حدیث ابو حمید ساعدی: اثبات رفع یدین پر دس صحابہ کی گواہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمه الله کی کتاب نور العینین فی اثبات رفع الیدین عند الرکوع و بعدہ فی الصلٰوۃ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

عبد الحميد بن جعفر قال: حدثنا محمد بن عمرو بن عطاء قال: سمعت أبا حميد الساعدي فى عشرة من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم فيهم أبو قتادة، فقال أبو حميد: أنا أعلمكم بصلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم قالو: لم فو الله ما كنت أكثرنا له تبعة ولا أقدمنا له صحبة؟ قال: بلى قالوا: فاعرض، قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قام إلى الصلوة كبر ثم رفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه ويقيم كل عظم فى موضعه ثم يقرأ ثم يرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه ثم يركع و يضع راحتيه على ركبتيه معتدلا لا يصوب رأسه ولا يقنع به يقول سمع الله لمن حمده ويرفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه ثم إذا قام من الركعتين رفع يديه حتى يحاذي بهما منكبيه كما صنع عند افتتاح الصلاة فقالوا: صدقت هكذا كان يصلي النبى صلى الله عليه وسلم
عبد الحميد بن جعفر نے کہا: میں نے محمد بن عمرو بن عطاء سے سنا، اس نے کہا: میں نے أبو حميد الساعدي رضی الله عنه سے دس صحابیوں میں سنا جن میں أبو قتادة رضی الله عنه بھی تھے۔ أبو حميد رضی الله عنه نے کہا: میں تم میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم کی نماز کو جانتا ہوں۔ انھوں نے کہا: آپ نہ تو ہم سے پہلے مسلمان ہوئے، نہ ہم سے زیادہ آپ کی صحبت اختیار کی ہے (اور نہ ہم سے زیادہ ان کی اتباع کی ہے)۔ أبو حميد نے کہا: یہ بات ٹھیک ہے تو انھوں نے کہا: اچھا پھر پیش کریں۔
سیدنا أبو حميد رضی الله عنه نے فرمایا: رسول اللہ صلى الله عليه وآله وسلم جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ أكبر کہتے اور اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر ٹھہر جاتی۔ پھر قراءت کرتے، پھر اپنے دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے، پھر رکوع کرتے اور اپنی ہتھیلیاں اپنے دونوں گھٹنوں پر رکھتے، رکوع میں نہ سر اونچا رکھتے اور نہ نیچا، پھر سر اٹھاتے اور سمع الله لمن حمده کہتے اور دونوں ہاتھ کندھوں تک اٹھاتے۔۔۔ پھر جب دو رکعتیں پڑھ کر کھڑے ہوتے تو دونوں ہاتھ اپنے کندھوں تک اٹھاتے۔ (دس کے دس) صحابہ رضی الله عنهم اجمعين نے کہا: آپ نے سچ کہا، نبی صلى الله عليه وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
[ صحیح ابن حبان 171/3 ح 1864 واللفظ له 173/3 ح 1867 صحیح ابن خزيمة 297/1 ح 587 مختصر منتقى ابن الجارود ص 74-75 ح 192، جامع الترمذي 1/67 ح 304 وقال: هذا حديث حسن صحيح، ومحمد البخاري في جزء رفع اليدين ص 178 ح 102 و ابن تيمية (الفتاوى الكبرى 1/105 المجموع 453/22) وابن القيم في تهذيب سنن أبي داود (416/2) و قال حديث أبى حميد هذا حديث صحيح متلقى بالقبول لا علة له وقد أعله قوم بما برأه الله أئمة الحديث منه و نحن نذكر ما عللوه به ثم نبين فساد تعليلهم و بطلانه بعون الله. یعنی یہ حدیث صحیح ہے اسے تلقي بالقبول حاصل ہے۔ اس میں کوئی علت نہیں ہے اور ایک قوم نے اسے معلول گردانا جس سے اللہ نے أئمہ حديث کو بري قرار دیا ہے اور ہم ان کی بیان کردہ علتیں بیان کریں گے۔ پھر ان کی علتوں کا فاسد اور باطل ہونا اللہ تعالى کی مدد سے بیان کریں گے۔ (إن شاء الله) ان کے علاوہ دوسری بہت سی کتابوں میں یہ حدیث موجود ہے۔ وقال الخطابي في معالم السنن (194/1) حدیث صحیح۔ ]
رفع اليدين کے مفہوم کے ساتھ سیدنا أبو حميد رضی الله عنه سے عباس بن سہل الساعدي کی روایت میں ہے کہ اس وقت یہ صحابہ بھی موجود تھے ۔
سہل بن سعد الساعدي، أبو أسيد الساعدي، أبو ہریرہ اور محمد بن مسلمہ رضی الله عنهم اجمعين۔
[ مختصراً من صحیح ابن خزيمة 298/1 ح 589 و صحیح ابن حبان 174/3 ح 1868 جزء رفع اليدين للبخاري ص 37 رقم 5 و أسناده حسن]
حافظ أبو حاتم بن حبان البستي نے کہا: دونوں روایتیں (روایت محمد بن عمرو بن عطاء اور روایت عباس بن سہل الساعدي) محفوظ ہیں۔ (صحیح ابن حبان 3/170 تحت ح 1863)
صحیح ابن خزيمة میں ہے کہ محمد بن یحیی (ثقہ إمام) نے فرمایا:
من سمع هذا الحديث ثم لم يرفع يديه يعني إذا ركع و إذا رفع رأسه من الركوع فصلاته ناقصة.
جس نے یہ حدیث سنی اور رفع اليدين نہ کیا تو اس کی نماز ناقص ہے۔ (ج1 ص 270 ح 589)

