حبیب اللہ ڈیروی صاحب اور ان کا طریقہ استدلال
الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله الأمين ، أما بعد :
اس مضمون میں حافظ حبیب اللہ ڈیروی حیاتی دیوبندی صاحب کی بعض مطبوعہ کتابوں سے بعض ایسی موضوع و مردود روایات باحوالہ پیش خدمت ہیں جن سے انھوں نے استدلال کیا یا بطور حجت پیش کیا ہے۔ اس کے بعد ڈیروی صاحب کے اکاذیب اور اخلاقی کردار کے دس دس نمونے درج کیے گئے ہیں تا کہ حبیب اللہ ڈیروی صاحب اور ان کا طریقہ استدلال عام لوگوں کے سامنے واضح ہو جائے۔
① ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
اور حضرت امام شافعی رحمہ اللہ جب حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی قبر کی زیارت کے لیے پہنچے تو وہاں نمازوں میں رفع اليدين چھوڑ دیا تھا کسی نے امام شافعی رحمہ اللہ سے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا :
استحياء من صاحب هذا القبر اس قبر والے سے حیاء آتی ہے۔
حضرت شاہ رفیع الدین محدث دہلوی رحمہ اللہ (تکمیل الاذھان ص 157) میں اس واقعہ کو ذکر کرنے کے بعد فرماتے ہیں مشعر لعدم التاكيد کہ یہ واقعہ اس بات کا مشعر ہے کہ رفع اليدين عند الرکوع وغیرہ امام شافعی کے ہاں موکد نہ تھا۔ (نور الصباح فی ترک رفع اليدين بعد الافتتاح طبع دوم 1406 ہ ص 29، 30)
اس پر تبصرہ کرتے ہوئے راقم الحروف نے لکھا تھا :
یہ واقعہ جعلی اور سفید جھوٹ ہے۔ شاہ رفیع الدین کا کسی واقعہ کو بغیر سند کے نقل کر دینا اس واقعہ کی صحت کی دلیل نہیں ہے۔ شاہ رفیع الدین اور امام شافعی کے درمیان کئی سو سال کا فاصلہ ہے جس میں مسافروں کی گردنیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ ڈیروی صاحب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس واقعہ کی مکمل اور مفصل سند پیش کریں ،تاکہ راویوں کا صدق و کذب معلوم ہو جائے۔ اسناد دین میں سے ہیں اور بغیر سند کے کسی کی بات کی ذرہ برابر حیثیت نہیں ہے۔ (نور العینین فی مسئلۃ رفع اليدين طبع اول 1413 ص 21)
ابھی تک ڈیروی صاحب یا ان کے کسی ساتھی نے اس موضوع و مردود قصے کی کوئی سند پیش نہیں کی ہے۔ (11جمادی الاولی 1427ھ)
یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اس من گھڑت قصے کی ان لوگوں کے پاس کوئی سند موجود نہیں ہے۔
② ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ترک رفع اليدين پر عمل کرتے تھے اور اس کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سنت قرار دیتے تھے اور رفع اليدين کرنے والے کو منع فرماتے تھے۔ چنانچہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ ( لسان المیزان ج 2 ص 322) میں لکھتے ہیں :
قتیبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ابو مقاتل سے کہتے ہوئے سنا کہ میں نے امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے پہلو میں نماز پڑھی اور میں رفع یدین کرتا رہا جب امام ابو حنیفہ نے سلام پھیرا تو کہا اے ابو مقاتل شاید کہ تو بھی پنکھوں والوں سے ہے۔ (نور الصباح ص 31)
ابو مقاتل حفص بن سلم السمرقندی جمہور محدثین کے نزدیک مجروح ہے۔ ابن عدی، ابن حبان اور جوزجانی وغیرہم نے اس پر جرح کی۔
(دیکھیے الکامل 2/801، الجرح والتعديل 8/256، احوال الرجال :374)
ابو نعیم الاصبہانی نے اسے کتاب الضعفاء میں ذکر کیا۔ (52م)
حاکم نیشاپوری نے کہا :
حدث عن عبيد الله بن عمر وأيوب السختياني ومسعر وغيره بأحاديث موضوعة..
