مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

خواتین کا مسجد میں پردے کا اہتمام کرنا

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محمد ایوب سپرا کی کتاب خواتین کا مسجد نماز میں باجماعت پڑھنے کا مسئلہ سے ماخوذ ہے۔

خواتین کے لیے ضروری ہے کہ وہ جب مسجد میں جائیں تو پردے کا خصوصی اہتمام کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِن جَلَابِيبِهِنَّ
(33-الأحزاب:59)
”اے نبی! اپنی بیویوں سے اور اپنی صاحبزادیوں سے اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اوپر اپنی چادریں لٹکایا کریں۔“
جلباب ایسی بڑی چادر کو کہتے ہیں جس سے پورا بدن ڈھک جائے۔ اپنے اوپر چادر لٹکانے سے مراد اپنے چہرے پر اسے لٹکانا ہے جس سے چہرے کا بیشتر حصہ بھی چھپ جائے اور نظریں جھکا کر چلنے سے راستہ بھی نظر آتا رہے۔ اس آیت مبارکہ میں عورتوں کو پردے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس سے انکار اور بے پردگی پر اصرار کفر تک پہنچا سکتا ہے۔ پردے کی حکمت اور اس کے فوائد بھی اسی آیت میں بیان ہوئے ہیں کہ اس سے ایک شریف زادی اور باحیاء عورت اور بے شرم اور بدکار عورت کے درمیان پہچان ہو گی۔ پردے سے معلوم ہو گا کہ یہ خاندانی عورت ہے جس سے چھیڑ چھاڑ کی جرات کسی کو نہیں ہوگی۔ اس لیے جب خواتین مسجد میں جائیں تو پردے کا خصوصی اہتمام کریں کیونکہ اسی دوران مرد حضرات بھی نماز کے لیے مسجد میں آتے ہیں لہذا اگر پردے کا خصوصی اہتمام ہوگا تو اختلاط سے بچنے کا بہتر طور پر اہتمام ہو سکے گا۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