مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دم کرنے کی شرعی دلیل

فونٹ سائز:
تالیف: ڈاکٹر رضا عبداللہ پاشا حفظ اللہ

کیا دم کرنے کی کوئی دلیل ہے

جواب :

جی ہاں،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :
«إعرضوا على رقاكم، لا بأس بالرقى ما لم يكن فيها شراه»
”مجھ پر اپنے دم پیش کرو، دم میں کوئی حرج نہیں جب تک اس میں شرک نہ ہو۔“ [صحيح البخاري، رقم الحديث 6993 صحيح مسلم، رقم الحديث 2266]
پس اس حدیث سے ہم قرآن و سنت اور ادعیہ ماثورہ وغیرہ سے دم کرنے کا جواز لیتے ہیں۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