تخریج حدیث رفع یدین ابی حمید ساعدی رضی اللہ عنہعبدالحمید بن جعفر حدیث رفع یدین کا راوی
زیلعی حنفی نے کہا: ”ولكن وثقه أكثر العلماء“ یعنی اسے اکثر علماء نے ثقہ قرار دیا ہے انتہی۔ [نصب الراية 1/344 (اس کے بعد زیلعی نے جو ”انه غلط فى هذا الحديث“ کے الفاظ لکھے ہیں، وہ دو وجہ سے مردود ہیں: ➊ یہ جمہور کے خلاف ہیں۔ ➋ وہ دوسری حدیث ہے ہماری پیش کردہ حدیث نہیں ہے۔ ]
لہذا عبدالحميد مذکور ثقہ ہے۔
أبو حاتم، نسائي اور يحيى بن سعيد کی جرح ان کی تعدیل سے متصادم ہے، لہذا ساقط ہے۔ حافظ ذہبي عبدالرحمن بن ثابت بن الصامت کے ترجمہ میں حافظ ابن حبان کے دو متضاد قول نقل کرتے ہیں، ایک میں اسے ضعیف اور دوسرے میں اسے ثقہ کہا گیا ہے اور فیصلہ کرتے ہیں: فساقط قولاه ابن حبان کے دونوں متضاد قول ساقط ہو گئے ہیں۔ میزان الاعتدال 552/2
سفیان الثوري کی جرح مسئلہ تقدیر کی وجہ سے تھی جس کی تردید حافظ ذہبي نے ”سير اعلام النبلاء“ (21/7) میں مسکت انداز میں کر دی ہے۔ صحیحین وغیرہ میں ایک جماعت کی احادیث ہیں جن پر قدری وغیرہ کا الزام ہے۔ (مثلا قتادہ تابعی وغیرہ) کیا ان کی حدیث رد کر دی جائے گی؟ دیده باید!
أبو جعفر الطحاوي کی جرح کو أحمد بن الحسین البيہقي نے مردود قرار دیا ہے اور حافظ ابن حجر کا وہ مقام نہیں کہ إمام أحمد بن حنبل وغیرہ کی صاف اور واضح توثیق کے مقابلے میں ان کی شاذ بات کو قبول کیا جائے۔
(بشرطیکہ ان کے قول کو جرح پر محمول کیا جائے ورنہ ان کا قول جرح نہیں ہے۔)
اسی لیے حافظ ذہبي لکھتے ہیں: احتج به الجماعة سوى البخاري و هو حسن الحديث ایک جماعت نے اس کے ساتھ حجت پکڑی ہے (سوائے إمام بخاري کے) اور وہ حسن الحديث ہے۔ (سير اعلام النبلاء 22/7)
(إمام بخاري نے بھی اس کی حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ كما تقدم، لہذا وہ ان کے نزدیک صحیح الحديث ہے۔) نیز دیکھئے یہی کتاب ص 249-250
حافظ أبو حاتم بن حبان لکھتے ہیں:
عبدالحميد رضى الله عنه أحد الثقات المتقنين قد سبرت أخباره فلم أره انفرد بحديث منكر لم يشارك فيه.
عبدالحميد بن جعفر رضی الله عنه ثقہ متقن تھے۔ میں نے ان کی احادیث کی جانچ پڑتال کی ہے وہ کسی منکر حدیث کے ساتھ منفرد نہیں ہیں۔ (صحیح ابن حبان 72/3 ح 1864)

