مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دخول سے قبل خاوند کی وفات پر بیوہ کی عدت کا حکم

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

ایک شخص نے ایک خاتون سے شادی کی مگر وہ دخول سے قبل ہی فوت ہو گیا۔ کیا اس کی بیوہ پر عدت لازم ہے ؟

جواب :

جس عورت کا خاوند عقد نکا ح کے بعد دخول سے قبل فوت ہو جائے اس پر سوگ منانا واجب ہے، اس لئے کہ عورت صرف عقد نکاح سے بیوی بن جاتی ہے :
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا [ 2-البقرة:234 ]
”اور تم میں سے جو لوگ وفات پا جاتے ہیں اور بیویاں چھوڑ جاتے ہیں ان کی بیویاں اپنے آپ کو چار ماہ اور دس دن روکے رکھیں۔ “
نیز اس لئے بھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ولا تحد امرأة على ميت فوق ثلاث إلا على زوج أربعة أشهر وعشرا [ صحيح البخارى و صحيح مسلم ]
”کوئی عورت کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے سوائے خاوند کے کہ اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے۔ “
اور اس لئے بھی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے برورع بنت واشق نامی عورت، جس کے خاوند نے اس سے نکاح کیا اور وہ وخول سے پہلے ہی فوت ہو گیا تھا، کے متعلق فیصلہ فرمایا کہ اس پر عدت گزارنا لازم ہے اور وہ وراثت کی حقدار بھی ہو گی۔
(دارالافتاءکمیٹی)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