کی گئی ہے،
مگر منقول نوٹ کے مطابق یہ اقوال جمہور کی جروحات کے مقابلے میں ترجیح نہیں پاتے۔
(حوالہ: یہ مجموعی نوٹ منقول متن میں ہے، مگر یہاں اصل ماخذ/صفحات کی تفصیل مذکور نہیں)
علمی توضیح:
یہاں اصولی بات یہ ہے کہ جب ایک طرف جمہور کی جرح ہو (خصوصاً “لا يحتج به/ضعيف/فيه لين/ليس بالقوي” جیسے الفاظ) اور دوسری طرف محدود یا مقید تعدیل ہو، تو اہلِ حدیث کے ہاں راوی کی روایت کو عموماً:
تفرد میں حجت نہیں بنایا جاتا،
اور متابعات و شواہد میں دیکھا جاتا ہے،
پھر قرائن کے مطابق حدیث کا درجہ حسن لغيره یا ضعف کی طرف جا سکتا ہے۔
اس لیے صحیح منہج یہ ہے کہ کثیر بن زید کی روایات کو ہر مقام پر یکساں نہ سمجھا جائے، بلکہ سند/متابعت/شاہد کے اعتبار سے درجہ متعین کیا جائے۔
نتیجہ
کثیر بن زید الاسلمی (أبو محمد المدنی) کے بارے میں منقول اقوال کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
🧾 (الف) جمہور کے ہاں اس راوی میں لین/ضعف موجود ہے۔
🧾 (ب) بہت سے ائمہ کی تصریحات کے مطابق اس سے احتجاج (بطورِ مستقل دلیل) نہیں کیا جاتا، خصوصاً تفرد کی صورت میں۔
🧾 (ج) اس کی روایت کا زیادہ محفوظ و مناسب محل عموماً متابعات و شواہد ہے، اور جہاں قوی متابعت/قرینہ نہ ہو وہاں روایت ضعیف رہتی ہے۔
یوں اس مضمون کا مقصود—یعنی “کثیر بن زید کی روایات کے باب میں جمہور محدثین کی جرح کی بنیاد پر احتیاطی تعامل”—دلائل کے ساتھ واضح ہو جاتا ہے۔
اہم حوالوں کے سکین

