اس (ابو مقاتل) نے عبید اللہ بن عمر، ایوب السختیانی اور مسعر وغیرہم سے موضوع احادیث بیان کی ہیں۔ (المدخل الى الصحيح ص 130،131 رقم : 42)
حافظ ذہبی نے کہا : واہ وہ (سخت) کمزور (راوی) ہے۔ (دیوان الضعفاء :1050) جمہور کی اس جرح کے مقابلے میں محدث خلیلی کی توثیق مردود ہے۔
صالح بن عبد اللہ (الترمذی) فرماتے ہیں کہ ہم ابو مقاتل السمرقندی کے پاس تھے تو وہ وصیت لقمان، قتل سعید بن جبیر اور اس جیسی لمبی حدیثیں عون بن ابی شداد سے بیان کرنے لگا۔ ابو مقاتل کے بھتیجے نے اُس سے کہا : اے چچا! آپ یہ نہ کہیں کہ ہمیں عون نے حدیث بیان کی کیونکہ آپ نے یہ چیزیں نہیں سنیں۔ اس نے کہا : اے بیٹے! یہ اچھا کلام ہے۔ (کتاب العلل للترمذی مع السنن ص 892 وسندہ صحیح)
معلوم ہوا کہ بزعم خود اچھے کلام کے لیے ابو مقاتل سندیں گھڑنے سے بھی باز نہیں آتا تھا۔ ایسے کذاب کی روایت ڈیروی صاحب بطور استدلال پیش کر رہے ہیں۔!!
③ ڈیروی صاحب بحوالہ مصنف ابن ابی شیبہ (ج 1 ص 160) لکھتے ہیں :
عن جابر عن الأسود وعلقمة أنهما كان يرفعان أيديهما إذا افتتحا ثم لا يعودان
حضرت اسود رحمہ اللہ اور حضرت علقمہ رحمہ اللہ افتتاح صلوٰۃ کے وقت رفع اليدين کرتے تھے اور اس کے بعد رفع اليدين کے لیے نہ لوٹتے تھے۔ (نور الصباح ص 47)
اس کا راوی جابر الجعفی جمہور محدثین کے نزدیک مجروح ہے۔ حافظ ابن حجر نے کہا :
ضعيف رافضي وہ ضعیف رافضی ہے۔ (تقریب التہذیب : 878)
امام ابوحنیفہ نے فرمایا :
ما رأيت أحدا أكذب من جابر الجعفي ولا أفضل من عطاء بن أبى رباح
میں نے جابر جعفی سے زیادہ جھوٹا کوئی نہیں دیکھا اور عطاء بن ابی رباح سے زیادہ افضل کوئی نہیں دیکھا۔ (العلل الترمذی ص 891 وسندہ حسن)
بذات خود حبیب اللہ ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
جابر بن یزید جعفی بہت جھوٹا اور شیعہ خبیث ہے۔ مگر انصاری صاحب نے اس بہت بڑے جھوٹے سے بھی رفع یدین کی روایت الرسائل ص 364، 362 وغیرہ میں درج کر دی ہے کیونکہ مسلمانوں کو دھوکا دینا مقصود ہے۔ (مقدمه نور الصباح بترقيمي ص 19، یہ عبارت مقدمتہ الکتاب سے پہلے ہے)
معلوم ہوا کہ بقلم خود جھوٹے کی روایت پیش کر کے ڈیروی صاحب نے عام مسلمانوں کو دھوکا دیا ہے۔
④ ڈیروی صاحب اپنے مدوح انور شاہ کشمیری دیوبندی (العرف الشذی ص 487) سے نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”حضرت امام احمد بن حنبل سے روایت کی گئی ہے وہ فرماتے تھے کہ جس مسئلہ پر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ متفق ہو جائیں تو اس کے خلاف کوئی بات نہ سنی جائے کیونکہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ قیاس کے زیادہ ماہر ہیں“ .(نور الصباح ص 32)
کاشمیری صاحب اور ڈیروی صاحب کی پیش کردہ یہ روایت محض بے سند، بے اصل اور من گھڑت ہے۔
اس کے مقابلے میں امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
حديث أبى حنيفة ضعيف ورأيه ضعيف
ابو حنیفہ کی حدیث ضعیف ہے اور اس کی رائے (بھی) ضعیف ہے۔ (کتاب الضعفا للعقیلی 4/285 وسندہ صحیح)
امام احمد اپنی مشہور کتاب المسند میں امام ابوحنیفہ کا نام لینا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔ (دیکھیے مسند احمد 5/357 ح 23415)
امام احمد سے امام ابوحنیفہ کی توثیق و تعریف قطعاً ثابت نہیں بلکہ جرح ہی جرح ثابت ہے جس کی تفصیل میری کتاب ”الأسانيد الصحيحة في أخبار الإمام أبي حنيفة“ میں درج ہے۔
