دینِ اسلام کی حقیقت اور تعلیمات: قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی

ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر ہے کہ اُس نے ہمیں مسلمان بنایا، دینِ حق (اسلام) قبول کرنے کی توفیق دی اور ہدایت کی روشنی نصیب فرمائی۔ یہ محض ایک مذہبی شناخت نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس میں عقیدہ، عبادت، اخلاق اور معاملات—سب کے لیے واضح رہنمائی موجود ہے۔ اس مضمون میں ہم یہ واضح کریں گے کہ اللہ کے نزدیک دینِ برحق صرف اسلام ہے، تمام انبیاء کا دین اسلام ہی تھا، رسولِ اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد نجات کا راستہ صرف شریعتِ محمدیہ ہے، اسلام کا حقیقی مفہوم کیا ہے، اور اس دین کی بڑی خصوصیات و اہم تعلیمات کون سی ہیں—بالخصوص توحید، عبادات، دلوں کی اصلاح، باہمی حقوق، عدل و انصاف اور معاشرتی امن کی بنیادیں۔

اللہ کے نزدیک دینِ برحق صرف اسلام ہے

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَام﴾ [ آل عمران : ۱۹ ]
ترجمہ: “بے شک دین (برحق) اللہ تعالیٰ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔”

اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اسلام کو پسندیدہ دین قرار دیا:

﴿اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا﴾ [ المائدۃ : ۳ ]
ترجمہ: “آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر پوری کر دی، اور اسلام کو بحیثیتِ دین تمہارے لیے پسند کر لیا۔”

لہٰذا اسلام کے علاوہ کوئی دین اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہیں:

﴿وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَ ھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ﴾ [ آل عمران:۸۵ ]
ترجمہ: “اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طلبگار ہو تو اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو گا۔”

اسلام تمام انبیائے کرام علیہم السلام کا دین ہے

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء علیہم السلام ایک ہی دین کے ساتھ مبعوث کیے گئے، یعنی دینِ اسلام۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

﴿شَرَعَ لَکُمَ مِّنْ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَا اِِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ﴾ [ الشوری : ۱۳ ]
ترجمہ: “اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح علیہ السلام کو دیا تھا اور جو ہم نے آپ کو وحی کے ذریعے دیا ہے اور جس کا حکم ہم نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام کو دیا تھا کہ دین کو قائم رکھو اور اس میں تفرقہ نہ ڈالو۔”

ملتِ ابراہیمی کے بارے میں فرمایا:

﴿وَ مَنْ یَّرْغَبُ عَنْ مِّلَّۃِ اِبْرٰھٖمَ اِلَّا مَنْ سَفِہَ نَفْسَہٗ … فَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ﴾ [البقرۃ:۱۳۰۔۱۳۲ ]
ترجمہ: “اور ابراہیم علیہ السلام کے دین سے وہی نفرت کر سکتا ہے جس نے اپنے آپ کو احمق بنا لیا ہو… (ابراہیم اور یعقوب نے وصیت کی) اے میرے بیٹو! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین پسند کیا ہے، لہٰذا تم مرتے دم تک مسلمان ہی رہنا۔”

حضرت نوح علیہ السلام کے متعلق:

﴿وَ اُمْرِتُ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ﴾ [ یونس : ۷۲ ]
ترجمہ: “اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلمانوں میں سے ہو جاؤں۔”

حضرت موسیٰ علیہ السلام کے متعلق:

﴿وَ قَالَ مُوْسٰی یٰقَوْمِ اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰہِ فَعَلَیْہِ تَوَکَّلُوْٓا اِنْ کُنْتُمْ مُّسْلِمِیْنَ﴾ [یونس:۸۴]
ترجمہ: “اور موسیٰ علیہ السلام نے کہا: اے میری قوم! اگر تم واقعی اللہ پر ایمان لائے ہو تو اسی پر توکل کرو اگر تم مسلمان ہو۔”

بلقیس کا قول:

﴿قَالَتْ رَبِّ اِِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَاَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ﴾ [النمل: ۴۴]
ترجمہ: “اس نے کہا: اے میرے رب! میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اور اب میں سلیمان کے ساتھ اللہ رب العالمین کے لیے مسلمان ہو چکی ہوں۔”

اسی حقیقت کو نبی ﷺ نے یوں بیان فرمایا:

(اَلْأنْبِیَائُ إِخْوَۃٌ لِعَلَّاتٍ، أُمَّہَاتُہُمْ شَتّٰی وَدِیْنُہُمْ وَاحِدٌ) [ بخاری : ۳۴۴۳ ، مسلم : ۲۳۶۵ ]
ترجمہ: “تمام انبیاء علاتی بھائی ہیں، ان کی مائیں (یعنی شریعتیں) الگ الگ تھیں لیکن دین ایک تھا۔”

یہاں واضح رہے کہ دین سے مراد وہ اصول و مبادی ہیں جو کبھی نہیں بدلے: توحید، شرک کی حرمت، قیامت، حساب، قتلِ ناحق، چوری اور بے حیائی کی حرمت وغیرہ۔ البتہ جزئی احکام میں حالات کے مطابق فرق رہا، جیسے بعض سابقہ شریعتوں میں کچھ احکام وقتی طور پر مختلف تھے۔

قرآنِ مجید پر ایمان اور اس کی حفاظت

دینِ اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ کی آخری کتاب قرآنِ مجید پر ایمان لایا جائے، اسے اللہ تعالیٰ کا برحق کلام مانا جائے، اسے پڑھا جائے، اس میں غور و فکر کرکے سمجھنے کی کوشش کی جائے، اور اسے اپنا دستورِ حیات بنا کر اس پر عمل کیا جائے۔ دینِ اسلام کی ایک عظیم خصوصیت یہ ہے کہ اس کا اصل ماخذ و منبع (قرآن مجید) ہر قسم کی تحریف سے پاک ہے؛ اللہ تعالیٰ نے اس کی حفاظت کا ذمہ لیا ہے، اور جب تک قرآن محفوظ رہے گا دینِ اسلام بھی محفوظ رہے گا۔

دنیا عارضی ہے، آخرت یقینی ہے

اسلام مسلمان کو یہ حقیقت سمجھاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، انسان کو یقینی طور پر موت کا ذائقہ چکھنا ہے، مرنے کے بعد قبر میں یا نعمتیں ہوں گی یا عذاب، پھر قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی ہو گی۔ یہ دین کی بڑی خصوصیت ہے کہ یہ دنیا کی رنگینیوں میں کھو جانے سے روکتا اور آخرت کی تیاری کی ترغیب دیتا ہے تاکہ مسلمان اپنی اصل منزل کو یاد رکھے اور اسی کے مطابق عمل کرے۔

تقدیر پر ایمان: ذہنی سکون اور مضبوط یقین

اسلام کی تعلیمات میں یہ بھی شامل ہے کہ مسلمان اچھی اور بری ہر قسم کی تقدیر پر ایمان رکھے۔ یعنی:

❀ جو اللہ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے اور جو نہیں چاہتا وہ نہیں ہوتا۔
❀ جو کچھ ہوچکا، جو ہونے والا ہے، اور جو نہیں ہوا اگر ہوتا تو کیسے ہوتا—سب اللہ کے علم میں ہے۔
❀ اللہ ہر چیز پر قادر ہے، جسے چاہے ہدایت دیتا ہے اور جسے چاہے گمراہ کرتا ہے۔
❀ ہر چیز اللہ کی مشیت کے مطابق ہی واقع ہوتی ہے۔

اسلام مسلمان کو سکھاتا ہے کہ وہ اللہ کی تقدیر پر راضی رہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہر فیصلہ بھلائی، عدل اور حکمت سے بھرپور ہے۔ جو شخص اس پر مطمئن ہو جاتا ہے وہ حیرت، تردد اور پریشانی سے محفوظ ہو جاتا ہے، بے قراری اور اضطراب ختم ہو جاتا ہے۔ وہ نہ کسی چیز کے چھن جانے پر ٹوٹتا ہے اور نہ مستقبل کے اندیشوں میں ڈرتا ہے، بلکہ خوشگوار اور آسودہ حال زندگی گزارتا ہے۔

اور جسے یقین ہو کہ عمر محدود ہے اور رزق متعین ہے تو وہ سمجھ جاتا ہے کہ:

❀ بزدلی عمر میں اضافہ نہیں کرتی
❀ بخیلی رزق میں اضافہ نہیں کرتی
❀ ہر چیز لکھی ہوئی ہے

لہٰذا مسلمان پر لازم ہے کہ وہ تقدیر میں لکھی ہوئی چیز پر جزع فزع نہ کرے بلکہ صبر کرے، اور یقین رکھے کہ جو اس کے مقدر میں لکھ دیا گیا وہ اسے مل کر رہے گا، اور جو لکھا ہی نہیں گیا وہ کبھی نہیں ملے گا چاہے کتنا ہی زور لگا لے۔

