مضمون کے اہم نکات
خطبہ عید کا حکم :
عیدین کا خطبہ سننا سنت اور مستحب ہے، واجب نہیں، اس کی دلیل آئندہ حدیث ہے۔
❀ عبد اللہ بن سائب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العيد فلما قضى الصلاة قال إنا نخطب فمن أحب أن يجلس للخطبة فليجلس ومن أحب أن يذهب فليذهب
”میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوا اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو فرمایا: یقیناً ہم خطبہ دیں گے، سو جو خطبہ کیلئے بیٹھنا پسند کرے وہ (خطبہ سننے کیلئے) بیٹھے اور جو (واپس گھر جانا پسند کرے) وہ چلا جائے۔“
[سنن أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب الجلوس للخطبة : 1155 – سنن نسائی، کتاب صلاة العيدين، باب التخيير بين الجلوس في الخطبة للعيدين : 1572 – سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلوات، باب ماجاء في انتظار الخطبة بعد الصلاة : 1290 – حاكم : 290/1 – سنن بيهقي : 301/3 – إسناده صحیح]
فقه الحدیث :
(1) شوکانی کہتے ہیں: یہ حدیث دلیل ہے کہ خطبہ عید سننے کیلئے بیٹھنا سنت ہے، واجب نہیں اور خطبہ عید مسنون ہے۔
(2) نماز عید کے وجوب و عدم وجوب کے قائلین تمام علماء کا اتفاق ہے کہ خطبہ عید غیر واجب ہے اور میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو عید کے خطبہ کے وجوب کا قائل ہو۔ [نیل الأوطار : 323/3-324]
(3) خطبہ عید سننے کے اختیار کے باوجود خطبہ عید سننا افضل ہے۔ [المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير : 241/2]
خطبہ عید کے دوران خطیب کسی آدمی کا سہارا لے سکتا ہے :
دوران خطبہ کسی آدمی کے سہارے کھڑے ہو کر خطبہ دینا جائز ہے۔
❀ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العيد فبدأ بالصلاة قبل الخطبة بغير أذان ولا إقامة ثم قام متوكئا على بلال
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ عید میں حاضر ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز سے آغاز کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے (اور خطبہ ارشاد فرمایا)۔“
[صحيح مسلم، کتاب صلاة العيدين : 885 – سنن نسائی، کتاب صلاة العيدين، باب قيام الإمام في الخطبة متوكئاً على إنسان : 1576 – مسند احمد : 318/3 – بيهقي : 296/3]
دوران خطبہ عید کمان وغیرہ پر ٹیک لگانا جائز ہے؟
دوران خطبہ عید کمان، چھڑی یا نیزے وغیرہ پر ٹیک لگانا جائز نہیں، کیونکہ اس کے جواز کی کوئی صحیح دلیل ثابت نہیں تا ہم جس حدیث میں کمان پر ٹیک لگا کر خطبہ عید ارشاد کرنے کا بیان ہے، وہ ضعیف ہے۔
❀ براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ :
أن النبى صلى الله عليه وسلم نول يوم العيد قوسا فخطب عليه
”بلاشبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو روز عید کمان دی گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر (سہارا لے کر) خطبہ ارشاد فرمایا۔“
[أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب يخطب على قوس : 1145 – إسناده ضعیف]
سفیان بن عیینہ کی تدلیس ہے اور ابو جناب یحییٰ بن ابی حیہ کلبی ضعیف راوی ہے۔
خطبہ عید کیلئے موضوع کا انتخاب :
خطبہ عید میں ایسا جامع موضوع منتخب کیا جائے جس میں حاضرین کو تقویٰ کی تلقین اور امور شرعیہ کی اطاعت کی ترغیب، وعظ و نصیحت اور صدقہ و خیرات کی ترغیب ہو۔
❀ جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
شهدت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العيد فبدأ بالصلاة قبل الخطبة بغير أذان ولا إقامة ثم قام متوكئا على بلال فأمر بتقوى الله وحث على طاعته ووعظ الناس وذكرهم ثم مضى حتى أتى النساء فوعظهن وذكرهن فقال تصدقن فإن أكثركن حطب جهنم فقامت امرأة من سطة النساء سفعاء الخدين فقالت لم يا رسول الله قال لأنكن تكثرن الشكاة وتكفرن العشير قال فجعلن يتصدقن من حليهن يلقين فى ثوب بلال من أقرطتهن وخواتيمهن
