درد گردہ کے مریض کے لیے روزہ اور کفارہ کا حکم :۔
سوال :۔
میں درد گردہ کا مریض ہوں۔ مجھے ڈاکٹروں نے کہا ہے کہ روزے نہ رکھوں لیکن میں ان کی بات تسلیم نہیں کرتا اور روزے رکھ لیتا ہوں تو اس سے میرے درد میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔ اگر میں روزے چھوڑ دوں تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ نیز روزے چھوڑ دینے کی صورت میں کفارہ کیا ہے؟
فتوی :۔
اگر آپ کے لیے روزہ رکھنا مشکل ہے اس سے بیماری میں اضافہ ہو جاتا ہے مسلمان اور تجربہ کار ڈاکٹر کا بھی یہی کہنا ہے کہ روزہ رکھنے سے آپ کی صحت کو نقصان پہنچنے درد میں اضافہ ہونے اور زندگی کو خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ہے تو آپ کے لیے یہ جائز ہے کہ روزہ چھوڑ دیں اور ہر دن کے عوض ایک مسکین کو کھانا کھلا دیں۔ آپ پر قضا نہیں ہوگی کیونکہ صحت کی خرابی اور اس بیماری کی وجہ سے آپ کے لیے قضا ممکن ہی نہیں ہے ہاں البتہ اگر بیماری زائل ہو جائے اور آپ کو تندرستی حاصل ہو جائے تو پھر آپ کے لیے آئندہ رمضان کے روزے رکھنا واجب ہوں گے اور ان گزشتہ برسوں کی قضا لازم نہ ہوگی، جن کے روزے آپ نے نہیں رکھے اور ان کا کفارہ ادا کر دیا ہے۔