قاضی ابو یوسف کے بارے میں امام احمد فرماتے ہیں :
وأنا لا أحدث عنه اور میں اس سے حدیث بیان نہیں کرتا۔ (تاریخ بغداد 14/259 وسندہ صحیح نیز دیکھیے ماہنامہ الحدیث شماره 19 ص :51)
محمد بن الحسن الشیبانی کے بارے میں امام احمد فرماتے ہیں :
لا أروي عنه شيئا میں اس سے کوئی چیز (بھی) روایت نہیں کرتا۔ (کتاب العلل و معرفة الرجال للإمام احمد 2/258 ت 1862، دوسرا نسخه :5329)
امام احمد سے کسی نے پوچھا کہ ایک علاقے میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک اصحاب الحدیث جو حدیثیں تو بیان کرتے ہیں مگر صحیح ضعیف کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ دوسرے اصحاب الرائے ہیں جن کی معرفت حدیث (بہت) تھوڑی ہے۔ کس سے مسئلہ پوچھنا چاہیے؟
امام احمد نے جواب دیا :
يسأل أصحاب الحديث ولا يسأل أصحاب الرأي، ضعيف الحديث خير من ر أى أبى حنيفة
اصحاب الحدیث سے مسئلہ پوچھنا چاہیے اور اصحاب الرائے سے نہیں پوچھنا چاہیے۔ ابوحنیفہ کی رائے سے ضعیف الحدیث (راوی) بہتر ہے۔ (تاریخ بغداد 13/449 سند صحیح المحلی لابن حزم 1/68، السته اعبدالله بن احمد 229)
ڈیروی صاحب اور تمام آل دیوبند سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ وہ کاشمیری صاحب کی بیان کردہ اس روایت کی صحیح و متصل سند پیش کریں۔
⑤ ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد حافظ ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ اپنے مصنف ج 1 ص 159 میں لکھتے ہیں : عن أشعث عن الشعبي أنه كان يرفع يديه فى أول التكبيرة ثم لا يرفعهما حضرت امام شعیبی رحمہ اللہ پہلی تکبیر میں رفع اليدين کرتے پھر اس کے بعد نہ کرتے تھے۔ (نور الصباح ص 45)
اس اثر کا راوی اشعث بن سوار جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے لہذا یہ روایت مردود ہے۔
ڈیروی صاحب ایک روایت کے بارے میں بقلم خود لکھتے ہیں : پھر اس کی سند میں اشعث بن سوار الکندی الکوفی ہے جو عند الجمہور ضعیف ہے۔ [تہذیب التہذیب ص352 ج 1 تا ص 354] (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 274، 275)
⑥ ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
ابن جریج ایک راوی ہے جس نے نوے عورتوں سے متعہ و زنا کیا تھا۔ [تذکرۃ الحفاظ للذہبی وغیرہ] (نور الصباح ص 18 مقدمه بترتیمی)
ابن جریج سے باسند صحیح نوے عورتوں (یا صرف ایک عورت سے بھی) متعہ کرنے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔
تذکرۃ الحفاظ (1/170، 171 ت 164) کے سارے حوالے بے سند و مردود ہیں۔ زنا کا لفظ ڈیروی صاحب نے خود گھڑ لیا ہے جب کہ اس کے برخلاف تذکرۃ الحفاظ کی بے سند و مردود روایت میں” تزوج“ کا لفظ ہے۔ (ص170)
ڈیروی صاحب نے تعلیم خود متعہ و زنا کرنے والے ابن جریج کو ”ثقہ“ لکھا ہے۔ (نور الصباح ص 222)
انھوں نے اس کتاب میں ابن جریج کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ (دیکھیے نور الصباح ص 22)
⑦ ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد حافظ ابو بکر بن ابی شیبہ رحمہ اللہ مصنف ج 1 ص 160 میں لکھتے ہیں :
عن سفيان بن مسلم الجهني قال كان ابن أبى ليلى يرفع يديه أول شي إذا كبر
حضرت عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ صرف ابتدا میں رفع یدین کرتے تھے جب تکبیر کرتے تھے۔ (نور الصباح ص43)
