سوال :
میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے نوجوان ایسے نوجوان کا مذاق اڑاتے ہیں جو دین اور نماز کا پابند ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض نوجوان دین کے بارے میں بے پروائی سے ہتک آمیز انداز میں گفتگو کرتے ہیں، ایسے لوگوں کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ کیا ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا جائز ہے؟
جواب :
اسلام کا یا اس کے کسی حصے کا مذاق اڑانا سب سے بڑا کفر ہے۔ اللہ تعالی نے فرمایا:
﴿ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ ﴾ (التوبة 65-66)
”کہہ دیجیے کہ کیا اللہ، اس کی آیتیں اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہی تمہاری ہنسی مذاق کے لیے رہ گئے ہیں؟ تم بہانے نہ بناؤ، یقیناً تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر کیا ہے۔“
جو شخص دیندار اور نماز کی پابندی کرنے والے کا اس وجہ سے مذاق اڑاتا ہے کہ وہ دیندار اور پابندِ نماز ہے تو ایسا شخص دین کا مذاق اڑانے والا کہلائے گا اور اس کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا جائز نہیں، بلکہ اس کی تردید کرنا اور اس کی صحبت سے بچنے کی تاکید کرنا واجب ہے۔ اسی طرح جو شخص دینی مسائل کو ہلکا اور ہنسی مذاق آمیز انداز میں بیان کرتا ہے وہ بھی کفر کا مرتکب کہلائے گا، اس کی صحبت اور ہم نشینی بھی جائز نہیں ہے، اس کی بھی تردید کرنا اور اس سے بچتے رہنا واجب ہے، اس کو خالص توبہ پر آمادہ کیا جائے گا، اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو الحمد للہ اور اگر توبہ نہیں کرتا تو عادل گواہوں کی گواہی کی بنیاد پر اس کے برے کرتوتوں کو ثابت کر دینے کے بعد اس کا معاملہ حاکم وقت کے پاس پیش کر دیا جائے گا، تاکہ وہ شرعی عدالتوں کے توسط سے اس پر اللہ کا حکم نافذ کر سکے۔
بہر حال، یہ انتہائی اندیشہ ناک مسائل ہیں اور ہر طالب علم اور مسلمان پر واجب ہے کہ خود ان سے پرہیز کرے اور دینی مسائل میں ہنسی مذاق اور ہتک آمیز انداز اختیار کرنے والوں کو ڈرائے کہ کہیں اس کی وجہ سے عقیدہ ہی فاسد نہ ہو جائے۔
ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو ہر اس کام سے بچائے جو شریعت کے خلاف ہو، ان کو دشمنوں (کفار و مشرکین) سے محفوظ رکھے اور ہر حال میں ان کو کتاب و سنت پر گامزن رہنے کی توفیق عطا فرمائے، یقیناً وہ بڑا ہی جود و کرم والا ہے۔