مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حیض کے دوران چھوٹی ہوئی نماز کی قضا کا حکم: علما کی آراء

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

جب عورت کو ایک بجے بوقت ظہر حیض جاری ہوا اور اس نے ظہر کی نماز ادا نہ کی ، کیا حیض سے پاک ہونے کے بعد اس پر اس نماز کی قضا دینا واجب ہوگا ؟

جواب :

اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے :
بعض نے کہا: اس عورت پر اس نماز کی قضا دینا واجب نہیں ہے کیونکہ اس نے کوئی غلطی اور کوتاہی نہیں کی ہے کیونکہ اس کے لیے نماز کو اس کے آخری وقت تک مؤخر کرنا جائز ہے ۔
اور علماء میں سے بعض نے کہا: اس پر مذکورہ نماز کی قضا دینا واجب ہے ۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمومی ارشاد ہے :
من أدرك ركعة من الصلاة فقد أدرك الصلاة [صحيح البخاري ، رقم الحديث 555 صحيح مسلم ، رقم الحديث 607 ]
”جس نے نماز کی ایک رکعت پالی اس نے نماز پائی ۔“
لہٰذا اس کے لیے احتیاط اسی میں ہے کہ وہ مذکورہ نماز کی قضا دے ، وہ ایک نماز ہی تو ہے اس کی قضا میں کوئی مشقت نہیں ہے ۔
(محمد بن صالح العثمین رحمہ اللہ )

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