تقدیر پر ایمان دینِ اسلام کا ایسا بنیادی اصول ہے کہ اگر صحیح معنوں میں دل میں اتر جائے تو انسان بے شمار ذہنی پریشانیوں سے نجات پا لیتا ہے، اور یہ نعمت حقیقی طور پر سچے مسلمان ہی کو نصیب ہوتی ہے۔

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے

اسلام کی بنیاد پانچ ارکان پر قائم ہے:

پہلی بنیاد: کلمۂ شہادت

دل کی گہرائیوں سے گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔

دوسری بنیاد: پانچ وقت کی نماز

دن اور رات میں پابندی کے ساتھ پانچ نمازیں ادا کرنا۔ نماز دین کا ستون ہے، ہر مکلف پر فرض ہے اور ہر حال میں ادا کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے نماز کی پابندی کا بار بار حکم دیا ہے۔

قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کا حساب ہو گا:

(۔۔۔ أَوَّلُ مَا یُحَاسَبُ بِہِ الْعْبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ الصَّلَاۃُ، فَإِنْ صَلُحَتْ صَلُحَ سَائِرُ عَمَلِہٖ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَسَدَ سَائِرُ عَمَلِہٖ)
[ رواہ الطبرانی فی الأوسط۔ السلسلۃ الصحیحۃ : ۱۳۵۸ ]
ترجمہ: “قیامت کے روز بندے سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا، اگر نماز درست نکلی تو باقی اعمال بھی درست نکلیں گے، اور اگر نماز خراب نکلی تو باقی اعمال بھی خراب نکلیں گے۔”

اور دوسری روایت میں فرمایا:

(یُنْظَرُ فِیْ صَلَاتِہٖ، فَإِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ أَفْلَحَ، وَإِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَخَسِرَ)
[ رواہ الطبرانی فی الأوسط۔ السلسلۃ الصحیحۃ : ۱۳۵۸ ]
ترجمہ: “اس کی نماز دیکھی جائے گی، اگر ٹھیک ہوئی تو وہ کامیاب ہو گیا، اور اگر درست نہ ہوئی تو وہ ناکام و خسارہ پانے والا ہوا۔”

صرف خود نماز قائم کرنا کافی نہیں، بلکہ اہل و عیال کو بھی نماز کا حکم دیا جائے:

﴿وَأمُرْ أَہْلَکَ بِالصَّلاَۃِ وَاصْطَبِرْ عَلَیْہَا لاَ نَسْأَلُکَ رِزْقًا نَحْنُ نَرْزُقُکَ وَالْعَاقِبَۃُ لِلتَّقْوٰی﴾
[طہ :۱۳۲]
ترجمہ: “اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیجئے اور خود بھی اس پر ڈٹ جائیے۔ ہم آپ سے رزق نہیں مانگتے، ہم ہی آپ کو رزق دیتے ہیں، اور انجام تقوی والوں کے لیے ہے۔”

اور بچوں کی تربیت:

(مُرُوْا أَوْلَادَکُمْ بِالصَّلاَۃِ وَہُمْ أَبْنَائُ سَبْعِ سِنِیْنَ، وَاضْرِبُوْہُمْ عَلَیْہَا وَہُمْ أَبْنَائُ عَشْرِ سِنِیْنَ)
[ احمد، ابو داؤد۔ صحیح الجامع للألبانی: ۵۸۶۸ ]
ترجمہ: “جب تمہارے بچے سات سال کے ہو جائیں تو انہیں نماز کا حکم دو، اور جب دس سال کے ہو جائیں (اور نہ پڑھیں) تو انہیں اس پر سزا دو۔”

نماز کی ایک بڑی خصوصیت یہ بھی ہے کہ مسلمان دن کا آغاز بھی اللہ کے سامنے سر بسجود ہو کر کرتا ہے اور دن کا اختتام بھی دعا و عبادت کے ساتھ کرتا ہے۔ یہ بندے کی محتاجی و عاجزی کا اعلان ہے کہ اللہ کے سوا کوئی سہارا نہیں۔ اسی طرح مساجد سے اذان کے ذریعے توحید کا اعلان اور رسالت کا اقرار کرتے ہوئے مسلمانوں کو اجتماع کی دعوت دی جاتی ہے، اور باجماعت نمازیں دلوں کو سکون اور آنکھوں کو ٹھنڈک دیتی ہیں۔ یہ عظیم عبادت بندوں کو اللہ سے جوڑتی اور دلوں میں محبتِ الٰہی کو بڑھاتی ہے۔