عرض ہے کہ سفیان بن مسلم الجہنی بالکل نامعلوم و مجہول راوی ہے، اس کی توثیق کہیں نہیں ملی۔ عین ممکن ہے کہ یہ کتابت یا طباعت کی غلطی ہو اور صحیح لفظ سفيان عن مسلم الجهني ہو۔ واللہ اعلم
مسلم بن سالم ابوفروة الجنی صدوق راوی ہے لیکن سفیان (ثوری) مشہور مدلس ہیں لہذا اس صورت میں بھی سفیان کی تدلیس کی وجہ سے یہ سند ضعیف و مردود ہے۔
⑧ مصنف ابن ابی شیبہ (1/160 ہمارا نسخه 1/236 ح 2447) کی ایک روایت عن الحجاج عن طلحة عن خيثمة نقل کرنے سے پہلے ڈیروی صاحب جلی خط سے لکھتے ہیں : حضرت خیثمہ رحمہ اللہ التابعی بھی رفع اليدين نہ کرتے تھے (نور الصباح ص 48)
عرض ہے کہ اس سند میں حجاج غیر متعین ہونے کی وجہ سے مجہول ہے۔ اگر اس سے مراد ابوبکر( بن عیاش )کا استاد حجاج بن ارطاۃ لیا جائے تو اس کے بارے میں ڈیروی صاحب خود لکھتے ہیں : ”کیونکہ حجاج بن ارطاۃ ضعیف اور مدلس اور کثیر الخطاء اور متروک الحدیث ہے۔“ (نور الصباح ص 224)
اس بقلم خود ”ضعیف“ اور ”متروک الحدیث“ کی روایت کو ڈیروی صاحب نے بحوالہ مسند احمد ج 4 ص 3 بطور دلیل نمبر 19 پیش کر کے استدلال کیا ہے۔ (نور الصباح ص 168، 167)
اس طرح کی بے شمار مثالیں اس بات کی دلیل ہے کہ جو روایت ڈیروی صاحب کی من پسند ہوتی ہے تو وہ اس سے استدلال کرتے ہیں اور جو روایت اُن کی مرضی کے خلاف ہوتی ہے تو اس پر جرح کر دیتے ہیں۔
⑨ ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
اور جب حضرت علی رضی اللہ عنہ کوفہ تشریف لائے اور حضرت ابن مسعود کی تعلیم اور متعلمین کو دیکھا تو بے ساختہ بول اٹھے : اصحاب عبدالله سرج هذه القرية
حضرت عبداللہ کے شاگرد تو اس بستی کے چراغ ہیں۔ [طبقات ابن سعد ج 6 ص 4]
(نور الصباح ص50، 51)
یہ روایت طبقات ابن سعد (ہمارا نسخہ ج 6 ص 10) اور حلیۃ الاولیاء (4/170) میں مالک بن مغول عن القاسم (بن عبد الرحمن) عن علی رضی اللہ عنہ کی سند سے مروی ہے۔
قاسم غیر متعین ہے۔ اگر اس سے قاسم بن عبد الرحمن بن عبد اللہ بن مسعود المسعودی یا قاسم بن عبد الرحمن الدمشقی مراد لیا جائے تو یہ روایت منقطع ہے لہذا مردود ہے۔
⑩ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک تفسیر منسوب ہے۔ یہ ساری کی ساری تفسیر موضوع اور من گھڑت ہے۔ اس کی سند میں محمد بن مروان السدی اور محمد بن السائب الکلبی دونوں کذاب راوی ہیں۔ (دیکھیے ماہنامہ الحدیث شماره : 24 ص50 تا 54)
اس موضوع تفسیر سے ڈیروی صاحب نقل کرتے ہیں :
مخبتون متواضعون لا يلتفتون يمينا ولا شمالا ولا يرفعون ايديهم فى الصلوة
عاجزی و انکساری کرنے والے جو دائیں اور بائیں نہیں دیکھتے اور نہ وہ نماز میں رفع یدین کرتے ہیں۔
قارئین کرام حضرت ابن عباس کا یہ فتویٰ ان کی مرفوع روایت کے عین موافق ہے جس میں رفع اليدين سے منع کیا گیا ہے۔ (نور الصباح ص72)
یہ عبارت ہمارے نسخہ میں صفحہ 212 پر ہے۔
اس تفسیر کے راوی سدی کے بارے میں ڈیروی صاحب کے ممدوح سرفراز خان صفدر دیوبندی لکھتے ہیں : ”سدی کذاب اور وضاع ہے۔ “(اتمام البرہان ص 455)
سرفراز خان صاحب مزید لکھتے ہیں :
آپ لوگ سدی کی ”دم“ تھامے رکھیں اور یہی آپ کو مبارک ہو۔ (اتمام البرہان ص 457)
معلوم ہوا کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منسوب سدی کی یہ تفسیر پیش کر کے ڈیروی صاحب نے سدی کذاب کی دم تھام لی ہے۔!