محمد بن عمرو بن عطاء کا تعارف

کتب ستہ کے مرکزی راوی ہیں۔ انھیں أبو زرعة، نسائي، أبو حاتم، ابن سعد اور ابن حبان وغیرہم نے ثقہ قرار دیا ہے۔ حافظ ذہبي نے کہا: ”أحد الثقات“ (سير اعلام النبلاء 225/5)
تہذیب میں جو جرح نقل کی گئی ہے وہ محمد بن عمرو اللیثی پر ہے۔ لہذا ابن عطاء بالاتفاق ثقہ ہیں۔ انھوں نے یہ حدیث سیدنا أبو حميد رضی الله عنه سے سنی ہے۔
سیدنا أبو حميد رضی الله عنه سے ان کی ایک روایت صحیح بخاري میں بھی ہے لہذا انقطاع کا بے بنیاد الزام مردود ہے۔
عباس بن سہل الساعدي نے ان کی متابعت بھی کی ہے۔ (رواه فليح بن سليمان عنه) جیسا کہ تخریجی جدول سے ظاہر ہے۔

◈عطاف بن خالد کی روایت

طحاوي حنفی عبدالحميد بن جعفر کی روایت کے معارضہ میں عطاف بن خالد کی روایت لائے ہیں۔ (معاني الآثار 1/259)
عبدالله بن صالح –> يحيى بن سعيد –> عطاف بن خالد –> محمد بن عمرو بن عطاء –> رجل
اس کا مرکزی راوی عبدالله بن صالح متكلم فيه ہے۔ إمام نسائي نے کہا: ليس بثقة
أحمد بن حنبل، ابن معين اور ابن المديني نے اس پر جرح کی ہے۔ (الجوہر النقي لابن الترکماني 1/309)
بعض نے اس کی توثیق کی ہے اگر جمہور علماء کے نزدیک وہ ضعیف ہے۔
حافظ نور الدین ہیثمي (المتوفی 807ھ) نے کہا: وعبد الله بن صالح ضعفه الجمهور و قال عبد الملك بن شعيب: ثقة مأمون (مجمع الزوائد 7/2)
لہذا جمہور کے مقابلے میں عبد الملك بن شعیب وغیرہ کی توثیق مردود ہے۔
إمام بخاري، ابن معين أبو زرعة اور إمام أبو حاتم کی اس سے روایت اس کی صحیح حدیث میں سے ہے۔ (هدي الساري لابن حجر ص 412 ترجمہ عبد الله بن صالح)
یہ روایت أہل الحذق کے طریق سے نہیں ہے لہذا ضعیف ہے۔
دوسرے یہ کہ اگر یہ روایت صحیح بھی ہوتی تو ”رجل“ سے مراد ”عباس اور عیاش بن سہل الساعدي“ ہے۔
ظاہر ہے کہ مفسر مہم پر مقدم ہوتا ہے۔ مثلاً ایک راوی کہتا ہے:
عن رجل عن أبى هريرة اور یہی راوی کہتا ہے: عن محمد بن زياد عن أبى هريرة تو اس رجل سے لامحالہ ”محمد بن زیاد“ہی مراد ہوگا۔
لہذا عطاف بن خالد کی (بشرط صحت) روایت کے ساتھ عبدالحميد بن جعفر کی حدیث پر اعتراض فضول ہے جب کہ دیگر کئی راویوں نے اس کی متابعت بھی کر رکھی ہے۔