تیسری بنیاد: زکاۃ

زکاۃ ادا کرنا: یعنی مسلمانوں میں مالدار لوگ اپنے اموال کی ایک مقررہ مقدار غریب و محتاج مسلمانوں کو دیں۔ یہ اسلام کی بڑی خصوصیت ہے کہ مال ودولت صرف ایک طبقے میں جمع نہیں رہتا، بلکہ حاجت مند افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا کر اپنی بنیادی ضرورتیں پوری کر لیتے ہیں۔

اگر نظامِ زکاۃ اخلاص اور دیانتداری سے نافذ ہو جائے تو:

✿ غربت کا خاتمہ ہوتا ہے
✿ طبقاتی مالی توازن قائم ہوتا ہے
✿ غریب احساسِ کمتری اور جرائم سے بچتے ہیں
✿ معاشی ظلم کا سدِباب ہوتا ہے
✿ مالدار و فقیر کے درمیان محبت پیدا ہوتی ہے
✿ اخلاقی جرائم کم ہوتے ہیں اور امن و امان بڑھتا ہے
✿ مال پاک ہوتا ہے اور زکاۃ دینے والوں کے گناہ معاف ہوتے ہیں

چوتھی بنیاد: رمضان کے روزے

اسلام میں مسلمان پر سال کے بارہ مہینوں میں سے ایک مہینے رمضان کے روزے فرض کیے گئے ہیں۔ اس میں کئی حکمتیں اور فوائد ہیں:

✿ روزوں کے ذریعے تقویٰ پیدا ہو، گناہوں سے بچنے کی تربیت ملے
✿ صرف پیٹ نہیں، بلکہ پورے اعضاء کا “روزہ” ہو—یعنی برائیوں سے بچاؤ
✿ اللہ کا قرب اور خوشنودی نصیب ہو، جہنم سے آزادی کی سعادت ملے
✿ گناہوں کی معافی ہو
✿ جسمانی صحت بہتر ہو—روزے میں معدہ خالی رہتا ہے، بھوک محسوس ہوتی ہے، کئی بیماریوں میں فائدہ ہوتا ہے

پانچویں بنیاد: حج بیت اللہ

صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض ہے کہ زندگی میں کم از کم ایک مرتبہ حج کرے۔ اس میں بھی بہت حکمتیں ہیں:

✿ احرام کی دو چادریں اور سفرِ حج “سفرِ آخرت” کی یاد دلاتا ہے
✿ حج گناہوں کا کفارہ ہے اور اس کی جزا جنت ہے
✿ دنیا بھر کے لاکھوں مسلمان ایک لباس، ایک تلبیہ، ایک طواف—وحدتِ امت نمایاں ہوتی ہے
✿ اخوت و بھائی چارے کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے

آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں سچا مسلمان بنائے اور اسلام پر ثابت قدم رکھے۔

اسلام کی اخلاقی و معاشرتی تعلیمات

محترم حضرات! دینِ اسلام صرف عقائد اور عبادات تک محدود نہیں بلکہ یہ دلوں کی اصلاح، معاشرتی ہم آہنگی، حقوق کی ادائیگی، عدل و انصاف اور امنِ عامہ کی مکمل رہنمائی بھی فراہم کرتا ہے۔ ذیل میں انہی تعلیمات کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بیان کیا جا رہا ہے۔

دلوں کی اصلاح: دین کی اساس

اسلام دلوں کی اصلاح پر خاص زور دیتا ہے، کیونکہ جب دل درست ہو جاتا ہے تو پورا وجود درست ہو جاتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(أَلاَ وَإِنَّ فِیْ الْجَسَدِ مُضْغَۃً إِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ لَہَا سَائِرُ الْجَسَدِ، وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہُ، أَلاَ وَہِیَ الْقَلْبُ)
[ بخاری : ۵۲ ، مسلم : ۱۵۹۹ ]
ترجمہ: “خبردار! جسم میں ایک گوشت کا لوتھڑا ہے، اگر وہ درست ہو جائے تو پورا جسم درست ہو جاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہو جائے تو پورا جسم خراب ہو جاتا ہے، اور وہ دل ہے۔”