تنبیہ : سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ ثابت ہے کہ آپ شروع نماز، رکوع سے پہلے اور رکوع سے سر اُٹھاتے وقت رفع یدین کرتے تھے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج 1 ص 235، 2431 وسندہ حسن) لہذا یہ موضوع تفسیری روایت صحابی کے عمل کے مقابلے میں بھی مردود ہے۔
سیہ دس روایات بطور نمونہ پیش کی گئی ہیں تا کہ عام مسلمانوں کو بھی معلوم ہو جائے کہ حافظ حبیب اللہ ڈیروی دیوبندی نے موضوع و مردود روایات سے استدلال کیا ہے اور من گھڑت روایات کو بطور حجت پیش کیا ہے۔
ڈیروی صاحب کے دس جھوٹ
اب حافظ حبیب اللہ ڈیروی صاحب کے دس صریح جھوٹ پیش خدمت ہیں :
① محمد بن عبد الرحمن بن ابی لیلی کے بارے میں ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
تاہم پھر بھی جمہور کے ہاں وہ صدوق اور ثقہ ہے۔ (نور الصباح ص164)
ڈیروی صاحب کا یہ بیان سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔ اس کے برعکس بوصیری فرماتے ہیں :
ضعفه الجمهور (زوائد سنن ابن ماجه : 854)
طحاوی فرماتے ہیں : مضطرب الحفظ جدا
اس کے حافظے میں بہت زیادہ اضطراب ہے۔ (مشکل الآثار ج 3 ص 226)
بلکہ ڈیروی صاحب کے اکابر علماء میں سے انور شاہ کاشمیری دیوبندی فرماتے ہیں :
فهو ضعيف عندي كما ذهب إليه الجمهور (وہ [ابن ابی لیلی] میرے نزدیک ضعیف ہے جیسا کہ جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے) دیکھیے فیض الباری ج 3 ص 168
② امام یحیی بن معین امام ابوحنیفہ کے بارے میں فرماتے ہیں :
لا يكتب حديثه ان کی حدیث نہ لکھی جائے۔ (الکامل لابن عدی ج 7 ص 2473 وسندہ صحیح، دوسرا نسخہ ج 8 ص 236)
یہ قول مولانا ارشاد الحق اثری نے تاریخ بغداد (13/450) سے نقل کرنے کے بعد الکامل لابن عدی (7/2473) کا حوالہ دیا ہے۔ (توضیح الکلام 2/633، وطبعة جدیدة ص 939) اس کا جواب دیتے ہوئے ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
الکامل لابن عدی میں امام ابن معین رحمہ اللہ کی یہ جرح منقول ہی نہیں بلکہ امام اعظم رحمہ اللہ کا ترجمہ ص 2474 ج 7 سے شروع ہوتا ہے یہ اثری صاحب کا خالص جھوٹ و بے ایمانی ہے۔ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 309)
حالانکہ امام ابوحنیفہ کا ترجمہ کامل ابن عدی میں صفحہ 2472 (ج 7) سے شروع ہوتا ہے جو شخص اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتا ہو تو وہ ہمارے ہاں آکر اصل کتاب دیکھ سکتا ہے۔
کامل ابن عدی کے محولہ صفحے پر امام ابو حنیفہ پر امام ابن معین کی جرح بعینہ منقول ہے لہذا ڈیروی صاحب بذات خود جھوٹ اور …… کے مرتکب ہیں۔
③ ضعیف و مردود سند کے ساتھ کامل ابن عدی میں امام نضر بن شمیل سے مروی ہے :
كان أبو حنيفة متروك الحديث ليس بثقة
ابو حنیفہ متروک الحدیث تھے، ثقہ نہیں تھے۔ (ج 7 ص 2474 نسخه جدیدہ ج 8 ص 238)
یہ ضعیف و مردود قول مولانا اثری صاحب نے بحوالہ کامل ابن عدی نقل کیا ہے۔ (توضیح الکلام 2/628، طبعہ جدیدہ ص 937)
