مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حائضہ سے حیض کا غسل کرنے سے پہلے جماع کرنے کا حکم

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال:

ایک آدمی نے اپنی بیوی سے خون حیض بند ہونے کے بعد اور اس کے غسل کرنے سے پہلے جماع کیا، اس کاکیا حکم ہے؟

جواب:

اس مسئلہ پر علماء کے کئی اقوال میں سے صحیح قول یہ ہے کہ آدمی اس کے غسل کرنے سے پہلے اس سے جماع نہ کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
«وَلَا تَقْرَبُوهُنَّ حَتَّىٰ يَطْهُرْنَ فَإِذَا تَطَهَّرْنَ فَأْتُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ» [2-البقرة: 222]
”اور ان کے قریب نہ جاؤ، یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائیں، پھر جب وہ غسل کر لیں تو ان کے پاس آؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیا ہے۔“
اس آیت میں محل استشہاد یہ ہے: «تطهرن» (وہ غسل کریں) ہاں جب عورت کو پانی نہ ملے یا وہ اس کے استعمال کی قدرت نہ رکھتی ہو تو وہ تمیم کر کے نماز ادا کر لے، اور اگر ر مضان کا مہینہ ہے یا اس نے روزے کی قضاء کرنی ہے یا نفلی روزہ رکھنا ہے تو وہ روزہ رکھے اور اس کے خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ اس سے مجامعت کرے۔ واللہ اعلم

[مقبل بن ہادي الوادعي رحمہ اللہ]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