◈اضطراب کا دعویٰ

بعض مغالطہ دینے والوں نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ حدیث مضطرب ہے۔ کیوں کہ
محمد بن عمرو بن عطاء عن أبى حميد
محمد بن عمرو أخبرني مالك عن عياش أو عباس بن سهل
محمد بن عمرو بن عطاء عن عباس بن سهل عن أبى حميد
محمد بن عمرو بن عطاء عن عباس أو عياش
محمد بن عمرو بن عطاء: حدثني رجل
کی اسانید کے ساتھ یہ روایت مروی ہے۔
روایت نمبر 2 کے بارے میں عرض ہے کہ یہ روایت من وعن اسی سند کے ساتھ (سنن أبي داود جلد 1 صفحہ 470 رقم 733 اور صحیح ابن حبان ج 3 ص 70 رقم 1863) پر موجود ہے، اس میں ہے۔
محمد بن عمرو بن عطاء أحد بني مالك عن عباس بن سهل أحد بني مالك کا لفظ” السنن الكبرى “میں غلطی سے ”أخبرني مالك“ چھپ گیا ہے۔ (دیکھئے ج2 ص101)
بہر حال اگر قدیم نسخہ میں ”أخبرني مالك“ ہی ہو تو بھی (کاتب کی غلطی کی وجہ سے) شاذ ہے۔ روایت نمبر 1،3،4 کے بارے میں ابن حبان کا یہ فیصلہ ہے:
سمع هذا الخبر محمد بن عمرو بن عطاء عن أبى حميد الساعدي و سمعه من عباس بن سهل بن سعد الساعدي فالطريقان جميعا محفوظان
یعنی محمد بن عمرو بن عطاء نے یہ حدیث أبو حميد اور عباس بن سہل دونوں سے سنی ہے لہذا دونوں سندیں محفوظ ہیں۔ (الإحسان: 1863)
یاد رہے کہ عباس بن سهل عن أبيه والی روایت ہمارے علم میں نہیں ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء عن عباس بن سهل والی روایت میں ایک شخص عیسی بن عبدالله بن مالك مجہول الحال ہے لہذا اس کی روایت کو عبدالحميد بن جعفر کے مقابلہ میں پیش کرنا فضول ہے۔
(5) یعنی عطاف بن خالد کی روایت میں رجل سے مراد عباس بن سہل ہے جیسا کہ جدول سے ظاہر ہے لہذا اضطراب کا دعوی مردود ہے۔ اسی لیے تو بڑے بڑے أئمہ فن اور جید علماء نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔

◈سیدنا أبو قتادة رضی الله عنه کا سن وفات

سیدنا أبو قتادة الحارث بن ربعي الانصاري رضی اللہ عنہ صحابی تھے۔ (الجرح والتعديل 74/3)
① إمام الليث (بن سعد، ثقہ إمام، متوفی 175ھ) نے کہا:
أبو قتادة الحارث بن ربعي بن النعمان الانصاري رضی الله عنه 54ھ میں فوت ہوئے۔( كتاب المعرفة والتاريخ يعقوب بن سفیان 322/3)
② سعيد بن عفير (المتوفی 226ھ، صدوق عالم بالانساب) نے کہا:
أبو قتادة رضی الله عنه 54ھ میں، 70 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔ (تاريخ بغداد ج 1 ص 161)
③ إمام يحيى بن معين (ثقہ إمام) نے فرمایا: آپ 54ھ میں فوت ہوئے۔( كتاب الكنى للدولابي حنفی ج 1 ص 49)
④ یہی بات إمام ترمذي (ثقہ إمام) اور
⑤ أبو عبد الله بن مندہ الحافظ (ثقہ إمام) کی ہے۔ (تہذیب السنن لابن القيم مع عون المعبود ج 2 ص 422)
⑥ إمام بيهقي (ثقہ إمام) نے فرمایا: أہل تاریخ کا اس پر اجماع ہے کہ أبو قتادة الحارث بن ربعي بن النعمان الانصاري 54ھ کو فوت ہوئے تھے۔ (حوالہ مذکورہ بالا)
⑦ ابراہيم بن المنذر نے کہا: أبو قتادة مدینہ میں 54ھ کو فوت ہوئے۔ (مستدرك حاكم 480/3)
⑧ ذہبي نے کہا: آپ 54ھ کو فوت ہوئے۔ (تجريد أسماء الصحابة 194/2)
⑨ابن حجر نے کہا: آپ 54ھ کو فوت ہوئے۔ (تقريب التهذيب ص422)
⑩ ابن کثیر نے انھیں 54ھ کی وفیات میں ذکر کیا ہے۔ (البداية والنهاية 70/8)

◈نقاب کشائی

ان جمہور علماء کے مقابلے میں حبیب الله صاحب ڈیروی دیوبندی نے ”نور الصباح“ صفحہ 207 پر کہا: ”إمام ہیثم بن عدي فرماتے ہیں کہ حضرت أبو قتادة 38ھ میں فوت ہوئے ہیں۔ (دیکھئے البداية والنهاية ج 8 ص 68)
اول تو ابن کثیر نے زعم الهيثم بن عدي وغيره وهذا غريب کہہ کر اس قول کی تردید کر دی ہے۔ (دیکھئے البداية والنهاية) دوسرے یہ کہ ہیثم بن عدي مشہور کذاب ہے جیسا کہ گزر چکا ہے۔ (دیکھئے ص 40)