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں شریک ہوا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے قبل اذان و اقامت کے بغیر نماز سے آغاز کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلال رضی اللہ عنہ پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوئے اور سامعین کو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا، اس کی اطاعت پر ابھارا اور انہیں وعظ و نصیحت کی۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر عورتوں کے پاس گئے، انہیں وعظ و نصیحت کی اور فرمایا: تم صدقہ و خیرات کرو، اس لیے کہ تمہاری اکثریت جہنم کا ایندھن ہے۔ (اس پر) عورتوں کے درمیان سے ایک سیاہ رخساروں والی عورت کھڑی ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! (عورتیں جہنم کی اکثریت) کیوں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس لیے کہ تم شکوہ و شکایت بہت زیادہ کرتی ہو اور خاوند کی ناشکری کرتی ہو۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر عورتیں اپنے زیورات صدقہ کرنے لگیں اور اپنی بالیاں، جھمکے اور انگوٹھیاں بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈالنے لگیں۔“
[صحيح مسلم کتاب صلاة العيدين : 885 – سنن نسائی، کتاب صلاة العيدين باب قيام الإمام في الخطبة متوكئاً على إنسان : 1576 – مسند احمد : 318/3 – بيهقي : 296/3]
فقه الحدیث :
(1) شوکانی کہتے ہیں: خطبہ عید میں وعظ و نصیحت کرنا مستحب فعل ہے اور اگر واعظ و موعوظ پر فتنہ فساد کا خوف نہ ہو تو عورتوں کو وعظ و نصیحت کرنا اور انہیں صدقہ کرنے کی ترغیب دینا مستحب فعل ہے۔
(2) مردوں کے اجتماعات میں عورتوں کی علیحدہ نشست کا انعقاد کیا جائے، کیونکہ مرد و زن کے اختلاط سے نظر وغیرہ سے فتنہ پیدا ہو سکتا ہے۔ [نیل الأوطار : 322/3]
(3) عورتیں خاوند اور ولی کی اجازت کے بغیر زیورات صدقہ کر سکتی ہیں اور اس عمل پر ان کی سرزنش درست نہیں۔
(4) خطبہ عید میں جھولی پھیرنا، آداب خطبہ کے منافی اور مکروہ فعل ہے جس کا شریعت میں کوئی جواز نہیں، البتہ امام اپنے قریب کسی شخص کو صدقہ و خیرات جمع کرنے کیلئے کھڑا کر سکتا ہے۔
اگر عورتوں تک خطیب کی آواز نہ پہنچے تو انہیں الگ خطبہ دینا مستحب ہے :
اگر امام کو محسوس ہو کہ اس کی آواز عورتوں تک نہیں پہنچی تو وہ مردوں سے خطاب کے بعد عورتوں کو الگ وعظ و نصیحت کرے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
أشهد على رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي قبل الخطبة قال ثم خطب فرأى لم يسمع النساء فأتاهن فذكرهن ووعظهن وأمرهن بالصدقة وبلال قائم بثوبه فجعلت المرأة تلقي الخاتم والخرص والشيء
”میں یقینی خبر دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ سے پہلے نماز ادا کی، پھر خطبہ دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو محسوس ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو نہیں سنا سکے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس آئے، انہیں وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کا حکم دیا جب کہ بلال رضی اللہ عنہ کپڑا پھیلائے ہوئے تھے (پھر) عورتیں اس کپڑے میں انگوٹھیاں، بالیاں اور دیگر اشیاء ڈالنے لگیں۔“
[صحيح بخاري، كتاب الزكاة، باب العرض في الزكاة : 1449 – صحيح مسلم، كتاب صلاة العيدين : 884 – سنن أبو داؤد، کتاب الصلاة باب الخطبة : 1142 – سنن ابن ماجه كتاب إقامة الصلوات، باب ماجاء في صلاة العيدين : 1273]
کیا عورتوں کو وعظ و نصیحت کرنا لازم امر ہے؟
عورتوں کو مستقل علیحدہ وعظ و نصیحت کرنا امام پر لازم نہیں بلکہ گزشتہ حدیث دلیل ہے کہ ایسا کرنا تب بہتر ہے جب عورتوں تک امام کی آواز نہ پہنچی ہو۔ نیز عطاء بن ابی رباح کے مذکورہ قول سے استدلال کرنا کہ عورتوں کو علیحدہ وعظ کرنا لازم ہے، درست نہیں۔
❀ ابن جریج کہتے ہیں، میں نے عطاء سے پوچھا:
أحقا على الإمام أن يأتى النساء حين يفرغ فيذكرهن؟ قال: إي لعمري إن ذلك لحق عليهم، وما هم لا يفعلون ذلك؟
”کیا خطبہ سے فارغ ہونے کے بعد امام پر لازم ہے کہ وہ عورتوں کے پاس جا کر انہیں وعظ و نصیحت کرے؟ انہوں نے کہا: ہاں! قسم ہے میری جان کی، یہ ان پر حق ہے، اور انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ یہ عمل کیوں نہیں کرتے؟“
[صحیح بخاری، کتاب العیدین، باب موعظة الإمام النساء يوم العيد: 978، صحیح مسلم، کتاب صلاة العيدين: 885]
فقه الرواية:
قاضی عیاض بیان کرتے ہیں: عطاء کا مذکورہ قول ان کی اپنی روایت (مسلم: 884) جو پچھلے عنوان کے تحت بیان ہوئی ہے، کے موافق نہیں۔ قاضی عیاض کا یہ تجزیہ بنی بر حقیقت نہیں، بلکہ امام کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ عورتوں کو خطبہ نہ سنا سکے تو وہ عورتوں کے پاس جا کر انہیں وعظ کرے۔ ہر دور میں اس شرط کے ساتھ عورتوں کو علیحدہ وعظ کرنا درست ہے اور اس شرط کے ہوتے ہوئے کوئی رکاوٹ ہمیں اس سنت سے نہیں روک سکتی۔
[شرح النووي، 175/6]