مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حجِ تمتع کا حکم: سیدنا ابن عمرؓ کا مؤقف احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی حج تمتع کے بارے سوال کیا گیا تو انھوں نے اسے سنت بتایا، لوگوں نے کہا: ”آپ کے باپ تو اس سے منع کرتے ہیں۔“ انھوں نے کہا: ”شریعت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل کی گئی ہے، میرے باپ پر نہیں۔“ اس کے متعلق بتائیں، یہ صحیح ہے یا نہیں؟

جواب :

پچھلے سوال کے جواب میں اختصار کے ساتھ یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے مقابلے میں کسی اور کی اطاعت نہیں کی جاتی اور رسول کی اطاعت اللہ ہی کی اطاعت ہے، کیونکہ وہ اللہ کا پیغام اور وحی لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما شی جن سے مروی یہ روایت بھی اسی معنی پر دلالت کرتی ہے۔ امام ابن شہاب زہری سے سالم بن عبد اللہ بن عمر نے بیان کیا ہے کہ انھوں نے ایک شامی آدمی کو سنا، وہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے حج تمتع کے بارے سوال پوچھ رہا تھا۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”حلال ہے۔“ شامی کہنے لگا: ”مگر آپ کے باپ نے تو اس سے منع کیا ہے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”مجھے بتاؤ اگر میرا باپ اس سے منع کرے او رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا ہو تو کیا میرے باپ کے حکم کی اتباع کی جائے گی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے حکم کی؟“
یہ حدیث ترمذی، کتاب الحج (864)، مسند احمد (95/2، ح 5700) اور بيہقی(21/5) میں موجود ہے۔ اس حدیث کا اصل مقصود یہی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت و احادیث کے مد مقابل کسی بھی امتی کی بات قبول نہیں کی جائے گی، خواہ وہ امتی اپنے مقام پر کتنی ہی فضیلت والا کیوں نہ ہو، کیونکہ وہ اللہ کے رسول سے تو برتر نہیں ہو سکتا، چنانچہ غیر مشروط اطاعت صرف اللہ اور اس کے رسول کی ہے، جو فرض اور واجب ہے، ان کے علاوہ کسی کی بات اگر اس کے موافق ہے تو فبھا ورنہ قابل رد ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