اور اس کے راوی احمد بن حفص پر جرح کی ہے۔ (توضیح الکلام طبع اول ج 2 ص 628)
اس حوالے کے بارے میں ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
امام نفر کا یہ قول الکامل ابن عدی میں نہیں ہے۔ یہ مولانا اثری صاحب کا خالص جھوٹ ہے۔ (توضیح الکلام پر ایک نظر مطبع اول 1423 ص 310)
حالانکہ یہ قول الکامل لابن عدی کے دونوں نسخوں میں موجود ہے اور اس کا راوی احمد بن حفص مجروح ہے۔
④ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منسوب ایک ضعیف روایت میں آیا ہے کہ انھوں نے صرف تکبیر اولیٰ کے ساتھ ہی رفع یدین کیا۔ اس حدیث کے بارے میں ڈیروی صاحب مولانا عطاء اللہ حنیف بھوجیانی رحمہ اللہ سے نقل کرتے ہیں :
قوله ثم لم يعد قد تكلم ناس فى ثبوت هذا الحديث والقوي أنه ثابت من رواية عبدالله بن مسعود . ثم لم يعد جملہ کے ثبوت کے بارے میں لوگوں نے کلام کیا ہے اور قوی بات یہ ہے کہ یہ حدیث بے شک صحیح اور ثابت ہے عبداللہ بن مسعود کے طریق سے. (نور الصباح ص 27 بحوالہ التعليقات السلفیه ج 1 ص 123)
یہ روایت التعلیقات السلفیہ (ج 1 ص 123 حاشیہ : 4) میں بحوالہ ”س“، یعنی حاشیۃ السندھی علی سنن النسائی منقول ہے اور یہی عبارت حاشیۃ السندھی میں اس طرح لکھی ہوئی ہے۔ (ج 1 ص 158)
ڈیروی صاحب نے سندھی کا قول بھوجیانی رحمہ اللہ کے ذمے لگا دیا ہے جو کہ صریح جھوٹ اور خیانت ہے۔
⑤ ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
چنانچہ صحیح سند سے ثابت ہے کہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پڑھائی ہے۔[ دیکھیے مصنف ابن ابی شیبہ ج 4 ص 116، شرح معانی الآثار ج 1 ص 239 سنن الکبری للبیہقی ج 4 ص 36 تاریخ بغداد ج 1 ص 161 طبقات ابن سعد ج6ص9] (نور الصباح ص209)
عرض ہے کہ اس روایت کے راوی موسیٰ بن عبد اللہ بن یزید کی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے۔
امام بیہقی یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں : وهو غلط اور یہ غلط ہے۔ (السنن الکبری ج 4 ص 36)
غلط روایت کو صحیح سند کہ کر پیش کرنا بہت بڑا جھوٹ ہے۔
⑥ ڈیروی صاحب لکھتے ہیں : چنانچہ امام ابو حاتم رحمہ اللہ ۔ امام بخاری رحمہ اللہ کو متروک الحدیث قرار دیتے ہیں (مقدمہ نصب الرایہ ص 58) (نور الصباح ص 157)
مقدمہ نصب الرایہ ہو یا کتاب الجرح والتعدیل، کسی کتاب میں بھی امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ نے امام بخاری کو ”متروك الحديث“ نہیں کہا۔ ثم ترك حديثه كو متروك الحديث بنا دینا ڈیروی صاحب کا سیاہ جھوٹ ہے۔
تنبیہ : چونکہ ابو حاتم الرازی اور ابوزرعہ الرازی دونوں نے امام بخاری سے روایت کی ہے۔ دیکھیے تہذیب الکمال (16/86، 87) لہذا ثم ترك حديثه والی بات منسوخ ہے۔
⑦ ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
دونوں سندوں میں الاوزاعی بھی مدلس ہے اور روایت عن سے ہے۔ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 313)
عرض ہے کہ کسی ایک محدث سے بھی صراحتا امام اوزاعی کو مدلس کہنا ثابت نہیں ہے۔
