جعفر طیار ؓ کو طیار کیوں کہا جاتا ہے؟ حدیث کی روشنی میں جواب
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو طیار کیوں کہا جاتا ہے، اس کے متعلق کوئی روایت ہے، یا ویسے ہی مشہور کر دیا گیا ہے؟

جواب:

عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مستدرک حاکم (209/3، ح: 3933) اور طبرانی (107/2: 1466، 1467) کے ہاں ایک حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”گزشتہ رات میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اس میں دیکھا کہ جعفر فرشتوں کے ساتھ اڑ رہا ہے اور حمزہ چارپائی پر تکیہ لگائے ہوئے ہے۔“
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جعفر رضی اللہ عنہ کے بارے میں جو فرمایا: يطير مع الملائكة شاید اسی وجہ سے انھیں جعفر طیار کہا جاتا ہے۔

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے