حج کا مسنون طریقہ شیخ زبیر علی زئی کی تحقیق و تخریج کیساتھ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ ابو عبداللہ خالد بن عبداللہ الناصر کی کتاب حاجی کے شب و روز سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ، تحقیق و حواشی شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے لکھا ہے۔
مضمون کے اہم نکات

الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه كما يحب ربنا ويرضى وصلى الله وسلم على نبينا وآله وصحبه وعلى من بسنته اهتدى ، أما بعد:

میرے مسلمان بھائی! جان لیں کہ (اللہ کے ہاں) عمل صرف دو شرطوں کے ساتھ ہی مقبول ہوتا ہے:

➊ اللہ کے لئے اخلاص (خلوص نیت)
➋ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَمَن كَانَ يَرْجُو لِقَاءَ رَبِّهِ فَلْيَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا يُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهِ أَحَدًا﴾
پس جو شخص اپنے رب سے ملاقات کی امید رکھتا ہے تو اسے چاہیے کہ اچھا عمل (اختیار) کرے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے۔(18-الكهف:110)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”إنما الأعمال بالنيات وإنما لكل امرئ ما نوى“
اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کو وہی ملے گا جس کی وہ نیت کرے گا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم: 1907)
ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد“
جس نے کوئی ایسا کام کیا جس پر ہمارا حکم (اور طرز عمل) نہیں ہے تو وہ کام مردود ہے۔ (صحیح مسلم: 1718)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: ”تركت فيكم أمرين ما إن تمسكتم بهما لن تضلوا بعدي أبدا: كتاب الله وسنتي“
میں تمھارے درمیان دو چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں، جب تک تم انھیں مضبوطی سے پکڑے رکھو گے کبھی گمراہ نہیں ہو گے: (اور وہ) اللہ کی کتاب اور میری سنت ہے۔ (متدرک الحاکم: 93/1 السنن الکبری للبیہقی: 114/10 و حدیث حسن)
اس کے بعد میرے حاجی بھائی! اللہ کی حمد و ثنا بیان کریں جس نے اپنی مدد سے آپ کو (حج کی) توفیق بخشی اور (مکہ مکرمہ کے) مقدس مقامات تک پہنچنے والے راستے آپ کے لئے آسان کر دیے۔
اللہ کے ہاں مکہ مکرمہ سب سے بہترین مقام ہے (اپنے دل و دماغ میں) اس کا پورا شعور پیدا کریں۔

حج کا مسنون طریقہ شیخ زبیر علی زئی کی تحقیق و تخریج کیساتھ – hajj-methor

◈حج مبرور

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة“
اور حج مبرور (وہ حج جس میں کوئی گناہ نہ کیا گیا ہو) کا بدلہ جنت کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے۔ (متفق علیہ صحیح بخاری: 1773 صحیح مسلم: 1349)
اے میرے حاجی بھائی!
اللہ آپ کو ہر قسم کی نیکیوں کی توفیق عطا فرمائے۔ کیا آپ اپنے حج کو حج مبرور بنانا چاہتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر ان دو سوالوں کا عملی جواب دیں:
① آپ کا حج نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے مطابق کس طرح ہوگا؟
② آپ کسی طرح اس کا خیال رکھیں گے کہ (آپ کا) حج مقبول ہو جائے اور ضائع نہ ہو؟ ہو سکتا ہے کہ آپ میری ان باتوں سے حیران ہوں!
عرض ہے کہ ہم نے بہت سے ایسے حاجیوں کو دیکھا ہے، وہ احرام باندھ لینے کے باوجود اس کا خیال نہیں رکھتے کہ وہ ایسی عبادت سرانجام دے رہے ہیں جس میں اللہ نے ان پر (تمام) حرام کاموں سے اجتناب فرض کر رکھا ہے۔
یہ لوگ صحیح و ثابت دلائل کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت معلوم کرنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے حج سے پہلے والے غلط طرز عمل سے ذرہ برابر نہیں ہٹے ۔ یہ اس کی عملی دلیل ہے کہ ان کا حج اگر (عند اللہ) مقبول نہیں ہے تو پورا بھی نہیں ہوا ۔ [ناقص رہا۔] (یہ کلام محدث البانی رحمہ اللہ کی کتاب ”حجة النبي صلى الله عليه وسلم“ (ص 5) سے ماخوذ ہے۔ ) والعیاذ باللہ

◈چند اہم باتیں

اس لئے بہت سی ایسی باتیں ہیں جن کا علم اور ان پر عمل آپ (اور ہم سب) کے لئے لازمی ہے۔

✔اول: توحید

”لبيك لا شريك لك لبيك“ اے اللہ ! حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں ، حاضر ہوں۔
اے میرے حاجی بھائی!
آپ توحید والی لبیک کہتے ہوئے آئے ہیں، اس لئے آپ جان لیں کہ اس لبیک کا مفہوم آپ کے اقوال و افعال میں واضح ہونا چاہیے۔ ان امور کا تعلق دل سے ہو یا جسم سے اللہ آپ کو (اور ہمیں) اس کی توفیق بخشے۔
آپ پر یہ لازم ہے کہ اپنے خالق کی پوری اور لائق شان تعظیم کریں اور اس تصور کو دل میں (اچھی طرح) جاگزیں کر لیں۔ تمام عبادات خالص اللہ ہی کے لئے سرانجام دیں۔
دل والی عبادت: جیسے محبت، خوف، امید، توکل اور رجوع وغیرہ
قولی عبادت: جیسے ذکر، دعا، استعانت (مدد مانگنا) اور استغاثہ (مشکل کشائی کروانا)
بدنی عبادت: جیسے رکوع سجدہ اور طواف وغیرہ
مالی عبادت: جیسے ذبح، نذر اور صدقات وغیرہ
شیخ صالح الفوزان فرماتے ہیں:
”جس شخص نے اللہ کی عبادت سے انکار کیا وہ متکبر (اور کافر) ہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ دوسروں کی بھی عبادت کی وہ مشرک ہے۔ جس نے کتاب و سنت سے ہٹ کر اللہ کی عبادت کی وہ بدعتی ہے اور جس نے اکیلے اللہ کی عبادت کتاب و سنت کے دلائل کے مطابق کی وہ مؤمن (و) موحد ہے۔“
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۔‏ لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ ۔﴾
کہہ دو بے شک میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت صرف اللہ رب العالمین ہی کے لئے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اور میں سب سے پہلے اللہ کا فرماں بردار ہوں۔ (6-الأنعام:162، 163)
پس جس کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے دل میں اپنے بارے میں عاجزی، انکساری اور محتاجی کا دروازہ کھول دیتا ہے۔
(حافظ) ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اللہ تک پہنچنے کا قریب ترین دروازہ یہ ہے کہ آدمی اپنے آپ کو مفلس (اور انتہائی کمزور) سمجھے۔ وہ اپنے لئے کسی حال، مقام، سبب یا وسیلے کا خیال نہ رکھے۔ وہ صرف فقر والے دروازے سے ہی اللہ کا تقرب حاصل کرے۔ افلاس محض کا مطلب یہ ہے کہ فقر و مسکنت نے اس کے دل کو ریزہ ریزہ کر رکھا ہے۔“ (صحیح: الكلم الطيب لابن القیم رحمہ اللہ ص 17)
یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اس کے اوامر (احکامات) اور نواہی (محرمات) کی تعظیم کرے (جذبہ ایمانی کے ساتھ ہر حکم پر عمل کرے اور ہر منع کردہ چیز سے رک جائے)۔
حج کے سلسلے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَن فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ۗ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ ۗ وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ ۚ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ﴾
حج کے مہینے (لوگوں کو) معلوم ہیں (شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ) پس جس نے ان میں حج (کو اپنے اوپر) لازم کر لیا تو نہ رفث (فحش کلام) کرے اور نہ فسوق (گناہ) اور نہ جھگڑا کرے۔ اور تم جو کرتے ہو اسے اللہ جانتا ہے اور زاد راہ لے لو، بہترین زاد راہ تقویٰ ہے اور اے عقل والو! مجھ سے ڈرو۔ (2-البقرة:197)
اللہ نے آپ کو (اور ہمیں حج میں) تین چیزوں سے منع کیا ہے:
① الرفث (رفث جماع کو بھی کہتے ہیں اور بے حیائی والے فحش اقوال و افعال کو بھی)
② الفسوق (ہر قسم کا گناہ اور نافرمانی)
③ جھگڑا
پھر اس نے آپ کو تقویٰ کا حکم دیا ہے۔ جس کام سے اللہ نے منع کیا ہے خوب کوشش کر کے اس سے بچتے رہیں اور جس کے کرنے کا حکم دیا ہے اسے (اچھی طرح) کریں۔ اگر آپ نے یہ کر لیا تو آپ خوش قسمت انسان ہیں۔
جان لیں! کہ آپ پر یہ لازم ہے کہ تمام اعمال حج صرف اللہ رب العالمین کی تعظیم، بزرگی، محبت، خضوع و خشوع اور اپنے آپ کو محتاج سمجھتے ہوئے ادا کریں۔

✔دوم: نماز کا قیام

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ حُنَفَاءَ وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ ۚ وَذَٰلِكَ دِينُ الْقَيِّمَةِ﴾
اور انھیں یہی حکم دیا گیا کہ ایک سو (موحد) ہو کر صرف ایک اللہ ہی کی عبادت خلوص کے ساتھ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ ادا کریں اور یہی دین قیم ہے۔ (98-البينة:5)
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿قُل لِّعِبَادِيَ الَّذِينَ آمَنُوا يُقِيمُوا الصَّلَاةَ﴾
میرے ان بندوں کو جو ایمان لائے ہیں کہہ دو کہ نماز قائم کریں۔ (14-إبراهيم:31)
لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گواہی (کلمہ شہادت) کے بعد نماز اسلام کا دوسرا اہم ترین رکن ہے۔ یہ توحید کا مشہور نشان، اسلام اور کفر کے درمیان فرق اور دین کا ستون ہے۔ قیامت کے دن لوگوں سے سب سے پہلے نماز کا حساب لیا جائے گا۔
کسی انسان کی زکوۃ، روزہ، حج، نیکی اور صدقہ اس وقت تک قبول نہیں ہو گا جب تک اس نے پانچ نمازوں کی شرائط، ارکان اور واجبات (و سنن) کے ساتھ پوری حفاظت کا خیال نہیں رکھا ہوگا اور انھیں صحیح اوقات پر ادا کیا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَمَا مَنَعَهُمْ أَن تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقَاتُهُمْ إِلَّا أَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ وَلَا يَأْتُونَ الصَّلَاةَ إِلَّا وَهُمْ كُسَالَىٰ وَلَا يُنفِقُونَ إِلَّا وَهُمْ كَارِهُونَ﴾
اور ان لوگوں کے صدقات اس لئے قبول نہیں کیے جاتے کہ انھوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار (کفر) کیا ہے۔ یہ لوگ نماز کے لئے سستی کے ساتھ ہی آتے ہیں اور (اللہ کے راستے میں) مکروہ سمجھتے ہوئے (نفرت اور نا پسندیدگی کے ساتھ) مال خرچ کرتے ہیں۔ (9-التوبة:54)
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”بين الرجل وبين الكفر والشرك ترك الصلاة“
آدمی اور کفر و شرک کے درمیان فرق، نماز کا ترک کر دینا ہے۔ (صحیح مسلم: 82 نحو المعنی)
ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب (فرض) ہے کہ پانچ نمازوں کی حفاظت کرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز سیکھے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا حکم دیا ہے: ”صلوا كما رأيتموني أصلي“
نماز اس طرح پڑھو جس طرح تم نے مجھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (نماز کی کیفیت دیکھنے کے لئے شیخ علامہ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ کی کتاب ”صفة صلاة النبي صلى الله عليه وسلم من التكبير إلى التسليم كأنك تراها“ کا مطالعہ کریں/ خالد بن عبد اللہ الناصر
[شيخ الباني رحمه الله كي اس كتاب پر كچه ملاحضات بهي ہيں]
طریقہ : نماز اور مدلل تفصیل کے لئے دیکھئے میری کتاب ”صحیح نماز نبوی“ والحمدللہ / زبیر علی زئی) (صحیح بخاری: 631)
نماز میں حضور قلب (دل میں اللہ تعالیٰ کا خوف حاضر کرنا) اور مکمل خشوع طاری کرنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے، ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ.‏ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ ‎.﴾
مؤمنین یقینا کامیاب ہو گئے، جو اپنی نمازوں میں خشوع اختیار کرتے ہیں۔ (23-المؤمنون:1،2)
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد مبارک پر غور کریں:
”يا بلال أرحنا بالصلاة“
اے بلال! ہمیں نماز کے ساتھ راحت( و آرام )پہنچاؤ۔ (ابوداؤد: 4985 و احمد: 364/5 و هو حدیث صحیح)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”جعلت قرة عيني فى الصلاة“
میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ (النسائی: 61/7،62 ح 3392 و اسناده حسن واحمد: 285/3)
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: ”إن العبد ليصلي الصلاة وما يكتب له منها إلا عشرها ، تسعها ، ثمنها ، سبعها ، سدسها ، خمسها ، ربعها ، ثلثها ، نصفها“
بے شک بندہ نماز پڑھتا ہے مگر اسے نماز کا دسواں، نواں، آٹھواں، ساتواں، چھٹا، پانچواں، چوتھا، تیسرا (اور) آدھا حصہ ملتا ہے۔
ابوداؤد ( 796 ) واحمد ( 321/4) واللفظ له وھو حدیث حسن
سلف صالحین کے سابق علماء علم حاصل کرنے (استاد بنانے) کے لئے سنت سے تمسک اور خاص کر نماز کو معیار بناتے تھے۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ (تابعی صغیر) نے فرمایا:
”اگلے لوگ جب کسی آدمی کے پاس علم سیکھنے کے لئے آتے تو اس کی نماز اور سنت (پر عمل) دیکھتے۔ وہ اس کی حالت بھی دیکھتے پھر اس کے بعد (اطمینان کی صورت میں) علم حاصل کرتے۔“
الدارمی (112/1 ،113 ح 426 ، 427) وسنده ضعیف مغیرہ بن مقسم مدلس راوی ہے۔
ابوالعالیہ (تابعی رحمہ اللہ) نے فرمایا:
”جب ہم کسی آدمی کے پاس علم سیکھنے کے لئے آتے تو اس کی نماز دیکھتے۔ اگر وہ نماز اچھے طریقے سے پڑھتا تو ہم اس کے پاس (علم سیکھنے کے لئے) بیٹھ جاتے اور (آپس میں) کہتے: یہ آدمی (نماز کی طرح) دوسری چیزوں میں بھی اچھا ہوگا۔ اور اگر وہ نماز غلط پڑھتا تو ہم چلے جاتے اور کہتے یہ شخص دوسری چیزوں میں اور زیادہ برا ہوگا۔“
الدارمی (113/1 ح429) وسنده ضعیف، ابو جعفر الرازی کی ربیع بن انس سے روایت مضطرب (ضعیف) ہوتی ہے۔
دیکھئے الثقات لابن حبان (228/4)

✔سوم: پاک (اور حلال )رزق

جن چیزوں میں اموال خرچ کیے جاتے ہیں ان میں سب سے بہتر یہ ہے کہ محبوب (اللہ) تک پہنچنے کے لئے اور محبوب (پیارے اللہ) کی پسندیدہ چیزوں میں مال خرچ کیا جائے۔ کیوں نہ ہو، پاک غنی حمید (بے نیاز اور تعریفوں والے) اللہ نے ہم سے وعدہ کیا ہے کہ اگر ہم اس کے لئے مال خرچ کریں گے تو وہ ہمارے رزق میں برکت دے گا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ﴾
اور تم نے (اللہ کے راستے میں) جو چیز خرچ کی اللہ اس کا بعد میں اجر دے گا اور وہ بہتر رزق دینے والوں میں سے ہے۔ (34-سبأ:39)
مسجد حرام (خانہ کعبہ) کی زیارت میں اموال خرچ کرنا اور اپنے قیمتی اوقات میں سے وقت نکالنا انتہائی بہترین کام ہے، مسجد حرام وہ پہلا (عبادت کا) گھر ہے جو لوگوں کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری مسجدوں کے مقابلے میں مسجد حرام میں ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نمازوں کے برابر ہے۔(ابن ماجه1404 وسندہ صحیح ، احمد 343/3، 397 وسنده صحیح ) طواف کی سعادت حاصل کرنا اللہ کے اس فرمان پر عمل ہے:
﴿وَلْيَطَّوَّفُوا بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ﴾
اور بیت عتیق (پرانے گھر/ خانہ کعبہ) کا طواف کریں۔ (22-الحج:29)
لیکن یاد رہے کہ یہ مال خرچ کرنا کسب حلال کے ساتھ مشروط ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”إن الله طيب لا يقبل إلا طيبا“
اللہ پاک ہے وہ صرف پاک ہی کو قبول کرتا ہے۔ (مسلم: 1015/65)
اللہ نے مومنوں کو وہی حکم دیا ہے جو اس نے رسولوں کو حکم دیا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنَ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ عَلِيمٌ﴾
اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ اور نیک اعمال کرو، بے شک تم جو کام کرتے ہو میں انھیں خوب جانتا ہوں۔ (23-المؤمنون:51)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ﴾
اے ایمان والو! میں نے تمھیں جو پاک رزق دیا ہے، اس میں سے کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم (حقیقت میں) صرف اسی کی عبادت کرنا چاہتے ہو۔ (2-البقرة:172)
پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے) ایک آدمی کا ذکر کیا جو گرد آلود بکھرے ہوئے بالوں کے ساتھ لمبے سفر پر ہے۔ وہ اپنے دونوں ہاتھ آسمان کی طرف اٹھا کر یا رب، یا رب (اے میرے رب، اے میرے رب) کہہ رہا ہے مگر اس کا کھانا حرام، پینا حرام، لباس حرام ہے اور وہ حرام غذا پر پلا ہوا ہے، تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی؟ (اسے مسلم نے روایت کیا ہے، حدیث: 1015)
حدیث: ”إن الله طيب … إلخ“ کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام نقائص و عیوب سے پاک ہے وہ اعمال میں سے صرف وہی اعمال قبول کرتا ہے جو پاک ہوں، فاسد کرنے والی چیزوں مثلاً: ریا، دکھاوا، تکبر اور ہر قسم کے شرک سے خالی ہوں۔
وہ صدقات میں سے صرف وہی قبول کرتا ہے جو حلال و پاک مال میں سے ہوں۔ وہ اقوال میں سے بھی صرف پاک اقوال ہی قبول کرتا ہے۔ تشہد والی حدیث میں آیا ہے: ”التحيات لله والصلوات والطيبات … الخ“ سب تحفے، نمازیں اور پاک چیزیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔
طیبات کا معنی( و مفہوم) یہ ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنی ذات و صفات اور افعال و اقوال میں پاک ہے۔ اس کے دربار میں مقبولیت کے لائق مخلوق کے صرف پاک اقوال و افعال ہی ہیں۔ (خبیث باتوں اور کاموں سے اجتناب کر کے صرف پاک و صاف باتیں اور کام ہی کرنے چاہئیں)

✔چہارم: حسن اخلاق

میرے مسلمان بھائی! جان لیں کہ حاجیوں (اور تمام لوگوں) کے ساتھ نیکی اور اچھے اخلاق سے پیش آنے، انھیں پانی پلانے، تواضع اور تنگ نہ کرنے میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے پاس آپ کے لئے اجر عظیم ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَاخْفِضْ جَنَاحَكَ لِلْمُؤْمِنِينَ﴾
اور مومنوں کے ساتھ عاجزی اختیار کرو۔ (15-الحجر:88)
متفق علیہ حدیث میں آیا ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:)
”إن من خياركم أحسنكم أخلاقا“
تم میں سے بہترین لوگ وہ ہیں جن کے اخلاق اچھے ہیں۔ (البخاری: 3559 و مسلم: 2321)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”أحب الناس إلى الله تعالى أنفعهم للناس ، وأحب الأعمال إلى الله عز وجل سرور تدخله على مسلم ، أو تكشف عنه كربة ، أو تقضي عنه دينا ، أو تطرد عنه جوعا ، ولأن أمشي مع أخي المسلم فى حاجة أحب إلى من أن أعتكف فى هذا المسجد – مسجد المدينة – شهرا ، ومن كف غضبه ستر الله قلبه عورته ، ومن كظم غيظا ولو شاء أن يمضيه أمضاه ملأ الله قلبه رضا يوم القيامة ، ومن مشى مع أخيه المسلم فى حاجته حتى يثبتها له أثبت الله تعالى قدمه يوم تزل الأقدام وإن سوء الخلق ليفسد العمل كما يفسد الخل العسل“
اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پسندیدہ لوگ وہ ہیں جو دوسروں کو فائدہ پہنچائیں۔ اللہ عزوجل کے نزدیک پسندیدہ اعمال یہ ہیں کہ تو اپنے بھائی کو خوش کر دے یا اس کی مصیبت دور کر دے یا اس کا قرض ادا کر دے یا اس کی بھوک مٹا دے۔ مجھے اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت میں چلنا اس مسجد، مسجد نبوی میں ایک مہینہ اعتکاف سے زیادہ محبوب ہے۔ جس نے اپنا غضب و غصہ روک لیا تو اللہ اس کا شرم پردہ رکھے گا۔ جس نے طاقت رکھنے کے باوجود اپنے غصے کو روکا تو اللہ قیامت کے دن اس کے دل کو اپنی رضامندی سے بھر دے گا۔ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کی ضرورت پوری کرنے کے لئے چلے گا تو اللہ تعالیٰ اس دن اسے ثابت قدم رکھے گا جس دن قدم پھسل جائیں گے (قیامت کے دن وہ ثابت قدم رہے گا) بے شک بد اخلاقی اعمال کو اس طرح فاسد (خراب) کر دیتی ہے جیسے سرکہ شہد کو خراب کر دیتا ہے۔
قضاء الحوائج لابن الى الدنيا: 39، وقال الألباني: هذا إسناد حسن السيد (906)
[يہ سند ضعيف هے اس كا راوي بكر جمهور محدثين كے نزديك ضعيف هے/ مترجم]

✔پنجم: صبر اور احتساب

(حج کے دوران میں مکمل صبر کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ بعض لوگ نماز پڑھنے کی جگہ اور حمامات پر جھگڑتے رہتے ہیں، یہ غلط حرکت ہے ۔ اسی طرح حمامات کے دروازے کھٹکھٹانا اور حمام استعمال کرنے یا راستہ حاصل کرنے کے لئے تالیاں بجانا شدید بے صبری ہے لہذا اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہئے۔ )
میرے حاجی بھائی صاحب! آپ حج اور عمرہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وہ حدیث یاد کریں جس میں آیا ہے کہ: ”جهاد لا قتال فيه“ یعنی حج ایسا جہاد ہے جس میں قتال نہیں ہے۔ (ابن ماجہ: 3901، احمد: 165/6، وھو حدیث صحیح)
بے شک حج اخلاق (سکھانے) کا مدرسہ اور دلوں کا تزکیہ ہے، اعلیٰ مقامات تک لے جانے والا ہے۔ یہ صبر و اخلاق کا عملی امتحان ہے۔
آپ اگر امور حج ادا کرتے ہوئے بیمار ہو جائیں یا تھک جائیں یا اپنی کوئی پیاری چیز کھو بیٹھیں، یا کوئی تکلیف دہ خبر سن لیں، آپ بعض اوقات نیکی کریں مگر آپ سے برا سلوک کیا جائے، یا مصیبت و پریشانی آپ کو لاحق ہو، یا آپ کا مال آپ کی غفلت یا عدم غفلت کی وجہ سے چوری یا گم ہو جائے۔ تو جان لیں کہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہے۔
اللہ آپ کا صبر، ثابت قدمی سچائی یا جو حکمت وہ مناسب سمجھتا ہے آزمانا چاہتا ہے۔
اس لئے آپ یہ نصیحتیں سن لیں:
اول: صبر کریں، صبر صبر! اور یہ بات کثرت سے کہیں کہ ”جو ہوا ہے وہ اللہ کی تقدیر اور مشیت کے مطابق ہوا ہے، یاد رکھیں کہ ایسا کبھی نہ کہیں کہ اگر میں یہ کرتا تو اس طرح ہو جاتا“ إنا لله وإنا إليه راجعون کثرت سے پڑھیں۔
اللہ تعالیٰ کا قول یاد رکھیں: ‏ ﴿وَلَنَبْلُوَنَّكُم بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ.‏ الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ. أُولَٰئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ.﴾
اور ہم تمھیں خوف، بھوک، اموال، جانوں اور پھلوں کی کمی سے آزمائیں گے اور صبر کرنے والوں کے لئے خوشخبری ہے۔ وہ لوگ جب انھیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو انا للہ و انا الیہ راجعون کہتے ہیں۔ ان (صبر کرنے والوں) پر ان کے رب کی رحمت اور فضل و کرم ہوگا اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں۔ (2-البقرة:155 تا 157)
دوم: جان لیں کہ ”إن لكل شيء حقيقة وما بلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يعلم أن ما أصابه لم يكن ليخطئه وما أخطأه لم يكن ليصيبه“
بے شک ہر چیز کی حقیقت ہے، بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ یہ یقین نہ کر لے کہ اسے جو مصیبت پہنچی ہے اس سے کوئی چھٹکارا نہیں تھا اور جو (رزق) اسے مل نہیں سکا وہ اس کی قسمت میں لکھا ہوا ہی نہیں تھا۔ (احمد: 441/6،442 ح 28038 و سنده حسن)
سوم: اللہ تعالیٰ کے ساتھ حسن ظن رکھیں۔ وہ اس کا آپ کو بہت بہترین معاوضہ دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان فرمائی ہوئی حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”أنا عند ظن عبدي فليظن ما شاء“ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق (اُس سے) پیش آتا ہوں پس وہ جو چاہے گمان کرے۔ (البخاری: 7405 و مسلم: 2675 نحو المعنی و صحیح ابن حبان، الموارد: 2468 واللفظ له)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: ”عجبا لأمر المؤمن إن أمره كله خير وليس ذاك لأحد إلا لمؤمن إن أصابته سراء شكر فكان خيرا له وإن أصابته ضراء صبر فكان خيرا له“
مومن پر تعجب ہے اس کا ہر معاملہ بہتر ہوتا ہے اگر اسے خوشی پہنچے تو وہ شکر کرتا ہے، یہ اس کے لئے بہتر ہوتا ہے اور اگر اسے تکلیف و مصیبت پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے، پس یہ اس کے لئے بہتر ہوتا ہے۔ اور یہ (خوبی) صرف مومن کو ہی حاصل ہے (کہ اس کا ہر معاملہ بہتر ہوتا ہے)۔ (مسلم: 2999)
اب درجہ بہ درجہ، حج کے طریقے کا بیان پڑھ لیں۔

مواقیت حج و عمرہ

مواقیت: میقات کی جمع ہے۔ عبادت کے لئے زمانی و مکانی حد اور وقت کو میقات کہتے ہیں۔ حج کی میقات زمانی تین مہینے ہیں: شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ۔
عمرہ کے لئے میقات زمانی سارا سال ہے، جس وقت چاہیں عمرہ کر سکتے ہیں۔
(میقات زمانی: عبادت ادا کرنے کا شرعی مقرر شدہ زمانہ اور وقت)
(میقات مکانی: عبادت ادا کرنے کا شرعی مقرر شدہ مقام)
مواقیت مکانیہ ان مقامات کو کہتے ہیں جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقرر فرمایا ہے تا کہ حج اور عمرہ ادا کرنے والا یہاں سے احرام باندھے (اور حج یا عمرے کی نیت کرے)۔
حج یا عمرہ کی نیت کرنے والے کے لئے ان مقامات سے بغیر احرام کے گزرنا جائز نہیں ہے۔ جو شخص (حج یا عمرہ کی نیت کے ساتھ) یہاں سے بغیر احرام کے گزر جائے تو اس پر یہ واجب (فرض) ہے کہ وہ یہاں واپس آ کر احرام باندھے، ورنہ اس پر دم (ایک بکری) لازم ہے جسے وہ ذبح کر کے (یا ذبح کروا کر) حرم مکہ کے فقیروں (اور مسکینوں) میں تقسیم کرے گا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
”بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ والوں کے لئے ذوالحلیفہ، شامیوں کے لئے جحفہ، اہل نجد کے لئے قرن المنازل اور یمنیوں کے لئے یلملم (کے مقامات برائے حج و عمرہ) مقرر کیے ہیں۔ اور فرمایا: یہ ان لوگوں اور باہر سے آنے والے دوسرے لوگوں کے مقامات (مواقیت حج و عمرہ) ہیں بشرطیکہ وہ حج و عمرہ کے ارادے کے ساتھ یہاں سے گزریں۔ جو لوگ ان مواقیت کے (مکہ تک) اندر رہتے ہیں، وہ اپنے گھروں ہی سے احرام باندھیں گے، اور مکہ والے مکہ ہی سے احرام باندھیں گے۔“ (البخاری: 1524 و مسلم: 1181)
(سیدہ )عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ”بے شک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل عراق کے لئے ذات عرق کا مقام (بطور میقات) مقرر کیا ہے۔“ (ابوداؤد: 1739)
حج یا عمرہ کی نیت کرنے والا اگر میقات پہنچ جائے تو اس پر یہاں سے احرام باندھنا واجب ہے، وہ (کسی پردے والی جگہ میں) اپنے پہنے ہوئے تمام کپڑے اتار کر احرام کی دو (سفید) چادریں پہن لے گا، ایک چادر کو بطور ازار پہنے گا اور دوسری چادر کو کندھوں پر اوڑھ لے گا پھر علانیہ لبیک کہنا شروع کر دے گا۔
عورت اپنے کپڑوں کے ساتھ ہی، لبیک کہتے ہوئے حج و عمرہ کی نیت کرے گی (وہ سفید چادروں والا احرام نہیں باندھے گی)
مردوں اور عورتوں کے لئے میقات پر دو کام مستحب ہیں:
① احرام (اور نیت) سے پہلے غسل کرنا۔
② احرام (اور نیت) سے پہلے خوشبو لگانا۔
(عورتیں وہ خوشبو لگا سکتی ہیں جو نظر تو آئے مگر سونگھی نہ جا سکے تا کہ مرد حضرات فتنے میں مبتلا نہ ہوں)
مردوں کے لئے یہ مستحب ہے کہ احرام کی دونوں چادریں صاف و شفاف سفید کپڑے کی ہوں۔ عورتوں کو چاہیے کہ زینت (اور نمائش) کے کپڑوں کے بغیر جائز اور سادہ کپڑے پہنیں۔

حج کی تین اقسام

جب آپ حج کے ارادے کے ساتھ، حج کے مہینوں: شوال، ذوالقعدہ اور ذوالحجہ میں میقات پہنچ جائیں تو آپ کو تین کاموں کا اختیار ہے یا حج تمتع کریں، یا حج افراد کریں، یا حج قران کریں، ان تینوں قسموں میں حج تمتع سب سے افضل ہے۔ حج کی ان تینوں اقسام میں سے ایک کی نیت کرنا آپ پر ضروری ہے۔
① تمتع یہ سب سے افضل ہے۔ آپ میقات سے ”لبيك عمرة“ کہہ کر عمرہ کی نیت کریں۔ پھر عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دیں اور اپنے کپڑے (لباس) پہن لیں۔ احرام کے دوران میں (احرام کی وجہ سے) جن امور سے منع کیا گیا تھا وہ امور اب آپ کے لئے حلال ہیں۔ (دیکھئے ص 18، اب آپ حج کے دن تک بغیر احرام کے، حالت حلال میں ہیں۔ الا یہ کہ دوبارہ(بعض حاجی حضرات بار بار تعمیم (مسجد عائشہ ) جا کر عمرے کرتے رہتے ہیں، یہ عمل سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے۔ دیکھئے الشیخ الفقیہ محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ کی کتاب” الشرح الممتعع علی زاد المستنقع “ ( ج7 ص 377) مترجم ) عمرہ کرنا پڑے)
آٹھ ذوالحجہ (ترویہ کے دن) آپ حج (حج تمتع) کی نیت کر کے احرام باندھیں اور وہ تمام امور سرانجام دیں جو اس کتاب میں واضح طور پر آپ کو بتا دیئے گئے ہیں۔ یاد رکھیں کہ آپ پر قربانی(یہ قربانی بطور جبران (سزا) نہیں بلکہ بطور شکران (بطور شکر ) ہے ۔ والحمد للہ/ مترجم ) واجب ہے۔
② افراد: آپ میقات سے ”لبيك حجا“ کہہ کر صرف حج (حج افراد) کا احرام باندھیں (اہل مکہ اپنے گھروں سے حج افراد کا احرام باندھیں گے۔ وہ آفاقی حضرات جو مکہ میں مقیم ہیں اور انھوں نے حج کے مہینوں میں عمرہ نہیں کیا تو وہ اپنے مکانات اور ڈیروں سے ہی حج افراد کا احرام باندھیں گے)
مکہ پہنچ کر آپ کے لئے طواف قدوم کرنا مستحب ہے۔ آپ پر یہ لازم ہے کہ قربانی والے دن (10 ذوالحجہ) تک حالت احرام میں ہی رہیں۔ (ذوالحجہ کے) آٹھویں دن (یوم الترویہ) آپ وہ تمام امور سرانجام دیں جو اس کتاب میں واضح طور پر آپ کو بتا دیئے گئے ہیں۔ (دیکھئے ص 48 ) یاد رکھیں کہ آپ پر قربانی واجب نہیں ہے۔
⋆ بعض علماء کے نزدیک حج تمتع سے حج افراد افضل ہے دیکھئے الشرح الممتع (87/7)
③ قران: آپ میقات سے حج اور عمرہ (دونوں) کا اکٹھا احرام باندھیں۔ پھر ”لبيك حجا وعمرة“ کہیں۔ مکہ پہنچنے کے بعد آپ کے لئے طواف قدوم کرنا مستحب ہے۔
(ذوالحجہ کے) آٹھویں دن آپ وہ تمام امور سرانجام دیں جو اس کتاب میں واضح طور پر آپ کو بتا دیئے گئے ہیں۔ جان لیں کہ آپ پر قربانی واجب ہے۔ (اہل مکہ پر قربانی واجب نہیں ہے)
(یاد رکھیں) آپ پر یہ لازم ہے کہ قربانی والے دن تک حالت احرام میں رہیں۔
تنبیہ: حج قران اور حج افراد کرنے والے پر (صفا و مروہ) کی ایک سعی کرنا ہی لازم ہے۔ وہ اسے مقدم کر کے طواف قدوم کے ساتھ کر سکتے ہیں یا مؤخر کر کے طواف زیارت کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں۔
جب وہ طواف قدوم کے ساتھ سعی کریں تو سعی کے اختتام پر سر کے بال نہ منڈوائیں۔ دس ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک آپ حالت احرام میں ہی رہیں گے۔

اونچی آواز سے تلبیہ (لبیک) کہنے کی فضیلت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درج ذیل الفاظ میں لبیک کہتے تھے:
(ا) ”لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك“
(ب) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تلبیہ میں یہ الفاظ بھی کہتے تھے: ”لبيك إله الحق“
(ج) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ (حج و عمرہ کرنے والے) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین درج ذیل الفاظ کا اضافہ کرتے تھے: ”لبيك ذا المعارج، لبيك ذا الفواضل“
(د) ابن عمر رضی اللہ عنہما درج ذیل الفاظ کا (بطور اجتہاد) اضافہ کرتے تھے:
”لبيك وسعديك والخير بيديك والرغباء إليك والعمل“
”لبيك اللهم لبيك“ کا معنی یہ ہے کہ (اے اللہ) میں تیرا ہر حکم قبول کرنے والا ہوں، میں تیری اطاعت پر ہمیشہ قائم و دائم ہوں۔ لبیک کہنے والے کو چاہیے کہ اونچی آواز سے لبیک کہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”أتاني جبريل فأمرني أن أمر أصحابي ومن معي أن يرفعوا أصواتهم بالتلبية“
جبریل (علیہ السلام) میرے پاس آئے تو مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو اور وہ لوگ جو میرے ساتھ ہیں، یہ حکم دوں کہ اونچی آواز سے لبیک کہیں۔
ابوداؤد: (1814) و اسناده صحیح
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: ”أفضل الحج العج والثج“
افضل ترین حج: حج اور ثج ہے۔
(وہ حج افضل ہے جس میں اونچی آواز سے لبیک کہی جائے اور قربانی کا خون بہایا جائے)
الترمذی (827) نحو المعنی و سندہ ضعیف الحدیث شواہد ضعيفة انظر الصحيحة لا لبانی ( 1500) وانوار الصحیفة للمترجم (ت: 727 ) نیز دیکھئے ص 75 مترجم
عج: اونچی آواز سے لبیک کہنے کو کہتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حج کرنے کے دوران میں صحابہ کرام (رضی اللہ عنہم اجمعین) اتنی اونچی آواز سے لبیک کہتے تھے کہ ان کی آوازیں حلق میں اٹک جاتی تھیں۔
ثج: قربانی کے جانوروں کا خون بہانے کو کہتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ”ما من ملب يلبي إلا لبى ما عن يمينه وعن شماله من شجر وحجر حتى تنقطع الأرض من هاهنا وهاهنا يعني عن يمينه وعن شماله“
لبیک کہنے والا جو شخص لبیک کہتا ہے تو اس کے دائیں بائیں انتہائے زمین تک ہر درخت اور ہر پتھر لبیک کہتا ہے۔
یہ حدیث حسن ہے، اسے ترمذی (828) ابن ماجہ (2921) اور ابن خزیمہ (2634 واللفظ لہ) نے روایت کیا ہے۔

◈حج اور عمرہ کرنے والوں میں سے افضل انسان

ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اللہ کے ذکر کے بارے میں فائدہ نمبر 56 نیک اعمال کرنے والوں میں سے وہ شخص سب سے افضل ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ روزہ داروں میں وہ روزہ دار سب سے افضل ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ صدقہ دینے والوں میں سے وہ شخص سب سے افضل ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ حاجیوں میں وہ شخص دوسرے تمام حاجیوں سے افضل ہے جو سب سے زیادہ اللہ کا ذکر کرتا ہے اور یہی حال دوسری عبادات کا ہے۔“ (الوابل الصيب ص 141)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ”إنما جعل الطواف بالبيت ، وفي الصفا والمروة ورمي الجمار لإقامة ذكر الله“
خانہ کعبہ کا طواف، صفا و مروہ کی سعی اور جمرات کو کنکریاں مارنا، یہ سب اعمال اللہ کے ذکر کو قائم کرنے کے لئے مقرر کیے گئے ہیں۔
اسے ابوداؤد (1888) اور ترمذی (902) نے روایت کیا ہے۔ امام ترندی نے فرمایا:” حسن صحیح“ یعنی یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

احرام کے دوران میں ممنوع کام

احرام کے دوران میں ممنوع کام تین طرح کے ہیں۔
دیکھئے عبد اللہ الطیار کی کتاب الحج (ص72)
قسم اول: درج ذیل کام، مردوں اور عورتوں دونوں پر (حالت احرام میں) حرام ہیں:
① سر اور سارے جسم کے کسی حصے سے بال مونڈنا یا جان بوجھ کر گرانا۔ (اگر سر یا داڑھی کے بال خارش کے دوران میں گر جائیں تو کوئی گناہ نہیں ہے اور نہ دم واجب آتا ہے)
② ہاتھوں اور پاؤں کے ناخن تراشنا۔
③ احرام باندھنے کے بعد جسم یا (احرام کے) کپڑے پر خوشبو لگانا۔
④ (اپنی بیوی سے) جماع کرنا یا جماع کی طرف دعوت دینے والی حرکات کرنا مثلاً نکاح باندھنا، شہوت سے دیکھنا یا بوسے لینا وغیرہ۔
⑤ (حلال جانوروں کا) شکار کرنا۔
(موذی جانوروں کو حالت احرام میں مارنا جائز ہے) /مترجم
⑥ دستانے پہننا۔
قسم دوم: درج ذیل چیزیں صرف مردوں پر حرام ہیں عورتوں پر حرام نہیں ہیں:
① سلے ہوئے کپڑے پہننا مثلاً بنیان (انڈرویئر، پاجامہ) شلوار وغیرہ۔ ⋆ علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے نزدیک احرام کی چادر کے دو حصے سلے ہوئے ہوں تو جائز ہے۔ دیکھئے الشرح الممتع (128/7)
تنبیہ: بعض فقہاء کے نزدیک حالت احرام میں نیند کے وقت منہ پر رومال وغیرہ ڈالنا جائز ہے۔ دیکھئے الشرح الممتع (165/7)
② کسی چپکی ہوئی چیز (مثلاً ٹوپی رومال وغیرہ) کے ساتھ سر کو ڈھانپنا۔
قسم سوم: عورتوں پر (حالت احرام میں) درج ذیل کام حرام ہیں:
① نقاب پہنا، اسے عربی میں برقع بھی کہتے ہیں۔
(عورتوں پر میقات سے گزرنے کے بعد دستانے پہنا اور نقاب اوڑھنا حرام ہے)
عورت اپنے ہاتھ کپڑے وغیرہ سے ڈھانپ سکتی ہے۔ اگر اجنبی مرد نزدیک ہوں تو اس پر اپنا چہرہ اور دونوں ہتھیلیاں چھپانا واجب ہے کیونکہ یہ عورت ( پر لازم کیا گیا) ہے۔
التحقيق والا ايضاح ص 32
تنبیہ: از مترجم محدث البانی رحمہ اللہ کے نزدیک عورت کے لئے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کا چھپانا واجب نہیں ہے۔ واللہ اعلم

عورتوں کے خاص احکام

اول: عورت کے لئے یہ ضروری ہے کہ حج وغیرہ کے سفر پر جانے کے لئے اپنے محرم کے ساتھ گھر سے نکلے۔ دلیل کے لئے دیکھئے صحیح بخاری (5465 حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما)
دوم: حج کے سفر کے دوران میں، راستے میں اگر عورت کو حیض آ جائے یا اس کا بچہ پیدا ہو جائے تو وہ اپنا سفر جاری رکھے گی، وہ رک کر پاک ہونے کا انتظار نہیں کرے گی، حیض یا نفاس (بچہ پیدا ہونے) کی حالت میں وہ جب میقات پہنچے گی تو دوسری پاک عورتوں کی طرح حج یا عمرہ کی نیت کرے گی۔ اس کے لئے یہ مستحب ہے کہ دوسری ضروریات کے ساتھ صفائی اور غسل کر لے، کیونکہ نیت احرام میں طہارت شرط نہیں ہے۔
صحیح مسلم میں آیا ہے کہ جب ذوالحلیفہ کے مقام پر اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا (سفر حج میں) بچہ پیدا ہوا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”اغتسلي واستثفري بثوب وأحرمي“
تو غسل کر لے اور (شرمگاہ پر) کپڑا باندھ لے اور احرام باندھ لے (احرام کی نیت کر لے)۔ (صحیح مسلم: 218/147 او دار السلام: 2950)
سابقہ تفصیل سے درج ذیل باتیں ثابت ہوئیں:
(ا)وہ دوسری عورتوں کی طرح میقات سے احرام کی نیت کرے گی اور احرام کے دوران میں منع کردہ کاموں سے اجتناب کرے گی۔ اگر چہ وہ حالت طہر میں (پاک) نہ ہو تو بھی مکہ جائے گی۔
(ب) وہ نقاب (برقع) اور دستانے اتار دے گی۔
(ج) زینت کی نمائش کے بغیر وہ جو لباس پہننا چاہے تو اسے اجازت ہے۔ جیسا کہ آگے آرہا ہے، اس پر کسی خاص رنگ کی پابندی نہیں ہے۔ پس (حائضہ) عورت کے لئے (حیض و نفاس سے) پاک ہونے اور حیض و نفاس سے غسل کرنے کے بغیر بیت اللہ کا طواف کرنا جائز نہیں ہے۔
سوم: اگر عرفات کے دن تک وہ( حیض و نفاس) سے پاک نہ ہو اور اس سے پہلے اس نے حج تمتع کے لئے عمرہ کی نیت احرام کر رکھی ہو تو وہ حج کی نیت کرے گی اور عمرہ کو حج میں داخل کر کے قران کرنے والی بن جائے گی۔ وہ حج کے تمام اعمال سرانجام دے گی سوائے اس کے کہ وہ پاک ہو جانے اور غسل کے بغیر بیت اللہ کا طواف نہیں کرے گی۔
جب( ہماری ماں) عائشہ رضی اللہ عنہا کو (ایام حج میں) ماہواری ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا:
”افعلي ما يفعل الحاج غير أن لا تطوفي بالبيت حتى تطهري“
وہ تمام امور سرانجام دو جو حاجی سرانجام دیتا ہے سوائے اس کے کہ پاک ہونے سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہ کرو۔ (صحیح البخاری: 1650 صحیح مسلم: 121/120 و دار السلام: 2919)
جب وہ پاک ہو جائے تو بیت اللہ کا ایک مرتبہ (سات چکروں کے ساتھ) طواف کرے گی اور صفا و مروہ کی ایک مرتبہ (سات چکروں کے ساتھ) سعی کرے گی، یہ اس کے حج اور عمرے کے لئے کافی ہے (اسے حج اور عمرہ کے لئے علیحدہ علیحدہ طواف اور سعی کی ضرورت نہیں ہے)
تنبیہ: چھوٹے نابالغ بچے اور بچی کا حج صحیح ہے لیکن اس سے ان کا (جوان ہونے کے بعد) فرض حج ادا نہیں ہوگا (فرضیت حج ان سے ساقط نہیں ہوگی، بلکہ بلوغ کے بعد دوبارہ فرض حج ادا کرنا پڑے گا)
ان کے ولی (سربراہ، باپ، ماں، بھائی وغیرہ) کو چاہیے کہ وہ ان کی طرف سے حج کے وہ اعمال بذات خود کرے جو یہ بچے نہ کر سکیں مثلاً جمرات کو کنکریاں مارنا وغیرہ، اگر وہ بچے بہت ہی چھوٹے ہوں اور لبیک تک نہ کہہ سکیں تو ان کا سربراہ ان کی طرف سے لبیک کہے گا اور حج کے جو کام وہ خود کر سکتے ہیں تو خود ہی کریں گے۔

حرم کے خصائص اور احکام

یہاں حرم سے مراد، حل ( غیر حرم ) کے مقابلے میں ہے۔ یعنی مکہ (اور مدینہ ) کا وہ حصہ جسے شریعت میں حرم قرار دیا گیا ہے۔
یہ احکام شیخ عبدالله آل بسام کی کتاب ” نیل المآرب في تهذيب شرح عمدة الطالب“ سے بعض اختلاف کے ساتھ ماخوذ ہیں۔
(اب آپ کی خدمت میں حرم مکہ کے چند خصائص اور احکام پیش کیے جاتے ہیں۔)
اول: حرم کی بڑی فضیلت ہے اور اس پر علماء کا اتفاق ہے کہ حرم میں عبادت، دوسرے مقامات جو حرم نہیں ہیں، سے بہت زیادہ افضل ہے۔
دوم: جس طرح مسجد حرام میں نیک کاموں کا کئی گنا ثواب ملتا ہے اسی طرح حرم میں بھی کئی گنا ثواب ملتا ہے۔ اہل علم کی ایک جماعت کا یہی قول ہے اور یہی رائج ہے۔
سوم: حرم میں گناہوں کی (دوسرے علاقوں کے مقابلے میں) شدت اور سزا زیادہ ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمَن يُرِدْ فِيهِ بِإِلْحَادٍ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ﴾
اور جس نے اس (حرم) میں الحاد اور ظلم کا ارادہ کیا تو ہم اسے دردناک عذاب دیں گے۔ (22-الحج:25)
چہارم: اس پر علماء کا اجماع ہے کہ حرم میں حالت احرام اور غیر حالت احرام (حالت حلال) میں شکار کرنا حرام ہے۔
پنجم: سوائے اذخر (ایک گھاس) کے حرم کے سرسبز درخت اور گھاس کا کاٹنا حرام ہے۔
علمائے کرام نے موذی حیوان (کے جواز قتل) پر قیاس (قیاس اگر کتاب و سنت و اجماع اور آثار سلف صالحین کے خلاف نہ ہو تو جائز ہے۔ یادر ہے کہ باطل اور گندا قیاس ہر حال میں مردود ہے، وما علينا إلا البلاغ / مترجم ) کرتے ہوئے کانٹے دار درختوں اور کانٹے دار گھاس کے کاٹنے کو جائز قرار دیا ہے۔
اسی طرح لوگ جو (درخت، گھاس اور سبزیاں وغیرہ) خود اپنے ہاتھوں سے بوئیں تو ان کا کاٹنا بھی حرام نہیں ہے۔
ششم: حرم میں کافروں کا داخلہ حرام ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلَا يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ﴾
اے ایمان والو! بے شک مشرکین نجس (پلید) ہیں، پس وہ مسجد حرام کے قریب نہ آئیں۔ (9-التوبة:28)

◈ دخول مکہ کی صفت

جو شخص حج اور عمرہ ادا کرنے کے لئے مکہ آئے تو طواف سے پہلے اس پر دو چیزیں لازمی ہیں:
① جہاں سے احرام باندھنا واجب ہے (میقات وغیرہ) وہاں سے احرام باندھ کر آئے۔
علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ کے نزدیک اہل مکہ حرم سے باہر جا کر احرام باندھ کر عمرہ کریں۔ وہ اس قول کو ضعیف سمجھتے ہیں کہ اہل مکہ اپنے گھروں سے احرام باندھ کر بھی عمرہ کر سکتے ہیں دیکھئے الشرح الممتع (52٬51/71)
② حدث اصغر اور حدث اکبر سے مکمل طور پر پاک ہو (بے وضو ہونے کی صورت میں وضو اور غسل جنابت کی صورت میں غسل کر کے آئے)۔
(سیدہ) عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب (مکہ) تشریف لائے تو آپ نے پہلا کام یہ کیا کہ وضو کیا پھر آپ نے بیت اللہ کا طواف کیا۔ (صحیح البخاری: 1641 صحیح مسلم: 1235)
دخول مکہ کے لئے چار چیزیں مسنون ہیں:
① غسل کرنا: نافع (تابعی رحمہ اللہ) سے روایت ہے کہ: ابن عمر رضی اللہ عنہما جب حرم کے قریب پہنچتے تو لبیک کہنا روک دیتے پھر ذو طوی کی وادی میں رات گزارتے۔ پھر صبح کی نماز پڑھتے اور غسل کرتے اور حدیث بیان کرتے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسی طرح کرتے تھے۔ (متفق علیہ البخاری: 1553، و مسلم: 1259)
② بنو شیبہ کے دروازے سے (بیت اللہ میں) داخل ہونا۔
③ مسجد حرام میں داخلے کے وقت پہلے اپنا دایاں پاؤں اندر رکھنا اور یہ دعا پڑھنا:
”بسم الله اللهم صل على محمد ،(ابن السنی: 88 وسنده ضعيف) اللهم افتح لي أبواب رحمتك“ (صحیح مسلم: 13)
(اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اے اللہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر درود بھیج ، اے اللہ ! میرے لئے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے۔)
یا درج ذیل دعا پڑھنا:
”أعوذ بالله العظيم وبوجهه الكريم وسلطانه القديم من الشيطان الرجيم“
میں شیطان رجیم کے مقابلے میں عظیم الشان اللہ اور اس کے کرموں والے چہرے کی پناہ مانگتا ہوں ۔ وہ اللہ جس کی سلطنت قدیم ( اور ہمیشہ سے ) ہے۔ ( ابوداؤد : 466، وسندہ صحیح)
④ بیت اللہ کو دیکھ کر ہاتھ اٹھاتے ہوئے جو مرضی ہے دعا مانگنا، یاد رہے کہ اس کے لئے کوئی مخصوص دعا مقرر نہیں ہے۔
(سیدنا) عمر (رضی اللہ عنہ) سے یہ دعا ثابت ہے:
”اللهم أنت السلام ومنك السلام ، فحينا ربنا بالسلام“
اے اللہ! تو سلام ہے اور سلامتی تجھ سے ہے، اے ہمارے رب! ہمیں سلامتی عطا فرما۔ اگر کوئی شخص یہ دعا مانگے تو اچھا ہے۔[البیہقی 73/5 و ابن ابی شیبه 97/4 ح15752، یہ اثر بلحاظ سند ثابت نہیں ہے/ مترجم ]

عمرہ ادا کرنے کا طریقہ

● طواف

طواف کے دوران میں (کھجور وغیرہ) کھانا اور پانی پینا جائز ہے دیکھئے الشرح الممتع (260/7)
جب آدمی مسجد حرام میں داخل ہو تو اسے چاہیے کہ وہ سیدھا بیت اللہ کی طرف کندھے کو احرام کی چادر سے ڈھانپ لے اور حجر اسود سے طواف کی ابتدا کرے۔ طواف قدوم (حج اور عمرہ کرنے والے کے پہلے طواف) میں دو کام مسنون ہیں:
① وہ (سات چکروں میں) اضطباع کرے یعنی اپنا دایاں کندھا ننگا کرے اور بائیں کندھے کو احرام کی چادر سے ڈھانپ لے۔
② پہلے تین چکروں میں رمل کرے یعنی تیز تیز چلے۔ اگر لوگوں کا رش نہ ہو تو حجر اسود (حجر اسود کے رُخ کے لئے زمین پر سرخ نسواری رنگ کا ایک چوڑ اخط بطور علامت مقرر کیا گیا ہے ( طواف کی ابتدا میں اس پر کھڑا ہونا لازمی نہیں ہے۔ آدمی جب بھی اس کے آگے پیچھے قریب ہو جائے تو اشارہ کر کے طواف کی ابتدا کر سکتا ہے۔ بس صرف یہ ضروری ہے کہ اپنے تمام بدن کے ساتھ حجر اسود کا آمنا سامنا کر کے اشارہ کیا جائے ) کو ہاتھ لگا کر اور چوم کر طواف شروع کرنا چاہیے۔ اگر رش (بھیڑ) کی وجہ سے ہاتھ لگانا یا چومنا ممکن نہ ہو تو اپنے (دائیں) ہاتھ سے ”بسم الله والله أكبر“ کہتے ہوئے (حجر اسود کی طرف) اشارہ کرے۔ پھر بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف کرتے ہوئے حطیم سے باہر باہر اس کے سات چکر لگائے۔
ہر چکر کے لئے کوئی خاص دعا مسنون نہیں ہے۔ دعاؤں میں سے جو دعا چاہیں مانگ سکتے ہیں۔ اللہ سے دنیا اور آخرت کی خیر (بھلائی) مانگنی چاہیے۔ مروی ہے کہ ”هنا تسكب العبرات“ یعنی: یہاں آنسو بہائے جاتے ہیں۔ [ابن ماجہ: 2945 و اسنادہ ضعیف جذا]
جب بھی حجر اسود کے پاس سے گزرے اگر ممکن ہو تو اسے ہاتھ لگائے اور اس کا بوسہ لے اور اگر ایسا کرنا مشکل ہو تو ہاتھ لگا کر اپنے ہاتھ کا بوسہ لے لے یا اپنی چھڑی (وغیرہ) لگا کر اس کا بوسہ لے۔ اور اگر یہ بھی مشکل ہو تو حجر اسود کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تکبیر کہہ کر گزر جائے۔ یاد رہے کہ دور سے اشارہ کرتے وقت ہاتھ کو چومنا صحیح نہیں ہے۔
یہ ساری حالتیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہم تک (صحیح سندوں کے ساتھ) پہنچی ہیں۔ ان میں سے جو بھی آسان میسر ہو اس پر عمل کرنا چاہیے (دوسرے لوگوں کو تکلیف دینے سے مکمل اجتناب کرنا فرض ہے)
رکن یمانی کو تو صرف ہاتھ لگانا ہی مسنون ہے، یہاں تکبیر نہیں پڑھی جائے گی اور اگر ہاتھ لگانا ممکن نہ ہو تو جاہلوں کی طرح رکن یمانی کی طرف اشارہ نہیں کرنا چاہیے۔
(رکن یمانی کو چومنا قطعاً ثابت نہیں ہے)
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صرف حجر اسود اور رکن یمانی کو ہی ہاتھ لگاتے تھے۔ جب سات چکر مکمل ہو جائیں تو طواف مکمل ہو گیا۔ (آخری چکر پر اللہ اکبر کہنا ثابت نہیں ہے۔)
دیکھئے الشرح الممتع (352/7)
اگر چکروں کی تعداد میں شک ہو جائے تو کم تعداد کو اختیار کر کے باقی نقص کی تکمیل کرنی چاہیے (اگر چھ اور سات میں شک ہے تو چھ پورے کر کے ساتواں چکر لگانا چاہیے۔)

● طواف کی دعائیں

حجر اسود کے سامنے ہو کر استلام (چھوتے اور اشارہ) کرتے ہوئے”بسم الله والله أكبر“
اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں اور اللہ سب سے بڑا ہے۔ اسے ابو داود (مسائل الامام احمد ص 102) اور بیہقی (79/5) نے صحیح سند کے ساتھ سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے۔
کہنا چاہیے۔ یہ کلمات عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ثابت ہیں۔ ان عظیم کلمات کے مفہوم کا پورا شعور ہونا چاہیے۔
حجر اسود کے استلام (چھونے یا اشارہ) کرنے کی بڑی فضیلت ہے۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجر اسود کے بارے میں فرمایا:
”ليبعثن الله الحجر يوم القيامة وله عينان يبصر بهما ولسان ينطق به ويشهد على من استلمه بحق“
اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حجر اسود کو دیکھنے والی دو آنکھیں اور بولنے والی زبان دے کر مبعوث فرمائے گا جس شخص نے حق کے ساتھ حجر اسود کا استلام (بوسہ، چھوا اور اشارہ) کیا ہو گا وہ اس کے بارے میں گواہی دے گا۔
اسے امام احمد (291/1، 371) نے روایت کیا ہے اور (امام ترمذی 961 نے حسن کہا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے:
”مسح الحجر الأسود والركن اليماني يحطان الخطايا حطا“
حجر اسود اور رکن یمانی کے چھونے سے گناہ بہت زیادہ جھڑ جاتے ہیں۔
اسے ترمذی (959 نحو المعنی ) نے حسن اور ابن حبان ( موارد : 1003) نے صحیح کہا ہے ۔
(ور واہ النسائی 221/5 ح 2922 وسنده حسن)
حجر اسود کو اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی اتباع کی وجہ سے چوما جاتا ہے۔
جب (سیدنا) عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے حجر اسود کا بوسہ لیا تو فرمایا:
”إني لأعلم أنك حجر ، لا تضر ولا تنفع ولو لا أني رأيت النبى صلى الله عليه وسلم يقبلك ما قبلتك“
بے شک میں جانتا ہوں کہ تو پتھر ہے، تو نہ نفع دے سکتا ہے اور نہ نقصان اگر میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تجھے چومتے نہ دیکھتا تو کبھی تجھے نہ چومتا۔ (صحیح البخاری: 1597 ،1605،1610 صحیح مسلم: 1270)
پھر یہ دعا پڑھے: ”اللهم إيمانا بك وتصديقا بكتابك ووفاء بعهدك واتباعا لسنة نبيك محمد صلى الله عليه وسلم“
اے اللہ! میں تجھ پر ایمان لاتا ہوں، تیری تصدیق کرتا ہوں، تیرے ساتھ وعدہ پورا کرتا ہوں اور تیرے نبی (سیدنا) محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی اتباع کرتا ہوں۔
بیہقی 79/5 اس روایت کی سند حارث الاعور کی وجہ سے سخت ضعیف ہے ، حارث تک سند بھی ضعیف ہے/مترجم ) وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ ( سیدنا) علی رضی اللہ عنہ طواف کی ابتدا میں یہ (سابق) دعا پڑھتے تھے۔
پھر رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان یہ دعا پڑھے: ”ربنا آتنا فى الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار“
اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں خیر اور آخرت میں خیر عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
اسے (احمد: 411/3 و ابوداؤد: 1829 و سنده حسن) اور ابن خزیمہ (215/4 ح 2721 وأخطأ من ضعفه ) نے روایت کیا ہے۔
حالت طواف میں اللہ کا ذکر، قرآن مجید کی قراءت اور جو (نیک) دعا مرضی ہے کر سکتے ہیں۔ ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف یا سعد بن ابی وقاص ( رضی اللہ عنہما ) طواف کے دوران میں صرف یہی دعا پڑھتے تھے:
” رب قني شح نفسي ، رب قني شح نفسي “
اے اللہ ! مجھے میرے نفس کے بخل سے بچا ، اے اللہ ! مجھے میرے نفس کے بخل سے بچا، کہا گیا کہ آپ صرف یہی دعا کیوں کرتے ہیں؟ تو انھوں نے فرمایا: جب میں اپنے نفس کے بخل سے بچ گیا تو یقیناً کامیاب ہو گیا۔
[ الوابل الصيب ص 86 دوسرا نسخہ ص 52 و تفسیر ابن جریر الطبری 29/28 عن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ وسنده حسن، روایت سفیان الثوری محموله على السماع اذا روی عنہ بیچی القطان ]
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ‎﴾
اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچ گیا تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔ (الحشر: 9، التغابن: 16)
طواف حجر اسود اور رکن یمانی کے بارے میں ایک حدیث مروی ہے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
إن مسحهما كفارة للخطايا .. من طاف بهذا البيت أسبوعا فأحصاه كان كعتق رقبة .. لا يضع قدما ولا يرفع أخرى إلا حط الله عنه بها خطيئة وكتب له بها حسنة
بے شک حجر اسود اور رکن یمانی کا چھونا گناہوں کا کفارہ ہے۔ جس نے گن کر بیت اللہ کے سات چکر لگائے گویا اس نے ایک غلام آزاد کیا۔ آدمی جو قدم رکھتا یا اٹھاتا ہے تو اس کے بدلے اللہ اس کا ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے اور اس کے نامہ اعمال میں ایک نیکی لکھ دیتا ہے۔ اسے ترمذی (959) نے روایت کیا اور فرمایا: یہ حدیث حسن ہے ۔“ [ وهو حديث حسن]

◈مقام ابراہیم کے پیچھے نماز پڑھنا اور زمزم کا پانی پینا

جب ساتواں چکر ختم ہو جائے تو اپنا دایاں کندھا ڈھانپ کر مقام ابراہیم جا کر یہ آیت پڑھیں: ﴿وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾
اور مقام ابراہیم کو جائے نماز بناؤ۔ (2-البقرة:125)
پھر اگر ممکن ہو تو مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں پڑھیں، آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان مقام ہونا چاہیے، اگر چہ آپ دور ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ پوری کوشش کریں کہ طواف کرنے والوں کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔
اگر بھیڑ (رش) وغیرہ کی وجہ سے ایسا نہ کر سکیں تو مسجد حرام میں جو جگہ مناسب ملے، دو رکعتیں پڑھ لیں۔ پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد ”قل يا أيها الكافرون“ اور دوسری میں فاتحہ کے بعد ”قل هو الله أحد“ کا پڑھنا مستحب ہے۔
یہ رکعتیں لمبی نہ پڑھیں اور مسلمانوں کو تکلیف (بھی) نہ دیں۔ اس کے بعد زمزم کے پاس جا کر پانی پینا اور سر پر بہانا مستحب ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی طرح کیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمزم کے پانی کے بارے میں فرمایا:
”طعام طعم وشفاء سقم“
یہ بھوکے کا کھانا اور بیمار کی شفا ہے۔ (البیہقی 147/5 وسنده صحیح وله شاهد فی المعجم الكبير للطبرانی 98/11 ح 1116 اوسندہ حسن )
پھر اگر ممکن ہو تو حجر اسود کے پاس جا کر تکبیر کہہ کر اس کا استلام کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا کیا ہے۔ زمزم کا پانی پینے یا نہ پینے کے بعد فوراً سعی کرنی چاہیے۔

◈صفا اور مروہ کی سعی

اس کے بعد صفا کی طرف جائے۔ صفا پہنچنے کے بعد یہ آیت پڑھے:
﴿إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ ۖ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا ۚ وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ﴾
بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ پس جس نے حج یا عمرہ کیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ وہ ان کا طواف (سعی) کرے اور جس نے بخوشی نیکی کا کام کیا تو بے شک اللہ علم والا قدردان ہے۔ (2-البقرة:158)
یہ آیت صرف سعی کی ابتدا میں ہی پڑھیں اور اس کے بعد ”نبدأ بما بدأ الله به“ جس سے اللہ نے ابتدا کی ہے ہم اسی سے ابتدا کرتے ہیں۔( مالک فی الموطا 372/1 ح 746 وسنده صحیح ، النسائی 5/ 239ح 2973،2972) کہتے ہوئے صفا سے ابتدا کرتے ہوئے اس پر چڑھ جائیں حتی کہ کعبہ شریف آپ کو نظر آ جائے۔
کعبہ کی طرف رخ کر کے، دعا کرنے والے کی طرح دونوں ہاتھ اٹھائیں اور درج ذیل الفاظ کے ساتھ اللہ کی توحید و تکبیر بیان کریں:
”الله أكبر الله أكبر، الله أكبر لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، له الملك وله الحمد ، يحيي ويميت ، وهو على كل شيء قدير ، لا إله إلا الله وحده ، أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده“
اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے ، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی الہ (معبود برحق ) نہیں ہے وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کی بادشاہی ہے، اسی کی تعریفیں ہیں ۔ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے ، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے وہ اکیلا ہے، اس نے اپنے بندے (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے اپنا وعدہ پورا کیا، اپنے بندے کی مدد کی اور (کفر ) کی تمام پارٹیوں کو اکیلے (اللہ نے) شکست دے دی ۔ (مسلم 1218)
یہ کلمات تین دفعہ پڑھیں اور ان کے درمیان (جو چاہیں) دعا مانگیں۔ پھر اتر کر (مروہ کی طرف جاتے ہوئے) صفا اور مروہ کے درمیان سعی کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: ”اسعوا فإن الله كتب عليكم السعي“ سعی کرو، بے شک اللہ نے آپ پر سعی فرض کی ہے۔
احمد (421/6) والبغوى في شرح السنہ (140/7، 141 ح 1921) وھو حدیث حسن ، دیکھئے میری کتاب ”أضواء المصابيح في تحقيق مشكاة المصابيح “ (2582) والحمد لله/ مترجم
⋆ سعی کے دوران میں اللہ کے دربار میں عاجزی اور دعا میں مصروف رہنا چاہیے۔ سعی کے دوران میں جب سبز ٹیوبوں والے نشان پر پہنچیں تو دونوں سبز نشانوں کے درمیان تیزی سے دوڑیں۔ یاد رہے کہ یہ سعی دوڑنا صرف مردوں کے ساتھ خاص ہے (عورتیں آرام سے چلیں گی)۔
حدیث میں آیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اتنی شدت سے سعی کرتے تھے کہ آپ کا ازار آپ کے گرد لپٹنے لگتا تھا۔
پھر چلتے ہوئے مروہ پر چڑھ جائیں جس طرح قبلہ رخ ہو کر صفا پر تکبیر، توحید اور دعائیں کی تھیں اسی طرح یہاں کریں، یہ ایک شوط (چکر) مکمل ہو گیا۔
پھر واپس صفا کی طرف جائیں، جہاں عام رفتار سے پیدل چلے تھے وہاں چلیں اور جہاں سعی کی تھی وہاں سعی کریں، یہ دوسرا چکر ہو گیا۔ اگر سعی کے دوران میں ”رب اغفر وارحم إنك أنت الأعز الأكرم“ (اے میرے رب ! معاف کر دے اور رحم فرما، بے شک تو سب سے عزیز و کریم ہے ۔) والی دعا پڑھیں تو کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ یہ دعا عبد اللہ بن عمر اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما سے بھی ثابت ہے۔ (بیہقی 95/5 دھو قوی عن ابن مسعود رضی اللہ عنہ)
پھر مروہ جائیں، اس طرح سات چکر پورے کریں۔ آخری چکر مروہ پر پورا ہوگا۔
جب ساتواں چکر مروہ پر پورا ہو جائے تو اپنے سر کے بال کاٹ لیں (یا منڈوائیں) عمرہ مکمل ہو گیا۔ احرام میں جو چیزیں احرام کی وجہ سے حرام ہوئی تھیں وہ اب حلال ہو گئی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اللهم ارحم المحلقين“ اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم کر۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور قصر کرانے (بال کٹوانے) والوں پر؟ آپ نے فرمایا: ”اللهم ارحم المحلقين“ اے اللہ! سر منڈوانے والوں پر رحم کر، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اور قصر کرنے والوں پر؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”والمقصرين“ اور قصر کرنے والوں پر بھی رحم کر۔ (بخاری: 1727، و مسلم: 1301)

◈ارکان عمرہ

① احرام
② طواف
③ سعی

◈واجبات عمرہ

① حرم سے باہر حل (یا میقات) سے احرام باندھنا
② سر منڈوانا یا بال کٹوانا (قصر کرانا)
تمتع کرنے والا شخص دوسرے شخص کی طرف سے عمرہ کر سکتا ہے دیکھئےالشرح الممتع علی زادالمستقع ، للشيخ العلامة محمد بن صالح العثیمین رحمہ اللہ (379/7)

حج کا مسنون طریقہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

◈ارکان حج

① احرام
② طواف افاضہ (طواف زیارت)
③ عرفات میں ٹھہرنا
④ صفا اور مروہ کے درمیان سعی

◈واجبات حج

① میقات (یا حل یا اپنے گھر) سے احرام باندھنا
② دن کو پہنچنے والے کے لئے، غروب شمس تک عرفات میں ٹھہرنا
③ فجر کی روشنی تک مزدلفہ میں رات گزارنا، عورتیں اور کمزور لوگ آدھی رات کے بعد مزدلفہ (وادی) سے روانہ ہو سکتے ہیں۔
④ ایام تشریق (10،11) کی راتیں منی میں گزارنا۔
⑤ ایام تشریق میں جمرہ اور جمرات کو کنکریاں مارنا۔
⑥ سر منڈانا یا قصر کرانا۔
⑦ طواف وداع
اہم ترین تنبیہ: اگلے صفحات پر رکن، واجب اور سنت کے درمیان فرق کے لئے کچھ علامات اختیار کی گئی ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
⋆ ⋆ ⋆ تین ستاروں کا مطلب یہ ہے کہ اس عبارت میں رکن کا ذکر ہے۔
⋆ ⋆ دو ستاروں میں واجب ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
⋆ ایک ستارے میں سنت کی طرف اشارہ ہے۔
اس پر خوب غور کریں۔ یاد رکھیں کہ اگر رکن رہ گیا تو پھر حج صحیح نہیں ہوگا۔ اور اگر واجبات میں سے کوئی چیز رہ گئی تو دم واجب آئے گا۔ یعنی ایک بکری ذبح کر کے حرم کے فقیروں میں تقسیم کرنا لازم ہوگا۔

 حج کا پہلا دن: یوم الترویہ / 8 ذوالحجہ

آٹھ ذوالحجہ کو حاجی درج ذیل کام کرے گا:
⋆ احرام باندھنے اور نیت حج سے پہلے متمتع (تمتع کرنے والے) کے لئے یہ مستحب ہے کہ غسل کر کے خوب صفائی کرے، اپنے ناخن تراش لے، مونچھیں کتر والے اور دو سفید چادر میں بطور ازار اور اوپر والی چادر پہن لے۔ عورت جو چاہے لباس پہن سکتی ہے لیکن وہ دستانے اور نقاب (برقع) نہیں پہنے گی۔
قِران اور افراد کرنے والوں نے چونکہ پہلے سے احرام باندھ رکھا ہے لہذا وہ متمتع کی طرح ناخن وغیرہ نہیں تراشیں گے۔
⋆ سورج کے طلوع ہونے کے بعد، اس دن آپ (مکہ میں) جس مکان میں رہتے ہیں وہاں سے حج ادا کرنے کی نیت سے احرام باندھ لیں۔ ⋆ ⋆ پھر ”لبيك حجا“ ”اے اللہ! میں حج کی لبیک کے ساتھ حاضر ہوں“ کہیں۔ اسے حج کی لبیک کہتے ہیں۔
⋆ اگر آپ کو یہ خوف ہو کہ کسی وجہ سے آپ حج ادا کرنے سے رہ سکتے ہیں تو لبیک کہتے وقت درج ذیل الفاظ پڑھ کر اپنا حج مشروط کر لیں:
”فإن حبسني حابس فمحلي حيث حبستني“ پس اگر مجھے کسی چیز نے روک لیا تو جہاں میں روک دیا گیا وہی میرے احرام کھولنے کی جگہ ہے۔
اگر خوف (اور کسی چیز کا ڈر) نہ ہو تو یہ الفاظ نہ پڑھیں کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ الفاظ پڑھ کر اپنا حج مشروط نہیں کیا تھا۔
⋆ ⋆ حج کی نیت کے بعد، احرام کے دوران میں تمام ممنوع کاموں سے بچنا واجب ہے۔
دیکھئے محظورات الاحرام ( احرام کے دوران میں ممنوع کام ) ص33
⋆ پھر درج ذیل تلبیہ (لبیک) پڑھے۔
”لبيك اللهم لبيك، لبيك لا شريك لك لبيك ، إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك“
”اے اللہ میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، بے شک سب تعریفیں، سب نعمتیں اور حکومت تیری ہی ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“
دس (10) ذوالحجہ کو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک یہ تلبیہ جاری رہے گا۔
پھر آپ لبیک کہتے ہوئے منی جائیں گے، وہاں آپ ظہر وعصر اور مغرب وعشاء کی نمازیں اپنے وقت پر قصر کر کے پڑھیں گے، جمع نہیں کریں گے۔
حاجی، مکہ کے رہنے والے ہوں یا باہر سے آئے ہوں، سب قصر کریں گے۔
⋆ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر میں صبح کی دو سنتوں اور وتر کے علاوہ دیگر سنتیں نہیں پڑھتے تھے۔
⋆ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جو ذکر و اذکار بعد نماز اور اذکار صبح، اذکار شام اور سوتے وقت کے اذکار وغیرہ ثابت ہیں ان کے پڑھنے کا التزام کرنا چاہیے۔
⋆ پھر یہ رات منی میں گزاریں۔

◈آٹھ (8) ذوالحجہ کے دن لوگوں کی غلطیاں

① بہت سے حاجی حضرات حج کرنے کے لئے آتے ہیں اور لوگوں کی دیکھا دیکھی حج کے امور ادا کرتے ہیں۔ اہل علم سے حج کے مسائل نہیں پوچھتے۔ گویا زبان حال سے وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں: میں نے لوگوں کو یہ کام کرتے ہوئے دیکھا تو یہ کام کر لیا حالانکہ یہ بہت بڑی جہالت ہے۔ ایسا شخص اپنی غلطی میں معذور نہیں ہے، کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ﴾ ‎
اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر (علماء) سے پوچھ لو۔ (16-النحل:43)
② بہت سے حاجی حضرات 8 ذوالحجہ سے لے کر حج کے اختتام تک اپنا دایاں کندھا ننگا رکھتے ہیں حالانکہ یہ غلط حرکت ہے، دایاں کندھا ننگا رکھنا تو پہلے طواف (طواف قدوم) میں ہی مسنون ہے۔
③ بعض عورتیں یہ سمجھتی ہیں کہ احرام کے لئے کوئی خاص رنگ مثلاً سبز وغیرہ مقرر ہے۔ حالانکہ یہ بات جہالت اور خطا پر مبنی ہے۔ زیب و نمائش کے کپڑوں سے اجتناب کرتے ہوئے عورت اپنے عام استعمال کے شرعی کپڑوں میں ہی احرام کی نیت کرے گی تاہم اس کے لئے دستانے اور نقاب پہننا ممنوع ہے۔
④ بعض حاجی حضرات احرام سے پہلے اپنی داڑھی منڈواتے یا( ایک مٹھی سے کم) کتروا دیتے ہیں۔ اور بعض حضرات اپنے ازار (اور شلوار میں) ٹخنوں سے نیچے لٹکائے رکھتے ہیں۔ اس قسم کی مخالف شریعت حرکتوں سے حج کے ثواب میں کمی آ جاتی ہے۔
⑤ بعض حج کرنے والے حضرات آٹھ ذوالحجہ کو منی میں رات نہ گزارنے کے قائل (و فاعل) ہیں بلکہ بعض لوگ اسی دن عرفات چلے جاتے ہیں۔ یہ کام سنت کے خلاف ہے۔
⑥ بہت سے حاجی، اللہ تعالیٰ سے ایسی دعائیں مانگتے رہتے ہیں جن کا معنی اور مفہوم وہ نہیں جانتے وجہ یہ ہے کہ دعاؤں اور اذکار کے بارے میں بہت سی غیر مستند کتابیں ان کے ہاتھ لگ جاتی ہیں۔ مسنون یہی ہے کہ اللہ سے وہی دعا مانگی جائے جو (کتاب و سنت سے) ثابت ہو، اس کا معنی و مفہوم معلوم ہو اور اللہ سے قبولیت دعا کی امید رکھی جائے۔
⑦ مسلمان کے لئے زبان کے ساتھ نیت کرنا مسنون نہیں ہے کیونکہ نیت کا مقام دل ہے (زبان نہیں) لیکن جو شخص حج یا عمرے کا ارادہ کرے تو اس کے لئے یہی مسنون ہے کہ احرام باندھنے کے بعد ”لبيك عمرة“ یا ”اللهم لبيك عمرة“ اور اسی طرح ”لبيك حجا“ یا ”اللهم لبيك حجا“ کے الفاظ زبان سے ادا کرے، یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے۔ نماز اور طواف وغیرہ میں زبان سے کوئی نیت ثابت نہیں ہے۔ لہذا ایسا کبھی نہیں کہنا چاہیے کہ ”میں اس طرح اس طرح نماز پڑھنے کی نیت کرتا ہوں“ یا ”میں اس طرح طواف کی نیت کرتا ہوں“ زبان کے ساتھ نیت کرنا بدعات میں سے ہے اور بآواز بلند یہ حرکت کرنا انتہائی برا اور سخت گناہ ہے۔ [ دیکھئے التحقیق والا ایضاح ص 15]

حج کا دوسرا دن: 9 ذوالحجہ

⋆ جب آپ (منی میں) صبح کی نماز پڑھ لیں اور سورج طلوع ہو جائے تو اونچی آواز کے ساتھ لبیک اور تکبیر کہتے ہوئے عرفات کی طرف روانہ ہو جائیں۔
”الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد“
⋆ اس دن روزہ رکھنا مکروہ ہے کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس دن روزہ نہیں رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا تو آپ نے اسے لوگوں کے سامنے پیا تھا۔
⋆ سنت یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو آپ زوال (ظہر کی اذان) تک نمرہ (ایک وادی جو عرفات کے ساتھ ہے) میں ٹھہرے رہیں۔
⋆ یہاں (مسجد نمرہ میں) خطبہ ہوگا، پھر اس کے بعد ظہر وعصر کی دو دو رکعتیں جمع تقدیم کے ساتھ ایک اذان اور دو اقامتوں کے ساتھ پڑھائی جائیں گی۔ (آپ بھی اسی طرح پڑھیں) ان دونوں نمازوں کے درمیان یا پہلے( یا بعد میں) کوئی نفل وغیرہ نہیں ہیں۔
⋆ ⋆ ⋆ یا پھر آپ عرفات میں داخل ہو جائیں۔ اس بات کی خوب تحقیق کر لیں کہ آپ عرفات کی حدود میں داخل ہو چکے ہیں کیونکہ وادی عرنہ عرفات میں داخل نہیں ہے۔( یاد رکھیں کہ مسجد نمرہ کا ایک بڑا حصہ عرفات میں داخل نہیں ہے۔)
⋆ آپ ذکر اللہ کے سامنے گڑگڑانے اور دل کی گہرائیوں سے نکلنے والی اور خشوع سے لبریز دعاؤں کے لئے تیار ہو جائیں۔
بعض دعاؤں اور اذکار کے لئے دیکھئے ص 71 تا 74
⋆ عرفات سارے کا سارا موقف (حج کے لئے ٹھہرنے کی جگہ) ہے۔
اگر ممکن ہو تو آپ جبل رحمت کی چٹانوں کے نیچے کھڑے ہو جائیں۔ اگر آپ کے سامنے جبل رحمت اور قبلہ (بیت اللہ) ہوں تو یہ افضل ہے۔ ⋆ پہاڑ پر چڑھنا سنت نہیں ہے۔ جاہل لوگ (جبل رحمت) پہاڑ پر چڑھتے رہتے ہیں۔
⋆ قبلہ رخ ہو کر ہاتھ اٹھاتے ہوئے خشوع اور دل جمعی کے ساتھ غروب آفتاب تک دعا کریں۔ غافلوں کی طرح ہنسی مذاق یا نیند میں یہ وقت نہ گزاریں اللہ ہی سے سلامتی چاہتے ہیں۔
⋆ کثرت سے ”لا إله إلا الله وحده لا شريك له ، له الملك وله الحمد ، وهو على كل شيء قدير“ پڑھیں، اسی طرح تلبیہ (لبیک) اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھی پڑھتے رہیں۔
قوت دعا کی ضرورت کے لئے دیکھئے ص 67
⋆ ⋆ سورج غروب ہونے سے پہلے عرفات کے میدان سے باہر نہ نکلیں۔
(سورج کے غروب ہونے سے پہلے عرفات سے روانہ ہونا حرام ہے کیونکہ یہ کام سنت کے بھی خلاف ہے اور جاہلیت کی رسموں میں سے ہے۔ جمہور کے نزدیک جو شخص سورج کے غروب ہونے سے پہلے عرفات سے روانہ ہو جائے تو اس پر فدیہ دم لازم ہے جسے حرم مکہ کے مسکینوں میں تقسیم کرنا چاہئے۔ )
⋆ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ما رئي الشيطان يوما هو فيه أصغر ولا أدحر ولا أحقر ولا أغيظ منه فى يوم عرفة وما ذاك إلا لما رأى من تنزل الرحمة وتجاوز الله عن الذنوب العظام …“
عرفات کے دن کے علاوہ کسی دن بھی شیطان اتنا چھوٹا، ذلیل، حقیر اور غصے میں نہیں دیکھا گیا۔ وجہ یہ ہے کہ وہ دیکھتا ہے کہ رحمت نازل ہو رہی ہے اور اللہ (اپنے بندوں کے) بڑے بڑے گناہ معاف فرما رہا ہے۔ اسے (امام) مالک نے موطا میں روایت کیا ہے۔ [الموطا 422/1 973 وسنده ضعیف لا رساله وللحديث شاهد ضعیف جدا عند الحاكم ، انظر شعب الایمان للبیہقی 4070 یہ روایت ضعیف ہے۔]
⋆ ⋆ غروب آفتاب کے بعد عرفات سے مزدلفہ کی طرف نرمی اور سکون کے ساتھ روانہ ہو جانا چاہیے۔ اگر کہیں کھلی جگہ ملے تو وہاں تھوڑا تیز چلنا سنت ہے۔
⋆ ⋆ سنت یہ ہے کہ آپ مزدلفہ میں قصر کرتے ہوئے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں نماز پڑھیں۔ ان سے پہلے اور بعد میں کوئی (نفلی) نماز نہ پڑھیں، صرف وتر پڑھیں۔
اگر آپ کو یہ ڈر ہو کہ آدھی رات سے پہلے رش وغیرہ کی وجہ سے مزدلفہ نہیں پہنچ سکتے تو یہ ضروری ہے کہ راستے میں ہی دونوں نمازیں پڑھ لیں۔ یہ (بہت) اہم ہے کہ نماز کو اس کے وقت پر پڑھا جائے۔
⋆ ⋆ پھر صبح تک مزدلفہ میں سو جائیں۔ کمزور لوگوں اور عورتوں کے لئے آدھی رات کے بعد مزدلفہ سے منی کی طرف جانا جائز ہے۔ بہتر یہ ہے کہ وہ آدھی رات کے بعد روانہ ہوں۔

◈نو (9) ذوالحجہ کے دن لوگوں کی غلطیاں

① بعض حاجی حضرات عرفات کی حدود سے باہر ٹھہرے رہتے ہیں، جس شخص نے یہ کام کیا اور قربانی والے (اگلے دن) کی صبح تک عرفات میں داخل نہ ہوا تو اس کا حج فاسد ہو جائے گا۔ وہ اس جاری حج کی تکمیل بھی کرے گا اور اگر فرض حج ہو تو اگلے سال دوبارہ حج کرے گا۔
② بعض حاجی حضرات اس دن روزہ رکھتے ہیں۔ (یہ غلط حرکت ہے)
③ بعض لوگ تکلف کرتے ہوئے (خواہ مخواہ) ضرور جبل رحمت کے پاس جاتے اور اس پر چڑھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔
④ بعض لوگ عرفات کے دن ہنسی مذاق، فضول باتوں اور نیند (وغیرہ) میں مشغول ہو کر وقت ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ یہ لوگ دعا اور ذکر سے محروم رہتے ہیں۔
⑤ یہ ملاحظہ بھی یاد رہے کہ بعض حاجی حضرات (یادگار بنانے کے لئے) اپنی تصویریں (فوٹو) کھنچواتے رہتے ہیں، اور انھیں یادگار تصویریں کہتے ہیں۔ یہ منکر (انتہائی بری) حرکت ہے۔
⑥ بہت سے حاجی حضرات عرفات سے واپسی میں تیز دوڑتے اور گاڑیاں بھگاتے ہیں حالانکہ یہ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس مقام پر ”السكينة السكينة“ یعنی سکون اختیار کرو سکون اختیار کرو کا حکم فرمایا ہے۔ [ دیکھئے صحیح مسلم 1272]
⑦ بعض لوگ مزدلفہ میں نماز پڑھتے وقت قبلہ کی طرف رخ کا خیال نہیں رکھتے۔

حج کا تیسرا دن: 10 ذوالحجہ قربانی کا دن، عید کا دن

⋆ ⋆ چاہے عورتوں اور کمزور مردوں کے علاوہ تمام حاجیوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ صبح کی نماز مزدلفہ میں پڑھیں۔ عورتوں اور کمزور مردوں کے لئے یہ اجازت ہے کہ چاند غائب ہونے کے بعد مزدلفہ سے منی جا سکتے ہیں۔
⋆ صبح کی نماز اور نماز کے بعد ذکر و اذکار سے فارغ ہونے کے بعد قبلہ رخ ہو کر اللہ کی حمد بیان کرنی چاہیے۔ تکبیریں اور لا الہ الا اللہ پڑھنا چاہیے اور خوب روشنی ہونے تک (زیادہ سے زیادہ) دعائیں کرنی چاہییں۔
⋆ پھر لبیک کہتے ہوئے انتہائی سکون کے ساتھ، سورج طلوع ہونے سے پہلے منی کی طرف روانہ ہونا چاہیے۔
⋆ جب آپ مزدلفہ اور منی کے درمیان وادی ”محسر“ پہنچیں تو اگر ممکن ہو تو تیز چلیں۔
⋆ مزدلفہ یا منی میں سے جس جگہ کنکریاں دیکھیں تو سات کنکریاں اٹھا لائیں اور تکبیر و لبیک کہتے ہوئے جمرہ عقبہ کی طرف چلتے رہیں۔
علامہ ابن العثیمین رحمہ اللہ نے ابن ماجہ (3029 وسند و صحیح ) اور سنن نسائی ( 268/5 ح 3095) کی ایک اور حدیث سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جمرہ عقبہ کے پاس سے کنکریاں لینی چاہئیں ۔ دیکھئے الشرح الممتع (317/7) جمرہ کو ماری ہوئی کنکریاں دوبارہ مارنا جائز ہے۔ (الشرح الممتع 323/7) اور کنکریوں کو دھونا بدعت ہے (ایضاً 7 / 318) / مترجم
پھر درج ذیل کام کریں:
⋆ ⋆ جمرہ عقبہ کو ایک ایک کر کے سات کنکریاں ماریں۔
علامہ ابن العثیمین رحمہ اللہ کے نزدیک عورتوں اور کمزوروں کے لئے طلوع آفتاب سے پہلے کنکریاں مارنا جائز ہے ۔ دیکھئے الشرح الممتع (327/7) / مترجم
اور ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہیں۔
جمرہ عقبہ کے پاس لبیک کہنا بند کر دیں۔
⋆ ⋆ اپنی قربانی ذبح کر کے اس کا گوشت (اگر ہو سکے تو) خود کھائیں اور فقیروں مسکینوں میں بھی تقسیم کر دیں۔ یاد رکھیں کہ تمتع اور قِران کرنے والے پر قربانی کرنا واجب ہے۔ افراد کرنے والے پر قربانی واجب نہیں۔
ذبح اور نحر (اونٹ ذبح کرتے) کے وقت ”بسم الله والله أكبر، اللهم هذا منك ولك اللهم تقبل مني“ پڑھیں یعنی: اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، اللہ سب سے بڑا ہے۔ اے اللہ یہ تیری طرف سے ہے اور تیرے لئے ہی ہے۔ اے اللہ میری قربانی قبول فرما۔
⋆ ⋆ پھر آپ سارے سر کے بال منڈوائیں یا سارے سر کا قصر کریں۔ سر منڈوانا افضل ہے۔ دائیں طرف سے شروع کریں۔ عورتیں اپنے سر کے بال چند انگلیوں کے برابر کاٹیں۔ اس طرح آپ کا تحلل اول مکمل ہو گیا۔ آپ احرام اتار کر اپنے کپڑے پہن لیں اور خوشبو وغیرہ (اگر میسر ہو تو) لگا لیں۔
اپنی بیوی سے ہمبستری کے علاوہ، احرام کے اندر تمام ممنوع کام آپ کے لئے حلال ہو چکے ہیں (اور اسے تحلل اول کہتے ہیں)
طواف افاضہ (طواف زیارت) اور اگر آپ پر سعی ضروری ہے تو ان دونوں ارکان کی تکمیل سے پہلے آپ اپنی بیوی سے جماع نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی آدمی جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے کے بعد اپنی بیوی سے جماع کرے تو اس کا حج صحیح ہے لیکن اس پر دم واجب ہے۔ ⋆ ⋆ ⋆ اس کے بعد مکہ جا کر رمل (دوڑنے اور تیز چلنے) کے بغیر بیت اللہ کا طواف کریں اور طواف والی دو رکعتیں پڑھیں۔
⋆ ⋆ ⋆ پھر سعی کریں، تمتع کرنے والے پر سعی کرنا فرض ہے۔ اسی طرح قِران اور افراد کرنے والے نے اگر طواف قدوم میں سعی نہیں کی تو اس پر بھی سعی کرنا فرض ہے۔
اس طرح تحلل ثانی مکمل ہو جاتا ہے (اب اپنی بیوی سے جماع حلال ہے)۔
⋆ اگر ان کاموں (مثلاً کنکریاں مارنا، سر منڈوانا، قربانی کرنا) میں سے بعض کام آگے پیچھے ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ [دلیل کے لئے دیکھئے صحیح البخاری :1721-1732 او صحیح مسلم: 1307]
⋆ پھر زمزم کا پانی پیئیں اور اگر ممکن ہو تو ظہر کی نماز مکہ (بیت اللہ) میں پڑھیں۔
⋆ پھر باقی راتیں منی میں گزارنا واجب ہے۔
تنبیہ: اس دن ہر نماز کے بعد ”الله أكبر لا إله إلا الله والله أكبر الله أكبر ولله الحمد“ بار بار کہنا نہ بھولیں۔ یاد رہے کہ تکبیر کے بہت سے طریقے آثار سلف سے ثابت ہیں۔

◈دس (10) ذوالحجہ کے دن لوگوں کی غلطیاں

① بعض حاجی حضرات مزدلفہ میں صبح کی نماز وقت سے پہلے ہی پڑھ لیتے ہیں، یہ بہت بڑی غلطی ہے اور اللہ کی حدود کو پامال کرنا ہے کیونکہ وقت سے پہلے نماز حرام ہے۔
② بعض حاجی حضرات جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے میں سستی کرتے ہیں اور دور ہی سے کنکریاں پھینک دیتے ہیں جو کہ بعض اوقات حوض میں نہیں گرتیں۔
③ بعض حاجی حضرات کنکریاں مارتے وقت یہ سمجھتے ہیں کہ وہ شیطان کو مار رہے ہیں، یہ جہالت اور غلطی ہے کیونکہ کنکریاں مارنا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پیروی ہے اور اللہ کے ذکر کو قائم کرنا ہے جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے۔
④ بہت سے حاجی حضرات کنکریاں مارنے کے بعد (حجام کے پاس جا کر) داڑھی منڈا بیٹھتے ہیں۔ اس حرام کام کا یہاں حج میں دوہرا گناہ ہے۔
⑤ بعض لوگ اس دن نوافل، صدقات، مسلمانوں کو سلام کہنے، خندہ پیشانی سے پیش آنے اور ایک دوسرے کو خوش کرنے سے اجتناب کرتے ہیں حالانکہ یہ عید کا دن ہے۔ اس دن اللہ نے اپنا دین مکمل کر دیا اور (مسلمانوں پر) اپنی نعمت پوری فرمائی (لہذا یہ خوشی اور اچھے کاموں کی کثرت کا دن ہے)۔
⑥ بعض حاجی حضرات قربانی کے جانور میں شرعی شرطوں کا خیال نہیں رکھتے (اور ہر قسم کے جانور ذبح کرتے رہتے ہیں، اگر چہ ان کا ذبح کرنا شرعی طور پر ممنوع ہی کیوں نہ ہو)۔
سعودی عرب کی (سرکاری فتوی کمیٹی) ”اللجنة الدائمة“ کے فتاوی میں لکھا ہوا ہے:
عید الاضحی کی قربانی میں جو شرائط لازمی ہیں، حج کی قربانی میں بھی وہی شرطیں لازمی ہیں۔ صاف طور پر کانے جانور، واضح طور پر مریض جانور، لنگڑا اور انتہائی بوڑھا کمزور جانور کی قربانی جائز نہیں ہے۔ بکری کی قربانی میں کم از کم عمر چھ مہینے (صحیح مسلم (1963) کی صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ قربانی کا جانور مسنہ (دوندا) ہونا چاہیے۔ ) دنبے میں ایک سال، گائے میں دو سال اور اونٹ میں پانچ سال ہے۔ اس عمر سے کم جانور کی قربانی جائز نہیں ہے چاہے عید الاضحی ہو یا حج کی قربانی ہو۔ (رقم: 2897فی 1400/3/12ھ ]
⑦ بعض ذبح کرنے والے لوگ (اور قصائی حضرات) بے نماز ہوتے ہیں۔ یہ قربانی (اللہ کے ہاں) مقبول نہیں ہے بلکہ اسے” ذبیحہ خبیثہ “قرار دیا گیا ہے۔
( شریعت میں ذیح اور قربانی کے لئے چار شرطیں ہیں دیکھئے شیخ صالح الفوزان کی کتاب ”الذكاة الشرعية وأحكامها “)
سنت یہ ہے کہ آپ خود اپنے ہاتھ سے ذبح کریں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ﴿فصل لربك وانحر﴾ اپنے رب کے لئے نماز پڑھ اور قربانی کر۔ (سورۃ الکوثر:2)
⑧ حدود حرم سے باہر مثلاً عرفات، جدہ (وغیرہ) میں قربانی ذبح کرنا جائز نہیں ہے اگر چہ اس کا (بعد میں) گوشت حرم میں ہی کیوں نہ تقسیم کر دیا جائے۔ جس نے یہ کام کیا تو اس پر حدود حرم میں دوبارہ قربانی کرنا واجب ہے چاہے حدود حرم سے باہر قربانی کرتے وقت وہ جاہل تھا یا عالم تھا۔ پھر وہ اس قربانی کے گوشت کو تقسیم کر دے گا۔
⑨ قربانی کرنے کے محدود دن ہیں یعنی عید اور اس کے بعد تین دن، ان دنوں سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ (قربانی کے دنوں میں ہی قربانی کریں۔ قول راجح میں قربانی کے تین دن ہیں۔ عید الاضحی اور اس کے بعد دو دن، دیکھئے موطا امام مالک 487/2 ح 1071 عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما وسنده صحیح)
تنبیہ: جس متمتع کے پاس قربانی کی استطاعت نہ ہو تو اس پر دس روزے رکھنا لازم ہے۔ ان میں سے تین روزے ایام حج یعنی یکم ذوالحجہ سے 13 ذوالحجہ تک رکھنے چاہییں۔ علامہ ابن عثیمین کے نزدیک ایسا شخص حج کے لئے خروج سے پہلے (اپنے گھر میں یکم ذوالحجہ سے لے کر) روزے رکھ سکتا ہے۔/ دیکھئے الشرح الممتع 92/7

حج کا چوتھا دن: 11 ذوالحجہ

⋆ ⋆ اس رات منی میں ٹھہرنا (قیام کرنا) واجب ہے۔
⋆ ⋆ منی میں قیام کے دوران میں باجماعت پانچوں نمازوں کا التزام کریں۔
(پوری کوشش کریں کہ پہلی صف میں جگہ مل جائے۔ ان دنوں میں علماء کے دروس خوب غور سے سنیں۔ یہ آپ کے لئے بہت بڑی فرصت ہے، اس موسم میں مختلف ممالک سے علماء آتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔)
⋆ یاد رکھیں کہ ان دنوں کو ایام تشریق کہا جاتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”أيام التشريق أيام أكل وشرب وذكر الله“
ایام تشریق کھانے پینے اور اللہ کے ذکر کے دن ہیں۔ (صحیح مسلم: 1141)
ان دنوں میں نمازوں کے بعد کثرت تکبیر مسنون ہے۔ آپ ہر حال میں راستے میں چلتے اور بازاروں میں چلتے پھرتے وقت تکبیریں کہتے رہیں۔
⋆ ظہر یعنی زوال کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں مارنی چاہییں۔ آپ منی کے کسی بھی مقام سے اکیس (21) کنکریاں چن سکتے ہیں۔
⋆ ⋆ پہلے جمرہ صغریٰ کو سات کنکریاں ماریں پھر جمرہ وسطیٰ کو سات کنکریاں ماریں اور آخر میں جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں۔
ساتوں کنکریاں ایک ایک کر کے ماریں اور ہر کنکری مارتے وقت اللہ اکبر کہیں۔
⋆ جمرہ صغریٰ اور جمرہ وسطیٰ کو کنکریاں مارنے میں سنت یہ ہے کہ قبلہ رخ ہو کر سامنے سے جمرہ کو کنکریاں ماریں پھر لوگوں کے رش سے ہٹتے ہوئے تھوڑا سا آگے بڑھ کر قبلہ رخ ہو کر لمبی دعا کریں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما دونوں جمروں کو کنکریاں مارنے کے بعد اتنی دیر تک دعا مانگتے رہتے تھے جتنی دیر میں سورۃ بقرہ پڑھی جاتی ہے۔ [دیکھئے فتح الباری 584/3 ح 1753 ، و ابن ابی شیبہ طبعه جدیدہ 283/3 ح 14340 وسنده قوی ]
⋆ جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے وقت خانہ کعبہ آپ کے بائیں اور منی دائیں طرف ہو، پھر کنکریاں مار کر چلے جائیں اور دعا کے لئے نہ ٹھہریں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہاں دعا کے لئے نہیں ٹھہرے تھے۔
فائدہ: صحت مند آدمی کے لئے کنکریاں مارنے کے لئے (کسی کو اپنا) وکیل بنانا جائز نہیں ہے۔ جو شخص کنکریاں مارنے کی طاقت رکھتا ہو تو اس پر واجب ہے کہ خود کنکریاں مارے۔ بالفرض اگر وہ خود کنکریاں مارنے سے (کسی وجہ سے) عاجز ہو، دن ہو یا رات وہ کنکریاں نہ مار سکتا ہو تو پھر کنکریاں مارنے میں وکیل بنانا جائز ہے۔
⋆ ⋆ پھر منی میں رات گزاریں۔

◈گیارہ (11) ذوالحجہ کے دن لوگوں کی غلطیاں

① زوال سے پہلے کنکریاں مارنا غلط ہے۔ جو شخص زوال سے پہلے کنکریاں مارے تو اس پر دم یعنی قربانی واجب ہے الا یہ کہ وہ زوال کے بعد دوبارہ کنکریاں مارے تو پھر اس پر کوئی دم (وغیرہ) نہیں ہے۔
② عام غلطی یہ ہے کہ (بہت سے) لوگ الٹا کام کرتے ہیں یعنی پہلے جمرہ عقبہ کو پھر جمرہ وسطیٰ کو اور پھر جمرہ صغریٰ کو کنکریاں مارتے ہیں۔ جس نے ایسا کام کیا تو اس پر یہ واجب ہے کہ دوبارہ (صحیح طریقے) سے کنکریاں مارے۔
اس حال میں صرف جمرہ صغریٰ کو، اس حاجی کی ماری ہوئی کنکریاں ہی شمار ہوں گی (اور باقی دو والی ضائع ہو جائیں گی)
③ بعض لوگ اس کی پوری کوشش کرتے ہیں کہ حوض میں نصب ستون کو ٹھیک ٹھیک نشانہ لگے حالانکہ یہ ستون صرف اور صرف کنکریاں مارنے کی علامت کے لئے ہی بنایا گیا ہے۔
④ ساری کنکریاں ایک ہی دفعہ مارنے سے صرف ایک ہی کنکری کا اعتبار ہو گا۔ (یہ ضروری ہے کہ کنکریاں ایک ایک کر کے ہی ماری جائیں)
⑤ دور سے کنکریاں مارنا اور اس کا یقین نہ کرنا کہ وہ حوض میں گری ہیں (غلط کام ہے) جان لیں کہ اگر کنکری حوض میں گر کر باہر جا پڑے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
⑥ بعض لوگ فضول چیزوں میں وقت ضائع کر دیتے ہیں، حالانکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿فَإِذَا قَضَيْتُم مَّنَاسِكَكُمْ فَاذْكُرُوا اللَّهَ كَذِكْرِكُمْ آبَاءَكُمْ أَوْ أَشَدَّ ذِكْرًا ۗ فَمِنَ النَّاسِ مَن يَقُولُ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا وَمَا لَهُ فِي الْآخِرَةِ مِنْ خَلَاقٍ﴾
جب تم اپنے مناسک ادا کر لو تو پھر اللہ کا ذکر کرو جس طرح تم اپنے باپ دادا کا ذکر کرتے ہو، یا اس سے بھی زیادہ کرو، لوگوں میں سے بعض لوگ یہ کہتے ہیں: اے اللہ! ہمیں دنیا میں (بہت کچھ) دے، ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے۔ (2-البقرة:200)

حج کا پانچواں دن: 12 ذوالحجہ

⋆ ⋆ اس دن آپ کے لئے منی میں (آنے والی) رات گزارنا واجب ہے۔
⋆ اس وقت کو نیک کاموں، اللہ کے ذکر اور مخلوقات کے ساتھ احسان (نیکی کرنے) میں گزاریں۔
⋆ ⋆ ظہر کے بعد تینوں جمرات کو کنکریاں ماریں، اسی طرح کریں جس طرح گیارہ (11) ذوالحجہ کو کیا تھا۔ پہلے جمرہ صغریٰ پھر جمرہ وسطیٰ پھر جمرہ کبریٰ کو کنکریاں ماریں۔
⋆ جمرہ صغریٰ اور جمرہ وسطیٰ کو کنکریاں مارنے کے بعد دعا کے لئے ٹھہریں۔
⋆ کنکریاں مارنے کے بعد اگر آپ منی سے جانا اور سفر کرنا چاہیں تو جائز ہے۔
⋆ ⋆ اگر آپ کا آج منی سے جانے کا ارادہ ہے تو غروب آفتاب سے پہلے منی سے نکل جائیں(اگر کوئی آدمی منی سے رخصت ہونے کی کوشش کے علاوہ شام تک منی میں رک جائے تو اس پر یہ لازم ہے کہ یہ رات منی میں قیام کر کے اگلے دن کی کنکریاں مار کر ہی رخصت ہو۔ دیکھئے موطا امام مالک (407/1) والسنن الکبری للبیہقی (152/5) والشرح ألممتع (361/7) اگر نکلنے کی کوشش کے دوران میں کسی عذر کی وجہ سے لیٹ ہو جائے تو پھر اس پر منی میں ٹھہرنا واجب نہیں ہے۔) اور اگر مکہ سے سفر کا ارادہ ہو تو طواف وداع کر لیں۔
⋆ حاجی کے لئے یہ افضل ہے کہ وہ ایک اور رات منی میں گزارے اور اگلے دن زوال کے بعد کنکریاں مار کر روانہ ہو۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ اتَّقَىٰ﴾
جو شخص دو دنوں میں واپس چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو تیسرے دن واپس جائے تو اس پر (بھی) کوئی گناہ نہیں ہے یہ اس کے لئے ہے جو تقویٰ کا راستہ اختیار کرے۔ (2-البقرة:203)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تیسرے دن تشریف لے گئے تھے اور اس میں تیسرے روز کی کنکریاں مارنے کا بھی ثواب ہے۔
⋆ ایام تشریق میں اگر ممکن ہو تو منی کی مسجد الخیف میں ساری نمازیں پڑھیں کیونکہ اس مسجد میں ستر نبیوں نے نماز پڑھی ہے ۔دیکھئے شیخ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ کی کتاب ”مناسك الحج والعمرة “(127/41)

حج کا چھٹا دن: 13 ذوالحجہ کے اعمال

⋆ ⋆ 12 ذوالحجہ کو منی میں رات گزاریں۔
⋆ ⋆ ظہر کے بعد تینوں جمرات کو اسی طرح کنکریاں ماریں جس طرح پہلے دو دنوں میں کیا تھا۔
⋆ ⋆ جب آپ مکہ سے رخصت ہو کر اپنے گھر واپس جانا چاہیں تو طواف وداع کریں، حائضہ اور بچہ جنے والی عورتوں پر طواف وداع لازمی نہیں ہے۔
اس کے ساتھ مناسک حج مکمل ہوئے۔ والله الحمد والمنه
[ بحمد اللہ ترجمہ ختم ہوا ،12 ذوالحجہ 1425ھ بمقام منی، مکہ المکرمہ /ز زبیر علی زئی]

12، اور 13 ذوالحجہ کے دن لوگوں کی غلطیاں

① بعض لوگ (حج کے مقامات مثلاً: منی، عرفات اور مزدلفہ میں) اپنے ٹھہرنے کی جگہ کو بے پردگی سے گندا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور صفائی کا (قطعاً) خیال نہیں رکھتے، یہ حرکت اسلامی آداب کے سراسر خلاف ہے۔
② بعض لوگ بغیر عذر کے گیارہ (11) ذوالحجہ کو منی سے واپس چلے جاتے ہیں حالانکہ ایک اور رات گزار کر تیرہ (13) ذوالحجہ کے دن جمرات کو کنکریاں مار کر واپس جانا افضل ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿فَمَن تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَن تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ لِمَنِ اتَّقَىٰ﴾
پس جو شخص دو دن پورے کر کے (12 ذوالحجہ کو) واپس چلا جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے اور جو شخص تاخیر سے (13 ذوالحجہ کو) جائے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے، یہ اس کے لئے ہے جو تقویٰ والا راستہ اختیار کرے۔ (سورۃ البقرۃ: 203)
یہ آیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فعل اس کی دلیل ہے کہ 13 ذوالحجہ کو واپس جانا افضل ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”خذوا عني مناسككم“ حج کے طریقے مجھ سے لے لو۔
③ بعض حاجی حضرات یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد نبوی کا حج یا اس کی تکمیل سے (کوئی) تعلق ہے لہذا وہ زیارت مسجد نبوی کو لازم سمجھتے ہیں مدینہ منورہ ضرور بالضرور جاتے ہیں۔ صحیح یہ ہے کہ مسجد نبوی کی زیارت، حج ہو یا سارا سال سنت ہے، اس زیارت کا حج کی تکمیل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ مسجد نبوی میں ایک نماز کا ثواب ایک ہزار نمازوں کے برابر ہے۔ لہذا سفر کا مقصد یہاں نماز پڑھنے کے لئے ہونا چاہیے۔ نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے دو یاروں: ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی قبروں کی زیارت کرنا مستحب ہے۔ یہاں مسنون درود و سلام کہنا چاہیے۔ اس کے بعد نماز پڑھنے کے لئے مسجد قبا جانا مستحب ہے۔ پھر بقیع غرقد (قبرستان) کی زیارت مستحب ہے جس میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی قبریں ہیں، یہاں مسنون سلام کہنا چاہیے اور اہل قبور کے لئے دعا کرنی چاہیے۔ پھر احد جا کر شہداء کی قبروں کی زیارت کریں اور ان کے لئے دعا کریں۔
یاد رکھیں کہ فوت شدگان (چاہے انبیاء ہوں یا شہداء) سے مدد مانگنا اور انھیں مدد کے لئے پکارنا شرک اکبر ہے، اس سے سارے (نیک) اعمال ضائع ہو جاتے ہیں۔

❀ثواب کمانے کے طریقے

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِّلَّهِ﴾
اور ایمان والے سب سے زیادہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ (2-البقرة:165)
● رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی (احادیث سے ثابت شدہ) تمام سنتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔
● جو بھی (مکہ یا مدینہ میں) ملے، چاہے آپ اسے جانتے ہیں یا نہیں جانتے، اسے السلام علیکم کہیں اور خندہ پیشانی سے پیش آئیں۔
●حاجیوں کو کھلانا پلانا اور ان سے نیکی کرنا ثواب کا کام ہے۔
●اگر کسی حاجی سے آپ کو تکلیف پہنچے تو اس پر صبر کریں سختی سے کام نہ لیں۔
● کمزوروں کی مدد اور لا علم آدمی کو حکمت اور بہترین وعظ سے سمجھانا بڑی نیکی ہے۔
●بہترین علمی اور مفید کتابیں اور کیسٹیں تقسیم کرنا۔
●دنیا کے تمام مسلمانوں کے لئے دعائیں کرنا۔
●ہر ایک سے خیر خواہی اور نصیحت کرتے ہوئے نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔
●کھلے دل کے ساتھ لوگوں پر جرح اور غیبت سے اجتناب کرنا۔
خاص طور پر دعوت دینے والے علماء اور (اسلام نافذ کرنے والے) مسلمان حکمرانوں کے لئے بددعا نہیں کرنی چاہیے بلکہ ان کے لئے دنیا و آخرت میں خیر، صحت اور توفیق کی دعا کرنی چاہیے۔
●جب آپ نرمی سے کام لیں گے تو اللہ کی رحمت پائیں گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: ”رحم الله رجلا سمحا إذا باع وإذا اشترىٰ وإذا اقتضى“ اللہ اس آدمی پر رحم کرے جو خریدتے بیچتے اور فیصلہ کرتے وقت نرمی سے کام لیتا ہے۔ (البخاری: 2076)

❀ہماری ضرورت: اللہ سے دعا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَقَالَ رَبُّكُمُ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ﴾
اور تمھارا رب فرماتا ہے کہ مجھے پکارو (مجھ سے دعا مانگو) میں تمھاری دعا قبول کروں گا، بے شک جو لوگ میری عبادت (دعا) سے تکبر کرتے ہیں وہ ذلیل ورسوا ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ (40-غافر:60)
اور فرمایا: ﴿‏ وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾
اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھتے ہیں تو (آپ ان سے کہہ دیں) پس میں (بہت ہی) قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں۔ (2-البقرة:186)
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿أَمَّن يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ﴾
کیا (اللہ کے سوا) کوئی ایسا بھی ہے جو مجبور کی دعا سنے اور مصیبت دور کر دے؟ (27-النمل:62)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”إن ربكم حي كريم يستحيي من عبده إذا رفع يديه إليه أن يردهما صفرا“
بے شک تمھارا رب حیا والا مہربان ہے، جب بندہ اس کے سامنے ہاتھ اٹھا لیتا ہے تو وہ اس سے حیا کرتا ہے کہ انھیں خالی لوٹا دے۔ (حسن ، رواہ ترمذی: 3556 وقال: حسن غریب وابوداؤد: 1488 وابن ماجہ: 3865 انظر المصابیح 2244 / مترجم)
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”إنه من لم يسأل الله تعالىٰ يغضب عليه“ بے شک جو شخص اللہ تعالیٰ سے سوال نہیں کرتا تو اللہ اس پر غضب (غصہ) فرماتا ہے۔
(الترمذی (3373) وابن ماجه (3827 ) وهو حدیث حسن /مترجم )
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: ”الدعاء هو العبادة“ دعا ہی عبادت ہے۔
(ابوداؤد (1479) والترمذی (2969) و قال : حسن صحیح صحیح ابن حبان ( موارد : 2396) والحاکم (490/1 ،491) وافقه الذہبی وھو حدیث صحیح )
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا تھا:
”يا غلام: إني أعلمك كلمات: احفظ الله يحفظك، احفظ الله تجده تجاهك، إذا سألت فاسأل الله وإذا استعنت فاستعن بالله، واعلم أن الأمة لو اجتمعت على أن ينفعوك بشيء لم ينفعوك إلا بشيء قد كتبه الله لك وإن اجتمعوا على أن يضروك بشيء لم يضروك إلا بشيء قد كتبه الله عليك، رفعت الأقلام وجفت الصحف“
اے بچے! میں تجھے کچھ باتیں بتاتا ہوں، اللہ کو یاد رکھ وہ تجھے یاد رکھے گا۔ اللہ کو یاد کر، تو اسے اپنے سامنے پائے گا، جب سوال کرے تو (صرف ایک) اللہ سے سوال کر اور جب مدد مانگے تو اللہ (ہی) سے مدد مانگ، اور جان لے کہ اگر سارے لوگ اکٹھے ہو کر تجھے نفع پہنچانا چاہیں تو نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تیرے لئے لکھ رکھا ہے۔ اور اگر سارے لوگ تجھے نقصان پہنچانا چاہیں تو نقصان نہیں پہنچا سکتے سوائے اس کے جو اللہ نے تیرے لئے (تیری قسمت میں) لکھ رکھا ہے۔ (تقدیر لکھنے والے) قلم اٹھ چکے ہیں اور (تقدیر والے) صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔
(احمد (293/1) والترمذی (2516) والفظه، وقال: هذ احدیث حسن صحیح )
(سیدنا) عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انھوں نے فرمایا: مجھے قبولیت کی کوئی فکر نہیں ہے لیکن مجھے دعا کی فکر ہے کیونکہ اگر دعا بہت عاجزی اور اصرار سے کی جائے تو قبول ہو جاتی ہے۔
(اس قول کی کوئی سند مجھے معلوم نہیں ہے۔ )
اس لئے ہم آپ کی خدمت میں دعا کے بعض آداب پیش کرتے ہیں تا کہ قبولیت دعا کا یقین وجزم حاصل ہو سکے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں:
”ادعوا الله وأنتم موقنون بالإجابة واعلموا أن الله لا يستجيب دعاء من قلب غافل لاه“
اللہ کو اس حال میں پکارو کہ تمھیں قبولیت دعا کا یقین ہو اور جان لو کہ غافل بے پروا دل (والے) کی مانگی ہوئی دعا اللہ قبول نہیں کرتا۔
الترمذی (3479) وسنده ضعیف من أجل صالح المري وله شاہد ضعيف عند احمد (177/2) وذکرہ الشیخ الالبانی رحمہ اللہ فی الصحیحہ (594)!! ( یہ روایت اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے۔)

◈ آداب دعا

① اللہ سے اس کے اسمائے حسنی (بہترین ناموں کے ذریعے) سے دعا مانگی جائے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَلِلَّهِ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ فَادْعُوهُ بِهَا﴾
اور اللہ کے بہترین نام ہیں پس تم ان کے ذریعے اسے پکارو۔ (سورۃ الاعراف: 180)
② حمد و ثناء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود سے ابتدا
③ اللہ کے لئے صدق و اخلاص سے دعا مانگنا
④ دعا مانگنے میں عاجزی کرنا اور گڑگڑانا، جلدی قبولیت کے لئے اصرار نہ کرنا
⑤ تین دفعہ دعا مانگنا
⑥ کھانے، پینے اور لباس کا حلال ہونا
⑦ قبلہ رخ ہو کر اور دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا
⑧ اگر ممکن ہو تو دعا سے پہلے وضو کرنا
⑨ خفیہ اور پست آواز سے دعا مانگنا
⑩ تکلف والی مسجع ومقفی (اشعار والی) دعا نہ مانگنا
⑪ دعا میں حد سے نہ گزرنا اور گناہ و قطع رحم کی دعا نہ مانگنا
⑫ صرف اللہ ہی سے دعا مانگنا
میرے حاجی بھائی! لوگوں میں سے بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ صرف زبان ہی سے لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کا اقرار کرتے ہیں اور وہ اپنے آپ کو (تقویٰ کے) ایک (بلند) مقام پر سمجھتے ہیں حالانکہ وہ اس سے بہت دور ہوتے ہیں ان کے اقوال و افعال ان کے زبانی دعوے کی نفی کرتے ہیں، یہ لوگ غیر اللہ سے دعائیں مانگ کر اللہ کی عبادت میں شرک کرتے ہیں، شرک کی کوئی دلیل مشرکین کے پاس نہیں ہوتی۔ ان کے شرک کی وجہ سے اللہ ان سے ناراض ہو کر دور کر دیتا ہے۔ بعض لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (مصیبتوں میں) پکارتے ہیں اور بعض علی حسن، حسین رضی اللہ عنہم اور بدوی، جیلانی اور اباطیر (اور پاکستان میں گھوڑے شاہ کا واں والی سرکار!!) وغیرہ کو پکارتے رہتے ہیں حالانکہ یہ سب مخلوق ہیں۔ (نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں)
یہ دعا کرنے والے صراط مستقیم سے بھٹک چکے ہیں، انھوں نے اللہ رب العالمین کے ساتھ شرک کیا ہے۔
(دیکھئے کتاب فقہ الدعاء للشيخ مصطفى العدوى المصرى )
ارشاد ہے: ﴿وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّن يَدْعُو مِن دُونِ اللَّهِ مَن لَّا يَسْتَجِيبُ لَهُ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَهُمْ عَن دُعَائِهِمْ غَافِلُونَ.وَإِذَا حُشِرَ النَّاسُ كَانُوا لَهُمْ أَعْدَاءً وَكَانُوا بِعِبَادَتِهِمْ كَافِرِينَ.﴾
اور اس شخص سے بڑا کون گمراہ ہے جو اللہ کے سوا ان سے دعائیں مانگتا ہے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے اور وہ ان کی دعاؤں سے غافل ہیں۔ جب (قیامت کے دن) لوگوں کو زندہ کر کے اکٹھا کیا جائے گا تو یہ (پکارے گئے لوگ) ان (دعا کرنے والوں) سے دشمن بن جائیں گے اور وہ اپنی کی گئی عبادت کا انکار کریں گے۔ (46-الأحقاف:5،6)
صرف ایک اللہ ہی سے دعا مانگو اور شرک سے بچو، سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو فرماتا ہے: ﴿ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ﴾ مجھ سے دعا مانگو میں دعا قبول کروں گا ۔(40-غافر:60)
⑬ حاضر دل اور سچے رجوع کے ساتھ اللہ سے دعا مانگی جائے۔
⑭ وہ دعا مانگی جائے جو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہو اور اس میں اللہ کا بڑا نام ہو۔

◈بعض اذکار اور دعائیں

نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”أفضل ما قلت أنا والنبيون عشية عرفة: لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو علىٰ كل شيء قدير“
عرفات کے دن آخری پہر سب سے بہترین دعا لا اله الا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير ہے جو میں نے اور نبیوں نے مانگی ہے۔
(مالک فی الموطا ( 422/1 نحو المعنی ) و اوردہ الالبانی فی الصحیحہ (1503) یہ حدیث اپنی تمام سندوں کے ساتھ ضعیف ہے / مترجم )
⋆ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”أحب الكلام إلى الله أربع: سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر“
اللہ کے نزدیک بہترین کلام چار ہیں سبحان الله والحمد لله ولا اله الا الله اور الله اكبر ہے۔ (مسلم: 2137)
⋆ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
”كلمتان خفيفتان على اللسان ثقيلتان فى الميزان حبيبتان إلى الرحمن: سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم“
دو کلمے زبان پر ہلکے ہیں اور (قیامت کے دن) میزان میں بھاری ہیں۔ رحمن کو پیارے ہیں ”سبحان اللہ وبحمده سبحان اللہ العظیم“ (البخاری: 7563 و مسلم: 2694)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مصیبت کے وقت درج ذیل دعا پڑھتے تھے:
”لا إله إلا الله العظيم الحليم لا إله إلا الله رب العرش العظيم، لا إله إلا الله رب السماوات ورب الأرض ورب العرش العظيم“
اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں وہ عظیم بردبار ہے، اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں وہ عرش عظیم کا رب ہے، اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں وہ آسمانوں، زمین اور عرش عظیم کا رب ہے۔ (البخاری: 6345 و مسلم: 2730)
⋆ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درج ذیل دعا (بھی) فرماتے تھے:
”اللهم أصلح لي ديني الذى هو عصمة أمري، وأصلح لي دنياي التى فيها معاشي وأصلح لي آخرتي التى فيها معادي واجعل الحياة زيادة لي فى كل خير واجعل الموت راحة لي من كل شر“
اے اللہ! میرے دین کو صحیح رکھ، میرے تمام امور جس سے محفوظ ہیں۔ اے اللہ! میری دنیا ٹھیک کر دے جس میں میری زندگی کا گزارہ بسر ہے اور آخرت ٹھیک کر دے جس میں میری دوبارہ زندگی ہے۔ اے اللہ میری زندگی کو میری نیکیاں بڑھانے کا سبب بنا اور موت کو ہر مصیبت سے بچاؤ کا ذریعہ بنا۔ (مسلم: 2720)
⋆ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے:
”اللهم إني أسألك الهدى والتقى والعفاف والغنى“
اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقویٰ، پرہیزگاری اور غنی (دنیا سے بے پروا) ہو جانے کا سوال کرتا ہوں۔ (مسلم: 2721)
”اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك وتحول عافيتك وفجأة نقمتك وجميع سخطك“ اے اللہ! میں تیری نعمت کے زوال، تیری عافیت کے خاتمے، اچانک انتقام اور تیرے ہر قسم کے غضب سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ (مسلم: 2739)
⋆ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں درج ذیل دعا مانگنے کا حکم دیا تھا:
”اللهم إني أسألك من الخير كله عاجله وآجله، ما علمت منه وما لم أعلم وأسألك الجنة وما قرب إليها من قول أو عمل، وأسألك من خير ما سألك عبدك ورسولك محمد صلى الله عليه وسلم وأعوذ بك من شر ما استعاذ بك منه عبدك ورسولك محمد صلى الله عليه وسلم وأسألك ما قضيت لي من أمر أن تجعل عاقبته رشدا“
اے اللہ! میں تجھ سے تمام بھلائیوں کی دعا مانگتی ہوں جلدی ہوں یا دیر سے ہوں میں جنھیں جانتی ہوں یا نہیں جانتی، میں تجھ سے جنت مانگتی ہوں، مجھے ہر وہ قول یا عمل عطا فرما جو جنت کے قریب کر دے۔ تیرے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تجھ سے جو سوال کیے ہیں میں ان کا سوال کرتی ہوں اور ہر اس چیز سے تیری پناہ مانگتی ہوں جس سے تیرے بندے اور رسول محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پناہ مانگی ہے اے اللہ! تو نے میرے بارے میں جو فیصلہ کیا ہے اس کا انجام بہتر کر دے۔ (ابن ماجہ: 3846 و ابن حبان: 2413 واحمد: 134/6 و اسناده حسن)
تنبیہ: (مرد حضرات مذکر کا صیغہ استعمال کریں گے۔)
آپ کثرت سے استغفار کرتے رہیں، سچی توبہ کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کریں۔ اللہ سے دنیا و آخرت کی بھلائیوں کا سوال کریں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اکثر دعا درج ذیل ہوا کرتی تھی:
”اللهم آتنا فى الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار“
اے اللہ! ہماری دنیا بہتر کر دے اور آخرت بہتر کر دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔ (متفق علیہ )[بخاری: 6389، 4522 و مسلم: 2690]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اس دعا میں دنیا کی ہر خیر (بھلائی) اکٹھی کر دی گئی ہے اور ہر شر سے چھٹکارا ہے۔ کیونکہ دنیا کی بھلائی ہر دنیاوی مطلوب پر مشتمل ہے مثلاً عافیت، بہترین گھر، نیک بیوی، وسیع رزق، علم نافع، نیک اعمال، بہترین سواری اور قبولیت عامہ وغیرہ جیسا کہ (شارحین حدیث اور) مفسرین نے بتایا ہے۔ ان نیکیوں میں باہم کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ یہ سب دنیا کی بھلائیوں میں شامل ہیں، رہی آخرت کی بھلائی تو اس کا سب سے اعلیٰ درجہ جنت میں دخول اور قیامت کے دن کی سختیوں سے نجات ہے۔ اس طرح آسان حساب لیا جانا اور آخرت کے دوسرے بہترین امور ہیں۔[ دیکھئے تفسیر ابن کثیر 243/1، 244]
⋆ دوسری دعاؤں کے لئے دیکھئے شیخ عبد العزیز بن باز رحمہ اللہ کی کتاب ”التحقیق والإيضاح“ (ص 51-47)
◈خاتمہ
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمارے اور آپ کے نیک اعمال قبول فرمائے اور ہم اللہ سے وہی دعا کرتے ہیں جو ہمارے باپ ابراہیم اور ان کے بیٹے اسماعیل علیہما السلام نے مانگی تھی: ﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ﴾
اے اللہ! ہماری دعا قبول فرما بے شک تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔ (2-البقرة:127)
اے میرے پیارے بھائی! اس کے ساتھ میں آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث بیان کرتا ہوں:
”إن الله لا ينظر إلى أجسامكم ولا إلى صوركم ولكن ينظر إلى قلوبكم وأعمالكم“
بے شک اللہ تمھارے اجسام اور صورتیں (قدر کی نظر سے) نہیں دیکھتا، لیکن وہ تمھارے دل اور اعمال دیکھتا ہے۔ (مسلم:33/2564 ، 34 نحو المعنی)
تنبیہ از مترجم: کفن والے کپڑوں کو زمزم سے دھونا سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے، نیز دیکھئے الشرح الممتع (348/7)

❀اپنے پیاروں کو درج ذیل تحفے دینا نہ بھولیں

⋆ زمزم کا پانی (اور) مسواک
⋆ چند بعض مفید کتابیں مثلاً:
كيف اهتديت إلى التوحيد والطريق المستقيم
اور العقيدة الاسلامية / تصنيف شيخ محمد جميل زينو
”أربعون نصيحة لإصلاح البيوت“ للشيخ محمد المنجد
③ صفة صلاة النبي صلی اللہ علیہ وسلم للعلامہ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ (یاد رہے کہ اس کتاب پر میرے بعض ملاحظات ہیں، بعض احادیث کی تصحیح و تضعیف اور فقہی استنباطات میں شیخ البانی رحمہ اللہ کو غلطیاں لگی ہیں/ زبیر علی زئی)
أذكار طرفي النهار للشیخ بكر بن عبد اللہ ابو زید
(خالد بن عبد اللہ الناصر)

بعض ضروری اور مفید مسائل

اس باب میں مترجم (شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ) کی طرف سے بعض ضروری اور مفید مسائل باحوالہ پیش خدمت ہیں:
① ابراہیم نخعی (تابعی) فرماتے ہیں کہ لوگ جب احرام باندھنے کا ارادہ کرتے تو غسل کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ طبعہ جدیدہ 407/3 ح 5597 و سنده حسن)
فتنہ (اور جنگ) کے دنوں میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے غسل نہیں کیا تھا اور لبیک کہی تھی۔ (ابن ابی شیبہ ح 5598 و سنده صحیح)
معلوم ہوا کہ غسل کرنا افضل ہے اور کسی عذر کی وجہ سے بغیر غسل کے احرام باندھ لینا جائز ہے۔
② قاسم (بن محمد بن ابی بکر) فرماتے ہیں کہ (حالت احرام میں) ہمیان (روپے پیسے کی تھیلی یا پٹی باندھنا، لٹکانا) جائز ہے۔ (ابن ابی شیبہ 393/3 ح 15448 و سنده صحیح)
مجاہد (تابعی) بھی اسے جائز سمجھتے تھے۔ (ایضاً: 15453 سند و صحیح)
③ طاؤس (تابعی) جب (احرام میں) سوتے تھے تو بالوں تک اپنا چہرہ (کپڑے سے) ڈھانپ لیتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ 273/3 ح 14244 و سنده صحیح)
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے حالت احرام میں اپنا چہرہ ڈھانپا تھا۔ (مالک فی الموطا 327/1 ح 730 و سنده صحیح، ابن ابی شیبہ: 14241 و سنده صحیح)
مجاہد کہتے ہیں کہ چلنے والی ہوا کی وجہ سے اپنا چہرہ ڈھانپ سکتا ہے (ایضاً: 4246 و سنده صحیح)
ابراہیم نخعی بھی اسے جائز سمجھتے تھے۔ (ایضاً: 14238 و سنده صحیح)
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے تھے کہ ٹھوڑی سے لے کر سر تک (چہرہ) نہیں چھپانا چاہیے۔ (مالک 327/1 ح 731 و سنده صحیح)
معلوم ہوا کہ عذر میں چہرہ چھپانا جائز ہے بہتر یہی ہے کہ چہرہ نہ چھپایا جائے۔ واللہ اعلم
④ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ احرام باندھنے والا، جو سرمہ چاہے آنکھوں میں لگا سکتا ہے بشرطیکہ اس میں خوشبو نہ ہو۔ (ابن ابی شیبہ 335/3 ح 14850 و سنده صحیح)
⑤ عطاء بن ابی رباح اس کے قائل تھے کہ احرام باندھنے والا اپنے سر کو (خارش میں) کھجا سکتا ہے۔ (ابن ابی شیبہ 344/3 ح 4948 و سنده صحیح)
⑥ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے نزدیک حالت احرام میں اگر ناخن (آدھا) کٹ جائے تو (کاٹ کر) پھینکا جا سکتا ہے۔ (ابن ابی شیبہ 129/3 ح 12752 و سنده حسن)
سعید بن جبیر بھی اسے (ناخن کو) کاٹنے کے قائل تھے۔ (ایضاً: 12755 و سنده حسن)
⑦ ابراہیم نخعی اور مجاہد کے نزدیک اگر حالت احرام میں دانت میں درد ہو تو دانت نکال سکتے ہیں، اس کے راوی منصور (بن المعتمر) کہتے ہیں کہ بیماری کی حالت میں دانت نکالنے والے پر کوئی چیز (دم وغیرہ) نہیں ہے۔ (ابن ابی شیبہ 131/3 ح 12767 و سنده صحیح)
⑧ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حالت احرام میں مسواک کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ (ابن ابی شیبہ 130/3 ح 12761 و سنده صحیح) یعنی مسواک جائز ہے۔
یہی قول عطاء بن ابی رباح کا ہے۔ (ایضاً: 12764 و سنده صحیح)
⑨ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ دونوں، حالت احرام میں آئینہ دیکھنا جائز سمجھتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ 137/3 ح 12843 و سنده صحیح، ح 12842 و سنده صحیح)
قاسم بن محمد اسے مکروہ سمجھتے تھے۔ (ایضاً: 138/3 ح 12845 و سنده صحیح)
یعنی محرم کے لئے آئینہ دیکھنا مع الکراہت جائز ہے۔ بہتر یہی ہے کہ وہ اس سے بچے۔ واللہ اعلم
⑩ سعید بن جبیر طواف میں اپنے ساتھیوں سے حدیثیں بیان کرتے (باتیں کرتے) اور فتوے دیتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ 135/1 ح 12814 و سنده صحیح)
یعنی طواف میں دعائیں، ضروری کلام اور سوالات کے جوابات دینا جائز ہے۔
طواف سے فارغ ہونے کے بعد خوب تلاوت قرآن کر سکتے ہیں۔ واللہ اعلم
⑪ عروہ بن الزبیر حالت احرام میں سر پر پانی بہانے اور ہاتھوں سے سر نہ رگڑنے کے قائل تھے، صرف ہاتھ پھیرنے کے قائل تھے۔ (ابن ابی شیبہ 143/3 ح 12904 و سنده صحیح)
⑫ محمد بن سیرین نے کہا کہ (جو شخص حالت احرام میں اپنی بیوی کا بوسہ لے تو) اس پر دم (بکری ذبح کرنا) واجب ہے۔ (ابن ابی شیبہ 136/3 ح 12827 و سنده صحیح)
اور یہی قول امام زہری کا ہے۔ (ایضاً: 12823 و سنده صحیح)
عطاء نے کہا کہ اسے استغفار کرنا چاہیے۔ (ایضاً: 12826 و سنده صحیح)
⑬ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے نزدیک حالت احرام میں خوشبو سونگھنا مکروہ ہے۔ (ابن ابی شیبہ 307/3 ح 14604، بلفظ: کان یکره شم الریحان المحرم، و سنده صحیح)
⑭ مجاہد کے نزدیک مکہ کے باہر سے آنے والوں کے لئے (نفلی) نماز کے بجائے (نفلی) طواف کرنا افضل ہے۔ (ابن ابی شیبہ 353/3، 354 ح 15040 و سنده صحیح)
اور یہی قول عطاء بن ابی رباح کا ہے۔ (مصنف عبد الرزاق 70/5 ح 9027 و سنده صحیح)
⑮ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ (پورے ) قرآن کی قراءت ختم کئے بغیر مکہ سے باہر نہ جائیں۔ [ابن ابی شیبہ 368/3 15182 اوسندہ صحیح]
⑯ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ جب مکہ میں ہوتیں ( اور عمرہ کرنا چاہتیں ) تو جحفہ ( مکہ سے باہر ایک مقام ) جا کر عمرے کے لئے احرام باندھتی تھیں ۔ [ابن ابی شیبہ 146/3 ح 12939 وسندہ صحیح]
سید نا عبد اللہ بن عمر اور سید نا عبد اللہ بن الزبیر رضی اللہ عنہما نے مکہ سے ذوالحلیفہ (مدینے کے قریب ) جا کر عمرے کا احرام باندھا اور مدینہ میں داخل ہوئے بغیر مکہ واپس چلے گئے۔[ابن ابی شیبه 146/3 ح 12940 وسندہ صحیح ] معلوم ہوا کہ تنعیم سے عمرے کرنا بہتر نہیں ہے۔
⑰ سید نا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو شخص حج کے مہینوں میں عمرہ کر کے واپس چلا جائے تو یہ شخص تمتع کرنے والا نہیں ہے۔ [ابن ابی شیبہ 152/3 ح 13004 وسندہ حسن ]
اور یہی قول ابو بکر بن ابی شیبہ کا ہے۔ (ایضا: 13003) یعنی یہ شخص حج افراد یا حج قران کر سکتا ہے اور اگر حج تمتع کرنا چاہے گا تو اسے دوبارہ عمرہ کرنا پڑے گا۔
⑱ عامر الشعبی (تابعی) کے نزدیک رمضان میں عمرہ کرنا حج اصغر ( الحج الاصغر ) ہے۔ (ابن ابی شیبه 155/3 ح 13027 و سندہ صحیح)
⑲ ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ لوگ سال میں صرف ایک عمرہ کرتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ 127/3 ح 12729 و سنده حسن)
محمد بن سیرین کے نزدیک ایک سال میں صرف ایک ہی عمرہ کرنا چاہیے۔ (ایضاً: 12727 و سنده صحیح)
اگر چہ یہ اقوال مرجوح ہیں لیکن جو لوگ تنعیم (مسجد عائشہ) سے عمرے کرتے رہتے ہیں، اُن پر ان اقوال سے رد ہوتا ہے۔
⑳ طاؤس کے ایک قول کا خلاصہ و مفہوم یہ ہے کہ اگر کوئی شخص احرام باندھتے وقت حج یا عمرہ کا لفظ نہ کہے تو فرق نہیں پڑتا، دل کی نیت کافی ہے۔ (ابن ابی شیبہ 334/3 ح 14837 و سنده صحیح)
یہی تحقیق عطاء بن ابی رباح اور ابراہیم نخعی کی ہے۔ (ایضاً: 14841 و سنده صحیح، 14843 سنده حسن)

㉑ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ حج: العج (لبیک کی آواز میں بلند کرنا) اور الثج (قربانی کا خون بہانا) کا نام ہے۔ (ابن ابی شیبہ 354/3 ح 15045 و سنده صحیح)
㉒جو شخص سعی کرتے وقت (غلطی اور بھول سے) سات کے بجائے چودہ پھیرے (چکر) لگا لے تو عطاء بن ابی رباح کے ایک قول میں اس کی سعی ہو گئی ہے۔ (ابن ابی شیبہ 386/3 ح 15374 و سنده صحیح] اور یہی راجح ہے۔
㉓حسن بصری کے نزدیک جو شخص طواف میں (بھول کر) چھ (6) چکر لگائے (ساتواں چکر رہ جائے) تو اسے دوسرا طواف کرنا چاہیے۔ (ابن ابی شیبہ 426/3 ح 15789 و سنده صحیح)
㉔قاسم بن محمد مزدلفہ (کی وادی) سے، جمرات کو مارنے کے لئے کنکریاں لیتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ 196/3 ح 14355 وسنده صحیح)
㉕قاسم بن محمد کنکریاں دھوتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ 379/2 ح 15298 و سنده صحیح)
لیکن عطاء بن ابی رباح اور زہری، کنکریاں نہ دھونے کے قائل تھے۔ (ایضاً: 15300 و سنده صحیح، 15297 و سنده صحیح)
اور یہی قول راجح ہے۔ تاہم اگر کنکریوں کے ساتھ گندگی لگی ہوئی ہو تو انھیں دھونا جائز ہے یا انھیں پھینک کر دوسری صاف کنکریاں اٹھا لیں۔
㉖جو شخص جمرہ کو سات کے بدلے چھ (6) یا پانچ (5) کنکریاں مار کر چلا جائے تو حکم بن عتیبہ اور حماد بن ابی سلیمان (دو علماء) کے نزدیک اس پر دم (بکری ذبح کرنا) لازم ہے۔ (ابن ابی شیبہ 194/3 ح 13437 و سنده صحیح)
㉗جس طرف سے کنکریاں مارنا آسان ہوتا تو قاسم بن محمد اسی طرف سے کنکریاں مارتے تھے۔ (موطا امام مالک 407/1 ح 944 و سنده صحیح،) اور اس کا فتویٰ دیتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ 192/3 ح 13418 و سنده صحیح)
㉘سیدنا عبد اللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ اور سعید بن جبیر رحمہ اللہ قربانی والے دن کو الحج الاکبر کہتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ 360/3 ح 15102 و سنده صحیح)
عوام الناس میں یہ مشہور ہے کہ اگر جمعہ کے دن حج آ جائے تو یہ حج اکبر ہوتا ہے۔ اس قول کی کوئی دلیل مجھے معلوم نہیں ہے۔ واللہ اعلم
㉙سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب صفا (پہاڑی) پر چڑھتے تو قبلہ رخ ہو کر تین دفعہ اللہ اکبر کہتے اور اونچی آواز سے فرماتے: ”لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو علىٰ كل شيء قدير“ پھر کافی دیر تک دعا کرتے رہتے تھے۔ (ابن ابی شیبہ 415/3 ح 156567 و سنده صحیح)
قاسم بن محمد نے کہا (صفا اور مروہ پر) کوئی خاص مقرر دعا نہیں ہے جو (نیک) دعا چاہے مانگ سکتے ہیں۔ (ابن ابی شیبہ 297/3 ح 14496 و سنده صحیح)
㉚سعید بن جبیر طواف میں حجر اسود کا رخ کر کے دونوں ہاتھ اٹھاتے اور تکبیر کہتے، جبکہ عطاء بن ابی رباح فرماتے ہیں کہ تکبیر کہے اور اس کے ساتھ دونوں ہاتھ نہ اٹھائے۔ (ابن ابی شیبہ 167/3 ح 13155 و سنده صحیح)