⑧ ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
”لیکن اس کی سند میں ابو عمر والحرشی مجہول ہے اور“ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 273)
عرض ہے کہ ابو عمر احمد بن محمد بن احمد بن حفص بن مسلم النیسابوری اجمیری الحرثی کے بارے میں حافظ ذہبی نے کہا : الحافظ الإمام الرحال اور الذہلی سے نقل کیا کہ أبو عمرو حجة ابو عمر حجت ہے۔ (تذکرة الحفاظ 3/798، 799 ت 788)
ایسے مشہور امام کو زمانہ تدوین حدیث کے بعد ڈیروی صاحب کا مجہول کہنا باطل اور مردود ہے۔
⑨ سعید بن ایاس الجریری ایک راوی ہیں جو آخری عمر میں اختلاط کا شکار ہو گئے تھے۔ ان کے شاگردوں میں ایک امام اسماعیل بن علیہ بھی ہیں جن کے بارے میں ڈیروی صاحب لکھتے ہیں : ”جبکہ اس کا شاگرد یہاں ابن علیہ ہے اور وہ قدیم السماع نہیں۔“ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 162)
عرض ہے کہ (ابراہیم بن موسیٰ بن ایوب) الابناسی (متوفی 802ھ) فرماتے ہیں :
وممن سمع منه قبل التغير شعبة وسفيان الثوري والحمادان وإسماعيل بن علية
اور اس (الجریری) کے اختلاط سے پہلے، شعبہ، سفیان ثوری، حماد بن زید، حماد بن سلمہ اور اسماعیل بن علیہ نے سُنا ہے۔ (الکواکب النيرات في معرفة من اختلط من الرواة الثقات ص 36 نسخه محققہ ص 183)
نیز دیکھیے حاشیہ نہایۃ الاغتباط بمن رمی من الرواة بالاختلاط (ص 129، 130)
لہذا ڈیروی صاحب کا بیان جھوٹ پر مبنی ہے۔
⑩ سجدوں میں رفع یدین کی ایک ضعیف روایت سعید (بن ابی عروبہ) سے مروی ہے جو کہ ناسخ یا کاتب کی غلطی سے السنن الصغریٰ للنسائی کے نسخوں میں شعبہ بن گیا ہے۔
اس کے بارے میں انور شاہ کاشمیری دیوبندی فرماتے ہیں : شعبہ کا نسائی کے اندر موجود ہونا غلط ہے جیسا کہ فتح الباری کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے۔ (نور الصباح ص 230)
اس کے بعد جواب دیتے ہوئے ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
مگر علامہ کشمیری رحمہ اللہ کا حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے بارے میں یہ حسن ظن صحیح نہیں ہے کیونکہ جس طرح شعبہ رحمہ اللہ نسائی میں موجود ہیں اس طرح صحیح ابوعوانہ میں بھی موجود ہیں معلوم ہوا کہ شعبہ رحمہ اللہ کا ذکر نہ تو نسائی میں غلط اور نہ صحیح ابوعوانہ میں بلکہ یہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کا وہم ہے اور علامہ سید کشمیری رحمہ اللہ کا نرا حسن ظن ہے۔ (نور الصباح ص 230)
عرض ہے کہ [شعبة] عن قتادة عن نصر بن عاصم عن مالك بن الحويرث (النسائی : 1086) والی روایت، جس میں سجدوں میں رفع یدین کا ذکر آیا ہے، مسند ابی عوانہ میں اس متن کے ساتھ موجود نہیں ہے۔ (مثلاً دیکھیے مسند ابی عوانہ ج 2 ص 94، 95)
لہذا اس بیان میں ڈیروی صاحب نے مسند ابی عوانہ پر صریح جھوٹ بولا ہے۔
ڈیروی صاحب کے بہت سے اکاذیب و افتراءات میں سے یہ دس جھوٹ بطور نمونہ پیش کیے گئے ہیں۔
ڈیروی صاحب کی چند بد اخلاقیاں !