حسد، بغض اور نفرت سے پاک دل

اسلام مسلمان کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے دل کو حسد، بغض، کینہ اور نفرت جیسی بیماریوں سے پاک رکھے اور تمام مسلمانوں کے لیے خیرخواہی، محبت اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لاَ تَحَاسَدُوْا وَلاَ تَبَاغَضُوْا، وَلاَ تَجَسَّسُوْا وَلاَ تَحَسَّسُوْا، وَلاَ تَنَاجَشُوْا، کُوْنُوْا عِبَادَ اللّٰہِ إِخْوَانًا)
[ مسلم : ۲۵۶۳ ]
ترجمہ: “ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، بغض نہ رکھو، جاسوسی نہ کرو، ٹوہ میں نہ پڑو، قیمت بڑھانے کے لیے بولی نہ لگاؤ، اور اللہ کے بندے بن کر بھائی بھائی رہو۔”

مسلمانوں کی باہمی اخوت اور حرمت

اسلام تمام مسلمانوں کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتا ہے اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے۔

نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
(اَلْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ لاَ یَظْلِمُہُ وَلاَ یُسْلِمُہُ…)
[البخاری : ۲۴۴۲ ، مسلم : ۲۵۸۰]
ترجمہ: “مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے ظالموں کے حوالے کرتا ہے۔”

اور فرمایا:
(کُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَی الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُہُ وَمَالُہُ وَعِرْضُہُ)
[ مسلم : ۲۵۶۴ ]
ترجمہ: “ہر مسلمان کا خون، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر حرام ہے۔”

نیکی اور تقویٰ پر تعاون

﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوَی وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَی الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾
[ المائدۃ : ۲ ]
ترجمہ: “نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے تعاون کرو اور گناہ اور زیادتی میں تعاون نہ کرو۔”

امتِ واحدہ اور فرقہ بندی کی ممانعت

﴿وَاِِنَّ ہٰذِہٖ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ﴾
[المؤمنون:۵۲]
ترجمہ: “یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھ سے ڈرو۔”

﴿وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوا﴾
[ آل عمران : ۱۰۳ ]
ترجمہ: “سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور فرقوں میں مت بٹو۔”

حقوق العباد کی ادائیگی

اسلام والدین، اولاد، رشتہ داروں، میاں بیوی اور عام مسلمانوں کے حقوق ادا کرنے کا حکم دیتا ہے، اور حق تلفی سے سختی سے روکتا ہے۔

عدل و انصاف کا قیام

﴿یٰٓأَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ﴾
[ النساء : ۱۳۵ ]
ترجمہ: “اے ایمان والو! انصاف پر مضبوطی سے قائم رہو۔”

رزقِ حلال اور محنت

﴿فَامْشُوْا فِیْ مَنَاکِبِہَا وَکُلُوْا مِنْ رِّزْقِہٖ﴾
[الملک:۱۵]
ترجمہ: “زمین میں چل پھر کر اللہ کا رزق کھاؤ۔”

(مَا أَکَلَ أَحَدٌ طَعَامًا قَطُّ خَیْرًا مِّنْ أَنْ یَّأْکُلَ مِنْ عَمَلِ یَدِہِ)
[ البخاری : ۲۰۷۲ ]
ترجمہ: “سب سے بہتر کھانا وہ ہے جو انسان اپنے ہاتھ کی کمائی سے کھائے۔”

حلال و حرام میں تمیز

﴿لَا تَاْکُلُوْٓا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾
[ النساء : ۲۹ ]
ترجمہ: “آپس میں ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھاؤ۔”

خرچ میں اعتدال

﴿وَالَّذِیْنَ اِِذَا اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا﴾
[الفرقان:۶۷]
ترجمہ: “وہ خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بخل، بلکہ اعتدال اختیار کرتے ہیں۔”

طرزِ حکمرانی اور امنِ عامہ

﴿اِنَّ اللّٰہَ یَاْمُرُکُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓی اَھْلِھَا﴾
[النساء:۵۸]
ترجمہ: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حقداروں تک پہنچاؤ اور انصاف سے فیصلہ کرو۔”

اسلامی سزائیں (حدود) معاشرے میں امن و انصاف کی ضامن ہیں، جیسے چوری، زنا اور قتل کی سزائیں۔

نتیجہ

ہر مسلمان پر لازم ہے کہ وہ دینِ اسلام کو پورے کا پورا قبول کرے، اس کی تمام تعلیمات پر عمل کرے، بدعات اور خواہشاتِ نفس سے بچے، اور آخری دم تک اسلام پر ثابت قدم رہے۔

﴿یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً﴾
[البقرۃ:۲۰۸]
ترجمہ: “اے ایمان والو! اسلام میں پورے کے پورے داخل ہو جاؤ۔”

اللہ تعالیٰ ہمیں سچا مسلمان بنائے اور ایمان پر خاتمہ نصیب فرمائے۔ آمین۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️