مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حد سے زیادہ منافع خوری کا شرعی معیار

فونٹ سائز:
تحریر : فتاویٰ سعودی فتویٰ کمیٹی

حد سے زیادہ منافع خوری کی مقدار
اس میں علما کا اختلاف ہے کسی کا قول ہے: ”تیسرا حصہ“ درست ہے۔ کسی کا قول ہے اس سے کم، لیکن اس مسئلے میں جو بہترین بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جسے لوگ اپنے عرف میں غبن شمار کرتے ہیں یعنی غیر معمولی نفع خوری، جسے خرید و فروخت کرنے والے اس اعتبار سے غبن سمجھیں کہ وہ خریدار کے لیے نقصان رساں ہے۔
[ابن باز: مجموع الفتاوي و المقالات: 128/19]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