سوال :
خرگوش حرام ہے یا حلال؟ میرے گھر کے اکثر افراد کا تعلق فرقہ جعفریہ سے ہے، وہ کہتے ہیں کہ خرگوش کی ہیئت اور آواز بلی سے ملتی ہے، چونکہ بلی حرام ہے، اس لیے یہ بھی حرام ہے۔
جواب :
کتاب وسنت کے دلائل کی رو سے خرگوش حلال جانور ہے، اس میں حرمت کا کوئی پہلو موجود نہیں۔ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے پرندوں میں سے پنجوں کے ساتھ شکار کرنے والے اور جانوروں میں سے نوچنے والے اور چیر پھاڑ کرنے والے درندوں کو حرام قرار دیا ہے۔ (مسلم: کتاب الصيد والذبائح، باب تحريم أكل ذي ناب من السباع وكل ذي مخلب من الطير 1931) اور خرگوش نوچنے والا درندہ نہیں ہے۔ امام المحدثين، سید الفقہاء امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک حدیث ذکر کی ہے کہ انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
”ہم نے ایک خرگوش کو مر ظہران (نامی جگہ) میں دوڑایا، لوگ اس کے پیچھے دوڑے مگر تھک کر پیچھے رہ گئے، آخر میں نے اسے پکڑ لیا اور اسے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا، انھوں نے اسے ذبح کیا اور اس کی سرین یا رانیں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس بھیجیں، آپ نے اسے قبول کر لیا۔“
(بخاری، کتاب الذبائح، باب الأرنب 5535)
امام بخاری رحمہ اللہ نے بخاری (2572) میں اس روایت کو ایک اور جگہ بھی ذکر کیا ہے، اس میں یہ بھی ہے کہ ہشام بن زید نے انس رضی اللہ عنہ سے سوال کیا: ”کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے کھایا ہے؟ انھوں نے کہا: اس میں سے آپ نے کھایا۔“ پھر کہا: ”اسے قبول کرلیا۔“ امام قسطلانی رحمہ اللہ نے شرح صحیح البخاری (292/8) میں لکھا ہے: ”خرگوش کے حلال ہونے کے بارے ائمہ اربعہ کا بھی یہی مسلک ہے اور اس باب کی حدیث جمہور محدثین کے لیے خرگوش کی حلت میں حجت ہے۔“
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایک دیہاتی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے پاس آیا، اس کے پاس بھنا ہوا خرگوش اور روٹی تھی، اس نے اسے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کے سامنے رکھ دیا، پھر اس نے کہا: میں نے اسے حیض کا خون آتے دیکھا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا: اسے کھاؤ، کوئی نقصان نہیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے دیہاتی سے بھی کہا: کھاؤ۔ اس نے کہا: میں روزہ دار ہوں۔ آپ نے کہا: کون سا روزہ؟ اس نے کہا: ہر ماہ کے تین روزے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے کہا: اگر تو روزہ دار ہے تو ایام بیض کے روزے رکھ (یعنی چاند کی) 13، 14 اور 15 کا روزہ۔“
(نسائی، کتاب الصيام (باب )ذكر الاختلاف على موسى بن طلحة الخ 2429، نصب الراية 199/4، 200، صحیح ابن حبان 3650، مسند أحمد 336/2، 246، ح: 8541/8415، ابن خزيمة 302/3، ح: 2127)
بعض لوگ اسے مکروہ اس لیے قرار دیتے ہیں کہ اسے حیض آتا ہے اور ان کی بنیاد روایات ضعیفہ و مردودہ پر ہے، جب کہ اوپر صحیح حدیث بیان ہو چکی ہے کہ اسے حیض کا ذکر کیا گیا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اسے کھاؤ کوئی ضرر نہیں ہے۔“ لوگ بلی سے مشابت کی وجہ سے حرام قرار دیتے ہیں تو یہ حرمت کی کوئی دلیل نہیں کیونکہ کتنی ہی حلال اشیاء کی شکل اور شباہت حرام اشیا سے ملتی جلتی ہوتی ہے۔ حرام وہ ہوگی جو کتاب و سنت کے دلائل کی بنیاد پر ہو، عقلی گھوڑے دوڑانے سے حلت و حرمت ثابت نہیں ہوتی۔