اب آخر میں ڈیروی صاحب کے اخلاقی کردار کے چند حوالے پیش خدمت ہیں جن سے ان کی باطنی شخصیت عیاں ہو جاتی ہے۔
① جمہور محدثین کے نزدیک صدوق و حسن الحدیث راوی اور امام ابو حنیفہ کے استاد تابعي صغیر محمد بن اسحاق بن یسار المدنی کے بارے میں ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
اس سند میں عن ابی اسحاق در اصل محمد بن اسحاق ہے جو کہ مشہور دلا ہے۔ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 117)
ہر کوئی جانتا ہے کہ پنجابی، پشتو اور اردو زبان میں” دلا“ بہت بڑی گالی ہے۔ اس کی وضاحت کے لیے لغات کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے۔ ایسے گندے اور بازاری الفاظ کی تشریح کے لیے ماہنامہ” الحدیث“ کے اوراق اجازت نہیں دیتے۔
② ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
امام ترمذی رحمہ اللہ نے ائمہ کرام رحمہ اللہ کے مسلک کو خلط ملط کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے علامہ عینی جیسا شخص بھی پڑی سے اتر گیا ہے۔ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 23)
③ امیر المومنین فی الحدیث امام بخاری رحمہ اللہ کے بارے میں ڈیروی صاحب موٹے قلم سے لکھتے ہیں : حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کی بے چینی ۔ (نور الصباح ص154)
④ امام ابوبکر الخطیب البغدادی کے بارے میں ڈیروی صاحب لکھتے ہیں : خطیب بغدادی عجیب آدمی ہے۔ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 153)
⑤ مشہور ثقہ امام بیہقی رحمہ اللہ کے بارے میں ڈیروی صاحب لکھتے ہیں : قارئین کرام اس عبارت میں حضرت امام بیہقی نے زبردست خیانت کا ارتکاب کیا ہے۔ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 136)
⑥ مشہور ثقہ امام دار قطنی رحمہ اللہ کے بارے میں ڈیروی صاحب نے لکھا ہے : جس سے دار قطنی رحمہ اللہ کی عصبیت و نا انصافی ظاہر ہوتی ہے۔ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 306)
⑦ مشہور امام مہذب اور الحافظ الإمام العلامة الثبت ابوعلی النيسابوري رحمہ اللہ کے بارے میں ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
ابو علی الحافظ ظالم ہے۔ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 304)
⑧ عبدالحئی لکھنوی (حنفی) کے بارے میں ڈیروی صاحب لکھتے ہیں : مولانا عبدالحئی لکھنوی کا عبارات میں تحریف کرنا اور احناف کو نقصان پہنچانا عام عادت شریفہ ہے . (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 46)
⑨ حبیب الرحمن اعظمی (دیوبندی) کے بارے میں ڈیروی صاحب لکھتے ہیں :
”مولانا حبیب الرحمن اعظمی رحمہ اللہ تو عجیب خبط میں پڑے کہ . “(توضیح الکلام پر ایک نظر ص 72)
⑩ مشہور اہل حدیث عالم مولانا ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ کے بارے میں ڈیروی صاحب اپنی مخصوص زبان میں لکھتے ہیں :
جس سے ثابت ہوا کہ اثری صاحب جاننے کے باوجود گندگی کو چاٹنے کے عادی ہیں۔ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 105)
ڈیروی صاحب مزید لکھتے ہیں :
اثری صاحب معمر رحمہ اللہ کی دشمنی میں (اتنا) اندھا ہو گیا ہے کہ ہوش و حواس کھو بیٹھا ہے۔ (توضیح الکلام پر ایک نظر ص 121)
اثری صاحب کے بارے میں ایک جگہ ڈیروی صاحب اپنی ”شرافت“ کا ان الفاظ میں مظاہرہ کرتے ہیں :
” کاش ظالم انسان تجھے ماں نے نہ جنا ہوتا ۔ “(توضیح الکلام پر ایک نظر ص 203)
آپ نے ڈیروی صاحب کی کذب نوازی، اکاذیب اور شریفانہ تحریر دیکھ لی ہے جس سے حافظ حبیب اللہ ڈیروی حیاتی دیوبندی کا مقام و مرتبہ واضح ہو جاتا ہے۔ وما تخفي صدورهم أكبر
(11 جمادی الاولی 1427ھ)