㉛اسود بن یزید (تابعی) نے کوفہ سے احرام باندھا تھا۔ (ابن ابی شیبہ 122/3 ح 12682 و سنده صحیح)
معلوم ہوا کہ اسلام آباد ائیر پورٹ (وغیرہ) سے احرام باندھنا جائز ہے۔
㉜ابو قلابہ (تابعی) جب اس شخص سے ملتے جو عمرہ کر کے آیا تھا تو فرماتے: ”بر العمل بر العمل عمل نیک ہو، عمل نیک ہو“۔ (ابن ابی شیبہ 428/3 ح 15807 و سنده صحیح)
معلوم ہوا کہ حج اور عمرہ کرنے والے کو مبارکباد کہنا جائز ہے۔
㉝سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جمرات کو کنکریاں مارنے کے دوسرے دن اگر کوئی شخص شام سے پہلے منی سے نکل نہ سکے، شام ہو جائے تو اسے منی میں ٹھہرنا چاہیے، وہ اگلے دن زوال کے بعد کنکریاں مار کر واپس جائے۔ (ابن ابی شیبہ 134/3 ح 12805 و سنده صحیح)
㉞ محمد بن سیرین نے کہا کہ لوگوں کے نزدیک (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے بعد) حج کے سب سے بڑے عالم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور پھر اُن کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہیں۔ (ابن ابی شیبہ 414/3 ح 15671 و سنده صحیح)
ابو جعفر (محمد بن علی الباقر) کے نزدیک (زمانہ تابعین میں) حج کے سب سے بڑے عالم عطاء بن ابی رباح ہیں۔ (ایضاً: 15673 و سنده صحیح)
㉟ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ایک قول کا خلاصہ یہ ہے کہ جو شخص حج کے لئے جائے تو یہ نہ کہے کہ میں حاجی ہوں، بلکہ وہ یہ کہے کہ میں مسافر ہوں۔ (ابن ابی شیبہ 256/3 ح 14077 و سنده صحیح)
㊱ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کے ایک قول کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح حرم (مکہ) میں نیکی کرنے کا بہت ثواب ہے اسی طرح یہاں گناہ کرنے کا جرم بھی بہت زیادہ ہے، یعنی گناہ کی زیادہ سزا ملے گی۔ (مصنف عبد الرزاق 28/5 ح 8870 و سنده صحیح) واللہ اعلم
㊲ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے ساتھ زمزم (مدینے) لے جاتی تھیں اور بیان کرتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (بھی) اپنے ساتھ زمزم کا پانی لے جاتے تھے۔ (سنن الترمذی: 963 و سنده صحیح، وقال: هذا حدیث حسن غریب الخ)
㊳نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی والے دن (10 ذوالحجہ) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا:
”إن هذا يوم رخص لكم إذا أنتم رميتم الجمرة أن تحلوا يعني من كل ما حرمتم منه إلا النساء، فإذا أمسيتم قبل أن تطوفوا هذا البيت صرتم حرما كهيئتكم قبل أن ترموا الجمرة حتى تطوفوا به“
اس دن تمھیں یہ رخصت (اجازت) دی گئی ہے کہ اگر تم جمرہ کو کنکریاں مار لو تو تم پر (احرام و حج کی) تمام پابندیاں ختم ہیں سوائے اپنی بیویوں سے جماع کے (یہ اس حالت میں جائز نہیں ہے)
اگر خانہ کعبہ کا طواف (طواف زیارت) کرنے سے پہلے تم پر شام ہو جائے تو طواف سے پہلے تک تم پر احرام کی پابندیاں دوبارہ لوٹ آئیں گی یعنی تمھیں طواف زیارت تک دوبارہ احرام باندھنا پڑے گا۔ (سنن ابی داؤد: 1999 و سنده حسن و صححه ابن خزیمہ: 2958)
یہ ایک اہم مسئلہ ہے اسے خوب یاد رکھیں۔
㊴حج کی تینوں قسمیں (افراد، قران اور تمتع) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہیں۔ ان میں سے کوئی قسم بھی منسوخ یا نا جائز نہیں ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”والذي نفسي بيده، ليهلن ابن مريم بفحص الروحاء حاجا أو معتمرا أو لابيا بهما“
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، البتہ ضرور (عیسیٰ) ابن مریم علیہ السلام حج افراد یا حج تمتع یا حج قران کی لبیک کہتے ہوئے، روحاء کی گھاٹی میں سے (بیت اللہ کی طرف) آئیں گے۔ (صحیح مسلم: 252/216 او دار السلام: 3030 السنن الکبری للبیہقی 2/5)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حج افراد قیامت تک باقی اور غیر منسوخ رہے گا لہذا اسے منسوخ کہنا غلط اور باطل ہے۔ اس صحیح حدیث پر ابن حزم ظاہری کی عجیب و غریب جرح باطل ہے۔ سیدنا امیر المؤمنین علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے سیدنا امیر المؤمنین عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کو فرمایا تھا:
”من أفرد بالحج فحسن ومن تمتع فقد أخذ بكتاب الله وسنة نبيه صلى الله عليه وسلم“
جس نے حج افراد کیا تو اچھا ہے اور جس نے حج تمتع کیا تو اس نے قرآن مجید اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت (دونوں) پر عمل کیا۔ (سنن الکبری للبیہقی 21/5 و سنده صحیح)
㊵ فاطمہ بنت المنذر (تابعیہ، ہشام بن عروہ کی بیوی) فرماتی ہیں:
”كنا نخمر وجوهنا ونحن محرمات، ونحن مع أسماء بنت أبى بكر الصديق“
ہم (عورتیں) حالت احرام میں (مردوں سے) اپنے چہرے چھپا لیتی تھیں اور ہمارے ساتھ ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ کی بیٹی اسما رضی اللہ عنہا ہوتی تھیں۔ (موطا امام مالک 328/1 ح 734 و سنده صحیح)
معلوم ہوا کہ عورتوں کے لئے یہ بہتر ہے کہ وہ حالت احرام میں بھی غیر مردوں سے اپنے چہرے چھپائیں۔
㊶ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
من نسي من نسكه شيئا أو تركه فليهرق دما
جو شخص اپنے حج و عمرہ سے کوئی (لازمی) عمل بھول جائے یا ترک کر دے تو اس شخص پر دم ہے، یعنی اسے بکری ذبح کر کے مساکین حرم میں تقسیم کرنی پڑے گی ۔ ( السنن الکبری للبیہقی 30/5 وسنده صحیح ، مالک فی الموطا 419/1 ح 968 وسندہ صحیح)
معلوم ہوا کہ واجبات حج میں کمی بیشی یا تقدیم و تاخیر کی وجہ سے دم ( بکری ذبح کرنا) لازم ہے۔
وما علينا إلا البلاغ
( 15 ربیع الثانی 1426ھ )

چند اجماعی مسائل:

اب امام ابوبکر محمد بن ابراہیم بن المنذر النیسابوری رحمہ اللہ (متوفی 318ھ) کی کتاب ”الإجماع“ سے حج کے اجماعی مسائل کا ترجمہ و مفہوم پیش خدمت ہے:

◈ کتاب الحج

1/135: اس پر اجماع ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو نفلی حج پر جانے سے روک سکتا ہے۔
2/136: اس پر اجماع ہے کہ زندگی میں صرف ایک ہی دفعہ حج فرض ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص دوسرے حج کی نذر مان لے تو اس نذر کو پورا کرنا واجب (فرض) ہے۔
3/137: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مواقیت حج کی جو احادیث ثابت ہیں، بالا جماع اسی پر عمل ہے۔
4/138: اس پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص میقات سے پہلے احرام باندھ لے تو وہ محرم (حالت احرام) ہے۔
5/139: اس پر اجماع ہے کہ بغیر غسل کے احرام باندھنا جائز ہے۔
6/140: اس پر اجماع ہے کہ احرام کے لئے غسل واجب نہیں ہے۔ اس اجماع سے صرف حسن بصری اور عطاء( بن ابی رباح ) باہر ہیں ( یہ اجماع ثابت نہیں ہے بلکہ اختلاف ہے)
7/141: اس پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص حج کی لبیک کہنا چاہے لیکن غلطی سے عمرے کی لبیک کہہ دے یا عمرے کی لبیک کہنا چاہے لیکن غلطی سے حج کی لبیک کہہ دے تو اس کے دل کی نیت کا اعتبار ہے، زبانی نیت کا یہاں کوئی اعتبار نہیں۔
8/142: اس پر اجماع ہے کہ حج کے مہینوں (شوال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ) میں حج کی نیت کر کے حج کرنے سے حج کا فرض ادا ہو جاتا ہے۔
9/143: اس پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں جماع، شکار کرنا، خوشبو لگانا، (مردوں کے لئے) احرام کے علاوہ دوسرا لباس پہننا، بال کاٹنا اور ناخن کاٹنا ممنوع کام ہیں۔
10/144: حالت احرام میں سینگی لگانا بالا جماع جائز ہے۔
11/145: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص حالت حج میں عرفات پہنچنے سے پہلے جماع کرے تو اس پر (اونٹ کی) قربانی اور اگلے سال دوبارہ حج کرنا فرض ہے، صرف عطاء اور قتادہ مخالف ہیں (اجماع کا دعویٰ ختم ہے)
12/146: اس پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں سر کے بال منڈوانا، کاٹنا اور اکھاڑنا یا کسی طریقے سے تلف کرنا ممنوع ہے۔
13/147: اس پر اجماع ہے کہ بیماری (وعذر) کی وجہ سے سر منڈوانا جائز ہے۔
14/148: اس پر اجماع ہے کہ سر منڈوانے والے پر فدیہ (دم) واجب ہے۔
15/149: اس پر اجماع ہے کہ محرم کے لئے ناخن تراشنا ممنوع ہے۔
16/150: اس پر اجماع ہے کہ اگر کوئی ناخن ٹوٹ جائے یا خراب ہو جائے تو اسے کاٹنا جائز ہے۔
17/151: اس پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں مردوں کے لئے قمیص پہننا، عمامہ، پاجامہ، موزے اور ٹوپیاں پہننا ممنوع ہے۔
18/152: اس پر اجماع ہے کہ عورت حالت احرام میں قمیض، ہمیز (اندرونی کرتی)، شلوار، دوپٹہ اور موزے پہن سکتی ہے۔
19/153: اس پر اجماع ہے کہ محرم کے لئے سر ڈھانپنا ممنوع ہے۔
20/154: اس پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں زعفران اور زرد خوشبو والا لباس پہننا ممنوع ہے۔
21/155: اس پر اجماع ہے کہ بعض لباس کے استثناء کے بعد عورتوں کے لئے حالت احرام میں وہ تمام چیزیں ممنوع ہیں جو مردوں کے لئے ممنوع ہیں۔
22/156: اس پر اجماع ہے کہ اگر کوئی محرم جان بوجھ کر شکار کرے تو اس پر بدلہ (دم) ہے سوائے مجاہد کے وہ کہتے ہیں کہ اگر مسئلہ بھول کر، جان بوجھ کر شکار کرے تو اس غلطی کا کفارہ ادا کرنا ہوگا۔ اور اگر جان بوجھ کر قتل کرے تو کچھ نہیں ہے۔ امام ابن المنذر نے کہا: یہ قول آیت کے خلاف ہے۔
23/157: اس پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں شکار کی وجہ سے بکری ذبح کرنا لازم ہے۔
24/158: اس پر اجماع ہے کہ حرم کا ایک کبوتر مارنے کی وجہ سے بکری ذبح کرنا لازم ہے۔ اس مسئلے میں نعمان (امام ابو حنیفہ) منفرد ہیں وہ کہتے ہیں کہ اس کی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔
25/159: اس پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں سمندر کا شکار، مچھلی کھانا، بیچنا اور خریدنا جائز ہے۔
26/160: اس پر اجماع ہے کہ وہ جانور قتل کرنا جائز ہیں جن کے مارنے کا حدیث صحیح میں ذکر آیا ہے لیکن (ابراہیم) نخعی اکیلے کہتے ہیں کہ چوہا قتل کرنا جائز نہیں ہے۔
27/161: اس پر اجماع ہے کہ تکلیف دینے والے درندے کو قتل کرنا جائز ہے، اس پر کوئی دم نہیں ہے۔
28/162: اس پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں بھیڑیئے کو قتل کرنا جائز ہے۔
29/163: اس پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں غسل جنابت کرنا جائز ہے، صرف امام مالک یہ کہتے ہیں کہ حالت احرام میں سر پر پانی بہانا مکروہ ہے۔
30/164: اس پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں مسواک کرنا جائز ہے۔
31/165: اس پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں تیل، گھی اور چربی کھانا جائز ہے۔
32/166: اس پر اجماع ہے کہ حالت احرام میں، سوائے سر کے سارے بدن پر تیل ملنا جائز ہے۔
33/167: اس پر اجماع ہے کہ محرم حمام میں داخل ہو سکتا ہے۔ صرف امام مالک کہتے ہیں کہ اس گندگی میں فدیہ ہے۔
34/168: اس پر اجماع ہے کہ حجر اسود پر سجدہ کرنا جائز ہے۔ صرف امام مالک اسے بدعت کہتے ہیں۔
35/169: اس پر اجماع ہے کہ عورتوں پر دورانِ طواف میں رمل (دوڑنا) اور صفا و مروہ میں دوڑنا (مسنون) نہیں ہے یعنی وہ آرام سے چلیں گی۔
36/170: اس پر اجماع ہے کہ دورانِ طواف میں پانی پینا جائز ہے۔
37/171: اس پر اجماع ہے کہ جس کو طواف (کے چکروں) میں شک ہو تو وہ یقین پر بنا کرے یعنی یقین کو اختیار کرے اور شک کو چھوڑ دے۔
38/172: اس پر اجماع ہے کہ اگر کوئی شخص طواف میں سات چکروں میں سے کچھ چکر پورے کرے تو نماز کے لئے انھیں روک کر بعد میں دوبارہ پورے کر سکتا ہے۔ جہاں اس نے چکر روکا تھا وہاں سے دوبارہ شروع کرے گا سوائے حسن بصری کے وہ کہتے ہیں کہ دوبارہ طواف کرے۔
39/173: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص طواف میں سات چکر پورے کرے اور دو رکعتیں پڑھے تو صحیح ہے۔
40/174: اس پر اجماع ہے کہ مریض کو طواف کرانا صحیح ہے۔ صرف عطاء یہ کہتے ہیں کہ مریض کسی اور کو پیسے دے کر طواف کروائے۔
41/175: اس پر اجماع ہے کہ چھوٹے بچے کو بھی طواف کروانا چاہیے۔
42/176: اس پر اجماع ہے کہ مسجد حرام سے باہر طواف کرنا جائز نہیں ہے۔
43/177: اس پر اجماع ہے کہ سقایہ (زمزم) کے باہر سے بھی طواف کرنا جائز ہے۔
44/178: اس پر اجماع ہے کہ طواف کے بعد والی دو رکعتیں جہاں چاہیں پڑھنی جائز ہیں صرف امام مالک یہ کہتے ہیں کہ یہ دو رکعتیں صرف حجر میں ہی جائز ہیں۔
45/179: اس پر اجماع ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث سے جو ثابت ہے کہ طواف اور مقام ابراہیم کے پیچھے نماز کے بعد رکن کا استلام کرنا صحیح ہے۔
46/180: اس پر اجماع ہے کہ سعی کی ابتدا صفا سے کر کے مروہ پر ختم کرنا سنت ہے۔
47/181: اس پر اجماع ہے کہ صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا بغیر وضو کے جائز ہے، صرف حسن (بصری) یہ کہتے ہیں کہ حلال ہونے سے پہلے اگر یاد آ جائے تو دوبارہ طواف کرنا چاہیے (وہ وضو کو اس کے لئے لازم سمجھتے ہیں)
48/182: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص باہر سے حج کے مہینوں میں مکہ آ کر عمرہ کر لے پھر حج تک وہیں رہے تو اس کا حج حج تمتع ہے، اگر اس کے پاس رقم ہے تو حج کی قربانی کرے گا ورنہ دس روزے رکھے گا۔
49/183: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص حج کے مہینوں میں عمرے کی نیت سے مکہ میں داخل ہو تو (حلال ہونے سے پہلے) اسے حج میں تبدیل کر سکتا ہے (نیت بدلی جا سکتی ہے)
50/184: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص منی میں رات گزارے اور عرفات والے دن عرفات پہنچ جائے تو اس پر کچھ بھی (لازم) نہیں ہے۔
51/185: اس پر اجماع ہے کہ حاجی حضرات منی میں جہاں چاہیں ٹھہر سکتے ہیں۔
52/186: اس پر اجماع ہے کہ عرفات والے دن امام عرفات میں ظہر اور عصر کی نمازیں جمع کر کے پڑھے گا اور اسی طرح منفرد بھی یہ نمازیں جمع کرے گا۔
53/187: اس پر اجماع ہے کہ عرفات میں ٹھہرنا فرض ہے، جو شخص عرفات میں نہ پہنچ سکے تو اس کا حج نہیں ہوتا۔
54/188: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص عرفات کے دن اور آنے والی رات میں جس وقت بھی عرفات پہنچ جائے تو اس کا حج ہو گیا، صرف امام مالک یہ کہتے ہیں کہ وہ اگلے سال دوبارہ حج کرے گا۔
55/189: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص عرفات پہنچ گیا اور اس کا وضو نہیں ہے تو اس کا حج صحیح ہے، اس پر کوئی چیز (کفارہ) نہیں ہے۔
56/190: اس پر اجماع ہے کہ حاجی مغرب اور عشاء کی نماز (مزدلفہ میں) جمع کر کے پڑھیں گے۔
57/191: اس پر اجماع ہے کہ جمع بین الصلاتین کے دوران میں نفل سنتیں نہیں پڑھی جائیں گی۔
58/192: اس پر اجماع ہے کہ مزدلفہ و منی جہاں سے بھی کنکریاں لی جائیں جائز ہے۔ (وأجمعوا من حيث أخر الجمار من جمع أجزأه )
59/193: اس پر اجماع ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی والے دن، جمرہ عقبہ کو طلوع شمس کے بعد کنکریاں ماری تھیں۔
60/194: اس پر اجماع ہے کہ قربانی والے دن صرف جمرہ عقبہ کو ہی کنکریاں ماری جاتی ہیں۔
61/195: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص قربانی والے دن، جمرہ عقبہ کو سورج کے طلوع ہونے کے بعد یا پہلے کنکریاں مارے تو جائز ہے یعنی یہ فعل ادا ہو گیا۔
62/196: اس پر اجماع ہے کہ کنکریاں جس طرح بھی پھینکی جائیں اگر وہ حوض تک پہنچ جائیں تو صحیح ہے۔
63/197: اس پر اجماع ہے کہ جس نے ایام تشریق میں سورج کے زوال کے بعد جمرات کو کنکریاں ماریں تو یہ فعل صحیح ہے۔
64/198: اس پر اجماع ہے کہ گنجا شخص اپنے سر پر منڈوانے کے لئے استرا پھروائے گا۔
65/199: اس پر اجماع ہے کہ عورتیں سر نہیں منڈوائیں گی۔
66/200: اس پر اجماع ہے کہ واجب (فرض) طواف صرف طواف افاضہ یعنی طواف زیارت ہے۔
67/201: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص طواف زیارت کو مؤخر کر کے ایام تشریق میں طواف کرے تو اس نے فرض ادا کر دیا اور تاخیر کی وجہ سے اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔
68/202: اس پر اجماع ہے کہ جو بچہ کنکریاں خود نہیں مار سکتا تو دوسرا شخص اس کی طرف سے یہ کنکریاں مارے گا۔
69/203: اس پر اجماع ہے کہ سر منڈوانے کے بدلے کٹوانا بھی جائز ہے، صرف حسن بصری کہتے ہیں کہ سر منڈوانا ہی لازم ہے۔
70/204: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص حج کے دنوں کے علاوہ منی جائے تو نماز قصر نہیں کرے گا۔
71/205: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص منی سے (دوسرے دن کی کنکریاں مارنے کے بعد) اپنے وطن کی طرف واپس جائے، جس کا وطن حرم سے باہر ہے تو وہ دوسرے دن، سورج کے زوال کے بعد کنکریاں مار کر چلا جائے، صرف حسن (بصری) اور (ابراہیم) نخعی مخالف ہیں۔
72/206: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص طواف اور سعی سے پہلے جماع کر لے تو اس کا حج فاسد ہو جاتا ہے۔
73/207: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص حرم سے باہر عمرے کی نیت کرے تو اس پر احرام باندھنا لازم ہے۔
74/208: اس پر اجماع ہے کہ جو شخص مکہ پہنچنے سے مایوس ہو جائے تو وہ احرام کھول سکتا ہے۔ اور اگر اس نے احرام نہیں کھولا اور مصیبت سے رہائی مل گئی تو وہ اسی حالت میں مکہ جا کر عمرہ یا حج کرے گا۔
75/209: اس پر اجماع ہے کہ جس شخص پر حج فرض ہے، اگر وہ بذات خود حج کرنے کی طاقت رکھتا ہے تو خود ہی حج کرے گا، دوسرا کوئی شخص اس کی طرف سے یہ حج نہیں کر سکتا۔
76/210: اس پر اجماع ہے کہ مرد عورت کی طرف سے اور عورت مرد کی طرف سے حج کر سکتے ہیں، صرف حسن بن صالح ہی اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔
77/211: اس پر اجماع ہے کہ بچے پر حج فرض نہیں ہے۔
78/212: اس پر اجماع ہے کہ اگر پاگل یا بچہ حج کر لیں اور اس کے بعد پاگل صحت مند اور بچہ جوان ہو جائے تو انھیں دوبارہ فرض حج کرنا پڑے گا۔
79/213: اس پر اجماع ہے کہ بچوں کے کفارے اُن کے اموال سے ادا کیے جائیں گے۔
80/214: اس پر اجماع ہے کہ حرم میں شکار حرام ہے چاہے شکار کرنے والا حالت احرام میں ہو یا نہ ہو۔
81/215: اس پر اجماع ہے کہ حرم کے درخت کاٹنا حرام ہے۔
82/216: اس پر اجماع ہے کہ لوگ اپنے ہاتھوں سے جو چیزیں بوئیں مثلاً: سبزیاں، غلی فصل اور خوشبودار گھاس، ان کا حرم میں کاٹنا جائز ہے۔
وانتہی (کتاب الإجماع ص 48 تا 57)