◈ایک زبردست دلیل

أم کلثوم بنت علی بن أبي طالب کا انتقال 50ھ اور 60ھ کے درمیان (54ھ میں) ہوا۔ (التاريخ الصغير للبخاري ج 1 ص 125-128)
نافع رحمہ الله بیان کرتے ہیں کہ أم کلثوم کا جنازہ پڑھایا گیا تو لوگوں میں ابن عمر، أبو ہریرہ، أبو سعيد اور أبو قتادة رضی الله عنهم اجمعين بھی موجود تھے۔ (مصنف عبدالرزاق 465/3 ح 6337 سنن نسائي 4/71 ح 1978 وأسناده صحیح)
اس قسم کی روایت عمار مولى الحارث بن نوفل سے بھی مروی ہے۔
یہ جنازہ سعيد بن العاص رضی الله عنه کے دور امارت میں پڑھا گیا ہے۔ سعيد بن العاص 28ھ سے 55ھ تک اقتدار میں رہے۔ (تہذیب السنن 423/2)
یہ بات عقلًا محال ہے کہ 38ھ میں فوت ہونے والا 50ھ اور 60ھ کے درمیان (54ھ) میں ہونے والے جنازہ میں شریک ہو لہذا درج بالا روایت نص قاطع ہے کہ سیدنا أبو قتادة رضی الله عنه 50ھ کے بعد (54ھ میں) فوت ہوئے۔ سیدنا علی رضی الله عنه کے زمانے میں فوت نہیں ہوئے۔
بعض متعصبین کا منقطع و بے سند روایات اور ہیثم بن عدي جیسے کذاب کے قول پر انھیں 38ھ میں فوت شدہ قرار دینا انتہائی غلط اور دھاندلی ہے۔
حافظ ابن قيم الجوزية نے اس حدیث پر تہذیب سنن أبي داود میں مفصل اور سیر حاصل بحث کی ہے اور مخالفین و معاندین کے دندان شکن جوابات دیے ہیں۔

◈ایک اور نکتہ

محمد بن سيرين (رحمہ الله) أبو قتادة رضی الله عنه کے شاگرد ہیں۔ (تہذیب التهذیب 190/9)
أبو قتادة رضی اللہ عنہ سے ان سے ان کی ایک روایت سنن ترمذي وغیرہ میں ہے۔ (سنن الترمذي: 995 تحفة الأشراف 264/9 و قال الترمذي: حسن غريب)
آپ 77 سال کی عمر میں 110ھ کو فوت ہوئے۔ (ملخصاً من التهذیب والتقریب)
یعنی آپ 33ھ کو پیدا ہوئے۔
أبو حميد کے شاگرد محمد بن عمرو العامري 83 سال کی عمر میں ہشام بن عبدالملك کی خلافت کے آخر میں فوت ہوئے۔ (كتاب الثقات لابن حبان 368/3)
ہشام 125ھ میں فوت ہوا۔ (شذرات الذہب 163/1)
یعنی محمد بن عمرو 42ھ کو پیدا ہوئے۔
یعنی آپ محمد بن سيرين سے صرف نو (9) سال چھوٹے تھے۔
جب ابن سيرين سیدنا أبو قتادة رضی الله عنه سے ملاقات کر سکتے ہیں تو کیا امر مانع ہے کہ محمد بن عمرو کی بھی ان سے ملاقات ہوئی ہو۔
یاد رہے کہ أبو حميد رضی الله عنه سے محمد بن عمرو کی روایت صحیح بخاري میں بھی ہے۔ محمد بن سيرين جن صحابہ کے شاگرد ہیں، ان کی وفیات 48ھ اور اس کے بعد کی ہیں۔
سیدنا حذيفة رضی الله عنه وغیرہ سے ان کی روایت مرسل ہے۔ (جامع التحصيل في أحكام المراسيل للحافظ العلائي ص 264)
اس روایت کی مفصل تحقیق کے لیے دیکھئے ”سیدنا أبو حميد الساعدي رضی الله عنه کی مشہور حدیث “ یہی کتاب ص 247 تا 273