حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف

مرتب کردہ: ابو حمزہ سلفی
مضمون کے اہم نکات

یہ مضمون امام حسن بن صالح (جن کو محدثین نے خارجی بدعتی قرار دیا ہے) کے حوالہ سے امام ابو حنیفہ کے علمی مقام پر پیش کردہ ایک روایت کا تحقیقی جائزہ ہے۔ مقصود یہ ہے کہ یہ دکھایا جائے کہ:

  1. ابن عبدالبر کی کتاب الانتقاء میں ذکر کی گئی روایت سنداً سخت ضعیف ہے۔

  2. اگر بالفرض یہ کسی اور ذریعے سے صحیح ہو بھی جائے تو بھی یہ قول حسن بن صالح خارجی کی طرف سے ہے، جس کی بدعت خود ابو حنیفہ کے خلاف جاتی ہے۔

◈ حنفی دلیل:

امام حسن بن صالح کا قول پیش کیا گیا:

الإنتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء
قال الحسن بن صالح:
"كان أبو حنيفة عالماً فهماً قويّاً في أمره، وكان لا يرجع إذا ثبت عنده حديثٌ عن النبي صلى الله عليه وسلم.”

📌 ترجمہ:
امام حسن بن صالح فرماتے ہیں: امام ابو حنیفہ ایک سمجھدار اور اپنے علم میں مضبوط عالم دین تھے، اور جب ان کے نزدیک نبی ﷺ سے کوئی حدیث ثابت ہو جاتی تو وہ کسی اور طرف رجوع نہیں کرتے تھے۔

◈ الجواب:

یہ روایت ابن عبدالبر کی الانتقاء میں ضعیف سند سے آئی ہے۔

  • ابن عبدالبر نے خود تصریح کی کہ یہ تمام فضائل کی روایات ایک ہی واسطہ سے لی گئیں، اور وہ واسطہ مشکوک ہے (جیسا کہ اگلے حصے میں تفصیل آئے گی)۔

  • مزید یہ کہ جس نے یہ قول کہا (حسن بن صالح بن حئی) وہ خود خارجی بدعتی تھا۔

📖 حافظ ذہبی (تذكرة الحفاظ 1/203):

"مع جلالة الحسن وإمامته كان فيه خارجية.”

📌 ترجمہ:
حسن بن صالح اپنی جلالت اور امامت کے باوجود خارجی تھے۔

📖 حافظ ذہبی (ميزان الاعتدال 1/469):

"فيه بدعة، تشيع قليل، وكان يترك الجمعة.”

📌 ترجمہ:
اس میں بدعت تھی، تھوڑا تشیع بھی تھا، اور وہ جمعہ کی نماز چھوڑ دیتے تھے۔

یعنی: اگر حسن بن صالح ابو حنیفہ کی تعریف کریں تب بھی یہ تعریف کوئی وزنی حیثیت نہیں رکھتی، کیونکہ بدعتی کی روایت اپنے مذہب کی تائید میں قابلِ قبول نہیں ہوتی — یہ اصول تمام محدثین کے ہاں مسلم ہے۔

سند کا ضعف اور حکم بن منذر کی حقیقت

ابن عبدالبر نے اپنی کتاب الانتقاء میں تصریح کی ہے کہ ابو حنیفہ کے فضائل پر جو بھی اقوال ذکر کئے گئے ہیں وہ ایک ہی واسطہ سے منقول ہیں۔

◈ ابن عبدالبر کی وضاحت:

📖 الإنتقاء في فضائل الثلاثة الأئمة الفقهاء (1/137):

"باب ذكر ما انتهى إلينا من ثناء العلماء على أبي حنيفة وتفضيلهم له.”

"ذكر ذلك كله أبو يعقوب يوسف بن أحمد بن يوسف المكي في كتابه الذي جمعه في فضائل أبي حنيفة وأخباره، حدثنا به حكم بن منذر.”

📌 ترجمہ:
ابو حنیفہ کی تعریف اور ترجیح کے متعلق جو کچھ ہم تک پہنچا ہے، یہ سب ابو یعقوب یوسف بن احمد المکی نے اپنی کتاب میں جمع کیا تھا، اور ہمیں یہ سب حکم بن منذر نے روایت کیا۔

◈ اس سے ثابت ہوا:

① ابو حنیفہ کے فضائل پر آنے والی تمام روایات ابو یعقوب المکی کی نامعلوم کتاب سے منقول ہیں۔
② ابن عبدالبر تک یہ سب صرف حکم بن منذر کے واسطہ سے پہنچا۔

◈ حکم بن منذر کی حقیقت:

📖 ابن حزم (رسائل ابن حزم الأندلسي):

"حكم المذكور (حكم بن منذر) هو رأس المعتزلة بالأندلس وكبيرهم وأستاذهم ومتكلمهم وناسكهم.”

📌 ترجمہ:
یہی حکم بن منذر اندلس میں معتزلہ کا سردار تھا، ان کا بڑا، ان کا استاد، ان کا متکلم اور ان کا زاہد۔

یعنی: جس شخص سے یہ سب فضائل منقول ہیں وہ خود ایک گمراہ معتزلی فرقہ کا سربراہ تھا۔

🔻 نتیجہ: ابو حنیفہ کے فضائل پر پیش کردہ یہ اسناد سخت ضعیف اور ناقابلِ احتجاج ہیں۔

غیر معتبر توثیق

حنفی و بریلوی حضرات بعض اوقات حکم بن منذر کی مبہم تعریفات پیش کرتے ہیں۔

◈ ابن بشکوال کی روایت (الصلة في تاريخ أئمة الأندلس، ص 146):

"كان حكم بن منذر من أهل المعرفة والذكاء، متقد الذهن.”

📌 ترجمہ:
حکم بن منذر اہل معرفت میں سے تھا اور اس کا ذہن تیز تھا۔

◈ وضاحت:

یہ تعریف ابن بشکوال کی اپنی نہیں بلکہ انہوں نے جعفر بن عبداللہ الخزاعی نامی صوفی راوی سے نقل کی ہے۔
لیکن اس راوی پر محدثین نے "فيه غفلة” (اس میں غفلت ہے) کی جرح کی ہے۔

📖 ذہبی (تاريخ الإسلام):

"وكان شيخ الصوفية في زمانه، إلا أنه كانت فيه غفلة.”

📌 ترجمہ:
وہ اپنے زمانے کے صوفیوں کے شیخ تھے، مگر ان میں غفلت تھی۔

غفلت کی جرح کا مطلب یہ ہے کہ:

  • راوی کثیر الغلط ہوتا ہے۔

  • روایت میں وہم اور تسامح کرتا ہے۔

  • اس کی توثیق معتبر نہیں سمجھی جاتی۔

لہٰذا حکم بن منذر کے بارے میں پیش کی جانے والی یہ مبہم توثیق ناقابلِ اعتبار ہے۔

◈ خلاصہ و نتیجہ:

  1. ابو حنیفہ کے فضائل پر جتنی بھی روایات الانتقاء میں نقل ہوئیں وہ سب ابو یعقوب المکی کی نامعلوم کتاب سے منقول ہیں۔

  2. یہ کتاب صرف حکم بن منذر کے واسطہ سے پہنچی، جو معتزلہ کا سردار تھا۔

  3. حکم بن منذر کی تعریف کرنے والا صوفی راوی خود غفلت زدہ اور کثیر الغلط تھا، اس لیے اس کی توثیق بھی ناقابل قبول ہے۔

  4. امام حسن بن صالح (راوی) کو محدثین نے خارجی اور بدعتی کہا، لہٰذا اس کی ابو حنیفہ پر مدح بھی وزن نہیں رکھتی۔

📌 نتیجہ:
یہ تمام آثار سنداً ضعیف، اصولِ جرح و تعدیل کے مطابق ناقابلِ احتجاج اور بدعتیوں کی روایت کی وجہ سے باطل ہیں۔

اہم حوالاجات کے سکین

حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف – 01 حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف – 02 حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف – 03 حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف – 04 حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف – 05 حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف – 06 حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف – 07 حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف – 08 حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف – 09 حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف – 10 حسن بن صالح خارجی اور حکم بن منذر معتزلی کے ذریعے ابو حنیفہ کے فضائل کا ضعف – 11

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے